شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4891
4621 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا همام عن قتادة عن أنس أن يهوديا رض رأس صبي بين حجرين فأمر النبي صلى الله عليه و سلم أن يرض رأسه بين حجرين قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وقالوا يقتل كل قاتل بما قتل به وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل من وجب عليه قود لم يقتل إلا بالسيف وقالوا هذا الحديث الذي رويتموه يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم رأى أن ذلك القاتل يجب قتله لله إذ كان إنما قتل على مال قد بين ذلك في بعض الحديث
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک بچے کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے خم فرمایا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں ، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ فریق اول کے موقف کا جواب یہ ہے کہ مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کا قتل واجب ہے اس لیے کہ اسے مال کی خاطر قتل کیا گیا اور یہ حدیث واضح موجود ہے ۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4891
