Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4891

4621 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا همام عن قتادة عن أنس أن يهوديا رض رأس صبي بين حجرين فأمر النبي صلى الله عليه و سلم أن يرض رأسه بين حجرين قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وقالوا يقتل كل قاتل بما قتل به وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل من وجب عليه قود لم يقتل إلا بالسيف وقالوا هذا الحديث الذي رويتموه يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم رأى أن ذلك القاتل يجب قتله لله إذ كان إنما قتل على مال قد بين ذلك في بعض الحديث

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک بچے کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے خم فرمایا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں ، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ فریق اول کے موقف کا جواب یہ ہے کہ مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کا قتل واجب ہے اس لیے کہ اسے مال کی خاطر قتل کیا گیا اور یہ حدیث واضح موجود ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4891

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4892

4622 - حدثنا إبراهيم بن داود قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي قال ثنا إبراهيم بن سعد عن شعبة عن هشام بن زيد عن أنس بن مالك قال عدا يهودي في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على جارية فأخذ أوضاحا كانت عليها ورضخ رأسها فأتى بها أهلها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي في آخر رمق وقد أصمتت وقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم من قتلك أفلان لغير الذي قتلها فأشارت برأسها أي لا فقال لرجل آخر غير الذي قتلها فأشارت برأسها أي لا فقال ففلان لقاتلها فأشارت أي نعم فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فرض رأسه بين حجرين فإن كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل دم ذلك اليهودي قد وجب لله عز و جل كما يجب دم قاطع الطريق لله تعالى فكان له أن يقتل كيف شاء بسيف أو بغير ذلك والمثلة حينئذ مباحة كما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعرنيين

ہشام بن زید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ایک یہودی نے ایک بچی پر زیادتی کی کہ اس کے پازیب اتار لیے جو اس نے زیب تن کر رکھے تھے اور اس کا سر دو پتھروں سے کچل دیا ۔ اس بچی کے اعزاء اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے ابھی اس میں زندگی کے آثار باقی تھی اور اس کی زبان بند ہو چکی تھی ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ قاتل کے علاوہ کا نام لیا تو اس نے سر سے انکار کا اشارہ کیا پھر ایک اور نام لیا جو قاتل کے علاوہ تھا اس نے اپنے سر سے انکار کا اشارہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا فلاں اور اس کے قاتل کا نام لیا تو اس نے سر سے انکار کا اشارہ کیا پھر ایک اور کا نام لیا جو قاتل کے علاوہ تھا اس نے اپنے سر سے انکار کا اشارہ کیا ۔ تو آپ نے فرمایا فلاں اور اس کے قاتل کا نام لیا جو قاتل کے علاوہ تھا اس نے اپنے سر سے انکار کا اشارہ کیا۔ تو اپ نے فرمایا فلاں اور اس کے قاتل کا نام لیا تو اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا پس جناب رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا ۔ اگر یہودی کا خون اللہ تعالیٰ کی خاطر لیا گیا ہوتا جیسا کہ ڈاکو کا خون کرنا لازم ہوتا ہے تو پھر آپ کے لئے اسے جس طرف مناسب ہوتا تلوار یا کسی اور چیز سے قتل جائز تھا اور اس وقت تو مثلہ بھی جائز تھا جناب رسول اللہ ﷺ نے اہل عرینہ کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ اس پر مندرجہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← إبْرَاهِيمَ بْنِ دَاوُد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4892

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4893

4623 - فإنه حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني جرير بن حازم عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس قال قدم ثمانية رهط من عكل فاستوخموا المدينة فبعثهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى ذود له فشربوا من ألبانها فلما صحوا إرتدوا عن الإسلام وقتلوا راعي الإبل وساقوا الإبل فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم في آثارهم فأخذوا فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم وتركهم حتى ماتوا

ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی آئے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کے موافق نہ آنے کی وجہ سے وہ بیمار ہو گئے ۔ جناب رسول اللہﷺ نے ان کو اونٹوں کے گلہ کی طرف بھیجا پس انہوں نے ان کے دودھ استعمال کئے ۔ جب وہ صحت یاب ہو گئے تو اسلام سے پھر گئے اور انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے ان کو پکڑ لیا گیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں لگائی گئیں اور ان کو ( میدان میں ) اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ ← فَإِنَّهُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4894

4624 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن بكر قال ثنا حميد الطويل عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حمید الطویل نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4894

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4895

4625 - حدثنا أبو أمية قال ثنا قبيصة عن سفيان عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله قال هم من عكل قطع النبي صلى الله عليه و سلم أيديهم وأرجلهم وسمر أعينهم

ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے : الما جزاؤ الذین یحاربون اللہ ورسولہ، ( المائدہ 33) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ محاربہ والے لوگ عکل سے ہیں جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہاتھوں، پاؤں کا کاٹا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں لگائیں۔

أنس إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4895

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4896

4626 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا حميد عن أنس ح وحدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال ثنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قطع أيديهم وأرجلهم وسمر أعينهم وتركهم حتى ماتوا

عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ دیا گیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں لگائیں گئیں اور ان کو ( میدان میں ) چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← وَحَدثنا صَالِحٌ, ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4896

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4897

4627 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا سماك بن حرب عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم نفر من حي من أحياء العرب فأسلموا وبايعوه قال فوقع النوم وهو البرسام فقالوا يا رسول الله هذا الوجع قد وقع فلو أذنت لنا فخرجنا إلى الإبل فكنا فيها يعني قال نعم أخرجوا فكونوا فيها قال فخرجوا فقتلوا أحد الراعيين وذهبوا بالإبل قال وجاء الآخر وقد خرج فقال قد قتلوا صاحبي وذهبوا بالإبل قال وعنده شبان من الأنصار قريب من عشرين قال فأرسل إليهم الشبان النبي صلى الله عليه و سلم وبعث معهم قائفا فقص آثارهم فأتي بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمر أعينهم ففعل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعرنيين ما فعل بهم من هذا فلما حل له من سفك دمائهم فكان له أن يقتلهم كيف أحب وإن كان ذلك تمثيلا بهم لأن المثلة كانت حينئذ مباحة ثم نسخت بعد ذلك ونهى عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يكن لأحد أن يفعلها فيحتمل أن يكون فعل باليهودي ما فعل من أجل ذلك ثم نسخ ذلك بعد نسخ المثلة ويحتمل أيضا أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم لم ير ما وجب على اليهودي من ذلك لله تعالى ولكنه رآه واجبا لأولياء الجارية فقتله لهم فاحتمل أن يكون قتله كما فعل لأن ذلك هو الذي كان وجب عليه واحتمل أن يكون الذي كان وجب عليه هو سفك الدم بأي شيء مما شاء الولي بسفكه به فاختاروا الرضخ ففعل ذلك لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه وجوه يحتملها هذا الحديث ولا دلالة معنا يدلنا أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد بعضها دون بعض وقد روي عنه صلى الله عليه و سلم أنه قتل ذلك اليهودي بخلاف ما كان قتل به الجارية

معاویہ بن قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ سے ایک گروہ آیا پھر انہوں نے اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان کو برسام کی بیماری لاحق ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہمیں یہ در پیش آ گئی۔ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اونٹوں کی طرف نکل جائیں اور وہاں ر ہیں آپ ﷺ نے فرمایاجی ہاں ! جا کر وہاں رہو۔ راوی کہتے ہیں وه (مدینہ سے ) نکل کر وہاں چلے گئے اور انہوں نے ایک چرواہے کوقتل کیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے ۔ دوسرا چروہا آیا اور وہ نکل چکے تھے تو انہوں نے کہا ان لوگوں نے میرےساتھی کوقتل کردیا ہے اور وہ اونٹوں کو ہانک کر لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس انصار کے قریبا بیس نوجوان موجود تھے جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف نوجوانوں کی جماعت کو خوجی سمیت بھیجا۔ اس جماعت نے ان کے نشانہائے قدم کا پیچھا کر کے ان کو پکڑلیا اور وہ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں لگائی گئیں۔عرنیین کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو انہوں نے چرواہوں کے ساتھ کیا تھا جب آپ کو ان کا خون بہانا درست تھا تو ان کی مرضی کے مطابق قتل کرنا درست تھا بے شک ان کا مثلہ کے ساتھ تھا کیونکہ مثلہ اس وقت تک مباح تھا۔ پھر اس کے بعد منسوخ ہوا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت کر دی اب کسی کوکرنا جائز نہیں ہے۔ نمبر 1 :ممکن ہے کہ یہودی کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ اسی کی وجہ سے کیا پھر یہ بھی مثلہ کے منسوخ ہونے کے بعد منسوخ ہو گیا ہو۔ نمبر 2:یہ بھی احتمال ہے کہ آپ کے خیال میں یہودی پر یہ قتل الله تعالی کے حق کی وجہ سے واجب نہ ہوا ہو بلکہ آپ کے علم میں یہ لونڈی کے ورثاء کے لئے واجب ہوا تھا اس لئے ان کے حق کے طور پرآپ نے اسے قتل کیا نمبر3:اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ نے اس کواسی طرح قتل کیا جیسے اس نے قتل کیا تھا کیونکہ اس پر یہی واجب تھا۔ نمبر4 :اور یہ بھی ممکن ہے کہ محض اس کا خون بہانا لازم ہو اور ولی کو اس میں اختیار ہو جس کے ساتھ چاہے خون بہا لے تو اولیاء نے کچلنا پسند کیا چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی پسند پر ایسا کیا۔ اس روایت میں ان تمام وجوہ کا احتمال ہے اور ہمارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک طریقے کی بجائے دوسرا طریقہ کیوں اختیار فرمایا۔ بلکہ آپ سے تو یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس یہودی کو اس طریقے کے خلاف قتل کیا جس سے اس نے بچی کو قتل کیا تھا۔ جیسا اس روایت میں آیاہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4897

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4898

4628 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قالا ثنا أبو يعلى محمد بن الصلت قال ثنا أبو صفوان محمد بن سعيد بن عبد الملك بن مروان قال بن أبي داود وكان ثقة ورفع به عن بن جريج عن معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس أن رجلا من اليهود رضخ رأس جارية على حلي لها فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم أن يرجم حتى قتل ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان قتل ذلك اليهودي رجما بقتله الجارية على ما ذكرنا في هذا الأثر وفيما تقدمه من الآثار وهو رضخه رأسها والرجم قد يصيب الرأس وغير الرأس فقد قتله بغير ما كان قتل به الجارية فدل ذلك أن ما كان فعل كان حلالا يومئذ ثم نسخ بنسخ المثلة فمما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في نسخ المثلة ما قد

ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک بچی کے سر کو اس کے زیورات حاصل کرنے کے لئے پتھر سے کچل دیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کو اس وقت تک پتھر مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو بچی کے قتل کی وجہ سے پتھروں سے ہلاک کیا جیسا کہ پہلی روایات میں مذکور ہوا کہ اس نے اس بچی کا سر کچل دیا تھا اور سنگسار تو سر پر بھی ہوتی ہے اور دوسرے جسم کے حصوں پر بھی تو اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہودی کا قتل اس طریقے سے نہ تھا جس طرح اس نے بچی کو قتل کیا تھا پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ نے ان دنوں جو کچھ کیا یہ ان دنوں جائز تھا پھر مثلہ کی منسوخی سے یہ بھی منسوخ ہو گیا۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← بن جُرَيْجٍ ← بن أبي داود وكان ثقة ورفع به ← أبو صفوان محمد بن سعيد بن عبد الملك بن مروان ← أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4898

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4899

4629 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا نافع بن يزيد قال أخبرني بن جريج عن عكرمة قال قال بن عباس رضي الله عنهما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن المجثمة والمجثمة الشاة ترمي بالنبل حتى تقتل

عکرمہ نے حضرت ابن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے مجثمہ سے منع فرمایا ۔ مجثمہ بکری کو تیروں کے نشانے سے قتل کرنے کو کہتے ہیں ۔

المجثمة والمجثمة الشاة ترمي بالنبل حتى تقتل ← بن عباس نهى النبي صلى الله عليه و سلم ← عِكْرِمَةَ، ← بن جُرَيْجٍ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4899

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4900

4630 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر ح وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء العدائي قالا أخبرنا شعبة عن عدي بن ثابت عن سعيد بن جبير عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس چیز میں روح ہو اس کو نشانہ زنی کے لئے استعمال کرو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عبد الله بن رجاء العدائي ← وحدثنا محمد بن خزيمة ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4900

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4901

4631 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرنا شعبة فذكر بإسناده مثله

یزید بن ہارون نے شعبہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4901

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4902

4632 - حدثنا سليمان بن شعيب قال أخبرنا خالد بن عبد الرحمن قال ثنا سفيان الثوري عن عاصم الأحول وسماك عن عكرمة قال أحدهما عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عاصم احول اور سماک نے عکرمہ سے ان دونوں میں سے ایک نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَحَدُهُمَا ← عِكْرِمَةَ، ← عاصم الأحول وسماك ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4902

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter