Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4338

4091 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا بن أبي غنية عبد الملك بن حميد عن محمد بن المهاجر الأنصاري عن أبيه عن أسماء بنت يزيد الأنصارية قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا تقتلوا أولادكم سرا فإن قتل الغيل يدرك الفارس البطل أي الشجاع فيدعثره عن ظهر فرسه

محمد بن مہاجر انصاری نے اپنے والد سے انہوں نے اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تم اپنی اولاد کو غیر شعوری طور پر قتل مت کرو۔ بے شک حالت حمل میں دودھ پلانے کا قتل بہادر نوجوان کو گھوڑے کی پیٹھ سے گرا دیتا ہے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ ← بن أبي غنية عبد الملك بن حميد ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4338

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4339

4092 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر عن أبيه عن أسماء بنت يزيد بن السكن الأنصارية قالت سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول لا تقتلوا أولادكم سرا فإن قتل الغيل يدرك الفارس على ظهر فرسه فيدعثره قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فكرهوا وطء الرجل امرأته أو جاريته إذا كانت حبلى واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بذلك واحتجوا في ذلك بما

اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اپنی اولاد کو خفیہ قتل مت کرو۔ حالت حمل میں دودھ پلانے کا قتل شہسوار کو گھوڑے کی پشت پر بھی آ لیتا ہے اور اس کو گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حاملہ بیوی یا لونڈی سے جماع مکروہ ہے انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے اور انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔

أسماء بنت يزيد بن السكن الأنصارية ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4339

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4340

4093 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا يحيى بن أيوب قال أخبرني أبو النضر عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن أسلمة بن زيد أخبر والده سعد بن أبي وقاص قال إن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني أعزل عن امرأتي قال لم قال شفقة على الولد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كان كذلك فلا ما كان ليضر فارس والروم ففي هذا الحديث إباحة وطء الحبالى وإخبار من النبي صلى الله عليه و سلم أن ذلك إذا كان لا يضر فارس والروم فإنه لا يضر غيرهم فخالف هذا الحديث حديث أسماء فأردنا أن ننظر أيهما الناسخ للآخر فنظرنا في ذلك فوجدنا يونس قد

عامر بن سعد کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے میرے والد سعد کو بتلایا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا۔ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں یعنی جماع نہیں کرتا آپ ﷺ نے فرمایا کیوں ؟ اس نے عرض کیا ۔ بچے کے متعلق خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اسی طرح ہے تو ایسا مت کرو۔ وہ فارس و روم کو نقصان دینے والا نہیں ( یعنی وہ حالت حمل میں جماع کرتے ہیں اور اس سے بچے کو نقصان نہیں پہنچتا تو تمہارے بچے کو کیوں کر پہنچ جائے گا) روایت سے حاملہ عورت سے وطی کا ثبوت مل رہا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب فارس و روم کو نقصان دہ نہیں تو تمہیں بھی اس سے کچھ نقصان نہ ہوگا یہ روایت فریق اول کی مستدل روایت اسماء رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اب ہمیں ان میں سے ناسخ کی تلاش کے لئے روایت تلاش کرنا ضروری ہے ۔

قاص ← عامر بن سعد بن أبي ← أَبُو النَّضْرِ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4340

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4341

حدثنا قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره

ابن وہب نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔

بن وهب أن مالكا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4341

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4342

ووجدنا محمد بن خزيمة قد حدثنا قال ثنا أبو مسهر قال ثنا مالك بن أنس ح

ابو مسہر نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ۔

مالک بن أنس ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← ووجدنا محمد بن خزيمة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4342

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4343

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن أبي الوزير قال ثنا مالك بن أنس عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لقد هممت أن أنهى عن الغيلة حتى ذكرت أن فارس والروم يصنعون ذلك فلا يضر أولادهم

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ بنت وہب سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ارادہ کر لیا کہ حمل کی حالت میں جماع سے منع کر دوں یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ فارس و روم یہ کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی اولاد کو نقصان نہیں دیتی۔

جُدَامَةَ بنتِ وَهْبٍ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مالک بن أنس ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4343

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4344

4094 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرني يحيى بن أيوب قال حدثني أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل قال ثنا عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم عن جدامة بنت وهب الأسدية عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه هم أن ينهى عن الغيل قال فنظرت فإذا فارس والروم يغيلون فلا يضر ذلك أولادهم

عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے ارادہ کیا حاملہ عورت جس کا بچہ دودھ پیتا ہو اس کے ساتھ جماع سے منع کر دیا جائے آپ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ فارس و روم حاملہ عورتوں سے جماع کرتے ہیں ۔ پس یہ چیز ان کی اولاد کو نقصان دہ نہیں ( تو مسلمانوں کی اولاد کو کیوں کر نقصان دہ ہو گی ) ۔

فنظرت فإذا فارس والروم يغيلون فلا يضر ذلك أولادهم ← الغيل ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه هم أن ينهى ← جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4344

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4345

4095 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن قالا ثنا المقرئ يعني أبا عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة أنها قالت حدثتني جدامة فذكر نحوه

عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ فرماتی ہیں کہ مجھے جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

حدثتني جدامة فذكر نحوه ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← المقرئ يعني أبا عبد الرحمن ← إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4345

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4346

4096 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال أخبرنا حيوة عن أبي الأسود أنه سمع عروة يحدث عن عائشة رضي الله عنها عن جدامة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم هم بالنهي عن ذلك حتى بلغه أو حتى ذكر أن فارس والروم يفعلونه فلا يضر أولادهم ففي ذلك إباحة ما قد حظره الحديث الأول وأحتمل أن يكون أحد الأمرين ناسخا للآخر فنظرنا في ذلك فإذا

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت حمل میں جماع منع کرنے کا ارادہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کو یہ بات پہنچی یا آپ نے غور فرمایا فارس و روم ایسی حالت میں جماع کرتے ہیں مگر یہ چیز ان کی اولاد کے لئے باعث ضرر نہیں ( تو ہمیں کیوں باعث ضرر ہو گا) پہلی روایت میں جس چیز سے ڈرایا گیا اس روایت سے اس کی اباحت ثابت ہو رہی ہے اور احتمال پیدا ہو ا کہ دو میں سے ایک چیز دوسری کے لئے ناسخ ہو۔ پس ہم نے غور کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث ← جدامة ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4346

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4347

4097 - روح بن الفرج قد حدثنا قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن عطاء عن بن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان ينهى عن الاغتيال ثم قال لو ضر أحدا لضر فارس والروم فثبت بهذا الحديث الإباحة بعد النهي فهذا أولى من غيره وجاء نهي النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك أنه كان من جهة خوفه الضرر من أجله ثم إباحه لما تحقق عنده أنه لا يضر ودل ذلك أنه لم يكن منع منه في وقت ما منع منه من طريق الوحي ولا من طريق ما يحل ويحرم ولكنه على طريق ما وقع في قلبه صلى الله عليه و سلم منه شيء فأمر به على الشفقة منه على أمته لا غير ذلك كما قد كان أمر في ترك تأبير النخل فإنه قد

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت نقل کی ہے آپ ﷺ حالت حمل میں جماع سے منع فرماتے پھر آپ نے فرمایا اگر اس سے کسی کو نقصان پہنچتا تو فارس و روم کو پہنچتا ۔ اس روایت سے ممانعت کے بعد اباحت ثابت ہوئی یہ دوسری روایت سے اولیٰ ہے آپ کا اس سے روکنا اندیشہ نقصان کے پیش نظر تھا جب آپ کے ہاں عدم نقصان ثابت ہو گیا تو اس کو مباح قرار دیا اور اس سے یہ دلالت میسر آ گئی کہ آپ کا روکنا شفقتہ تھا ۔ وحی الہی سے نہ تھا اور نہ یہ روکنا تحلیل و تحریم کے قبیل سے تھا بلکہ قلب اطہر میں شفقت امت کے پیش نظر بات آئی اور اس سے روک دیا اس کی نظیر تابیر نخل کی ممانعت والا واقعہ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← روح بن الفرج قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4347

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4348

4098 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر قال ثنا إسرائيل قال ثنا سماك عن موسى بن طلحة عن أبيه أنه قال مررت مع النبي صلى الله عليه و سلم في نخل المدينة فإذا أناس في رءوس النخل يلقحون النخل فقال النبي صلى الله عليه و سلم ما يصنع هؤلاء فقيل يأخذون من الذكر فيجعلونه في الأنثى فقال ما أظن ذلك يغني شيئا فبلغهم فتركوه ونزعوا عنها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال إنما هو ظن ظننته إن كان يغني شيئا فليصنعوه فإنما أنا بشر مثلكم وإنما هو ظن ظننته والظن يخطئ ويصيب ولكن ما قلت لكم قال الله فلن أكذب على الله

موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے میرا گزر عبید اللہ کی معیت میں مدینہ منورہ کے باغات نخل میں سے کسی کے پاس سے ہوا۔ لوگ کھجوروں پر چڑھ کر ان کی تابیر کر رہے تھے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ سے عرض کیا گیا یہ نر کھجور سے مادہ کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو یہ کچھ بھی فائدہ مند نہیں ہے جب صحابہ کرام کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا اور اس سے ہاتھ کھینچ لیا آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا وہ تو میرا ایک گمان تھا جو میں نے کیا اور گمان درست و نا درست دونوں طرح ہوتا ہے ۔ اگر اس سے کچھ فائدہ ہے تو انہیں کرنا چاہیے ۔ بلاشبہ میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں وہ میرا گمان ہے جو میں نے کیا گمان دونوں طرح ہوتا ہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہر گز جھوٹی نسبت نہیں کر سکتا۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4348

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4349

4099 - حدثنا يزيد قال ثنا أحمد بن عبدة قال أخبرنا حفص بن جميع قال ثنا سماك أنه سمع موسى بن طلحة يحدث عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے وہ جناب نبی اکرم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سماك أنه ← حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4349

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter