شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يحرم فيه الطعام على الصيام ) · حديث 3089
2921 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا حماد عن عاصم بن بهدلة عن زر بن حبيش قال تسحرت ثم انطلقت الى المسجد فمررت بمنزل حذيفة فدخلت عليه فأمر بلقحة فحلبت وبقدر فسخنت ثم قال كل فقلت إني أريد الصوم قال وأنا أريد الصوم قال فأكلنا ثم شربنا ثم أتينا المسجد فأقيمت الصلاة قال هكذا فعل بي رسول الله صلى الله عليه و سلم أو صنعت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت بعد الصبح قال بعد الصبح غير أن الشمس لم تطلع قال أبو جعفر ففي هذا الحديث عن حذيفة أنه أكل بعد طلوع الفجر وهو يريد الصوم ويحكى مثل ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فهو ما قد روينا عنه مما تقدم ذكرنا له في كتابنا هذا أنه قال إن بلالا ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بن أم مكتوم وأنه قال لا يمنعن أحدكم أذان بلال من سحوره فإنه إنما يؤذن لينتبه نائمكم وليرجع قائمكم ثم وصف الفجر بما قد وصفه به فدل ذلك على أنه المانع للطعام والشراب وما سوى ذلك مما يمنع منه الصائم فهذه الآثار التي ذكرنا مخالفة لحديث حذيفة وقد يحتمل حديث حذيفة عندنا والله أعلم أن يكون كان قبل نزول قوله تعالى وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر ثم أتموا الصيام الى الليل فإنه
زربن حبیش سے روایت ہے کہ میں نے سحری کاکھانا کھایا پھر میں مسجد کی طرف روانہ ہو گیا میں حضرت حذیفہؓ کے مکان کے پاس سے گزرا تو ان کے ہاں مکان میں داخل ہوا انہوں نے ایک او نٹنی کا دودھ دھونے کا حکم دیا وہ وہ دوھا گیا اور ہانڈی گرم کی گئی پھر مجھے فرمانے لگے کھاو میں نے کہا میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں انہوں نے کہا میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں پھر ہم نے کھایا اور مسجد میں آئے تو جماعت کھڑی ہو گئی حذیفہ کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ ایسا ہی کیا یا یہ کہا کہ میں جناب رسول اللہﷺ کی معیت میں ایسا کیا میں نے تعجب سے پوچھا کیا صبح کے بعد بھی کھانے کی اجازت ہے بس سورج نکلنے کی کسر باقی ہے ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں ۔ حضرت حذیفہ ؓ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ میں نے طلوع فجر کے بعد کھایا اور میرا روزے کا ارادہ تھا اور انہو ں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے ۔ حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کے خلاف روایات بھی آتی ہیں اور وہ ہی روایات ہیں جن کو ہم پہلے ذکر کر آئے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ بلال ؓ تو رات ہی کو اذان دے دیتا ہے۔ تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام کلثوم اذان دے "اور یہ بھی فرمایا : لا یمنعن احد کھر......۔ہر گز تمہیں بلال کی اذان سحری سے نہ روکے اس لئے کہ وہ تو اذان دیتے ہیں تاکہ سونے والا جاگ جائے اور قیام والا واپس لوٹ آئے ۔ پھر فجر کی تعریف فرمائی جس طرح فرمائی ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ صبح کا وجود کھانے اور پینے اور دیگر اشیاء جو روزہ دار کے لئے ممنوع ہیں ان کے لئےرکاوٹ ہے۔ یہ روایات مذکورہ حضرت حذیفہ ؓ والی روایت کے خلاف ہیں اور حضرت حذیفہ ؓ والی روایت کی یہ تاویل بھی ہو سکتی ہے (واللہ اعلم )یہ حکم آیت کلو ا واشربواحتی یتیبین لکم الخیط الا بیض من الخیط الا سورمن الفجر ثم اتموالصیام الی اللیل......کے نزول سے پہلے کی بات ہے ۔ جیسا ذیل کی روایات مشیر ہیں ۔
زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3089
