Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3326

3156 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا أبى عن حسين المعلم عن يحيى بن أبى كثير عن عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان بن أبى طلحة عن أبى الدرداء أن النبي صلى الله عليه و سلم قاء فأفطر قال فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فقال صدق أنا صببت له وضوءه

معدان بن ابی طلحہ نے ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی پس روزہ افطار کر دیامعدان کہتے ہیں کہ میں ثوبان رضی اللہ تعالی عنہا سے ملا وہ جامع مسجد دمشق میں تھے تو انہوں نے کہا ۔ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ نے درست کہا میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← أَبِيهِ ← يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3326

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3327

3157 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث عن حسين المعلم عن يحيى بن أبى كثير عن عبد الله بن عمرو الأوزاعي عن يعيش بن الوليد بن هشام عن معدان بن طلحة عن أبى الدرداء ثم ذكر مثله قال بن أبى داود قال أبو معمر هكذا قال عبد الوارث عبد الله بن عمرو

معدان بن طلحہ نے ابو دردا ء سے روایت نقل کی ہے پھر اسی طرح بیان کی کہ ابن ابی داؤد نے کہا کہ ابو معمر نے کہا اسی طرح عبدالوارث ، عبداللہ بن عمرو نے کہا ۔

عبد الوارث عبد الله بن عمرو ← أبو معمر هكذا ← بن أبي داود ← مِثْلَہُ ← أبى الدرداء ثم ← مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ، ← يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ← عبد الله بن عمرو الأوزاعي ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3327

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3328

3158 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة قال ثنا أبو الجودى عن بلح رجل من مهرة عن أبى شيبة المهري قال قلت لثوبان حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قاء فأفطر قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الصائم إذا قاء فقد أفطر واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن استقاء أفطر وإن ذرعه القيئ لم يفطر وقالوا قد يجوز أن يكون قوله قاء فأفطر أي قاء فضعف فأفطر وقد يجوز هذا في اللغة واحتج الأولون لقولهم أيضا بما

ابو شیبہ مھری کہتے ہیں ہیں میں نے ثوبان سے کہا کہ ہم کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناؤ، انہوں نے کہا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے قے کی پھر روزہ افطار کر دیا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہفرماتے ہیں بعض علمائے کرام یہ کہتے ہیں کہ روزہ دار کو جب قے آگئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے اپنی دلیل میں اس روایت کو پیش کیا ہے ، دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا، اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ جاتا رہا اور اس کو اے آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا۔

أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ← بلح رجل من مهرة ← أَبُو الْجُودِيِّ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3328

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3329

3159 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا يزيد بن أبى حبيب قال أخبرني أبو مرزوق عن حنش عن فضالة بن عبيد قال دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بشراب فقال له بعضنا ألم تصبح صائما يا رسول الله قال بلى ولكني قئت

حنش نے فضالہ بن عبید سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ہم میں سے بعض نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے آج روزہ نہیں رکھا، آپﷺ فرمایا کیوں نہیں ۔لیکن مجھے قے آگئی ۔

له بعضنا ألم تصبح صائما ← دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بشراب ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← حنش ← أَبُو مَرْزُوقٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3329

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3330

3160 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح ح

محمد بن خزیمہ کہتے ہیں ہمیں حجاج نے بیان کیا۔

رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3330

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3331

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج ح وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا يحيى بن حسان قالوا ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبى حبيب عن أبى مرزوق عن حنش عن فضالة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قيل لهم وهذا أيضا مثل الأول يجوز ولكني قئت فضعفت عن الصوم فأفطرت وليس في هذين الحديثين دليل على أن القيئ كان مفطرا له إنما فيه أنه قاء فأفطر بعد ذلك وقد روى فى حكم الصائم إذا قاء أو استقاء عن النبي صلى الله عليه و سلم مفسرا ما قد

حنش نے فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان دونوں روایات میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ کہ قے سے روزہ ٹوٹا ۔البتہ اس میں اتنی بات ہے کہ آپ نے قے کی پھر اس کے بعد روزہ افطار کر دیا اور قے آنے اور جان بوجھ کر کرنے میں روزے کے حکم سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واضح روایات وارد ہے ہے ذیل میں ملاحظہ ہو۔

فَضَالَةَ، ← حنش ← أَبِي مَرْزُوقٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← حسين بن نصر ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3331

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3332

3161 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا عيسى بن يونس عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء ومن استقاء فليقض فبين هذا الحديث كيف حكم الصائم إذا ذرعه القيء أو استقاء وأولى الأشياء بنا أن يحمل الآثار على ما فيه اتفاقها وتصحيحها لا على ما فيه تنافيها وتضادها فيكون معنى الحديثين الأولين على ما وصفنا حتى لا يضاد معناهما معنى هذا الحديث فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما حكمه من طريق النظر فانا رأينا القيء حدثا في قول الناس وغير حدث في قول الآخرين ورأينا خروج الدم كذلك وكل قد أجمع أن الصائم إذا فصد عرقا أنه لا يكون بذلك مفطرا وكذلك لو كانت به علة فانفجرت عليه دما من موضع من بدنه فكان خروج الدم من حيث ذكرنا من بدنه واستخراجه إياه سواء فيما ذكرنا وكذلك هما في الطهارة وكان خروج القيء من غير استخراج من صاحبه إياه لا ينقض الصوم فالنظر على ما ذكرنا أن يكون خروجه باستخراج صاحبه إياه كذلك لا ينقض الصوم فلما كان القيء لا يفطره في النظر كان ما ذرعه من القيء أحرى أن يكون كذلك فهذا حكم هذا الباب أيضا من طريق النظر ولكن اتباع ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أولى وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وعامة العلماء وقد روى ذلك عن جماعة من المتقدمين

محمد بن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو قے پیش آئے اور وہ روزے سے تھا تو اس پر روزے کی قضا نہیں ( اس کا روزہ باقی ہے ) جس نے خود جان بوجھ کر قے کی تو وہ قضا کرے (کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا ) اس روایت نے یہ بات کھول دے جب قے آ جائے یا جب وہ جان بوجھ کر قے کر ڈالے دونوں کا کیا حکم ہے ، اور بہتر یہ ہے کہ آثار کو ایسی بات پر محمول کر یں جس میں روایات کے معنی میں باہمی تضاد نہ ہو ۔ آ ثار کے معنی کی تصحیح کے پیش نظر اس باب کی یہی صورت ہے ۔باقی نظر و فکر کے لحاظ سے اس کا حکم اس طرح ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ بعض علماء کو حرث میں شمار کرتے ہیں اور دوسرے کہتے ہیں کہ وہ حرث نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ خون نکلنے کا حکم بھی اسی طرح ہے ۔ سب کا اس بات پر اتفاق ہے ۔ اگر روزہ دار اپنی رگ سے خون نکلوائے تو اس سے روزہ نہیں جاتا ۔ اس طرح کسی تکلیف کی وجہ سے اگر جسم کے کسی حصہ سے خون نکلے تو اس ضمن میں خون کا نکلنا اور نکالنا دونوں برابر ہیں اور طہارت کے سلسلے میں بھی دونوں برابر ہیں ۔ اور قے جب تک خود نہ نکالی جائے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔جیسا کہ ہم نے ذکر کیا قیاس کا تقاضا یہی ہے ۔اسی طرح خود قے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔جب قیاس کے مطابق اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو وہ قے جو غالب آئے اور مجبور کردے اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ افر غور و فکر کے اندازے سے لیا جائے تو اس لحاظ سے بھی اس کا حکم یہی ہے مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے اتباع زیادہ بہتر ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ اور عا م علماء کا قول ہے اور متقدمین کی ایک جماعت کی ایک جماعت میں سے بھی یہی بات منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3332

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3333

3162 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا مالك وصخر بن جويرية عن نافع عن بن عمر أنه قال من استقاء وهو صائم فعليه القضاء ومن ذرعه القيء فليس عليه القضاء

نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق نقل کیا ہے کہ جس نے روزہ کی حالت میں جان بوجھ کر قے کی اس پر قضا لازم ہے اور جس کو قے خود پیش آگئی اس پر قضا نہیں یعنی اس کا روزہ درست ہے۔

«مَنِ اسْتَقَاءَ، وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ»، ← بن عمر أنه ← نَافِعٍ ← مالك وصخر بن جويرية ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3333

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3334

3163 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

بن عمر مثله ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3334

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3335

3164 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد يعنى بن سلمة عن حماد عن إبراهيم مثله

حماد بن سلمہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

إبْرَاهِيمَ مِثْلَهُ. ← حَمَّادٌ، ← حماد يعني بن سلمة ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3335

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3336

3165 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حميد عن الحسن مثله

حجاج نے حماد سے انہوں نے حمید سے انہوں نے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

الْحَسَنِ مِثْلَهُ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3336

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 21 باب الصائم يقيئ ) · حديث 3337

3166 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حبان السلمي عن القاسم بن محمد مثله

حجاج نے حماد سے انہوں نے حبان سلمی سے انہوں نے قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، مِثْلَهُ ← حَبَّانَ السُّلَمِيِّ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3337

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter