Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3739

3538 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا الفضل بن موسى قال ثنا بن أبى ليلى عن نافع عن بن عمرو عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ترفع الأيدى في سبع مواطن في افتتاح الصلاة وعند البيت وعلى الصفا والمروة وبعرفات وبالمزدلفة وعند الجمرتين

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حکم عن مقسم سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا سات مقامات پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے نماز کی افتتاحی تکبیر میں ، بیت اللہ کے پاس ، صفا پر مرو ہ پر ،عرفات میں ، مزدلفہ میں، رمی حمر تین کے بعد ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← بن عمرو ← نَافِعٍ ← بن أَبِي لَيْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3739

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3740

3539 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا المحاربي عن بن أبى ليلى عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فكان هذا الحديث مأخوذا به لا نعلم أحدا خالف شيئا منه غير رفع اليدين عند البيت فان قوما ذهبوا الى ذلك واحتجوا بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا رفع اليدين عند رؤية البيت واحتجوا في ذلك بما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت بیان کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو اپنا یا گیا ہے ہمارے علم میں نہیں کہ کسی نے اس کے جزء سے اختلاف کیا سوائے بیت اللہ کے پاس ہاتھ اٹھانے کے اس میں بعض علماء کہتے ہیں کہ ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور ان کی دلیل یہ روایت ہے اور دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب بیت اللہ کو دیکھیں تو اس وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے اور انہوں نے مندرجہ ذیل استدلال کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن أَبِي لَيْلَى ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3740

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3741

3540 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبى قزعة الباهلى عن المهاجر عن جابر بن عبد الله أنه سئل عن رفع الأيدى عن البيت فقال ذاك شيء يفعله اليهود قد حججنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يفعل ذلك فهذا جابر بن عبد الله رضي الله عنه يخبر أن ذلك من فعل اليهود وليس من فعل أهل الإسلام وأنهم قد حجوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يفعل ذلك فان كان هذا الباب يؤخذ من طريق الإسناد فان هذا الإسناد أحسن من إسناد الحديث الأول وان كان ذلك يؤخذ من طريق تصحيح معاني الآثار فان جابرا قد أخبر أن ذلك من فعل اليهود فقد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر به على الإقتداء منه بهم إذ كان حكمه أن يكون على شريعتهم لأنهم أهل كتاب حتى يحدث الله عز و جل له شريعة تنسخ شريعتهم ثم حج رسول الله صلى الله عليه و سلم فخالفهم فلم يرفع يديه إذا من مخالفتهم فحديث جابر أولى لأن فيه مع تصحيح هذين الحديثين النسخ لحديث بن عباس رضي الله عنهما وابن عمر رضي الله عنهما وإن كان يؤخذ من طريق النظر فانا قد رأينا الرفع المذكور في هذا الحديث على ضربين فمنه رفع لتكبير الصلاة ومنه رفع للدعاء فأما ما للصلاة فرفع اليدين عند افتتاح الصلاة وأما ما للدعاء فرفع اليدين عند الصفا والمروة وبجمع وعرفة وعند الجمرتين فهذا متفق عليه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا في رفع اليدين بعرفة ما

مہاجر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ان بیت اللہ کے پاس ہاتھ اٹھانے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ وہ چیز ہے جو یہود کرتے تھے ہم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج کیا آپ نے یہ نہیں کیا۔ یہ جابر رضی اللہ عنہ ہیں جو اس بات کی نشاندہی فرمارہے ہیں کہ یہ یہود کا فعل ہے اہل اسلام کا فعل نہیں ہے ہم نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج کیا اور آپ نے یہ فعل نہیں کیا اور اس باب کو سند کے لحاظ سے لیا جائے تو اس روایت کی سند شروع باب میں مذکور روایت کی سند سے اعلیٰ ہے اور اگر اس کو آثار کے معانی کی تصحیح کے طور پر لیا جائے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ اطلاع دی کہ یہ یہود کا فعل اور طرز عمل ہے عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان کی اقتداء کے طور پر شروع میں حکم فرمایا ہو ۔ اس لیے کہ آپ ان کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کے طریقے کا حکم فرماتے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی شریعت کو منسوخ کرنے والا حکم نہ ملتا ۔ پھر آپ نے حج کیا اوران کی مخالفت فرمائی اور ہاتھ نہیں اٹھائے پس جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اولیٰ ہے کیونکہ اس میں ان دونوں روایات کی تصحیح کے ساتھ ساتھ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات کی تنسیخ بھی پائی جاتی ہے ۔ اور اگر فکر ونظر کے لحاظ سے لیں ۔ تو ہم یہ بات پاتے ہیں کہ اس حدیث میں مذکور ہاتھ اٹھانا دو قسم پر ہے ۔ 1۔ نماز کی تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھانا ہے ۔ 2۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ہے جس رفع یدین کا تعلق نماز سے ہے تو وہ ابتداء نماز میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اور جس رفع یدین کا تعلق دعا سے ہے تو اس کا تعلق صفا، مروہ مزدلفہ عرفات اور دونوں جمرات کے پاس ہاتھ اٹھانا ہے اور یہ سب کے ہاں متفق علیہ ہے ۔ جیسا اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے میدان عرفات میں ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْمُهَاجِرِ، ← أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3741

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3742

3541 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال أنا حماد عن بشر بن حرب عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يدعو بعرفة وكان يرفع يديه نحو ثندوته فأردنا أن ننظر في رفع اليدين عن رؤية البيت هل هو كذلك أم لا فرأينا الذين ذهبوا الى ذلك ذهبوا أنه لا لعلة الإحرام ولكن لتعظيم البيت وقد رأينا الرفع بعرفة والمزدلفة وعند الجمرتين وعلى الصفا والمروة إنما أمر بذلك من طريق الدعاء في الموطن الذي جعل ذلك الوقوف فيه لعلة الإحرام وقد رأينا من صار الى عرفة أو مزدلفة موضع رمى الجمار أو الصفا والمروة وهو غير محرم أنه لا يرفع يديه لتعظيم شيء من ذلك فلما ثبت أن رفع اليدين لا يؤمر به في هذه المواطن إلا لعلة الإحرام ولا يؤمر به في غير الإحرام كان كذلك لا يؤمر برفع اليدين لرؤية البيت في غير الإحرام فإذا ثبت أن لا يؤمر بذلك فىغير الإحرام ثبت أن لا يؤمر به أيضا في الإحرام وحجة أخرى أنا قد رأينا ما يؤمر برفع اليدين عنده في الإحرام ما كان مأمورا بالوقوف عنده من المواطن التي ذكرنا وقد رأينا جمرة العقبة كغيرها من الجمار غير أنه لا يوقف عندها فلم يكن هناك رفع فالنظر على ذلك أن يكون البيت لما لم يكن عنده وقوف أن لا يكون عنده رفع قياسا ونظرا على ما ذكرنا من ذلك وهذا الذي أثبتناه بالنظر هو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى في ذلك عن إبراهيم النخعي ما

بشربن حرب نے جناب ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ عرفات میں دعا فرما رہے تھے اور آپ کے دست مبارک سینہ تک اٹھے تھے ۔ اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ بیت اللہ شریف کے دیدار کے وقت ہاتھ اٹھانا آیا وہ اسی طرح ہے یا نہیں جن حضرات نے اس کو اختیار کیا ہے وہ اس کو احرام کی وجہ سے نہیں بلکہ بیت اللہ کی تعظیم کی خاطر مانتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ میدان عرفات اور مزدلفہ اور منیٰ میں جمر تین کے پاس اسی طرح صفا اور مروہ پر جہاں وقوف کیا جاتا ہے وہاں ہاتھ اٹھانے کا حکم احرام کی وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ ان مقامات میں وقوف احرام کی ہی وجہ سے ہے ۔ ہم یہ بات پاتے ہیں کہ اگر کوئی غیر محرم عرفات یا مزدلفہ جمر تین صفاو مروہ کے پاس جائے تو وہ کسی چیز کی تعظم کے لیے وہاں ہاتھ نہ اٹھائے گا پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان مقاما ت پر ہاتھوں کے اٹھانے کا حکم صرف احرام کی وجہ سے دیا گیا ۔ یہ حکم غیر احرام میں نہ ہو گا ۔اسی طرح بیت اللہ کو دیکھتے وقت بھی رفع یدین کا حکم نہ دیا جائے گا جبکہ آدمی احرام میں نہ ہو۔پس یہ بات ثابت ہو گئی کہ احرام کے علاوہ میں یہ حکم نہ دیا جائے گا تو اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کی کہ احرام کی حالت میں بھی اس کا حکم بھی نہ دیا جائے گا ایک اور دلیل یہ ہے کہ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جن مقامات پر رفع یدین کا حکم ہوا ہے ان مقامات پر وقوف کا حکم بھی ملا ہے ان مقامات کا تذکرہ ہم کر چکے ہیں ہم یہ بات بھی پاتے ہیں کہ جمرہ عقبہ بھی بقیہ جمرتین کی طرح ہے مگر اس کے پاس وقوف نہیں پس وہاں رفع یدین نہیں پس اس پر غور فکر کا تقاضا یہ ہے کہ جب بیت اللہ کے پاس وقف نہیں تو اس کے پاس رفع یدین بھی نہیں قیاس و نظر اسی کو چاہتے ہیں اور یہ جو چیز ہم نے نظر سے پیش کی یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی منقول ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3742

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3743

3542 - حدثنا سليمان بن شعيب بن سليمان عن أبيه عن أبى يوسف رضي الله عنه عن أبى حنيفة رضي الله عنه عن طلحة بن مصرف عن إبراهيم النخعي قال ترفع الأيدى في سبع مواطن في افتتاح الصلاة وفي التكبير للقنوت في الوتر وفي العيدين وعند استلام الحجر وعلى الصفا والمروة وبجمع وعرفات وعند المقامين عند الجمرتين قال أبو يوسف رحمه الله فأما في افتتاح الصلاة في العيدين وفي الوتر وعند استلام الحجر فيجعل ظهر كفيه الى وجهه وأما في الثلاث الأخر فيستقبل بباطن كفيه وجهه فأما ما ذكرنا في افتتاح الصلاة فقد اتفق المسلمون على ذلك جميعا وأما التكبيرة في القنوت في الوتر فإنها تكبيرة زائدة في تلك الصلاة وقد أجمع الذين يقنتون قبل الركوع على الرفع معها فالنظر على ذلك أن يكون كذلك كل تكبيرة زائدة في كل صلاة فتكبير العيدين الزائد فيها على سائر الصلاة كذلك أيضا وأما عند استلام الحجر فإن ذلك جعل تكبيرا يفتتح به الطواف كما يفتتح بالتكبير الصلاة وأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا

طلحہ بن مصرف نے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا سات مقام پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے تکبیر افتتاح ، تکبیر قنوت وتر ، عیدین ، استلام حجر کے وقت ، صفا مروہ ، عرفات میں جمرتین کے اس امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عیدین یا وتر یا استلام حجر کے وقت تو اپنی ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کی طرف کرے اور تین دوسرے مقامات پر اپنی ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کر ے افتتاح نماز میں تو تمام مسلمانوں کا رفع یدین کو ضروری قرار دیتے ہیں پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ہر نماز جس میں زائد تکبیرات ہوں اس میں رفع یدین ہو تکبیرات عیدین زائد میں جو بقیہ نمازوں سے زائد ہیں ان میں حکم اسی طرح ہے باقی حجر اسود کو بوسہ دینے کے وقت پس یہ تکبیر افتتاح طواف کے لیے مقرر کی گئی ہے ۔ جیسا کہ تکبیر سے نماز کا افتتاح کیا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے بھی اس کا حکم فرمایا ہے ۔

إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← أَبِي حَنِيفَةَ ← أَبِي يُوسُفَ ← أَبِيهِ ← سليمان بن شعيب بن سليمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3743

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3744

3543 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن أبي يعفور العبدي قال سمعت أميرا كان على مكة من طرف الحجاج عنها سنة ثلاث وسبعين يقول كان عمر رضي الله عنه رجلا قويا وكان يزاحم على الركن فقال له النبي صلى الله عليه و سلم يا أبا حفص أنت رجل قوي وإنك تزاحم على الركن فتؤذي الضعيف فإذا رأيت خلوة فاستلمه وإلا فكبر وامض

ابو یعفور عبدی کہتے ہیں کہ میں نے مکہ کے گورنر سے سنا جو کہ 73ء میں حجاج کی طرف سے حاکم تھا وہ کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ ایک طاقتور آدمی تھے اور وہ رکن حجر پر لوگوں سے مزاحمت کرتے تھے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اس کو کہا اے ابو حفص! تم طاقت ور آدمی ہو تم رکن کے پاس بھیڑ بناؤ گے پس اس طرح تم کمزور کو ایذادو گے پس اگر خالی جگہ پاؤ تو استلام کر لو ورنہ تکبیر کہہ کر آگے روانہ ہو جاؤ۔

كان عمر رجلا قويا وكان يزاحم على الركن ← أميرا كان على مكة من طرف الحجاج عنها سنة ثلاث وسبعين ← أَبِي يَعْفُورَ الْعَبْدِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3744

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3745

3544 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن أبي يعفور عن رجل من خزاعة قال وكان الحجاج استعمله على مكة ثم ذكر مثله فلما جعل ذلك التكبير يفتتح به الطواف كالتكبير الذي جعل يفتتح به الصلاة أمر بالرفع فيه كما يؤمر بالرفع في التكبير لافتتاح الصلاة ولا سيما إذ قد جعل النبي صلى الله عليه و سلم الطواف بالبيت صلاة

ابو یعفور نے خزاعہ کے ایک آدمی سے بیان کیا جس کو حجاج نے مکہ پر عامل بنایا تھا پھر اس نے اس طرح روایت بیان کی ہے پس جب یہ تکبیر افتتاح طواف کے لیے مقرر کی گی ہے اس تکبیر کی طرح جو نماز کو شروع کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے تو اس میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے جیسا کہ نماز کو شروع کرنے والی تکبیر میں رفع یدین کا حکم ہے خصوصاً جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے بیت اللہ کے طواف کو بمنزلہ نماز قرار دیا ہے ۔

وكان الحجاج استعمله على مكة ثم ← رجل من خزاعة ← اَبِیْ یَعْفُورٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3745

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3746

3545 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح

ربیع الموذن سے اسد سے روایت کی ہے ۔

أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3746

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين عند رؤية البيت ) · حديث 3747

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قالا ثنا الفضيل بن عياض عن طاوس عن بن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الطواف بالبيت صلاة إلا أن الله عز و جل قد أحل لكم المنطق فمن نطق فلا ينطق إلا بخير فهذه العلة التي لها وجب الرفع فيما زاد على ما في الحديث الأول وأما الرفع على الصفا والمروة وبجمع وعرفات وعند المقامين عند الجمرتين فإن ذلك قد جاء منصوصا في الخبر الأول وهذا الذي وصفنا من هذه المعاني التي ثبتناها قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ طواف بیت اللہ نماز کی طرح ہے بس فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں گفتگو کو حلال قرار دیا ہے پس جو شخص گفتگو کرے بھلائی کی بات کرے یہ وہ علت ہے جسکی بناء پر حدیث اول سے زائد مذکورہ مقامات پر ہاتھ اٹھانا واجب ہے باقی صفا، مروہ ، مزدلفہ و عرفات اور جمرتین کے پاس ہاتھوں کا اٹھانا یہ خبر اول کی نص میں موجود ہے یہ اس روایت کا معنی ہے جس کو ہم نے کھول دیا ہے ۔یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3747

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter