Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2027

1915 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أبو صخر عن يزيد بن قسيط عن خارجة زيد بن ثابت عن أبيه قال عرضت على النبي صلى الله عليه و سلم النجم فلم يسجد أحد منا

خارجہ بن زید نے اپنے والد زید بن ثابت سے نقل کیا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ نجم سنائی پس ہم میں سے کسی ایک نے بھی سجد نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← خارجة زيد بن ثابت ← يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، ← أَبُو صَخْرٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2027

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2028

1916 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال أنا حيوة بن شريح قال أنا أبو صخر فذكر بإسناده مثله

حیوہ بن شریح سے خبردی کہ ابو صحرہ نے بتلایا پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

أبو صخر فذكر بإسناده مثله ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2028

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2029

1917 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا بن أبى ذئب ح

ابو بکرہ کہتے ہیں ہمیں روح نے اور وہ ابن ابی ذئب سے بیان کرتے ہیں ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2029

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2030

وحدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير عن يزيد بن قسيط عن عطاء بن يسار عن زيد بن ثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه قال أبو جعفر فذهب الى هذا الحديث قوم فقلدوه فلم يروا في النجم سجدة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل فيها سجدة وليس في هذا الحديث دليل عندنا على أنه لا سجود فيها لأنه يحتمل أن يكون ترك النبي صلى الله عليه و سلم السجود فيها حينئذ لأنه كان على غير وضوء فلم يسجد لذلك ويحتمل أنه تركه لأنه كان في وقت لا يحل فيه السجود ويحتمل أن يكون تركه لأن الحكم كان عنده في سجود التلاوة أن من شاء سجد ومن شاء تركه ويحتمل أن يكون تركه لأنه لا سجود فيها فلما احتمل تركه للسجود كل معنى من هذه المعاني لم يكن هذا الحديث بمعنى منها أولى من صاحبه إلا بدلالة تدل عليه من غيره ولكنا نحتاج الى ان نفتش ما بعد هذا الحديث من الأحاديث لنلتمس حكم السورة هل فيها سجود أو لا سجود فيها فنظرنا في ذلك فإذا إبراهيم بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا وهب ح

عطاء بن یسار نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بعض علماء نے گزشتہ آثار کی پیروی کرتے ہوے کہا کہ سورۃ نجم میں سجدہ نہیں ہے مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سجدہ لازم ہے ۔ اور روایات بالا میں سورۃ نجم میں سجدہ کے نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اس میں کئی احتمالات ہیں ۔ (1) ۔ آپ نے اس وقت سجدہ وضو کی حالت نہ ہونے کی وجہ سے ترک کیا ہو۔ 2۔ وہ ایسا وقت ہو جس میں سجدہ جائز نہ ہو ۔ 3۔ اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ کے ہاں سجدہ کا اس وقت یہ ہو کہ جو چاہے اس کو کر لے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔4۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں سجدہ اس لیے ترک کیا کہ اس میں سجدہ نہیں جب سجدہ کے ترک میں یہ تمام احتمالات جاری ہیں اور یہ روایت دوسری سے اولیٰ اس وت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس میں ایسی دلالت نہ ہو جو اسے دوسری سے راجح بنا دے لیکن اس کے لیے ان احادیث کو دیکھنا اور تلاش کرنا ہو گا جو اس میں سجدہ کے ہونے نہ ہونے پر دلالت کریں ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2031

وحدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قالا ثنا شعبة عن أبى إسحاق عن الأسود عن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ والنجم فسجد فيها فلم يبق أحد الا سجد الا شيخ كبير أخذ كفا من تراب فقال هذا يكفينى قال عبد الله ولقد رأيته بعد قتل كافرا

اسود نے عبداللہ سے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جتنے لوگ موجود تھے سب نے سجدہ کیا پر ایک بڈھا رہ گیا جس نے مٹی کی ایک مٹھی لے کر اپنے ماتھے سے لگائی اور کہنے لگا مجھے یہی کافی ہے عبداللہ کہتے ہیں میں نے اس کو بعد میں کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وحدثنا علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2031

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2032

1919 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب الزهرى قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن مصعب بن ثابت عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قرأ ب النجم فسجد وسجد معه المسلمون والمشركون حتى سجد الرجل على الرجل وحتى سجد الرجل على شيء رفعه الى وجهه بكفه

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ نجم کی تلاوت فرمائی پھر سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمان اور کافر بھی سجد ہ میں پڑ گئے ۔ یہاں تک کہ آدمیوں نے ایک دوسرے پر سجد کیا اور ایک آدمی نے اس چیز پر سجدہ کیا جو اس نے چہر ےکی طرف اپنےہاتھ سے بلند کی ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2033

1920 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر وبشر بن عمر عن بن أبى ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبى هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ والنجم فسجد وسجد الناس معه الا رجلين أراد الشهرة

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم کی تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ سب نے سجدہ کیا مگر دو آدمیوں نے شہر ت کی خاطر سجدہ نہ کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أبو عامر وبشر بن عمر ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2034

1921 - حدثنا أحمد بن مسعود الخياط رضي الله عنه قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا مخلد بن حسين عن هشام عن بن سيرين عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قرأ والنجم فسجد وسجد معه من حضره من الجن والإنس والشجر

ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا تو آپ کے ساتھ جو جن وانس اور درخت موجود تھے سب نے سجدہ کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أحمد بن مسعود الخياط

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2035

1922 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا أبو ثابت المدني قال ثنا عبد العزيز بن حازم عن العلاء عن أبيه عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أنه رأى أبا هريرة رضي الله عنه سجد في خاتمة النجم قال أبو سلمة يا أبا هريرة رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسجد فيها قال لولا أنى رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسجد فيها لما سجدت فيها

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورۃ نجم کے اختتام پر سجدہ کیا ابو سلمہ کہتے ہیں میں نےپوچھا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ نجم میں سجدہ کرتے دیکھا ہے ۔ تو انہوں نے فرمایا اگر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں سجدہ نہ کرتا۔

أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِيِّ ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2035

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2036

1923 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبى هلال عمن أخبره عن أبى الدرداء قال سجدت مع النبي صلى الله عليه و سلم إحدى عشرة سجدة منهن النجم

سعید بن بلال نے اس سے بیان کیا کہ جنہوں نے ان کو بتلایا کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے جن میں ایک سورۃ نجم والا ہے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← سعيد بن أبي هلال، عمن ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2036

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2037

1924 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا بن المبارك عن معمر عن بن طاوس عن عكرمة بن خالد عن المطلب بن وداعة قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم قرأ النجم بمكة فسجد فلم أسجد معه لأنى كنت على غير الإسلام فلن أدعها أبدا ففي هذه الآثار تحقيق السجود فيها وليس فيما ذكرنا في الفصل الأول ما ينفى أن يكون فيها سجدة فهذه أولى لأنه لا يجوز أن يسجد في غير موضع سجود وقد يجوز أن يترك السجود في موضعه لعارض من العوارض التي ذكرناها في الفصل الأول فإن قال قائل فإن في ذلك دلالة أيضا تدل على أن لا سجود فيها فذكر

عکرمہ بن خالد نے مطلب بن وداعہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مکہ میں سورۃ نجم پرھی اور سجدہ کیا کیونکہ میں اسلام پر نہ تھا ( اب) ہرگز میں اس کو نہ چھوڑوں گا ان روایات سے اس میں سجدہ کا وجود ثابت ہوا فصل اول میں جو روایات مذکور ہیں وہ سجدہ ہونے کے منافی نہیں ہیں پس یہ بہتر ہے اس لیے کہ جو سجدے کا موقع نہ ہو وہاں سجدہ جائز نہیں اور یہ تو ممکن ہے کہ عارضہ کی وجہ سے کسی سجدہ کو چھوڑ دیا جائے وہ عوارض جن کا تذکرہ ہم فصل اول میں کر چکے ۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہو اس میں بھی تو اس میں سجدہ نہ ہونے کی دلالت موجود ہے ۔

المطلب بن وداعة ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← بن طاوس، ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2037

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2038

ما حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن الحسين اللهبى قال حدثني بن أبى فديك قال حدثني داود بن قيس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أنه سأل أبى بن كعب هل في المفصل سجدة قال لا قال فأبى بن كعب قد قرأ عليه النبي صلى الله عليه و سلم القرآن كله فلو كان في المفصل سجود إذا لعلمه سجود النبي صلى الله عليه و سلم فيه لما أتى عليه في تلاوته ولا حجة له في هذا عندنا لأنه قد يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم ترك ذلك فيه لمعنى من المعاني التي ذكرناها في الفصل الأول وقد ذهب جماعة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في سجود التلاوة الى أنه غير واجب والى أن التالى لا يضره أن لا يفعله فمما روى عنهم في ذلك ما

عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا مفصلات میں سجدہ ہے انہوں نے فرمایا نہیں۔ معترض کہتے ہیں یہ لوابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں جن پر جناب رسول اللہ نے سارا قرآن مجید پڑھا ، اگر مفصل میں سجدہ ہوتا تو وہ اس سجدہ کو ضرور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ سے جان لیے۔ اما طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے ہاں معترض کے لیے اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ عوارض مذکورہ میں کسی کی بناء پر سجدہ کو ترک فرمایا ہو ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت کہتی ہے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں اور اگر تلاوت کرنے والا بھی نہ کرے تو تب بھی اس کو کچھ نقصان نہیں ۔

لَا۔ ← عطاء بن يسار أنه سأل أبى بن كعب هل في المفصل سجدة ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← بن أبي فديك ← أحمد بن الحسين اللهبي، ← بن أبي داود ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2038

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter