شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 413
405 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحسين بن مهدي قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري عن عروة أنه تذاكر هو ومروان الوضوء من مس الفرج فقال مروان حدثتني بسرة بنت صفوان أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فكان عروة لم يرفع بحديثها رأسا فأرسل مروان إليها شرطيا فرجع فأخبرهم أنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فذهب قوم إلى هذا الأثر وأوجبوا الوضوء من مس الفرج وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا وضوء فيه واحتجوا في ذلك على أهل المقالة الأولى فقالوا في حديثكم هذا أن عروة لم يرفع بحديث بسرة رأسا فإن كان ذلك لأنها عنده في حال من لا يؤخذ ذلك عنها ففي تضعيف من هو أقل من عروة بسرة ما يسقط به حديثها وقد تابعه على ذلك غيره
زہری نے عروہ سے بیان کیا عروہ کہتے ہیں میں نے اور مروان نے باہمی مس ذکر سے وضو کے متعلق مذاکرہ کیا مروان نے کہا مجھے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ کے چھو لینے پر وضو کا حکم فرامتے سنا عروہ نے بات سن کر اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی مروان نے اپنا ایک سپاہی بھیج کر بسرہ سے استفسار کرایا تو وہ سپاہی لوٹ کر بتلائے گا کہ بسرہ رضی اللہ عنہ نے ہی یہ کہا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ چھولینے پر وضو کا حکم فرماتے سنا ہے ۔ بعض لوگ اس روایت کی بناء پر اس طرف گئے ہیں کہ انہوں نے شرمگاہ کو چھو لینے سے وضو کو لازم قرار دیا ۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس میں وضو نہیں ہے اور انہوں نے پہلے قول والوں کے خلاف دلیل دیتے ہوے کہا کہ تمہاری روایت میں یہ موجود ہے کہ عروہ نے بسرہ کی روایت کی طرف توجہ دی ۔ اگریہ اسی طرح ہے تو گویا بسرہ کو ضعیف قرار دیدے تو تب بھی اسکی روایت ساقط ہو جاتی ہے ۔۔۔جائے کہ عروہ خود ہو اور عروہ کی متابعت اس سلسلہ میں اور لوگوں نے بھی کی ہے ۔
عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 413
