Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 413

405 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحسين بن مهدي قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري عن عروة أنه تذاكر هو ومروان الوضوء من مس الفرج فقال مروان حدثتني بسرة بنت صفوان أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فكان عروة لم يرفع بحديثها رأسا فأرسل مروان إليها شرطيا فرجع فأخبرهم أنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فذهب قوم إلى هذا الأثر وأوجبوا الوضوء من مس الفرج وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا وضوء فيه واحتجوا في ذلك على أهل المقالة الأولى فقالوا في حديثكم هذا أن عروة لم يرفع بحديث بسرة رأسا فإن كان ذلك لأنها عنده في حال من لا يؤخذ ذلك عنها ففي تضعيف من هو أقل من عروة بسرة ما يسقط به حديثها وقد تابعه على ذلك غيره

زہری نے عروہ سے بیان کیا عروہ کہتے ہیں میں نے اور مروان نے باہمی مس ذکر سے وضو کے متعلق مذاکرہ کیا مروان نے کہا مجھے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ کے چھو لینے پر وضو کا حکم فرامتے سنا عروہ نے بات سن کر اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی مروان نے اپنا ایک سپاہی بھیج کر بسرہ سے استفسار کرایا تو وہ سپاہی لوٹ کر بتلائے گا کہ بسرہ رضی اللہ عنہ نے ہی یہ کہا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ چھولینے پر وضو کا حکم فرماتے سنا ہے ۔ بعض لوگ اس روایت کی بناء پر اس طرف گئے ہیں کہ انہوں نے شرمگاہ کو چھو لینے سے وضو کو لازم قرار دیا ۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس میں وضو نہیں ہے اور انہوں نے پہلے قول والوں کے خلاف دلیل دیتے ہوے کہا کہ تمہاری روایت میں یہ موجود ہے کہ عروہ نے بسرہ کی روایت کی طرف توجہ دی ۔ اگریہ اسی طرح ہے تو گویا بسرہ کو ضعیف قرار دیدے تو تب بھی اسکی روایت ساقط ہو جاتی ہے ۔۔۔جائے کہ عروہ خود ہو اور عروہ کی متابعت اس سلسلہ میں اور لوگوں نے بھی کی ہے ۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 413

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 414

406 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني زيد عن ربيعة أنه قال لو وضعت يدي في دم أو حيضة ما نقض وضوئي فمس الذكر أيسر أم الدم أم الحيضة قال وكان ربيعة يقول لهم ويحكم مثل هذا يأخذ به أحد ونعمل بحديث بسرة والله لو أن بسرة شهدت على هذه النعل لما أجزت شهادتها إنما قوام الدين الصلاة وإنما قوام الصلاة الطهور فلم يكن في صحابة رسول الله صلى الله عليه و سلم من يقيم هذا الدين إلا بسرة قال بن زيد على هذا أدركنا مشيختنا مامنهم واحد يرى في مس الذكر وضوءا وإن كان إنما ترك أن يرفع [ ص 72 ] بذلك رأسا لأن مروان عنده ليس في حال من يجب القبول عن مثله فإن خبر شرطي مروان عن بسرة دون خبره هو عنها فإن كان مروان خبره في نفسه عند عروة غير مقبول فخبر شرطيه إياه عنها كذلك أحرى أن لا يكون مقبولا وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة إنما دلس به وذلك أن يونس حدثنا قال ثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد عن عروة بن الزبير عن مروان بن الحكم قال الوضوء من مس الذكر قال مروان أخبرتنيه بسرة بنت صفوان فأرسل إلى بسرة فقالت ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يتوضأ منه فذكر مس الذكر قال أبو جعفر فصار هذا الأثر إنما هو عن الزهري عن عبد الله بن أبي بكر عن عروة فقد حط بذلك درجة لأن عبد الله بن أبي بكر ليس حديثه عن عروة كحديث الزهري عن عروة ولا عبد الله بن أبي بكر عندهم في حديثه بالمتقن

زید بن ر بیعہ نے بیان کیا کہ اگر میں اپنا ہاتھ کسی خون میں یا حیض کے خون میں رکھوں تو میرا وضو توٹے گا کیا عضو تناسل کو ہاتھ لگانا یا خون یا حیض والے خون کو لگانا برابر ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ربیعہ فرمایا کرتے تھے کہ تم پر بہت زیادہ افسوس ہے ۔ کیا کوئی اس جیسی روایت کو لیتا ہے ۔ ہم بسرہ کی روایت کو جانتے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر بسرہ اس جوتے کے متعلق گواہی دے تو میں اس کی گواہی کو قبول نہ کرونگا ۔ نماز دین کا ستون ہے اور نماز کا ستون طہارت ہے ۔ کیا اس دین کو بسرہ کے سواور کوئی قائم کرنے والا نہیں ۔ ابن زید کہا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے مشائخ کو اسی بات پر پایا کہ ان میں کوئی بھی عضو تناسل کو چھو لینے سے وضو کا قائل نہیں اور اگر اس بات کی طرف عروہ کا توجہ نہ کرنا اس بناء پر لیا جائے کہ مروان ان کے ہاں ان آدمیوں میں سے نہیں تھا اور اگر اس بات کی طرف عروہ کو گوجہ نہ کرنا اس بناء پر لیا جائے کہ مروان ان کے ہاں ان آدمیوں میں نہیں تھا جس کی روایت قبول کی جائے تو مروان کے سپاہی کی روایت بسرہ سے وہ تو اس سے بھی کم تر ہے ۔پس اگر مروان کی اطلاع ذاتی لحاظ سے عروہ کے ہاں ناقبقل ہے تو اس کے سپاہی کی خبر کا نا مقبول ہونا تو زیادہ مناسب ہے پھر اس روایت میں ایک بات یہ بھی ہے کہ زہری نے اس کو عروہ سے نہیں سنا بلکہ اس نے تدلیس کی ہے ۔ فریق ثانی کی طرف سے روایت پر اعتراضات نمبر 1: حضرت عروہ نے اس روایت کی طرف کوئی توجہ ہی نہ کی اس لیے کہ حضرت بسرہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ان رواۃ سے ہیں جن سے روایت نہیں لی جاتی ۔ عروہ سے کم درجے کا آدمی بھی اگر ان کی تضعیف کر دے تب بھی انکی روایت قابل استدلال نہیں رہتی بلکہ ساقط ہو جاتی ہے ۔ ۔نمبر 2: عروہ کے علاوہ لوگوں نے اس کی تضعیف کی ہے چنانچہ ابن وہب کہتے ہیں کہ مجھے یزید نے بتلایا کہ ربیعہ فرمانے لگے اگر میں خون یا دم حیض میں انگلی رکھ دوں تو میرا وضو نہ ٹوٹے گا تو مس ذکر تو دم سے کم تر ہے ۔ ( اس سے کس طرح وضو ٹوٹ جائے گا ) ربیعہ کہا کرتے تھے تم اس قسم کی روایات سے استدلال کرتے ہو بسرہ کی روایت پر کیوں کر عمل ہو سکتاہے جبکہ اگر وہ بالمشافہ اس جوتے کے متعلق گواہی دے دے تو میں ان کی شہادت کو قبول نہ کروں گا دین کا رکن نماز ہے اور نماز کا دارو مدار طہارت پر ہے تو کیا صحابہ کرام میں اس دین کو قائم کرنے والا بسرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نہ تھا ؟ دراصل بسرہ کو ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب سمجھ نہ آیا ۔ نمبر 3: ابن زید کہتے ہیں ہم تمام مشائخ کا اتفاق ہے کہ مس ذکر سے وضو واجب نہیں ۔ نمبر 4: عروہ کا روایت کی طرف توجہ نہ کرنا بسرہ رضی اللہ عنہ کی قلت صحبت رسول کی وجہ سے تھا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ خود مروان ان کے ہاں مقبول روای نہیں اور پھر مجہول شرطی کا بیان تو اس کی تائید کی بجائے تضیف کو بڑھا رہا ہے ۔ نمبر 5: عروہ کے ہا ں مروان خود غیر مقبول روای ہے تو اس کا سپاہی اس سے کہیں بڑھ کر ناقابل قبول ہے پھر اس سے کچھ آگے بڑھ کر بات یہ ہے کہ زہری نے اس کو عروہ سے خود نہیں بلکہ تدلیس کی اور عبداللہ بن ابی بکر جو ان کے استاد ہیں ان کو حذف کر دیا ۔ نمبر 6: زہری کی بذات خود عروہ سے روایت جو درجہ رکھتی ہے وہ عبداللہ ابی بکر کے واسطے والی روایت وہ درجہ نہیں رکھتی کیونکہ وہ خود ناپختہ غیر متفن روای ہے خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان عینہ سے میں نے سنا کہ جب ہم کسی کو ایسے گروہ سے روایت نقل کرتے دیکھتے جو عبداللہ بن ابی بکر کے درجہ کا ہو تو ہم اس کا مذاق کرتے کیونکہ یہ لوگ حدیث کو جانتے بھی نہ تھے ۔ ابن عینینہ تو بڑے درجہ کے آدمی ہیں ان سے کم درجہ کے آدمی کا بیان بھی ان لوگوں کے ضعف کے لیے کافی ہے ۔ ایک اعتراض : یہاں تم نے عبداللہ بن ابی بکر کا ضعف بیان کیا یہ دوسری سند سے ثابت ہے کہ ابن شہاب نے خود ابو بکر بن محمد اور انہوں نے عروہ سے نقل کی ہے جو یہ ہے ۔ الجواب : امام زہری کے استاذ دراصل ابو بکر بن محمد ہیں اور ان کو چھپا کر تدلیس کی ہے اور مدلس کی روایت خود غیر مقبول ہے ۔ اعتراض نمبر 2: اس روایت کو ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے اور ہشام تو ایسا راوی ہے جس میں کسی کو کلام نہیں روایت اسطرح ہے ۔ ابن شہاب نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے مروان بن الحکم سے اس نے کہا مس ذکر سے وضو لازم ہے ۔ مروان کہنے لگا مجھے بسرہ بنت صفوان نے اس کی اطلاع دی ہے ۔ تو اس نے اپنا ایک سپاہی بسرہ کے پاس بھیجا تو اس نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان چیزوں کا ذکر کیا کہ جن سے وضو کیا جاتا ہے تو اس میں مس ذکر کو بھی بیان فرمایا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ اثر بھی زہری نے عبداللہ بن ابو بکر کے واسطے سے عروہ سے بیان کیا ہے ۔ اس سے اس کا ایک اور درجہ کم ہو گیا کیونکہ عبد اللہ بن ابی بکر کی روایت عروہ سے زہری کی عروہ سے روایت جیسی نہیں اور عبداللہ بن ابی محدثین کے ہاں حدیث میں پختہ راوی نہیں ۔

رَبِیعَۃَ، ← زيد1 ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 414

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 415

408 - حدثني يحيى بن عثمان قال ثنا بن وزير قال سمعت الشافعي رحمه الله يقول سمعت بن عيينة يقول كنا إذا رأينا الرجل يكتب الحديث عند واحد من نفر سماهم منهم عبد الله بن أبي بكر سخرنا منه لأنهم لم يكونوا يعرفون الحديث وأنتم فقد تضعفون ما هو مثل هذا بأقل من كلام مثل بن عيينة وقال آخرون إن الذي بين الزهري وبين عروة في هذا الحديث أبو بكر بن محمد

مجھے یحییٰ نے ابن وزیر سے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمت اللہ عیہ کو یہ کہتے سنا کہ ابن عینیہ کہا کرتے تھے کہ جب ہم کسی آدمی کو فلس جماعت کی حدیث لکھتا دیکھتے ہیں جن کے ابن عینہ نے نام گنوائے ان میں عبداللہ بن ابو بکر بھی شامل تھا تو ہم اس سے مذاق کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ حدیث کو نہیں جانتے اور تمہارا حال یہ ہے کہ پہلے قول والے لوگوں کو تم ایسے ہی لوگوں کے قول سے ضعیف قرار دیتے ہو جو مرتبہ میں ابن عینہ سے کم ہوتے ہیں ۔ دوسروں نے کہا کہ اس حدیث میں عروہ اور زہری کے درمیان ابو بکر بن محمد ہے ۔

بن عُيَيْنَةَ ← الشَّافِعِیُّ ← بن وزير ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ

Hadith 415

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 416

409 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال أخبرني بن شهاب قال حدثني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال حدثني عروة عن بسرة بنت صفوان أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول يتوضأ الرجل من مس الذكر فإن قالوا فقد روى هذا الحديث أيضا هشام بن عروة عن أبيه وهشام فليس ممن يتكلم في روايته بشيء ثم ذكروا في ذلك ما حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمي قال أنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه قال سألني مروان عن مس الذكر فقلت لا وضوء فيه فقال مروان فيه الوضوء ثم ذكر مثل حديث أبي بكر الذي في أول هذا الباب عن حسين بن مهدي

ابن شہاب نے ابو بکر بن محمد سے اس نے عروہ سے انہوں نے بسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے اپنی شرم گاہ کو چھو لیا وہ وضو کرے ۔ اعتراض نمبر 2: یہ روایت ہشام نے اپنے والد عروہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھ سے مروان نے شرمگاہ کو چھو لینے کا مسئلہ پوچھا تو میں نے کہا اس میں وضو نہیں تو مروان نے کہا اس میں وضو لازم ہے پھر ابو بکر کی سند والی روایت جو شروع باب میں حسین بن مہدی کے حوالہ سے گزری ذکر کی ۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ← عُرْوَةَ ← أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ← بن شِهَابٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 416

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 417

حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام فذكر مثله بإسناده غير أنه قال فأنكر ذلك عروة

اسی طرح دوسری سند کے اس طرح نقل کی گئی ہے محمد بن خزیمہ نے حجاج سے اور انہوں نے حماد اور انہوں نے ہشام سے اس کے بعد بقیہ سند سابقہ ہی ہے البتہ اس روایت میں یہ الفاظ زاہد ہیں " فانکر ذلک عروۃ" عروہ نے اس بات کا انکاری کیا ۔

فأنكر ذلك عروة ← هشام فذكر مثله بإسناده غير أنه ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 417

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 418

412 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا علي بن مسهر عن هشام فذكر مثله بإسناده

حسین بن نصر نے یوسف بن عدی سے اور انہوں نے علی بن مسہر سے اور انہوں نے ہشام سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

هشام فذكر مثله بإسناده ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Hadith 418

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 419

413 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال حدثني سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن هشام بن عروة عن أبيه عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا مس أحدكم ذكره فلا يصلين حتى يتوضأ

یونس نے ابن وہب سے اور انہوں نے سعید بن عبدالرحمن الحمیی سے اور انہوں نے ہشام بن عروہ اور ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے بسرہ اور بسرہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جب کوئی تم میں سے اپنے ذکر کو چھو لے تو وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔

إذا مس أحدكم ذكره فلا يصلين حتى يتوضأ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بُسْرَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 419

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 420

414 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح قال ثنا بن أبي الزناد عن هشام عن أبيه عن مروان عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل له إن هشام بن عروة أيضا لم يسمع هذا من أبيه وإنما أخذه من أبي بكر أيضا فدلس به عن أبيه

یحییٰ بن صالح نے ابن ابی الزناد سے اور انہوں نے ہشام سے اور ہشام نے اپنے والد سے اور عروہ نے مروان سے اور مروان نے بسرہ سے بسرہ نے جناب نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔

أَبِيهِ ← إنما أخذه من أبي بكر أيضا فدلس به ← بُسْرَةَ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← بن أبي الزناد ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Hadith 420

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 421

415 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن هشام بن عروة قال حدثني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عروة أنه كان جالسا مع مروان ثم ذكر الحديث على ما ذكره بن أبي عمران وابن خزيمة فرجع الحديث إلى أبي بكر أيضا فإن قالوا فقد رواه عن عروة أيضا غير الزهري وغير هشام فذكروا في ذلك ما

ہشام کہتے ہیں مجھے ابو بکر بن محمد نے عروہ سے نقل کیا کہ عروہ مروان کے ساتھ بیٹھے تھے پھر ابن ابی عمران اور ابن خزیمہ کی طرح روایت نقل کی ہے تو ثابت ہو گیا کہ سند تو یہاں بھی لوٹ کر ابو بکر بن محمد پرآگئی ۔

أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عروة ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 421

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 422

416 - حدثنا محمد بن الحجاج وربيع المؤذن قالا ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الأسود أنه سمع عروة يذكر عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل لهم كيف تحتجون في هذا بابن لهيعة وأنتم لا تجعلونه حجة لخصمكم فيما يحتج به عليكم ولم أرد بشيء من ذلك الطعن على عبد الله بن أبي بكر ولا على بن لهيعة ولا على غيرهما ولكني أردت بيان ظلم الخصم فثبت وهاء حديث الزهري بالذي دخل بينه وبين عروة ووهاء حديث الزهري أيضا وهشام بالذي بين عروة وبسرة لأن عروة لم يقبل ذلك ولم يرفع به رأسا وقد سقط الحديث بأقل من هذا وإن احتجوا في ذلك بما

ابن لہیعہ نے ابو الاسود سے نقل کیا کہ انہوں نے عروہ سے یہ بات سنی کہ وہ بسرہ رضی اللہ عنہ سے اور بسرہ رضی اللہ علیہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی : من مس ذکرہ فلیتو ضاء۔ ان سے کہا جائے گا کہ ابن لہیعہ کی روایت سے تم کس طرح دلیل بناتے ہو جبکہ تم اس کو اپنے مخالفین کے لیے دلیل نہیں مانتے ہو جب یہ ان روایتوں کو بیان کرے جو تمہارے خلاف ہوں میرا مقصود اس سے ذرہ بھر بھی عبداللہ بن ابی بکر اور ابن لہیعہ وغیرہ پر طعن کرنا نہیں بلکہ میرا مقصد مخالف کی زیادہ کو بیان کرنا ہے پس زہری کی حدیث کا کمزور ہونا اس شخص کی وجہ سے ہوا جو عروہ اورزہری کے درمیان داخل ہوا ۔ اسی طرح زہری کی روایت کی کمزوری اور ہشام کی کمزوری جو کہ عروہ اور بسرہ کے درمیان ہے کیونکہ حضرت عروہ نے اس کو قبول نہیں کیا اور نہ تو جہ دی اور حدیث تو اس سے کم درجہ کی تنقید سے ساقط ہوجاتی ہے ۔تو ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہاری طرف سے زیادتی کے لیے کافی ہے کہ تم اس جیسی روایت کو دلیل بناء۔

بُسْرَةَ ← عروة يذكر ← أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ ← بن لهيعة ← أسد ← محمد بن الحجاج وربيع المؤذن

Hadith 422

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 423

417 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام عن يحيى بن أبي كثير أنه سمع رجلا يحدث في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم بذلك قيل لهم كفى بكم ظلما أن تحتجوا بمثل هذا وإن احتجوا في ذلك بما

محمد بن مسلم بن عبیدہ اللہ بن عبداللہ بن شہاب سے اور انہوں نے عروہ عن ید بن خالد الجہنی نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔" من مس فرجۃ فلیتوضا"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَجُلًا ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّهُ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 423

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 424

418 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبي عن بن إسحاق قال حدثني محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب عن عروة بن الزبير عن زيد بن خالد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من مس فرجه فليتوضأ

عبدالا علی نے ابن اسحاق سے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ تو ان سے کہا جائے گا تم محمد بن اسحق کو کسی چیز میں دلیل نہیں بناتے ہو جبکہ اس کے خلاف ایسے لوگ ہوں جو اس حدیث میں ہیں اور نہ اس وقت جب وہ منفرد ہوں اور ذاتی لحاظ سے یہ روایت منکر ہے اور عین ممکن ہے غلط ہو کیونکہ عروہ سے جب مروان نے بسرہ کی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا تو عروہ نے اس کو جواب دیا کہ اس سے وضو نہیں پھر جب مروان نے بسرہ کی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا تو عروہ نے اس کا جواب دیا کہ میں نے اس کو نہیں سنا اور یہ واقعہ زید بن خالد کی موت کے عرصہ بعد کا ہے تو یہ کیسے جائز ہے کہ عروہ بسرہ کے سامنے اس روایت کا انکار کر دیں جس کو خود انہوں نے زید بن خالد کے واسطے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔

مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 424

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter