Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 212

215 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتوضأ لكل صلاة فلما كان الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے جس دن مکہ فتح ہوا اس دن آپ نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں ۔ پس یہ درست ہو گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں مذکورہ عمل وفضیلت کے حصول کے لیے فرمایا اس بناء پر نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب و لازم تھا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی مذکورہ قول پر دلالت کرتی ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 212

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 213

216 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم وأبو حذيفة قالا ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة خمس صلوات بوضوء واحد ومسح على خفيه فقال له عمر صنعت شيئا يا رسول الله لم تكن تصنعه فقال عمدا فعلته يا عمر

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح فرمایا اس پرعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے آج ایسا عمل کیا جو پہلے نہ کرتے تھے آپ نے فرمایا میں نے اے عمر رضی اللہ عنہ قصدا ایسا کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو عاصم وأبو حذيفة ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 213

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 214

217 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان قال ثنا علقمة عن سليمان عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يتوضأ لكل صلاة فذهب قوم إلى أن الحاضرين يجب عليهم أن يتوضئوا لكل صلاة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث فخالفهم في ذلك أكثر العلماء فقالوا لا يجب الوضوء إلا من حدث [ ص 42 ] وكان مما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما يوافق ما ذهبوا إليه في ذلك ما

حضرت بدیرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضؤ فرماتے تھے علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ مقیم افراد پر واجب ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں اور انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ۔ علماء کی اکثریت نے ان کی مخالفت کی ہے ۔ پس انہوں نے کہا کہ وضو تو اسی پر واجب ہے جو بے وضو ہو اور ان کے مسلک کی تائید جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَیْمَانَ ← عَلْقَمَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 214

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 215

218 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد وابن جريج وابن سمعان عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال ذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى امرأة من الأنصار ومعه أصحابه فقربت لهم شاة مصلية فأكل وأكلنا ثم حانت الظهر فتوضأ وصلى ثم رجع إلى فضل طعامه فأكل ثم حانت العصر فصلى ولم يتوضأ قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أنه صلى الظهر والعصر بوضوئه الذي كان في وقت الظهر وقد يجوز أن يكون وضوؤه لكل صلاة على ما روى بن بريدة كان ذلك على التماس الفضل لا على الوجوب فإن قال قائل فهل في هذا من فضل فليلتمس قيل له نعم قد

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصار یہ کے ہاں اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ سمیت تشریف لے گئے اس انصاریہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا جس میں سے آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا پھر ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ نے وضو کیا اور نماز پڑھائی اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نماز ظہر والے وضو سے ادا فرمائی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرنا حصول فضیلت کے لیے ہو ، وجودب ولزوم کے طور پر نہ ہو ۔ جیسا کہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے ۔ اگر کوئی معترض یہ کہنے لگے کہ اس میں کیا فضیلت ہے کہ جس کو تلاش کیا جائے؟ تو ہم عرض کریں گے جی ہاں ! اس میں فضیلت ملاحظہ ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أسامة بن زيد وابن جريج وابن سمعان ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 215

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 216

219 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن أبي غطيف الهذلي قال صليت مع عبد الله بن عمر بن الخطاب الظهر فانصرف في مجلس في داره فانصرفت معه حتى إذا نودي بالعصر دعا بوضوء فتوضأ ثم خرج وخرجت معه فصلى العصر ثم رجع إلى مجلسه ورجعت معه حتى إذا نودي بالمغرب دعا بوضوء فتوضأ فقلت له أي شيء هذا يا أبا عبد الرحمن الوضوء عند كل صلاة فقال وقد فطنت لهذا مني ليست بسنة إن كان لكاف وضوئي لصلاة الصبح صلواتي كلها ما لم أحدث ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من توضأ على طهر كتب الله له بذلك عشر حسنات ففي ذلك رغبت يا بن أخي فقد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما فعل ما روى عنه بن بريدة لإصابة هذا الفضل لا لأن ذلك كله واجبا عليه وقد روى أنس بن مالك أيضا ما يدل على ما ذكرنا

ابو غطیف ھذلی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز ظہرادا کی پھر وہ گھر میں اپنے بیٹھنے کی جگہ آگئے میں بھی ان کے ساتھ آیا یہاں تک کہ جب مغرب کی اذان ہوئی تو انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیامیں نے کہا اے ابو عبدالرحمن یہ کیا ہے ؟ ہر نماز کے لیے وضو؟ تو فرمانے لگے کیا تو میری یہ بات سمجھ گیا ؟ یہ سنت نہیں ہے اگرچہ میرا صبح کی نماز والا وضو تمام نمازوں کے لیے کافی ہے جب تک کہ میں حدث میں مبتلا نہ ہوں ۔ لیکن میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے طہارت ( وضو ہوتے ہوئے) وضو کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں ۔ اے میرے بھتیجے اسی وجہ سے میں نے اس کی طرف رغبت و شوق کا اظہار کیا۔

أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 216

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 217

220 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عمرو بن عامر عن أنس بن مالك قال أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بوضوء فتوضأ منه فقلت لأنس أكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ عند كل صلاة قال نعم قلت فأنتم قال كنا نصلي الصلوات بوضوء فهذا أنس قد علم حكم ما ذكرنا من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ير ذلك فرضا على غيره وقد يجوز أيضا أن يكون كان يفعل ذلك وهو واجب ثم نسخ فنظرنا في ذلك هل نجد شيئا من الآثار يدل على هذا المعنى

عمروبن عامر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی لایا گیا آپ نے اس سے وضو کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا جی ہاں میں نے کہا کیا تم بھی ؟ تو انس کہنے لگے ہم تمام نمازیں ایک وضو سے پڑھتے تھے ۔ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے وہی حکم معلوم کیا جس کاہم نے تذکرہ کیا ہے اور انہوں نے اس کو دوسروں پر فرض قرار نہیں دیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ کہا کہ اس وقت یہ واجب تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔ اس بات پر غور کرنے کے لیے ہم ایسے آثار تلاش کرتے ہیں جو اس معنیٰ پر دلالت کرتے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 217

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 218

221 - فإذا بن أبي داود قد حدثنا قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن عبد الله بن عبد الله بن عمر قال قلت له أرأيت توضى بن عمر لكل صلاة طاهرا كان أو غير طاهر عما ذاك [ ص 43 ] قال حدثنيه أسماء ابنة زيد بن الخطاب أن عبد الله بن حنظلة بن أبي عامر حدثها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بالوضوء لكل صلاة طاهرا كان أو غير طاهر فلما شق ذلك عليه أمر بالسواك لكل صلاة وكان بن عمر يرى أن به قوة على ذلك فكان لا يدع الوضوء لكل صلاة ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أمر بالوضوء لكل صلاة ثم نسخ ذلك فثبت بما ذكرنا أن الوضوء يجزي ما لم يكن الحدث فإن قال قائل ففي هذا الحديث إيجاب السواك لكل صلاة فكيف لا توجبون ذلك وتعلمون بكل الحديث إذ كنتم قد عملتم ببعضه قيل له قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم خص بالسواك لكل صلاة دون أمته ويجوز أن يكونوا هم وهو في ذلك سواء وليس يوصل إلى حقيقة ذلك إلا بالتوقيف فاعتبرنا ذلك هل نجد فيه شيئا يدلنا على شيء من ذلك ؟ فاذا علی بن معبد۔

محمد بن یحییٰ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے اپنے والد کو ہر نماز کے لیے وضؤ کرتے دیکھا ہے خواہ وہ وضو سے ہوتے یا حدث کی حالت میں ہوتے ؟ وہ ایسا کس وجہ سے کرتے تھے ؟( اس پر) عبداللہ کہنے لگے مجھے اسماء بنت زید رضی اللہ عنہ بن خطاب نے بیان کیا کہ ان کو عبد اللہ بن حنظلہ بن ابی عامر نے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا ( گویا وضو کا حکم ہر نماز کے لیے منسوخ کر دیا گیا ) جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب تک وضونہ ٹوٹے اس وقت تک پہلا وضو کافی ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس روایت میں تو ہر نماز کے لیے مسواک کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور تم اس کو واجب نہیں سمجھتے تا کہ مکمل حدیث پر عمل ہو اور جبکہ تم اس کے بعض حصہ پر عمل کرتے ہو۔ اس کو یہ جواب دیا جائےگا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ مسواک کا ہر نماز کے لیے واجب ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہو نہ کہ امت کے لیے اور یہ بھی درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سلسلہ میں برابر ہوں ۔ اس بات کی حقیقت کی طرف پہنچنا اسی وقت ممکن ہے جب اس سلسلے میں پوری واقفیت حاصل کریں ۔ پس ہم نے سوچا کہ کیا کوئی روایت ہمیں ایسی مل جاتی ہے جو اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کرے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← فإذا بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 218

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 219

222 - فإذا علي بن معبد قد حدثنا قال ثنا يعقوب بن إبراهيم قال ثنا أبي عن أبي إسحاق قال حدثني عمي عبد الرحمن بن يسار عن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن علي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة

ابو رافع نے حضرت علی بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← فإذا علي بن معبد قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 219

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 220

223 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا يحيى بن حماد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان قال ثنا عبد الله بن يسار عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال ثنا أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم عن نبي الله صلى الله عليه و سلم مثل ذلك

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت نقل فرمائی ہے ۔

نبي الله صلى الله عليه و سلم مثل ذلك ← أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 220

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 221

224 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن خلف الغفاري قال ثنا هشام بن حسان عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر هذا حديث غريب

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے ۔

أبو جعفر هذا حديث غريب ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عبد الله بن خلف الغفاري ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 221

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 222

225 - ما كتبناه إلا عن بن مرزوق حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب بن إبراهيم قال ثنا أبي عن أبي إسحاق عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن زيد بن خالد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی بات نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← بن مرزوق ← ما كتبناه إلا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 222

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 223

226 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب قال ثنا أبي عن أبي إسحاق قال حدثني سعيد المقبري عن عطاء مولى أم صبية عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عطاء مولیٰ ام صبیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 223

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter