شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4624
4366 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان عتبة بن أبي وقاص عهد إلى أخيه أي وصى إليه سعد بن أبي وقاص أن بن وليدة زمعة مني فاقبضه إليك فلما كان عام الفتح أخذه سعد وقال بن أخي قد كان عهد إلي فيه فقام إليه عبد بن زمعة فقال أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فتساوقا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد يا رسول الله بن أخي قد كان عهد إلي فيه وقال عبد بن زمعة أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الولد للفراش وللعاهر الحجر ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لسودة بنت زمعة إحتجبي منه لما رأى به من شبهة بعتبة فأتت فما رآها حتى لقي الله تعالى قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الأمة إذا وطئها مولاها فقد لزمه كل ولد يجئ به بعد ذلك إدعاه أو لم يدعه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال الولد للفراش وللعاهر الحجر فألحقه رسول الله صلى الله عليه و سلم بزمعة لا لدعوة ابنه لأن دعوة الابن للنسب لغيره من أبيه غير مقبولة ولكن لأن أمه كانت فراشا لزمعة بوطئه إياها واحتجوا في ذلك أيضا بما
عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ فرماتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کو وصیت کی یعنی سعد بن ابی وقاص کو کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے ۔ پس اس کو اپنے قبضے میں کر لینا۔ جب مکہ فتح ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ میرا بھتیجا ہے میرے بھائی نے اس کے متعلق مجھ سے اقرار لیا تھا۔ تو عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے ہاں پیدا ہوا دونوں نے اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا عبد بن زمعہ نے کہا یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الولد للفراش وللماھر الحجر ، پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اس سے پردہ کیا کرو۔ اس لئے کہ اس میں عتبہ کی مشابہت دیکھی ۔ پس اس نے سودہ کو نہ دیکھا یہاں تک وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔ اما م طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ جب لونڈی کا مالک اس سے وطی کرے ۔ تو جو بچہ وہ جنے گی وہ اسی کا شمار ہو گا خواہ اس کو دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر فرمایا " الولد للفراش و للعاھر الحجر " تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو زمعہ کے حوالہ کر دیا اس وجہ سے نہیں کہ اس کے بیٹے نے دعویٰ کیا تھا کیونکہ باپ کے غیر سے نسبت کے لئے بیٹے کا دعویٰ غیر مقبول ہے ۔ لیکن اس کو ملانے کی وجہ تھی کہ وہ زمعہ کی لونڈی اور اس کی موطوہ تھی۔
بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4624
