Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4624

4366 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان عتبة بن أبي وقاص عهد إلى أخيه أي وصى إليه سعد بن أبي وقاص أن بن وليدة زمعة مني فاقبضه إليك فلما كان عام الفتح أخذه سعد وقال بن أخي قد كان عهد إلي فيه فقام إليه عبد بن زمعة فقال أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فتساوقا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد يا رسول الله بن أخي قد كان عهد إلي فيه وقال عبد بن زمعة أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الولد للفراش وللعاهر الحجر ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لسودة بنت زمعة إحتجبي منه لما رأى به من شبهة بعتبة فأتت فما رآها حتى لقي الله تعالى قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الأمة إذا وطئها مولاها فقد لزمه كل ولد يجئ به بعد ذلك إدعاه أو لم يدعه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال الولد للفراش وللعاهر الحجر فألحقه رسول الله صلى الله عليه و سلم بزمعة لا لدعوة ابنه لأن دعوة الابن للنسب لغيره من أبيه غير مقبولة ولكن لأن أمه كانت فراشا لزمعة بوطئه إياها واحتجوا في ذلك أيضا بما

عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ فرماتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کو وصیت کی یعنی سعد بن ابی وقاص کو کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے ۔ پس اس کو اپنے قبضے میں کر لینا۔ جب مکہ فتح ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ میرا بھتیجا ہے میرے بھائی نے اس کے متعلق مجھ سے اقرار لیا تھا۔ تو عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے ہاں پیدا ہوا دونوں نے اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا عبد بن زمعہ نے کہا یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الولد للفراش وللماھر الحجر ، پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اس سے پردہ کیا کرو۔ اس لئے کہ اس میں عتبہ کی مشابہت دیکھی ۔ پس اس نے سودہ کو نہ دیکھا یہاں تک وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔ اما م طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ جب لونڈی کا مالک اس سے وطی کرے ۔ تو جو بچہ وہ جنے گی وہ اسی کا شمار ہو گا خواہ اس کو دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر فرمایا " الولد للفراش و للعاھر الحجر " تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو زمعہ کے حوالہ کر دیا اس وجہ سے نہیں کہ اس کے بیٹے نے دعویٰ کیا تھا کیونکہ باپ کے غیر سے نسبت کے لئے بیٹے کا دعویٰ غیر مقبول ہے ۔ لیکن اس کو ملانے کی وجہ تھی کہ وہ زمعہ کی لونڈی اور اس کی موطوہ تھی۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4624

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4625

4367 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال ما بال رجال يطؤون ولائدهم ثم يعزلونهن لا تأتيني وليدة يعترف سيدها أن قد ألم بها إلا قد ألحقت به ولدها فاعزلوا أو اتركوا

سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے لوگوں کا کیا حال ہے جو کہ لونڈیوں سے وطی کرتے ہوئے عزل کر لیتے ہیں میرے پاس جو لونڈی لائی جائے گی جس کا آقایہ اعتراف کرے گا کہ اس نے اس سے جماع کیا ہے میں اس لڑکے کو اس سے ملا دوں گا۔ اب تم عزل کرو یا نہ کرو ( تمہاری مرضی ہے )

أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4625

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4626

4368 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال حدثني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر قال سمعت عمر بن الخطاب يقول فذكر مثله

سالم بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی۔

فذكر مثله. ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4626

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4627

4369 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن صفية بنت أبي عبيد أن عمر بن الخطاب قال ما بال رجال يطؤون ولائدهم ثم يدعونهن يخرجن لا تأتيني وليدة يعترف سيدها أن قد ألم بها إلا ألحقت به ولدها فأرسلوهن بعد أو أمسكوهن

صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں کیا حال ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے جماع کرتے ہیں پھر ان کو باہر نکلنے دیتے ہیں میرے پاس جو لونڈی اس حال میں لائی جائے گی کہ اس کے مالک نے اس سے جماع کیا ہے تو میں اس کے لڑکے کو اس سے ملا دوں گا ۔ خواہ تم ان کو کھلا چھوڑو یا روکو ( تمہاری مرضی ہے )

صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4627

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4628

4370 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني أسامة بن زيد عن نافع عن بن عمر قال من وطئ أمة ثم ضيعها فأرسلها تخرج ثم ولدت فالولد منه والضيعة عليه قال نافع فهذا قضاء عمر بن الخطاب وقول بن عمر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما جاءت به هذه الأمة من ولد فلا يلزم مولاها إلا أن يقر به وإن مات قبل أن يقربه لم يلزمه وكان من الحجة لهم في الحديث الأول أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قال لعبد بن زمعة هو لك يا عبد بن زمعة ولم يقل هو أخوك فقد يجوز أن يكون أراد بقوله هو لك أي هو مملوك لك لحق مالك عليه من اليد ولم يحكم في نسبه بشيء والدليل على ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر سودة بنت زمعة بالحجاب منه فلو كان النبي صلى الله عليه و سلم كان قد جعله بن زمعة إذا لما حجب بنت زمعة منه لأنه صلى الله عليه و سلم لم يكن يأمر بقطع الأرحام بل كان يأمر بصلتها ومن صلتها التزاور فكيف يجوز أن يأمرها وقد جعله أخاها بالحجاب منه هذا لا يجوز عليه صلى الله عليه و سلم وكيف يجوز ذلك عليه وهو يأمر عائشة رضي الله عنها أن تأذن لعمها من الرضاعة عليها ثم يحجب سودة ممن قد جعله أخاها وابن أبيها ولكن وجه ذلك عندنا والله أعلم أنه لم يكن حكم فيه بشيء غير اليد التي جعله بها لعبد بن زمعة ولسائر ورثة زمعة دون سعد فإن قال قائل فما معنى قوله الذي وصله بهذا الولد للفراش وللعاهر الحجر قيل له ذلك على التعليم منه لسعد أي أنك تدعى لأخيك وأخوك لم يكن له فراش وإنما يثبت النسب منه لو كان له فراش فإذا لم يكن له فراش فهو عاهر وللعاهر الحجر وقد بين هذا المعنى وكشفه ما قد

اسامہ بن زید نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جس نے اپنی لونڈی سے وطی کی پھر اس کو ضائع کیا اور اس کو باہر نکلنے دیا پھر اس نے بچہ جنا تو بیڑکا اس کا شمار ہوگا اور ضائع کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ لونڈی کے ہاں جو بچہ پیدا ہو گا وہ آقا کو لازم نہیں ہوگا البتہ یہ کہ وہ اس کا اقرار کرے ۔ اگر اقرار سے پہلے مر گیا تو وہ بچہ اس سے متعلق نہ کیا جائے گا اس کی دلیل سابقہ روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے:"هو لك يا عبد بن زمعة“ آپ نے یہ نہیں فرمایا وہ تیرا بھائی ہے اور "هو لک کاسے یہ معنی لینا درست ہے کہ وہ تیرا غلام ہے کیونکہ تم لوگوں نے اپنے مال سے خریدا ہے اس کے نسب میں کچھ فیصلہ نہ کیا جائے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا ۔ اگر آپ ﷺ نے اس کو ابن زمعہ کا بھائی قرار دیا ہوتا تو بنت زمعہ اس سے پردہ نہ کرتیں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ قطع رحمی کا حکم دینے والے نہ تھے بلکہ آپ صلہ رحمی کا حکم دینے والے تھے اور ایک دوسرے کی ملاقات یہ صلہ رحمی کا حصہ ہے پھر یہ کیونکر جائز تھا کہ اس کو اس کا بھائی قرار دے کر پھر اس سے پردے کا حکم دیا گیا؟ اور یہ آپ ﷺ سے ممکن نہیں ہے اور یہ درست کیسے ہوسکتا ہے جبکہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنے رضائی چچا کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دیں پھر سورہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ اپنے بھائی اور باپ کے بیٹے سے پردہ کریں؟ مگر اس کی اصل وجہ ہمارے ہاں (والله اعلم) یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے تعلق اور کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔ سوائے اس بات کے کہ وہ عبد بن زمعہ کی ملکیت ہے اور زمعہ کے تمام ورثاء کا اس میں حق ہے سعد کا حق نہیں۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ اگر بات اتنی سی ہے جو آپ نے کہی تو پھر اس ارشاد کو ساتھ ملانے کا کیا مقصد ہے: ”الولد للفراش وللعاهر الحجر؟‘‘ اس سے تو نسب کے ساتھ ان سے ملانا عیاں ہورہا ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو سمجھانے کے لئے کہی کہ تم اس کے متعلق دعوی رکھتے ہو کہ وہ تیرے بھائی کا ہے۔ حالانکہ یہ اس کی ذاتی لونڈی نہیں۔ اگر یہ اس کی ذاتی لونڈی ہوتی تو تب نسب ثابت ہوتا جب اس کی لونڈی نہیں تو وہ زانی ہے اور زانی پتھروں کا حقدار ہے۔ یہ روایت اس معنی کی وضاحت کرتی ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4628

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4629

4371 - حدثنا علي بن عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة قال ثنا محمد بن قدامة قال ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن مجاهد عن يوسف بن الزبير عن عبد الله بن الزبير قال كانت لزمعة جارية يطؤها وكان يظن برجل آخر أنه يقع عليها فمات زمعة وهي حبلى فولدت غلاما كان يشبه الرجل الذي كان يظن بها فذكرته سودة لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أما الميراث فله وأما أنت فأحتجبي منه فإنه ليس لك بأخ ففي هذا الحديث أن زمعة كان يطأ تلك الأمة وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لسودة ليس هو لك بأخ يعني بن الموطوءة فدل هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن قضى في نسبه على زمعة بشيء وأن وطء زمعة لم يكن عنده بموجب أن ما جاءت به تلك الموطوءة من ولد منه فإن قال قائل ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أما الميراث فله فهذا يدل على قضائه بنسبه قيل له ما يدل ذلك على ما ذكرت لأن عبد بن زمعة قد كان ادعاه وزعم أنه بن أبيه لأن عائشة رضي الله عنها قد أخبرت في حديثها الذي ذكرناه عنها في أول هذا الباب أن عبد بن زمعة قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين نازعه سعد بن أبي وقاص أخي بن وليدة أبي ولد على فراش أبي فقد يجوز أن تكون سودة قالت مثل ذلك وهما وارثا زمعة فكانا مقرين له بوجوب الميراث مما ترك زمعة فجاز ذلك عليهما في المال الذي كان يكون لهما لو لم يقر بما أقرا به من ذلك ولم يجب بذلك ثبوت نسب يجب به حكم فيخلى بينه وبين النظر إلى سودة فإن قال قائل إنما كان أمرها بالحجاب منه لما كان رأى من شبهه ب عتبة كما في حديث عائشة رضي الله عنها قيل له هذا لا يجوز أن يكون كذلك لأن وجود الشبه لا يجب به ثبوت نسب ولا يجب بعدمه انتفاء نسب ألا ترى إلى الرجل الذي قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم إن امرأتي ولدت غلاما أسود فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم هل لك من إبل فقال نعم قال فما ألوانها فذكر كلاما قال فهل فيها من أورق قال إن فيها لورقا قال مم ترى ذلك جاءها قال من عرق نزعه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولعل هذا من عرق نزعه وقد ذكرنا هذا الحديث بإسناده في باب اللعان فلم يرخص له رسول الله صلى الله عليه و سلم في نفيه لبعد شبهه منه ولا منعه من إدخاله على بناته وحرمه بل ضربه له مثلا أعلمه به أن الشبه لا يوجب ثبوت الأنساب وأن عدمه لا يجب به انتفاء الأنساب فكذلك بن وليدة زمعة لو كان وطء زمعة لأمه يوجب ثبوت نسبه منه إذا لما كان لبعد شبهه منه معنى ولكان نسبه منه ثابت الدخل على بناته كما يدخل عليهن غيره من بنيه وأما ما احتجوا به عن عمرو وابن عمر رضي الله عنهما في ذلك مما قد رويناه عنهما فإنه قد خالفهما في ذلك عبد الله بن عباس وزيد بن ثابت رضي الله عنهم

یوسف بن زبیر نے عبدالله بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ وطی کرتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ اور ( فلاں) آدی بھی اس سے قربت کرتا ہے زمعہ کی وفات ہوگئی جبکہ وہ حاملہ تھی اور اس نے ایک بچہ جنا اور وہ بچہ اس آدی کے مشابہ تھا جس کے متعلق زمعہ کو گمان تھا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا۔ یہ زمعہ ہی کی میراث ہے۔ رہا تیرا معاملہ تو تو اس سے پردہ کیا کرو، وه تمہارا بھائی نہیں ہے۔ اس روایت میں واضح موجود ہے کہ زمعہ اس سے وطی کرتا تھا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے سوده رضی اللہ عنہ کوصاف فرمایا وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ بلکہ وہ موطوہ کا بیٹا ہے۔ اس سے واضح دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زمعہ کے لئے نسب کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا اور زمعہ کا اس سے وطی کرنا بھی آپ کے ہاں اس بات کو لازم کرنے والا نہ تھا کہ جو بچہ جنا ہے یہ اسی کا ہے۔ اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ”اما الميراث فله“ کے الفاظ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ نسب کے سلسلہ میں تھا۔ اس حدیث میں یہ بات کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الميراث فله یہ جملہ نسبی فیصلے پر دلالت نہیں۔ بلکہ اتنی بات ہے کہ عبد بن زمعہ نے اس کا دعوی کیا تھا اور اس کا خیال یہ تھا کہ وہ اس کا باپ جایا ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے کہ عبد بن زمعہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کوسعد رضی اللہ عنہ کے جھگڑے کے موقعہ پرکہا یہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے اور میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا اور یہ بات سودہ رضی اللہ عنہ کے لئے بھی درست ہے کہ وہ ایسی بات کہیں کیونکہ زمعہ کے وہی دونوں وارث تھے۔ تو وہ اس کا اقرارزمعہ کی میراث کے وجوب کے لئے کررہے تھے۔ تو یہ اقرار دونوں کو اس تمام مال کے متعلق درست تھاجوڑمع چھوڑ کر مرے تھے۔ جیسا کہ اگر وہ دونوں اقرارنہ بھی کرتے تب بھی وہ وارث تھےمگر اس سے ثبوت نسب نہیں ہوا کہ جس سے کوئی حکم لگ سکے ۔ کہ سورہ رضی اللہ عنہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ سودہ رضی اللہ عنہ کو پردہ کا حکم تو اس لئے دیا تھا کہ عتبہ سے اس کی مشابہت پائی گئی تھی۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ ایسی بات نہیں ہوسکتی کیونکہ فقط مشابہت کے پائے جانے سے نسب ثابت ہوتا اور نہ ہی عدم مشابہت نسب کی نفی کو لازم کرنے والا ہے۔ اس کے لئے آپ اس روایت کو سامنے رکھیں کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں عرض پیرا ہے کہ میری بیوی نے سیاہ رنگ بچہ جنا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا۔ کس رنگ کے ہیں ؟ اس نے رنگوں کے متعلق بات بتلائی تو آپ نے فرمایا کیا ان میں گندمی رنگ کے بھی ہیں آپ نے فرمایاده گندمی رنگ کہاں سے آئے تیرا کیا خیال ہے۔ اس نے عرض کیا کسی رگ نے اسے کھینچا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بھی کسی رگ نے کھینچا ہو ۔ یہ روایت مکمل تفصیل کے ساتھ باب اللعان میں گزری ہے۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے عدم مشابہت کی وجہ سے نسبت کی نفی کو جائز قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس وجہ سے اس کو دوسرے بیٹے اور بیٹیوں اور دیگر مستورات کے پاس آنے جانے سے روکا۔ بلکہ ایک مثال دے کر اسے بتلایا کہ محض مشابہت سے نسب ثابت نہیں ہوتا اور عدم مشابہت سے نسب کی نفی نہیں کی جاتی ۔ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر زمعہ نے اس کی ماں سے وطی کی ہے تو اس کا اس سے نسب ثابت ہوگا اور اس صورت میں عدم مشابہت کا کوئی مطلب نہ ہوگا اور اس کا نسب اس سے ثابت رہے گا اور یہ اس کی بیٹیوں کے پاس دوسرے بیٹوں کی طرح آجا اور داخل ہو سکے گا۔ رہی وہ روایت جوعمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں منقول ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت موجود ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4629

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4630

4372 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة عن بن عباس قال كان بن عباس يأتي جارية له فحملت فقال ليس مني إني أتيتها إتيانا لا أريد به الولد

عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنی ایک لونڈی کے ہاں تشریف لے جاتے اسے حمل ٹھہر گیا انہوں نے فرمایا یہ مجھ سے نہیں کیونکہ میں نے تو اس کے پاس اس طریقے سے جاتا تھا کہ بچہ اس سے مقصود نہ تھا یعنی عزل کرتا تھا۔

كان بن عباس يأتي جارية له فحملت ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4630

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4631

4373 - حدثنا عيسى بن إبراهيم الغافقي قال ثنا سفيان عن أبي الزناد عن خارجة بن زيد أن أباه كان يعزل عن جارية فارسية فحملت بحمل فأنكره وقال إني لم أكن أريد ولدك وإنما أستطيب نفسك فجلدها وأعتقها وأعتق الولد

ابو الزناد نے خارجہ زید سے روایت کی ہے کہ میرے والد ایک فارسی لوندی سے عزل کرتے تھے پھر بھی اسے حمل ہو گیا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اور فرمایا میں تو تمہارے سے اولاد کا ارادہ نہ رکھتا تھا میں صرف تمہیں خوش کرتا تھا ۔ پھر اسے کوڑے مارے او ر اس کو آزاد کر دیا اور اس کے بچے کو بھی آزاد کر دیا۔

جارية فارسية فحملت بحمل فأنكره ← خارجة بن زيد أن أباه كان يعزل ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4631

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4632

4374 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن أبي الزناد عن خارجة بن زيد عن زيد بن ثابت مثله غير أنه لم يقل فأعتقها وأعتق ولدها

خارجہ بن زید نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس روایت میں یہ لفظ نہیں " فاعتقھا واعتق ولدھا "

زيد بن ثابت مثله غير أنه لم يقل فأعتقها وأعتق ولدها ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4632

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4633

4375 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة قال ثنا قتادة عن سعيد بن المسيب قال ولدت جارية لزيد بن ثابت رضي الله عنه فقال إنه ليس مني وإني كنت أعزل عنها فهذا زيد بن ثابت وعبد الله بن عباس رضي الله عنهم قد خالفا عمر وابن عمر رضي الله عنهما في ذلك فقد تكافأت أقوالهم ووجب النظر لنستخرج من القولين قولا صحيحا فرأينا الرجل إذا أقر بأن هذا ولده من زوجته ثم نفاه بعد ذلك لم ينتف وكذلك لو أدعى أن حملها منه ثم جاءت بولد من ذلك الحمل لم يكن له بعد ذلك أن ينفيه بلعان ولا بغيره لأن نسبه قد ثبت منه فهذا حكم ما قد وقعت عليه الدعوة مما ليس لمدعيه أن ينفيه ورأيناه لو أقر أنه وطئ امرأته ثم جاءت بولد فنفاه لكان الحكم في ذلك أن يلاعن بينهما ويخرج الولد من نسب الزوج ويلحق بأمه فلم يكن إقراره بوطء امرأته يجب به ثبوت نسب ما يلد منه ولم يكن في حكم ما قد لزمه مما ليس نفيه فلما كان هذا حكم الزوجات كان حكم الإماء أحرى أن يكون كذلك فإن أقر رجل بولد أمته أنه منه أو أقر وهي حامل أن ما في بطنها منه لزمه ولم ينتف منه بعد ذلك أبدا وإن أقر أنه قد وطئها لم يكن ذلك في حكم إقراره بولدها أنه منه بل يكون بخلاف ذلك فيكون له أن ينفيه ويكون حكمه وإن أقر بوطء أمته كحكمه لو لم يكن أقر بوطئها قياسا على ما وصفنا من الحرائر وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے بچہ جنا تو زید فرمانے لگے یہ میرا بچہ نہیں میں تو اس سے عزل کیا کرتا تھا۔ یہ زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں جناب عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف بات کہی ہے اب جب کہ ان کے اقوال برابر برابر ہو گئے تو ہمارے لئے ضروری ہوگیا کہ ہم غور وفکر کریں تا کہ صحیح قول کو معلوم کیا جا سکے۔ ہم نے غور کیا کہ اگر آدی اس بات کا اقرار کرتا ہےکہ یہ اس کا بچہ ہے اور اس کی بیوی سے ہے اس کے بعد اس کی نفی کرتا ہے تو اس سے بچے کی نفی نہ ہوگی اسی طرح اگر وہ دعوی کرے کہ عورت کا حمل اسی سے ہے پھر اس حمل سے بچہ پیدا ہو تو لعان وغیرہ کے ذر یعہ اس کی نفی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس بچے کانسب اس سے ثابت ہو چکا ہے۔ تو اس کا حکم ہے جس کے متعلق دعویٰ ہے کہ اب مدعی اس کی نفی نہیں کرسکتا اور ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے وطی کا اقرار کرے پھر اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے نفی کر دی تو اس کا حکم یہ ہے کہ ان کے درمیان لعان کرایا جائے گا اور بچے خاوند کے نسب سے خارج ہوکر ماں کے ساتھ مل جائے گا پس بیوی کے ساتھ وطی کا اقرار پیدا ہونے والے بچے کے ثبوت نسب کے لئے ضروری نہ ہوا اور یہ اس کے حکم میں بھی نہیں جس کو اس نے لازم کیا ہے اب اس کی نفی نہیں ہوسکتی۔ پس جب بیویوں کا حکم ہے تو لونڈیوں کا حکم بدرجہ اولی اسی طرح ہونا چاہئے اور ہو گا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کے بچے کے متعلق اقرار کرے کہ یہ اسی کا ہے یا اس وقت اقرار کیا جبکہ وہ حاملہ تھی کہ جو کچھ اس لونڈی کے پیٹ میں ہے یہ اسی کا ہے تو یہ بچہ اس کے ساتھ لازم ہو جائے گا اور اگر اس نے اقرار کیا کہ اس نے اس لونڈی سے وطی کی ہے تو یہ اس بات کا اقرار شمار نہ ہوگا کہ یہ اس کا لڑکا ہے اور اسی سے ہے بلکہ اس کے برعکس ہوگا پس وہ اس کی نفی بھی کرسکتا ہے اگر و نفی کر دے گا تو اس کا حکم لگ جائے گا اور اگر اس نے اپنی لونڈی سے وطی کا اقرار کیا تو یہ اقرار نہ کرنے کے حکم کی طرح ہے یعنی دونوں کا حکم برابر ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے آزاد عورتوں کے سلسلہ میں بیان کیا یہ سب امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

ولدت جارية لزيد بن ثابت ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4633

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter