شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4875
4606 - حدثنا عبيد بن رحال قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرزاق قال ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقطع يدها فأتى أهلها أسامة بن زيد فكلموه فكلم أسامة النبي صلى الله عليه و سلم فيها فقال النبي صلى الله عليه و سلم يا أسامة لا أراك تكلمني في حد من حدود الله عز و جل ثم قام النبي صلى الله عليه و سلم خطيبا فقال إنما أهلك من كان قبلكم أنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذأ سرق فيهم الضعيف قطعوه والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها فقطع يد المخزومية قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من استعار شيئا فجحده وجب أن يقطع فيه وكان عندهم بذلك في معنى السارق واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع ويضمن وكان من الحجة لهم أن هذا الحديث قد رواه معمر كما ذكروا وقد رواه غيره فزاد فيه أن تلك المرأة التي كانت تستعير الحلي فلا ترده سرقت فقطعها فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم لسرقتها فمما روي في ذلك ما قد
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مخزوی عورت لوگوں سے عاریت کے طور پر سامان لے کر پھر انکار کر دیتی ۔ پس آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم فرمایا۔ اس کے عزیز واقارب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے بات کی اور اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کہنے پر جناب نبی اکرم ﷺ سے بات کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تم مجھ سے الله تعالی کی حدودمیں سے ایک حد کے متعلق بات کرتے ہو۔ پھر جناب نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہوتے کہ ان میں جب کوئی معزز آدی چوری کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کمزوروکم درجہ چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ چنانچہ مخزومیہ کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جس نے کوئی چیز عاریت کے طور پر لی اور پھر اس کا انکار کر دیا۔ تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالنا لازم ہے ایسی عاریت ان کے ہاں سرقہ کے مفہوم میں شامل ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عاریت کے طور پر سامان لے کر انکار کرنے والے قطع ید نہیں ہے البتہ ضمان لیا جائے گا۔ اس روایت کو معمر نے اسی طرح روایت کیا جیسا آپ نے ذکر کیا ہے مگر ان کے علاوہ دیگر روات نے اس روایت میں اضافہ نقل کیا ہے: ان تلك المرة التي كانت تسعير الحلى فلا ترده، سرقت فقطعها فيه رسول الله من لسرقتها کہ اس عورت کا ہا تھ سرقہ کی وجہ سے کاٹا گیا۔ روایت ملاحظہ ہو۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عبيد بن رحال
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4875
