Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4875

4606 - حدثنا عبيد بن رحال قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرزاق قال ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقطع يدها فأتى أهلها أسامة بن زيد فكلموه فكلم أسامة النبي صلى الله عليه و سلم فيها فقال النبي صلى الله عليه و سلم يا أسامة لا أراك تكلمني في حد من حدود الله عز و جل ثم قام النبي صلى الله عليه و سلم خطيبا فقال إنما أهلك من كان قبلكم أنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذأ سرق فيهم الضعيف قطعوه والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها فقطع يد المخزومية قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من استعار شيئا فجحده وجب أن يقطع فيه وكان عندهم بذلك في معنى السارق واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع ويضمن وكان من الحجة لهم أن هذا الحديث قد رواه معمر كما ذكروا وقد رواه غيره فزاد فيه أن تلك المرأة التي كانت تستعير الحلي فلا ترده سرقت فقطعها فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم لسرقتها فمما روي في ذلك ما قد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مخزوی عورت لوگوں سے عاریت کے طور پر سامان لے کر پھر انکار کر دیتی ۔ پس آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم فرمایا۔ اس کے عزیز واقارب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے بات کی اور اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کہنے پر جناب نبی اکرم ﷺ سے بات کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تم مجھ سے الله تعالی کی حدودمیں سے ایک حد کے متعلق بات کرتے ہو۔ پھر جناب نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہوتے کہ ان میں جب کوئی معزز آدی چوری کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کمزوروکم درجہ چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ چنانچہ مخزومیہ کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جس نے کوئی چیز عاریت کے طور پر لی اور پھر اس کا انکار کر دیا۔ تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالنا لازم ہے ایسی عاریت ان کے ہاں سرقہ کے مفہوم میں شامل ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عاریت کے طور پر سامان لے کر انکار کرنے والے قطع ید نہیں ہے البتہ ضمان لیا جائے گا۔ اس روایت کو معمر نے اسی طرح روایت کیا جیسا آپ نے ذکر کیا ہے مگر ان کے علاوہ دیگر روات نے اس روایت میں اضافہ نقل کیا ہے: ان تلك المرة التي كانت تسعير الحلى فلا ترده، سرقت فقطعها فيه رسول الله من لسرقتها کہ اس عورت کا ہا تھ سرقہ کی وجہ سے کاٹا گیا۔ روایت ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عبيد بن رحال

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4875

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4876

4607 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب أن عروة بن الزبير أخبره عن عائشة أن أمرأة سرقت في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم زمن الفتح فأمر بها رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تقطع فكلمه فيها أسامة بن زيد فتلون أي تغير من الغضب وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أتشفع في حد من حدود الله عز و جل فقال له أسامة استغفر لي يا رسول الله فلما كان العشي قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فأثنى على الله بما هو أهله ثم قال أما بعد فإنما أهلك الناس من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد والذي نفسي بيده لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها ثم أمر بتلك المرأة التي سرقت فقطعت يدها

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے جناب رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں فتح مکہ کے دنوں چوری کی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے بات کی تو غصہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کاچہرہ مبارک بدل گیا تو آپ نے فرمایاکیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟ حضرت اسامہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے معاف فرما دیں ۔ جب پچھلا پہر ہوا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف کی جس کا وہ حقدار ہے پھر فرمایا اما بعد ! تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کر لیتا تو اس پر حد قائم کرتے مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر بالفرض فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ پھر آپ نے اس عورت کے متعلق حکم دیا جس نے چوری کی تھی پس اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔

بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4876

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4877

4608 - حدثنا يونس قال حدثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا من يجترئ يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا ومن يجترئ عليه إلا أسامة ثم ذكر مثل معناه فثبت بهذا الحديث أن القطع كان بخلاف المستعار المجحود وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدفع القطع في الخيانة ما قد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قریش نے مخزومی عورت کے معاملے کو بڑی اہمیت دی جس نے چوری کی تھی آپس میں کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس موقعہ پر گفتگو میں کون جرات کرے گا پھر کہنے لگے اسامہ کے علاوہ اور کوئی جرات نہیں کر سکتا پھر اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے ۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ مستعار زیورات جن کا وہ انکار کر دیتی تھی یہ چوری اس سے زائد تھی مستعار زیورات کو دبانہ یہ خیانت ہے اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کی نفی منقول ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4877

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4878

4609 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن أبي الزبير عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ليس على الخائن ولا على المختلس ولا على المنتهب قطع

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خائن ، اچکے ، لٹیرے پر قطع ید نہیں ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4878

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4879

4610 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا مكي بن إبراهيم البلخي قال ثنا بن جريج فذكر بإسناده مثله

مکی بن ابراہیم بلخی نے ابن جریج سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

بن جريج فذكر بإسناده مثله ← مكي بن إبراهيم البلخي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4879

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4880

4611 - حدثنا عبيد بن رحال حدثنا إسماعيل بن سالم حدثنا شبابة بن سوار قال ثنا المغيرة بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فلما كان الخائن لا قطع عليه وفرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بينه وبين السارق وأحكمت السنة أمر السارق الذي يجب عليه القطع أنه الذي يسرق مقدارا من المال معلوما من حرز وكان المستعير أخذ المال المستعار من غير حرز ثبت أنه لا قطع عليه في ذلك لعدم الحرز وهذا الذي ذكرنا مما صححنا عليه معاني هذه الآثار قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ جبکہ خائن پر قطع ہی نہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ نے خائن اور چور میں فرق فرمایا ہے اور چور کے معاملے میں پختہ طریقہ ثابت ہے کہ جب وہ مال کی ایک مخصوص مقدار ( دس درہم ) کسی محفوظ مقام سے لے تو تب اس پر قطع آئے گا اور عاریت کے طور پر لینے والے نے تو محفوظ مقام سے بلا اجازت نہیں لیا بلکہ اس کے ہاتھ لے لیا ہے مال کے محفوظ مقام پر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ ہوگی ۔ یہ جواد پر مذکور ہوا جس سے ہم نے آثار کے معانی کا باہمی درست ہونا ثابت کیا ہے یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← المغيرة بن مسلم ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← عبيد بن رحال

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4880

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter