Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3984

3768 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان بن مسروق الثوري عن عبد الرحمن بن الحارث بن أبي ربيعة عن زيد بن علي عن أبيه عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل فقال يا رسول الله اني أفضت قبل أن أحلق قال احلق ولا حرج قال وجاءه آخر فقال يا رسول الله إني ذبحت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن الطواف قبل الحلق فقال إحلق ولا حرج فاحتمل أن يكون ذلك إباحة منه للطواف قبل الحلق وتوسعة منه في ذلك فجعل للحاج أن يقدم ما شاء من هذين على صاحبه وفيه أيضا أن آخر جاءه فقال إني ذبحت قبل أن أرمي فقال ارم ولا حرج فذلك أيضا يحتمل ما ذكرنا في جوابه في السؤال الأول وقد روي عن بن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك شيء

عبید اللہ بن ابی رافع نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ میں نے طواف زیارت حلق سے پہلے کر لیا آپﷺ نے فر مایا حلق کراؤ اوراس میں کچھ گناہ نہیں علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگایا رسول اللہﷺ میں نے رمی جمرہ سے پہلے ذبح کیا ہے۔ آپﷺنے فرمایا رمی کر لواورکوئی حرج نہیں ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہﷺ سے حلق سے پہلے طواف کے متعلق پوچھا گیا۔ تو فرمایا حلق کر لو اور اس میں کچھ حرج نہیں ۔اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ حلق سے پہلے طواف کرنا جائز ہو اور اس سلسلے میں آپ کی طرف سے وسعت دی گئی ہواور آپ نے حاجی کو اجازت دی ہو کہ ان دوافعال میں سے جس کو چا ہے دوسرے پر مقدم کرے اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ دوسرے نے آ کر کہا کہ میں نے رمی سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو آپ نے فر مایارمی کرلواور کچھ حرج نہیں اور اس میں وہ احتمال بھی ہے جو ہم نے اس کے جواب میں سوال اول میں ذکر کیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ مروی ہے۔

أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل فقال ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← سفيان بن مسروق الثوري ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3985

3769 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا هشيم عن منصور عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عمن حلق قبل أن يذبح أو ذبح قبل أن يحلق فقال لا حرج لا حرج

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہﷺ سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا گیا جو ذبح سے پہلے حلق کرے یا حلق سے پہلے ذبح کرے۔تو آپﷺ نے فرمایا کھ حرج نہیں کچھ حرج نہیں۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3985

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3986

3770 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا المعلى بن أسد قال ثنا وهيب عن بن طاوس عن أبيه عن بن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قيل له يوم النحر وهو بمنى في النحر والحلق والرمي والتقديم والتأخير فقال لا حرج

طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ کومنیٰ میں عرض کیا گیا کہ نحر‘ حلق‘ رمی میں تقدیم وتاخیر کا کیا حکم ہے فرمایا کوئی حرج نہیں

لَا حَرَجَ ← الرَّمْيِ، وَالتَّقْدِيمِ، وَالتَّأْخِيرِ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← وُهَيْبٌ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3986

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3987

3771 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان بن هلال قال ثنا وهيب بن خالد عن بن طاوس عن أبيه عن بن عباس رضي الله عنهما قال ما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ عمن قدم شيئا قبل شيء إلا قال لا حرج لا حرج فذلك يحتمل ما يحتمله الحديث الأول وقد روي عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه من ذلك شيء

طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے آپﷺ سے یوم نحرکوکسی چیز کی تقدیم و تاخیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپﷺ نے لاحرج سے جواب مرحمت فرمایا۔ پس اس روایت میں پہلی روایت والا احتمال ہے۔اس سلسلہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کچھ مروی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3987

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3988

3772 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس عن عطاء عن جابر بن عبد الله أن رجلا قال يا رسول الله ذبحت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال آخر يا رسول الله حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج قال آخر يا رسول الله طفت بالبيت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج فهذا أيضا مثل ما قبله والكلام فيه مثل الكلام فيما قبله وقد روي عن أسامة بن شريك عن النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك شيء

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے کہا۔ یارسول اللہﷺ رمی سے پہلے میں ذبح کر بیٹھا فرمایا رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ دوسرے نے پوچھا یا رسول اللہﷺ ذبح سے پہلے میں نے حلق کروا لیا آپﷺ نے فرمایا ذبح کر لوکوئی حرج نہیں ۔ تیسرے نے پوچھا یارسول اللہﷺ ذبح سے پہلے میں نے طواف زیارت کر لیا ہے فرمایا ذبح کر وکوئی حرج نہیں ۔ یہ روایت بھی ماقبل کی طرح ہے اور اس کے متعلق بھی وہی بات کہی جائےگی ۔ حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرمﷺ سے اس سلسلہ میں روایت کی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا ← عَطَاءٍ، ← قَيْسٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3988

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3989

3773 - حدثنا أحمد بن الحسن هو بن القاسم الكوفي قال ثنا أسباط بن محمد قال ثنا أبو إسحاق الشيباني عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك قال حججنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فسئل عمن حلق قبل أن يذبح أو ذبح قبل أن يحلق فقال لا حرج فلما أكثروا عليه قال يا أيها الناس قد رفع الحرج إلا من اقترض من أخيه شيئا ظلما فذلك الحرج فهذا أيضا مثل ما قبله وقد يحتمل أيضا أن يكون قوله لا حرج هو على الإثم أي لا حرج عليكم فيما فعلتموه من هذا لأنكم فعلتموه على الجهل منكم به لا على التعمد بخلاف السنة فلا جناح عليكم في ذلك وقد روي عن ذلك مبينا ومشروحا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کیا آپﷺ سے دریافت کیا گیا ذبح سے پہلے حلق یا حلق سے پہلے ذبح کا کیا حکم ہے فرمایا کچھ مضائقہ نہیں۔ جب لوگوں نے سوالات کی کثرت کر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔اے لوگو! تنگی اٹھالی گئی ۔ البتہ جوشخص اپنے بھائی سے زبردستی قرض لے اس میں حرج ہے۔ یہ روایت بھی ماقبل کی طرح ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لا حرج کامعنی گناہ نہ ہونا مراد ہویعنی جوتم نے کیا اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ کیونکہ تم نے ناواقفی میں کیا‘ جان بوجھ کر خلاف سنت نہیں کیا پس اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں اس سلسلہ میں واضح اورکھلی روایات بھی مروی ہیں ۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أحمد بن الحسن هو بن القاسم الكوفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3989

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3990

3774 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو ثابت عن محمد بن عبيد الله قال ثنا عبد العزيز بن محمد أراه عن عبد الرحمن بن الحارث عن زيد بن علي بن الحسين بن علي عن أبيه عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سأله رجل في حجته فقال إني رميت وأفضت ونسيت ولم أحلق قال فاحلق ولا حرج ثم جاءه رجل آخر فقال إني رميت وحلقت ونسيت أن أنحر قال فانحر ولا حرج

عبیداللہ بن ابی رافع نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ سے ایک آدمی نے اپنے حج کے متعلق سوال کیا کہ میں نے رمی کی اور طواف زیارت کر لیا اورحلق کرانا بھول گیا ۔ آپﷺ نے فرمایاحلق کر والواور کچھ مضائقہ نہیں۔ پھر دوسرا آدمی آیا اور وہ کہنے لگا میں نے رمی‘ حلق کر لیا مگر نحر کر نا بھول گیا آپ ﷺ نے فرمایانحرکرواور کچھ مضائقہ نہیں۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن الحسين بن علي، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عبد العزيز بن محمد أراه ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أَبُو ثَابِتٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3990

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3991

3775 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا ويونسا حدثاه عن بن شهاب عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله عن عبد الله بن عمرو أنه قال وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع للناس يسألونه فجاءه رجل فقال يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح فقال اذبح ولا حرج فجاءه آخر فقال يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال فما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج

یحیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں لوگوں کے لئے رکے تا کہ لوگ پوچھ لیں تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پتہ بھی نہ چلا اور میں نے ذبح سے پہلے حلق کر والیا آپ نے فرمایا ذبح کر واور کچھ گناہ نہیں ۔ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے شعور بھی نہیں ہوا کہ میں نے رمی سے پہلے نحر کر لیا ہے آپ نے فرمایا ۔ رمی کرلواور کچھ حرج نہیں اس دن کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر سے متعلق جوسوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر ڈالواور کوئی حرج نہیں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ويونسا حدثاه ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3992

3776 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن عيسى بن طلحة عن عبد الله بن عمرو قال سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج قال آخر ذبحت قبل أن أرمي قال ارم ولاحرج

عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا میں نے ذبح سے پہلے حلق کروا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذبح کر واور کچھ حرج نہیں ۔ دوسرے نے کہا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایارمی کرلواور کچھ حرج نہیں۔

ارم ولاحرج ← آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ← «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ← حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ← سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3993

3777 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد أن عطاء بن أبي رباح حدثه أنه سمع جابر بن عبد الله يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله يعني أنه وقف للناس عام حجة الوداع يسألونه فجاء رجل فقال لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال آخر يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج قال فما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج فدل ما ذكرنا على انه صلى الله عليه و سلم إنما أسقط الحرج عنهم في ذلك للنسيان لا أنه أباح ذلك لهم حتى يكون لهم مباح أن يفعلوا ذلك في العمد وقد روى أبو سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ کوسنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے رکے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے لگے۔ ایک آدی نے آ کر پو چھا مجھے علم نہیں تھا اور میں نے رمی سے پہلے نحر کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایارمی کرلو اور کوئی حرج نہیں ۔دوسرے نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یاد بھی نہ رہا اور میں ذبح سے پہلے حلق کرلیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذبح کرو اور کوئی حرج نہیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس دن جس نے کسی چیز کے مقدم ومؤخر کرنے کا سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو افعل ولاحرج سے جواب دیا۔ تو یہ مذکورہ بیان اس بات پر دال ہے کہ آپ نے بھول کی وجہ سے ان سے گناہ کو دور فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ یہ ان کے لئے مباح و جائز ہو کہ اگر جان بوجھ کر لیں تو جائز ہو جائے اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دو آیت کی جواس پر دلالت کرتی ہے۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں ان تمام روایات میں حرج کی نفی فرمائی اس کی وجہ بھول جانا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کوایسا کرنا مباح ہے کہ جس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ جان بو جھ کر بھی ایسا کرنا درست ہے۔ روایت ابوسعید خدر رضی اللہ عنہ ی کی دلالت بھی یہی ہے۔

آخَرَ، ← ارْمِ وَلَا حَرَجَ ← لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← أسامة بن زيد أن عطاء بن أبي رباح ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3994

3778 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا عمرو بن علي عن الحجاج عن عبادة بن نسي قال حدثني أبو زبيد قال سمعت أبا سعيد الخدري قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بين الجمرتين عن رجل حلق قبل أن يرمي قال لا حرج وعن رجل ذبح قبل أن يرمي قال لا حرج ثم قال عباد الله وضع الله عز و جل الحرج والضيق وتعلموا مناسككم فإنها من دينكم أفلا ترى أنه أمرهم بتعلم مناسكهم لأنهم كانوا لا يحسنونها فدل ذلك أن الحرج والضيق الذي رفعه الله عنهم هو لجهلهم بأمر مناسكهم لا لغير ذلك وقد روي في حديث أسامة بن شريك الذي قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب ما يدل على هذا المعنى أيضا

ابوز بید نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت سوال کیا گیا جب کہ آپ دونوں جمروں کے درمیان تھے کہ رمی سے پہلے حلق کر لیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ گناہ نہیں ۔ اور اس آدی کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے رمی سے پہلے ذبح کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ گناہ نہیں پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالی کے بندو! اللہ تعالی نے تم سے تنگی اور گناہ ہٹایا ہے ( جو کام بھول چوک سے ہو جائے) مگر اپنے حج کے احکام سیکھو وہ تمہارے دین کا حصہ ہیں ۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے ان کوا حکام حج سیکھنے کاحکم فرمایا کیونکہ وہ ان کو اچھی طرح ادانہ کرتے تھے ۔تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جوتنگی اور گناہ اللہ تعالی نے ان سے دور کی ہے وہ احکام حج سے ناواقفی کی وجہ سے تھا کسی اور وجہ سے نہیں اور حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کی مذکورۃ الصدر روایت اس پر دال ہے۔

لا حرج ثم ← رجل ذبح قبل أن يرمي ← لَا حَرَجَ ← رجل حلق قبل أن يرمي ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بين الجمرتين ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبُو زُبَيْدٍ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← الْحَجَّاجِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3995

3779 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب وسعيد بن عامر قالا ثنا شعبة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك أن الأعراب سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أشياء ثم قالوا هل علينا حرج في كذا وهل علينا حرج في كذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل رفع الحرج عن عباده إلا من اقترض من أخيه شيئا مظلوما فذلك الذي حرج وهلك أفلا ترى أن السائلين لرسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كانوا أعرابا لا علم لهم بمناسك الحج فأجابهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله لا حرج على الإباحة منه لهم التقديم في ذلك والتأخير فيما قدموا من ذلك وأخروا ثم قال لهم ما ذكر أبو سعيد في حديثه وتعلموا مناسككم ثم قد جاء عن بن عباس رضي الله عنهما ما يدل على هذا المعنى أيضا

زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ بدو لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے ہمیں کیا گناہ بھی ہوگا کیا اس میں گناہ ہوگا ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے تنگی کو اٹھا دیا ( بھول کر ہونے والی غلطی کا گناہ )مگر وہ شخص جواپنے مسلمان بھائی سے ظلم کے طور پر قرض لے اس میں گناہ اور ہلاکت ہے۔ کیا یہ تمہارے علم میں نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے والے دیہاتی تھے ان کو حج کے احکام کاعلم نہ تھا ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کولا حرج کا جواب مرحمت فرمایا۔ کہ کچھ گناہ نہیں ۔ یعنی تمہاری تقدیم وتاخیر درست ہے۔ پھر ان کو وہ بات فرمائی جس کو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے ۔ فرمایا حج کے احکام سیکھو ۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ا سے بھی اس مفہوم کی روایت ہے۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← وهب وسعيد بن عامر ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3995

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter