Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 35 باب حج الصغير ) · حديث 4060

3842 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان بن عيينة قال حدثني إبراهيم بن عقبة عن بن عباس رضي الله عنهما أن امرأة سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن صبي هل لهذا من حج قال نعم ولك أجر

ابراہیم بن عقبہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک عورت نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بچے کے متعلق سوال کیا ۔ کیا اس کاحج ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ ← صبي هل لهذا من حج ← بن عباس أن امرأة سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4060

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 35 باب حج الصغير ) · حديث 4061

3843 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالك حدثه عن إبراهيم بن عقبة فذكر بإسناده مثله

مالک نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کی پھرا پنی سند سے روایت بیان کی ہے۔

إبراهيم بن عقبة فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالك ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4061

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 35 باب حج الصغير ) · حديث 4062

3844 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله الماجشون عن إبراهيم بن عقبة فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الصبي إذا حج قبل بلوغه أجزأه ذلك من حجة الإسلام ولم يكن عليه أن يحج بعد ذلك بعد بلوغه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجزيه من حجة الإسلام وعليه بعد بلوغه حجة أخرى وكان من الحجة لهم عندنا على أهل المقالة الأولى أن هذا الحديث إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبر أن للصبي حجا وهذا مما قد أجمع الناس جميعا عليه ولم يختلفوا أن للصبي حجا كما أن له صلاة وليس تلك الصلاة بفريضة عليه فكذلك أيضا قد يجوز أن يكون له حج وليس ذلك الحج بفريضة عليه وإنما هذا الحديث حجة على من زعم أنه لاحج للصبي فأما من يقول إن له حجا وأنه غير فريضة فلم يخالف شيئا من هذا الحديث وإنما خالف تأويل مخالفة خاصة وهذا بن عباس رضي الله عنهما هو الذي روى هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قد صرف هو حج الصبي إلى غير الفريضة وأنه لا يجزيه بعد بلوغه من حجة الإسلام

عبدالعزیز بن عبداللہ امابشون نے ابراہیم بن عقبہ سے پھرانہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4062

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 35 باب حج الصغير ) · حديث 4063

3845 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي السفر قال سمعت بن عباس يقول يأيها الناس أسمعوني ما تقولون ولا تخرجوا تقولون قال بن عباس أيما غلام حج به أهله فمات فقد قضى حجة الإسلام فان أدرك فعليه الحج وأيما عبد حج به أهله فمات فقد قضى حجة الإسلام فإن اعتق فعليه الحج

ابوالسفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے اے لوگو! میری بات سنوتم کیا کہتے ہواور صحیح بات سے مت نکلناتم کہتے ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ جس بچے نے اپنے اہل کے ساتھ حج کیا پھروہ فوت ہو گیا تو اس نے گویا حجۃ الاسلام ادا کر لیا۔ اگر انہوں نے پالیا تو اس پر حج لازم ہے۔ جس غلام کو اس کے مالک نے حج کرایا پھروہ مر گیا تو اس کا فرض حج پورا ہو گیا اوراگراسے آزادکر دیا گیا تو اس کے ذمہ حج ہوگا۔

يأيها الناس أسمعوني ما تقولون ولا تخرجوا تقولون ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي السَّفَرِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4063

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 35 باب حج الصغير ) · حديث 4064

3846 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن يونس بن عبيد صاحب الحلي قال سألت بن عباس عن المملوك إذا حج ثم عتق بعد ذلك قال عليه الحج أيضا وعن الصبي يحج ثم يحتلم قال يحج أيضا وقد زعمتم أن من روى حديثا فهو أعلم بتأويله فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرنا في أول هذا الباب ثم قال هو ما قد ذكرنا فيجب على أصلكم أن يكون ذلك دليلا على معنى ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك فإن قال قائل فما الذي دل على أن ذلك الحج لا يجزيه من حجة الإسلام قلت قول رسول الله صلى الله عليه و سلم رفع القلم عن ثلاثة عن الصغير حتى يكبر وقد ذكرت ذلك بأسانيده في غير هذا الموضع من هذا الكتاب ثبت أن القلم عن الصبي مرفوع ثبت أن الحج عليه غير مكتوب وقد أجمعوا أن صبيا لو دخل في وقت صلاة فصلاها ثم بلغ بعد ذلك في وقتها أن عليه أن يعيدها وهو في الحكم من لم يصلها فلما ثبت ذلك من إتفاقهم ثبت أن الحج كذلك وأنه إذا بلغ وقد حج قبل ذلك أنه في حكم من لم يحج وعليه أن يحج بعد ذلك فإن قال قائل فقد رأينا في الحج حكما يخالف حكم الصلاة وذلك أن الله عز و جل إنما أوجب الحج على من وجد اليه سبيلا ولم يوجبه على غيره فكان من لم يجد سبيلا إلى الحج فلا حج عليه كالصبي الذي لم يبلغ ثم قد أجمعوا أن من لم يجد سبيلا الى الحج فحمل على نفسه ومشى حتى حج أن ذلك يجزيه وإن وجد اليه سبيلا بعد ذلك لم يجب عليه أن يحج ثانية للحجة التي قد كان حجها قبل وجوده السبيل فكان النظر على ذلك أن يكون كذلك الصبي إذا حج قبل البلوغ ففعل ما لم يجب عليه أجزاه ذلك ولم يجب عليه أن يحج ثانية بعد البلوغ قيل له إن الذي لا يجد السبيل إنما سقط الفرض عنه لعدم الوصول إلى البيت فإذا مشى فصار إلى البيت فقد بلغ البيت وصار من الواجدين للسبيل فوجب الحج عليه لذلك فلذلك قلنا إنه أجزأه حجة ولأنه صار بعد بلوغه البيت كمن كان منزله هنالك فعليه الحج وأما الصبي ففرض الحج غير واجب عليه قبل وصوله إلى البيت وبعد وصوله اليه لرفع القلم عنه فإذا بلغ بعد ذلك فحينئذ وجب عليه فرض الحج فلذلك قلنا إن ما قد كان حجه قبل بلوغه لا يجزيه وأن عليه أن يستأنف الحج بعد بلوغه كمن لم يكن حج قبل ذلك فهذا هو النظر أيضا في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

یونس بن عبید صاحب الحلی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے غلام کے متعلق سوال کیا کہ جب غلام حج کرے پھر آزادکر دیا جائے ؟ فرمایا اس پر حج لازم ہوگا۔ میں نے بچے کے متعلق پوچھا کہ وہ بچپن میں حج کرے پھر بالغ ہو؟ تو آپ نے فرمایا اس پر حج لازم ہے ۔تمہارے ہاں یہ بات مانی ہوئی ہے کہ حدیث کا راوی اس کی مرادکو زیادہ جانتا ہے ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اس روایت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب کے شروع میں روایت کیا پھر انہوں نے وہ بات فرمائی جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے۔ تو تمہارے ضابطے کے مطابق یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایت پر دلیل ہونی چاہیے ۔اگر کوئی معترض یہ کہے کہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ حج فریضہ اسلام کی جگہ کافی نہیں ہے ۔تو اس کے جواب میں عرض کرتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے۔ تین آ دی مرفوع القلم ہیں نمبرا بچہ یہاں تک کہ بڑا ہو جائے (الحدیث) یہ روایت اپنی اسناد کے ساتھ اسی کتاب میں دوسرے موقع پر درج ہے ۔ جب بچہ مرفوع القلم ہے ۔ تو یہ خود ثابت ہو گیا کہ اس کا حج فرض نہیں ہے اوراس پراجماع ہے کہ اگر کوئی بچہ نماز کے وقت نما زادا کرے۔ پھراس نماز کے وقت میں بالغ ہو جائے تو اسے نماز کا دوبارہ پڑھناضروری ہے اور وہ نماز نہ پڑھنے والے کے حکم میں ہوگا۔ جب سب کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تو یہ ثابت ہوا کہ ج کاحکم بھی یہی ہے اور جب وہ حج کے بعد بالغ ہوتو وہ حج نہ کرنے والے کے حکم میں ہو گا اور اس پر دوبارہ حج فرض ہوگا۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ حج کا حکم نماز کے حکم سے مختلف ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حج تو اس پر فرض ہے جو وہاں پہنچنے کی طاقت واستطاعت رکھتا ہے ۔اس کے سواء دوسرے پر فرض نہیں ۔عدم استطاعت والے پر فرض نہیں جیسا کہ بچے کے بلوغ تک اس پر فرض نہیں پھر ان علماء کا اس پر اجماع ہے ۔ جس شخص کے پاس خر چہ سفر نہ ہواور وہ اپنے کو مشقت میں ڈال کر پیدل حج کرے ۔تو یہ اس لے لئے کافی ہے ۔اگر اس کے بعد اس کو طاقت میسر آ بھی جائے تب بھی اس پر حج فرض نہ ہوگا ۔ پہلا ج اس نے عدم استطاعت میں کیا۔اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ بچے کا حکم بھی یہی ہو۔ کہ جب بلوغت سے پہلے اس نے حج کرلیا اوراس وقت اس پر فرض نہ تھا تو یہ اس کے لئے کافی ہونا چاہیے بلوغت کے بعد اسے حج کی ضرورت نہ ہونی چاہیے ۔اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا اس سے فرضیت کے ساقط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیت اللہ تک پہنچ نہیں سکتا ۔ پس اگر پیدل چل کر بیت اللہ تک پہنچ جائے وہاں تک پہنچنے والوں کی طاقت حاصل کرنے والوں میں بن جائے اس وجہ سے اس پر حج لا زم ہوگا ۔اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ یہ حج اس کے لئے کافی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ بیت اللہ پہنچنے پر وہ وہاں کا سا کن شمار ہوگا اور اس پر حج لا ز ہوگالیکن بچے پر بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے اور بعد دونوں صورتوں میں حج لازم نہیں ۔ کیونکہ وہ مرفوع القلم ہے۔ جب وہ اس کے بعد بالغ ہوگا تو اس پر حج فرض ہوگا ۔ اسی وجہ سے تو ہم کہتے ہیں جس نے قبل البلوغ حج کیا وہ اس کے لئے کفایت نہ کرے گا۔ اسے لیے سرے سے حج لازم ہوگا ۔جیسا وہ شخص کرتا ہے جس نے اس سے پہلے حج نہ کیا جو ۔ اس باب میں قیاس یہی ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ابو یوسف وحد رحمہم اللہ کا قول ہے۔

يحج أيضا وقد زعمتم ← الصبي يحج ثم يحتلم ← عليه الحج أيضا ← المملوك إذا حج ثم عتق بعد ذلك ← سألت بن عباس ← يونس بن عبيد صاحب الحلي ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4064

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter