Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3184

3016 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر ح

بشر بن بکر نے فہد سے انہوں نے ابو نعیم سے روایت نقل کی ہے ۔

بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3184

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3185

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم ح وحدثنا بكر بن إدريس وصالح بن عبد الرحمن قالا ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قالوا ثنا موسى بن على عن أبيه عن عقبة وقال بكر وصالح في حديثهما قال سمعت أبى يحدث عن عقبة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن أيام الأضحى وأيام التشريق ويوم عرفة يوم عيد أهل الإسلام أيام أكل وشرب قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فكرهوا به صوم يوم عرفة وجعلوا صومه كصوم يوم النحر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بصوم يوم عرفة وكان من الحجة لهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما أراد بنهيه عن صوم يوم عرفة بالموقف لأنه هناك عيد وليس في غيره كذلك وقد بين ذلك أبو هريرة رضي الله عنه

بکر و صالح نے اپنی روایات میں اپنے والد سے نقل کیا انہوں نے عقبہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ ایا م اضحی ٰ اور ایام تشریق اور یوم عرفہ یہ سب عید کے ایام ہیں اہل اسلام کے لئے کھانے پینے کے دن ہیں ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عرفہ کے دن روزہ مکروہ ہے اور اس کو وہ بوم نحر کے روزے کی طرح قرار دیتے ہیں ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کی مراد میدان عرفات میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہو ۔ کیونکہ وہاں وہ عید کی ہے جب کہ دوسرے مقامات پر اس طرح نہیں اور حضرت ابوہریرہؓ نے اس کو اسی طرح بیان فرمایا روایت ملاحظہ ہو۔

عُقْبَةَ ← أَبِي ← بكر وصالح في حديثهما ← عُقْبَةَ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بكر بن إدريس وصالح بن عبد الرحمن ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3185

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3186

3017 - حدثنا محمد بن إدريس المكى وابن أبى داود قالا ثنا سليمان بن حرب ح

محمد بن ادریس مکی اور ابن ابی داود دونوں نے سلیمان بن حرب سے روایت نقل کی ہے۔

سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← محمد بن إدريس المكى وابن أبى داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3186

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3187

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قالا ثنا حوشب بن عقيل عن مهدى الهجري عن عكرمة قال كنا مع أبى هريرة رضي الله عنه في بيته فحدثنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن صيام يوم عرفة بعرفة فأخبر أبو هريرة أن النهى من رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صوم يوم عرفة إنما هو بعرفة خاصة فاحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما

عکرمہ کہتے ہیں کہ ہم ابو ہریرہؓ کے ساتھ ان کے گھر میں بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزے سے منع فرمایا ۔ پس حضرت ابو ہریرہؓ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کے دن روزے کی جو ممانعت فرمائی ہے وہ میدان عرفات کے ساتھ خاص ہے ۔ اول قول والوں نے اس روایت کو بھی اپنی دلیل میں پیش کیا ہے روایت ذیل میں ہے۔

كنا مع أبى هريرة في بيته فحدثنا ← عِكْرِمَةَ، ← مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ ← حَوْشَبِ بْنِ عَقِيلٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3187

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3188

3018 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن بن عمر قال لم يصم رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أبو بكر ولا عمر ولا عثمان ولا على رضي الله عنهم يوم عرفة قيل لهم هذا أيضا عندنا على الصيام يوم عرفة بالموقف وقد بين ذلك بن عمر رضي الله عنهما في غير هذا الحديث

نافع نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ اور ابو بکر و عمر اور عثمان و علی رضوان اللہ علیہ اجمعین میں سے کسی نے بھی عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا ۔ ان کے جواب میںہم کہیں گے اس روایت سے مراد ہمارے ہاں میدان عرفات می روزہ کی ممانعت ہے اور اس کا ثبوت ابن عمر ؓ کی اس روایت ذیل سے واضح ہوتی ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3188

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3189

3019 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة وأبو داود قالا ثنا شعبة عن عبد الله بن أبى نجيح عن أبيه عن رجل أن رجلا سأل بن عمر عن صوم يوم عرفة بالموقف فقال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يصمه ومع أبي بكر رضي الله عنه فلم يصمه ومع عمر رضي الله عنه فلم يصمه ومع عثمان رضي الله عنه فلم يصمه وأنا لا أصومه ولا آمرك ولا أنهاك فان شئت فلا تصمه فبين هذا الحديث أن ما روى نافع عن بن عمر رضي الله عنهما هو على الصوم في الموقف وقد روى عن بن عمر في الأمر بصوم يوم عرفة ما

عبداللہ بن ابی نجیح نے اپنے والد سے انہوں نے ایک آدمی سے بیان کیا کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن میدان عرفات میں روزے کا کیا حکم تو انہوں نے جواب دیا ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میدان عرفات کی طرف نکلے آپ روزے سے نہ تھے اور ابو بکر کے ساتھ میدان عرفات کی طرف نکلے انہوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور عمر ؓ کے ساتھ نکلے انہوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور عثمان ؓ کے ساتھ نکلے اور انہوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور میں بھی روزہ نہیں رکھتا اور تجھے روزہ کا حکم نہیں کرتا اور نہ اس سے روکتا ہوں اگر تم مناسب سمجھو تو روزہ نہ رکھو۔ تو اس روایت نے واضح کر دیا کہ سابقہ روایت میں نافع نے جو ابن عمر ؓ سے عرفہ کے روز روزہ کی نفی کی ہے اس کا تعلق موقف عرفات سے ہے۔ مزید ثبو ت میں روایت ذیل ملاحظہ کریں ۔

رَجُلٌ: ← أَبِيهِ ← عبد الله بن أبي نجيح ← شُعْبَةُ، ← روح بن عبادة وأبو داود ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3189

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3190

3020 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبو عوانة قال ثنا رقبة عن جبلة بن سحيم قال سمعت بن عمر رضي الله عنهما سئل عن صوم يوم الجمعة ويوم عرفة فأمر بصيامهما وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ثواب صوم يوم عرفة من حديث بن عمر رضي الله عنهما وأبى قتادة الأنصاري ما قد

جبلہ بن سخیم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو فرماتے سنا جبکہ ان سے جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے ان دونوں دنوں کے روزے کا حکم فرمایا ۔ خود جناب رسول اللہﷺ سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب منقول ہے وہ ابن عمر ؓ اور ابوقتادہ انصاری ؓدونوں کی روایات میں وارد ہے ۔ روایت ابوقتادہ انصاری ؓ یہ ہے ۔

صوم يوم الجمعة ويوم عرفة فأمر بصيامهما وقد روى ← بن عمر سئل ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← رَقَبَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3190

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3191

3021 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة قال سمعت غيلان بن جرير يحدث عن عبد الله بن معبد عن أبى قتادة الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن صوم يوم عرفة فقال يكفر السنة الماضية والباقية

عبداللہ بن محمد نے ابو قتادہ انصاری ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3191

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3192

3022 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا أبى قال سمعت غيلان بن جرير يحدث عن عبد الله بن معبد الزماني عن أبى قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم انى أحتسب على الله في صيام يوم عرفة أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده

عبداللہ بن معبد زمانی نے ابو قتا دہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ تعالی ٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ یوم عرفہ کے روزے پر ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف کر دے گا ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں کہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا ء کا روزہ واجب ہے اور صبح کے بعد آپ ﷺ کا ان کو روزے کا حکم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی ون روزے کا مقرر ہو اور رات کو نیت نہ کی جاسکے تو صبح کے بعد قبل الزوال وہ نیت کر سکتا ہے جب کہ اہل علم نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ یوں عاشوراء کے روزے کے سلسلہ میں اس سے زائد روایات بھی وارد ہیں۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← أَبِي ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3192

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3193

3023 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا المعتمر قال قرأت على الفضيل قال حدثني أبو جرير أنه سمع سعيد بن جبير يقول سأل رجل بن عمر رضي الله عنهما عن صوم يوم عرفة قال كنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم نعد له بصوم سنة فثبت بهذا الأثر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم الترغيب في صوم يوم عرفة فدل ذلك أن ما كره من صومه في الآثار الأول هو للعارض الذي ذكرنا من الوقوف بعرفة لشدة تعبهم وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو حریز بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر ؒ کو کہتے سنا کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ یو م عرفہ کا روزہ کیا مقام رکھتا ہے تو کہنے لگے ہم اس کو جناب رسول اللہ ﷺکے سا تھ ایک سال کے روزے کے برابر سمجھتے تھے ۔ جناب رسول اللہ کے متعلق اس اثر سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی تر غیب ثا بت ہوئی ۔ پس اس سے ثبوت مل گیا کہ پہلی روایات کے مطابق اس دن روزہ رکھنے کی کراہت اس وجہ سے ہے جو ہم نے بیان کی ہے یعنی وقوف عرفات کیونکہ اس میں کافی مشقت ہے ۔ اما م ابو حنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔

أبو جرير ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← الْمُعْتَمِرُ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3193

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter