شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4550
4292 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا بشر بن بكر قال أخبرنا الأوزاعي عن عطاء عن عبيد بن عمير عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تجاوز الله لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أكره على طلاق أو نكاح أو يمين أو إعتاق أو ما أشبه ذلك حتى فعله مكرها أن ذلك كله باطل لأنه قد دخل فيما تجاوز الله فيه للنبي صلى الله عليه و سلم عن أمته واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يلزمه ما حلف به في حال الإكراه من يمين وينفذ عليه طلاقه وعتاقه ونكاحه ومراجعته لزوجته المطلقة إن كان راجعها وتأولوا في هذا الحديث معنى غير المعنى الذي تاوله أهل المقالة الأولى فقالوا إنما ذلك في الشرك خاصة لأن القوم كانوا حديثي عهد بكفر في دار كانت دار كفر فكان المشركون إذا قدروا عليهم إستكرهوهم على الإقرار بالكفر فيقرون بذلك بألسنتهم قد فعلوا ذلك بعمار بن ياسر رضي الله عنه وبغيره من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم فنزلت فيهم إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان وربما سهوا فتكلموا بما جرت عليه عادتهم قبل الإسلام وربما أخطأوا فتكلموا بذلك أيضا فتجاوز الله عز و جل لهم عن ذلك لأنهم غير مختارين لذلك ولا قاصدين إليه وقد ذهب أبو يوسف رحمه الله الى هذا التفسير أيضا حدثناه الكيساني عن أبيه فالحديث يحتمل هذا المعنى ويحتمل ما قال أهل المقالة الأولى فلما أحتمل ذلك إحتجنا إلى كشف معانيه ليدلنا على أحد التأويلين فنصرف معنى هذا الحديث إليه فنظرنا في ذلك فوجدنا الخطأ هو ما أراد الرجل غيره ففعله لا عن قصد منه إليه ولا إرادة منه إياه وكان السهو ما قصد إليه ففعله على القصد منه إليه على أنه ساه عن المعنى الذي يمنعه من ذلك الفعل وكان الرجل إذا نسي أن تكون هذه المرأة له زوجة فقصد إليها فطلقها فكل قد أجمع أن طلاقه عامل ولم يبطلوا ذلك لسهوه ولم يدخل ذلك السهو في السهو المعفو عنه فإذا كان السهو المعفو عنه ليس فيه ما ذكرنا من الطلاق والأيمان والعتاق كان كذلك الإستكراه المعفو عنه ليس فيه أيضا من ذلك شيء فثبت بذلك فساد قول الذين أدخلوا الطلاق والعتاق والأيمان في ذلك وإحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم بما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم
عبيد بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ الله تعالی نے میری امت کو خطاء نسیان اور جس پر ان کو مجبور کیا جائے ان کا گناہ معاف کر دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کسی کو طلاق پر مجبور کیا جائے یا زبردستی نکاح یا قسم لی جائے یا آزاد کیا جائے یا اس کے مشابہہ جو دیگر افعال ہیں وہ کرائے جائیں اور اس نے ان کو مجبوری میں کر لیا۔ تو یہ سب باطل ہیں نافذ نہ ہوں گے۔ کیونکہ یہ اس چیز میں داخل ہے جن کے متعلق اللہ تعالی نے اس امت کو نبی اکرم ﷺ کی وجہ سے معاف کردیا اور اس کی دلیل کی یہ روایت ہے۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کیا ہے کہ اکراہ کی حالت میں جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا وہ نافذ ہو جائے گا۔ مثلاً قسم طلاق عتاق نکاح مطلقہ کی مراجعت اگر وہ اس سے رجوع کرنے والا ہو۔ اس حدیث کا وہ مفہوم نہیں جو تم نے لیا ہے بلکہ اس ارشاد کاتعلق شرک وغیرہ سے ہے کیونکہ وہ لوگ دار الكفر میں مقیم تھے اور نئے نئے اسلام لانے والے تھے اس لئے کفار کا جب بھی ان پربس چلتا وہ انہیں اقرار کفر پرمجبور کرتے۔ چنانچہ بسا اوقات وہ اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کرتے۔ چنانچہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے یہی معاملہ کیا گیا۔ اس وقت ان کے حق میں قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی الامن اکرہ وقلبه مطمئن بالا یمان اور بعض اوقات وہ بھول کر اسلام سے پہلے کی عادت کے مطابق کلمہ کفر زبان سے نکال بیٹھتے اور کبھی غلطی سے بھی اس قسم کا کلام ہو جاتا۔ تو اس پر الله تعالی نے ان سے درگزر فرمایا کیونکہ اس میں ان کو کوئی اختیار نہ تھا اور نہ ہی وہ ایسا ارادہ سے کرتے تھے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے اور ہم نے کیسانی کی سند سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات نقل کی ہے۔ پس حدیث میں اس معنی کا احتمال بھی ہے اور دوسرا احتمال وہ ہے جس کو فریق اول نے ذکر کیا ہے جب احتمال ہواتواس روایت کے معنی کی پڑتال ضروری ہوئی تا کہ دونوں میں سے ایک مفہوم کی طرف راہنمائی ہو اور پھر ہم اس روایت کو اس معنی کی طرف پھیر دیں۔ ہم نے اس سلسلہ میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ جب کوئی آدی کسی کام کا ارادہ کرے مگر اس کام کی بجائے جس کا ارادہ ہو دوسرے کام کو کرڈالے تو یہ خطاء ہے کیونکہ اس نے اس کام کا قصد نہیں کیا اور سہو ونسیان یہ ہے کسی کام کوتو ارادہ سے کرے مگر اس میں جو رکاوٹ تھی وہ بھول گیا۔ (مثلا روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا ) اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے متعلق بھول جائے کہ وہ اس کی بیوی ہے لیکن اس کے باوجوقصد اس کو طلاق دے دے تو سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ بھول کی وجہ سے اس طلاق کو باطل قرار نہیں دے سکتا اور یہ بھول اس بھول میں داخل شمار نہیں ہوتی جس کو معاف کر دیا گیا تو جب بھول کر دی جانے والی طلاق قسم اور آزادی سب میں بھول کا دخل نہیں اور اس بھول میں شامل نہیں جو معاف کر دی گئی تو جبر کے موقعہ پر مندرجہ امور بھی اس اکراہ میں شامل نہ ہوں گے جو معاف کردیا گیاہے۔ اس نے ان لوگوں کے قول کی غلطی ظاہر و ثابت ہو گئی جنہوں نے طلاق آزادی اور قسم کو اس میں شامل کیا۔ دلیل میں فریق اول کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل روایت بھی تو اس موقف کی تائید کرتی ہے روایت جناب نبی اکرم ﷺسے یہ ہے۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← ربيع بن سليمان المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4550
