شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4744
4481 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن أبي الزبير عن جابر أن رجلا زنى فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فجلد ثم أخبر أنه قد كان أحصن فأمر به فرجم قال أبو جعفر فذهب إلى هذا قوم فقالوا هكذا حد المحصن إذا زنى الجلد والرجم جميعا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل حده الرجم دون الجلد وقالوا قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما رجمه لما أخبر أنه محصن لأن الجلد الذي كان جلده إياه ليس من حده في شيء لأن حده كان الرجم دون الجلد ويجوز أن يكون رجمه لأن ذلك الرجم هو حده مع الجلد وإحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم بما
ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کوڑے لگائے جائیں پھر اپ کو اطلاع ملی کہ یہ شادی شدہ ہے تو آپ نے رجم کا حکم دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے اور سنگساری دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ ان کی دلیل مذکور بالا روایت ہے ۔ ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ فقط رجم ہو گا کوڑے نہ مارے جائیں گے ۔ دوسروں ن ے ان سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اولین اطلاع کے مطابق اس کو کوڑے مارے مگر جب اس کا شادی شدہ ہونا ثابت ہو گیا تو رجم کا حکم فرمایا۔ کیونکہ اس کی اصل حد یہی تھی اور اس روایت کا یہ بھی مفہوم ہوا کہ عین ممکن ہے کہ اس کا وہی مطلب ہو جو تم لے رہے ہو کہ رجم بمعہ کوڑے حد ہو ۔ پہلے قول والوں نے یہ دلائل بھی ذکر کیے ۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4744
