Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4744

4481 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن أبي الزبير عن جابر أن رجلا زنى فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فجلد ثم أخبر أنه قد كان أحصن فأمر به فرجم قال أبو جعفر فذهب إلى هذا قوم فقالوا هكذا حد المحصن إذا زنى الجلد والرجم جميعا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل حده الرجم دون الجلد وقالوا قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما رجمه لما أخبر أنه محصن لأن الجلد الذي كان جلده إياه ليس من حده في شيء لأن حده كان الرجم دون الجلد ويجوز أن يكون رجمه لأن ذلك الرجم هو حده مع الجلد وإحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم بما

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کوڑے لگائے جائیں پھر اپ کو اطلاع ملی کہ یہ شادی شدہ ہے تو آپ نے رجم کا حکم دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے اور سنگساری دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ ان کی دلیل مذکور بالا روایت ہے ۔ ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ فقط رجم ہو گا کوڑے نہ مارے جائیں گے ۔ دوسروں ن ے ان سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اولین اطلاع کے مطابق اس کو کوڑے مارے مگر جب اس کا شادی شدہ ہونا ثابت ہو گیا تو رجم کا حکم فرمایا۔ کیونکہ اس کی اصل حد یہی تھی اور اس روایت کا یہ بھی مفہوم ہوا کہ عین ممکن ہے کہ اس کا وہی مطلب ہو جو تم لے رہے ہو کہ رجم بمعہ کوڑے حد ہو ۔ پہلے قول والوں نے یہ دلائل بھی ذکر کیے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4744

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4745

4482 - حدثنا يونس قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا شعبة عن قتادة عن الحسن عن حطان بن عبد الله الرقاشي عن عبادة بن الصامت ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر يجلد وينفى والثيب بالثيب يجلد ويرجم

حطان بن عبداللہ رقاشی نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھ سے حاصل کر لو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ نکال دی اور وہ کنوارے جوڑے کو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن بھی کیا جائے گا اور شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا اور کوڑے بھی مارے جائیں گے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4745

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4746

4483 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا منصور بن زاذان عن الحسن قال ثنا حطان بن عبد الله الرقاشي عن عبادة بن الصامت قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام والثيب بالثيب جلد مائة والرجم قالوا فبهذا نقول نرى أن يجلد المحصن ثم يرجم بعد ذلك كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أمره أنيسا الأسلمي برجم المرأة التي أمره أن يغدو عليها فيرجمها إن اعترفت ولم يأمره أن يجلدها وقد ذكرت ذلك بإسناده في الباب الأول وفي ذلك الحديث أيضا أن الذي قام إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال له إني سألت رجالا من أهل العلم فأخبروني أن على امرأة هذا الرجم ولم يذكر معه الجلد فلم ينكر ذلك عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل هذا أن جميع ما كان عليها من الجلد في الزنا الذي كان منها هو الرجم دون الجلد وقد شد ذلك أيضا ما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما فعل ب ماعز رضي الله عنه

حطان بن عبداللہ رقاشی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ مجھ سے دین کی باتیں اچھی طرح حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ پیدا فرما دیا کہ کنوارے جوڑے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی اور شادی شدہ جوڑے کو سو کوڑے اسر سنگساری کی سزا دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں محصن کو کوڑے مارے جائیں پھر سنگسار کیا جائے جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوسرے ان کے خلاف حضرت انیس رضی اللہ عنہ والی روایت کو پیش کرتے ہیں جس میں آپ نے اس عورت کو صبح جا کر اعتراف کی صورت میں سنگسار کرنے کا حکم فرمایا ان کو کوڑے مارنے کا حکم نہیں فرمایا۔ یہ روایت مکمل اسناد کے ساتھ باب اول میں مذکور ہو چکی اور اس روایت میں مزید یہ بات بھی مذکور ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کی بارگاہ میں کھڑا ہوا اس نے کہا میں نے کئی اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ اس عورت پر سنگساری کی سزا ہے اور اس آدمی نے اس کے ساتھ کوڑوں کا تذکرہ نہیں کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کا انکار بھی نہیں فرمایا۔ پس اس سے حاصل یہی ہوا کہ اس سے سرزد ہونے والے زنا کی سزا سنگساری تھی نہ کہ کوڑے اور اس کی تائید ماعزا سلمی رضی اللہ عنہ والی روایت سے بھی ہوتی ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4746

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4747

4484 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا الأسود عن عامر قال أخبرنا حماد بن سلمة عن سماك عن جابر بن سمرة أن النبي صلى الله عليه و سلم رجم ماعزا ولم يذكر جلدا ففيما ذكرنا من ذلك ما يدل أن حد المحصن هو الرجم دون الجلد فإن قال قائل ولم لا كان ما فيه الرجم والجلد أولى مما فيه الرجم خاصة قيل له لدلالة دلت على نسخ الجلد مع الرجم وهي أنا رأينا أصل ما كان على الزاني قبل أن نفرق بين حكمه إذا كان محصنا وبين حكمه إذا كان غير محصن ما وصف الله عز و جل في كتابه بقوله واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا فكان هذا هو حد الزانية أن تمسك في البيوت حتى تموت أو يجعل الله لهن سبيلا ثم نسخ بقوله خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا فذكر ما قد ذكرناه في حديث عبادة بن الصامت فكان ذلك هو السبيل الذي قال الله تعالى أو يجعل الله لهن سبيلا فجعل الله ذلك السبيل على ما قد بينه على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم وفرض في ذلك الجلد والرجم على الثيب والجلد والنفي على غير الثيب فعلمنا أن ذلك القول قد كان من النبي صلى الله عليه و سلم بعد نزول هذه الآية وأنه لم يتقدم نزول الآية وجوب الرجم على الزاني لأن حده كان على ما وصف الله عز و جل في كتابه من الحبس في البيوت ولم يكن بين قوله أو يجعل الله لهن سبيلا وبين حديث عبادة حكم آخر فعلمنا أن حديث عبادة كان بعد نزول هذه الآية وأن حديث ماعز الذي سأله رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه عن إحصانه لتفرقته بين حد المحصن وغير المحصن وحديث أبي هريرة وزيد بن خالد الجهني أنه فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه بين حكم البكر والثيب فجعل على البكر جلد مائة وتغريب عام وعلى الثيب الرجم متأخر عنه فكان ذلك ناسخا له لأن ما تأخر من حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ينسخ ما تقدم منه فلهذا كان ما ذكرنا من حديث أبي هريرة وزيد بن خالد وحديث ماعز رضي الله عنهم أولى من حديث عبادة مع ما قد شد من النظر الصحيح وذلك أنا رأينا العقوبات المتفق عليها في انتهاك الحرمات كلها إنما هي شيء واحد من ذلك أنا رأينا أن السارق عليه القطع لا غير والقاذف عليه الجلد لا غير فكان النظر على ذلك أيضا أن يكون كذلك الزاني المحصن عليه شيء واحد لا غير فيكون عليه الرجم الذي قد اتفق انه عليه وينتفي عنه الجلد الذي لم يتفق أنه عليه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين فإن قال قائل وكيف يجوز أن يكون ذلك منسوخا وقد عمل به علي رضي الله عنه بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ما قد

سماک نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ماعز کو سنگسار کیا اور کوڑوں کا تذکرہ جابر نے نہیں کیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شادی شدہ کی حد رجم ہے کوڑے نہیں۔ جن روایات میں رجم اور کوڑے دونوں کا تذکرہ ہے وہ فقط رجم والی روایت سے اولیٰ ہیں (اور اضاف ثقہ کا معتبر ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ رجم کے ساتھ کوڑوں کی سزا منسوخ ہونے پر دلالت پائی جاتی ہے یہاں ایک ضابط زانی کے سلسلہ میں پایا جاتا ہے شادی شدہ اور کنوارے میں تفریق سے پہلے اس آیت مبارکہ کو دیکھیں : (والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم ، فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلا ۔ النساء 15) تو شروع میں زانی عورت کی یہی سزا تھی کہ اس کو گھر میں روک دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے یا الله تعالی اس کے لئے کوئی راستہ نکال دے۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے جس کا تذکرہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ والی روایت میں موجود ہے یہ حکم منسوخ ہو گیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا الله تعالی نے وہ راستہ مقرر کر دیا تو گویا جس سبیل کا اس آیت شریفہ میں وعدہ تھا اللہ تعالی نے وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی زبان سے بیان کر دیا اور اس سلسلے میں شادی شدہ پرکوڑے اور رجم اور کنوارے پر کوڑے اور جلاوطنی مقرر فرمائی ۔ تواب اس سے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد اس آیت کے نزول کے بعد کا ہے اور نزول آیت سے پہلے کا نہیں۔ کیونکہ آیت میں مذکور سزا حبس دوام فی البیوت تھا اور ارشاد میں زانی پر رجم کو لازم کیا گیا ہے اور آیت:او يجعل الله هلن سبیلا اور حدیث عبادہ کے درمیان اور کوئی حکم موجو نہیں پس اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ حدیث عباده آیت کے نزول کے بعد ہے اور ماعز رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق دریافت کیا کہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ ۔ کیونکہ دونوں کے درمیان حکم میں فرق ہے اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ میں جناب رسول اللہ ﷺ نے کنوارے اور شادی شدہ میں فرق کیا ہے پس کنوارے جوڑے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی مقرر کی گئی اور شادی شدہ پرسنگساری ۔ یہ روایات اس سے متاخر ہیں پس یہ اس کے لئے ناسخ قرار پائیں گی کیونکہ آپ ﷺ کا جو کم مقدم ہے بعد والا حکم اس کو منسوخ کرنے والا ہے۔ پس ہم نے جو روایات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، زید بن خالد اور حدیث ما عز رضی اللہ عنہ پیش کی ہیں۔ یہ عبادہ رضی اللہ عنہ سے اولیٰ ہیں اور لفظ و فکری صحیح بھی ان روایات کی مؤید ہے۔ وہ سزائیں جوعزتوں کو برباد کرنے کی صورت میں مقررکی گئی ہیں وہ ایک چیز ہے مثلا ان میں ایک سزا چور کی ہے۔ چور کی سزا میں صرف قطع ید ہے اور کچھ نہیں۔ بہتان تراش پر صرف کوڑے ہیں (اسی کوڑے ) پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ زانی محصن کی سزا میں صرف ایک چیز ہو۔ نہ کچھ اور پس اس پر متفق علیہ سزا رجم ہو گی اور کوڑوں پراتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نفی کی جائے گی۔ یہی قول امام ابوحنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس حکم کے منسوخ ہونے کا دعویٰ درست نہیں جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر آپ ﷺ کے بعد کیا۔ روایات ملاحظہ ہوں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شادی شدہ کی حد رجم ہے کوڑے نہیں ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَامِرٍ، ← الْأَسْوَدِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4747

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4748

4485 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال جاءت امرأة من همدان يقال لها شراحة إلى علي رضي الله عنه فقالت إني زنيت فردها حتى شهدت على نفسها أربع شهادات فأمر بها فجلدت ثم أمر بها فرجمت

سماک نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت ہمدان سے آئی اس کا نام شراحہ تھا ۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی کہ میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے اس کو رد کر دیا یہاں تک کہ اس نے اپنے متعلق چار مرتبہ گواہی دی پھر آپ نے اس کو کوڑے لگانے کا حکم دیا پھر اس کو سنگساری کا حکم فرمایا۔ پس اسے سنگسار کر دیا گیا۔

جاءت امرأة من همدان يقال لها شراحة إلى علي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4748

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4749

4486 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله

یوسف بن عدی نے ابو الاحوص سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4749

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4750

4487 - حدثنا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا محمد بن بكار بن بلال قال ثنا سعيد بن بشر عن قتادة عن الرضراض بن أسعد قال شهدت عليا رضي الله عنه جلد شراحة ثم رجمها

قتادہ نے رضراض بن اسعد سے روایت کی ہے کہ میں اس وقت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا جب شراحہ نامی عورت کو کوڑے لگائے گئے پھر اس کو انہوں نے سنگسار کیا۔

شهدت عليا جلد شراحة ثم رجمها ← الرضراض بن أسعد ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ بِلَالٍ ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4750

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4751

4488 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن مسلم الأعور عن حبة العوفي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال أتته شراحة فأقرت عنده أنها زنت فقال لها علي فلعلك غضبت نفسك قالت أتيت طائعة غير مكرهة قال فأخرها حتى ولدت وفطمت ولدها ثم جلدها الحد بإقرارها ثم دفنها في الرحبة أي الفضاء الواسع إلى منكبها ثم رماها هو أول الناس ثم قال إرموا ثم قال جلدتها بكتاب الله تعالى ورجمتها بسنة محمد صلى الله عليه و سلم

حبہ عوفی نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ شراحہ نامی عورت آ پ کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ۔ تو اس کو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ شاید تو غصہ سے آئی ہو۔ وہ کہنے لگی میں خود اپنی مرضی سے آئی ہوں ۔ مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ۔ پس آ پنے اس کی سزا کو موخر فرمایا یہاں تک کہ اس نے بچہ جنا اور اس کا دودھ چھڑیا پھر اس کے اقرار پر اس کو کوڑے لگائے پھر وسیع جگہ میں کندھوں تک گڑھا کھود کر دبا دیا پھر لوگوں میں سب سے پہلے آپ نے اس کو پتھر مارا پھر فرمایا اس کو سنگسار کرو۔ پھر فرمایا میں نے اس کو کتاب اللہ کے حکم سے کوڑے لگائے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے رجم کیا ہے ۔

أتته شراحة فأقرت عنده ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حبة العوفي ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4751

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4752

4489 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة عن سلمة عن الشعبي قال جلد علي رضي الله عنه شراحة يوم الخميس ورجمها يوم الجمعة وقال جلدتها بكتاب الله تعالى ورجمتها بسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قيل له إن هذا وإن كان قد روي عن علي رضي الله عنه كما ذكرنا فإن غير علي رضي الله عنه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد روي عنه في ذلك خلاف ما قد روي عن علي رضي الله عنه فمن ذلك ما

شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن سنگسار کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے قرآن مجید کے حکم سے کوڑے لگائے اور سنت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سنگسار کیا۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوڑے اور سنگسار دونوں کا ثبوت اس بات کی کافی دلیل ہے کہ یہی حکم جیسا کہ ہم نے ذکر کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر اصحاب رسول اللہ ﷺ سے اس کے خلاف حکم مذکور ہے ۔

الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4752

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4753

4490 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله أن أبا واقد الليثي ثم الأشجعي أخبره وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال بينما نحن عند عمر مقدمه الشام بالجابية أتاه رجل فقال يا أمير المؤمنين إن امرأتي زنت بغلامي فهي هذه تعترف بذلك فأرسلني في رهط إليها نسألها عن ذلك فجئتها فإذا هي جارية حديثة السن فقلت اللهم أفرج فاها اليوم عما شئت فسألتها وأخبرتها بالذي قال زوجها فقالت صدق فبلغنا ذلك عمر فأمر برجمها

عبید اللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابو واقد لیثی اشجعی رضی اللہ عنہ نے بتلایا ( یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ سے ہیں ) کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شام تشریف آوری کے موقعہ پر مقام جابیہ میں تھے کہ ان کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ۔ اے امیر المومنین ! میری بیوی نے میرے غلام سے زنا کیا ہے اور وہ اس بات کی معترف ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک وفد میں مجھے بھیجا تاکہ اس سلسلہ میں اس سے دریافت کیا جائے ۔ پس میں اس کے پاس آیا تو وہ نوجوان کم عمر لڑکی ہے ۔ میں نے دعا کی اے اللہ آج تو اس کے منہ کو اس بات کے لئے کھو ل دے جو تو چاہتا ہے ۔ پس میں نے اس سے پوچھا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس کے خاوند نے کہی تھی ۔ اس نے کہا اس نے سچ کہا ۔ پس ہم نے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچائی ۔ تو اپ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم فرمایا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4753

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4754

4491 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار عن أبي واقد الليثي أن عمر بن الخطاب أتاه رجل وهو بالشام فذكر له أنه وجد مع امرأته رجلا فبعث عمر بن الخطاب أبا واقد الليثي إلى امرأته ليسألها عن ذلك فأتاها وعندها نسوة حولها فذكر لها الذي قاله زوجها لعمر بن الخطاب وأخبرها أنها لا تؤخذ بقوله وجعل يلقنها أشباه ذلك لتنتزع فأبت أن تنتزع وثبتت على الإعتراف فأمر بها عمر فرجمت فهذا عمر رضي الله عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يجلدها قبل رجمه إياها فهذا خلاف لما فعل علي رضي الله عنه بشراحة من جلده إياها قبل رجمها فهذا أولى الفعلين عندنا لما قد ذكرنا في هذا الباب

سلیمان بن یسار نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شام میں ایک شخص آیا اور ان کو بیان کیا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ( ہم بستر ) پس عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس بھیجا تاکہ اس سے اس کے متعلق دریافت کیا جائے ۔ پس وہ اس کے پاس گیا جبکہ اس کے پاس اور عورتیں بیٹھیں تھیں ۔ تو ابو واقد نے اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا جو اس کے خاوند نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کہی تھی اور اس کو بتلایا کہ اس کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے گا اور اس کو اسی طرح کی باتوں سے تلقین کرنے لگے ۔ تاکہ وہ اپنے دعویٰ سے ہٹ جائے ۔ مگر اس نے اپنا دعویٰ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور اعتراف پر قائم رہی پس عمر رضی اللہ عنہ نے اس کورجم کا حکم دیا چنانچہ اس کو رجم کیا گیا۔ پس یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو اصحاب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اس کو سنگساری سے پہلے کوڑے نہیں لگا رہے ۔ یہ اس کے خلاف ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل شراحہ کے سلسلہ میں مذکور ہو ا کہ انہوں نے سنگساری سے پہلے اس کو کوڑے مارے ۔ ہمارے نزدیک دونوں میں یہ اولیٰ ہے ۔

ذَلِكَ، فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا، ← اقد الليثي إلى امرأته ليسألها ← لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا ← أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4754

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter