شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1845
1745 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود هو أبو بشر البغدادي قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال ثنا سليمان بن بلال عن شريك بن عبد الله بن أبى نمر أنه سمع أنس بن مالك يذكر أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة من باب كان وجاه المنبر ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم يخطب فاستقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم قائما ثم قال يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله يغثنا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه ثم قال اللهم اسقنا قال أنس فوالله ما نرى في السماء من سحاب ولا قزعة وما بيننا وبين سلع من بيت ولا دار قال فطلعت من ورائه سحابة مثل الترس فلما توسطت السماء انتشرت ثم أمطرت قال فوالله ما رأينا الشمس سبتا قال ثم دخل رجل من الباب في الجمعة والمقبلة ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم يخطب الناس فاستقبله قائما ثم قال يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله أن يمسكها عنا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه ثم قال اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الآكام والظراب قال فأقلعت وخرج يمشى في الشمس
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے والی جانب ہے اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے وہ سیدھا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے سامنے جا کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم مال تباہ ہو گئے اور منقطع ہو گئے یعنی جانور بھوک کی وجہ سے سواری کے قابل نہ رہے پس آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے دعا فرمایں کہ وہ ہمیں بارش عنایت فرمائے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اسی وقت ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی اے اللہ ہمین رحمت سے سیراب فرما حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! آسمان میں اس وقت کوئی بادل نہ تھا نہ چھوٹا نہ بڑا اور نہ ہی ہمارے اور جبل سلع کے درمیان کوئی گھر یا عمارت ھائل تھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلع کے پچھلی جانب ڈھال جیسا بادل رونما ہوا جب وہ آسمان کے درمیان مین پہنچا تو پھیل گیا پھر بارش شروع ہوئی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک ہفتہ ہم نے سورج نہیں دیکھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر اسی دروازے سے ایک آدمی آئندہ جمعہ کے دن داخل ہوا جبکہ رسول اللہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور سیدھا آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا پھر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم مال تباہ ہو گئے اور راستے ( پانی کی کثرت) سے رک گئے پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ اس بارش کو روک دے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے اطراف و جوانب اور ٹیلوں اور پہاڑوں پر برسنا نہ کہ ہم پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بس بارش رک گئی اور آپ صلی اللہ عیہ وسلم مسجد سے نکل کر دھوپ میں چلنے لگے۔
شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← عبد الرحمن بن الجارود هو أبو بشر البغدادي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1845
