Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3904

3691 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمي قال أنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن عروة أن يوم أم سلمة رضي الله عنها دار إلى يوم النحر فأمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة جمع أن تفيض فرمت جمرة العقبة وصلت الفجر بمكة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر جائز واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لا يجوز أن تكون صلت الصبح بمكة إلا وقد كان رميها جمرة العقبة قبل طلوع الفجر لبعد ما بين الموضعين وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز لأحد أن يرميها قبل طلوع الفجر ومن رماها قبل طلوع الفجر فهو في حكم من لم يرم وعليه أن يعيد الرمي في وقت الرمي فإن لم يفعل كان عليه لذلك دم وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الحديث قد اختلف فيه عن هشام بن عروة فروي عنه على ما ذكرنا وروي عنه على خلاف ذلك

عروہ بیان کرتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی باری کا دن یوم نحروالاتھا چنانچہ جناب رسول اللہﷺ نے ان کوحکم فرمایا کہ وہ مزدلفہ کی رات لوٹ جاۓ جمرہ عقبہ کی رمی کوانہوں نے رات کوانجام دیا اورنماز فجر مکہ میں ادا کی ۔امام طحادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نحر کی رات جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا طلوع آفتاب سے پہلے جائز ہے اورانہوں نے اس سلسلہ میں اس روایت کو اپنا مستدل بنایا ہے اور یہ فرمایا کہ حج کی نماز مکہ مکرمہ میں اسی صورت میں پڑھی جاسکتی ہے کہ انہوں نے طلوع فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری ہوں ۔اس لئے کہ دونوں مقامات کے مابین فاصلہ پایا جا تا ہے مگر دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی شخص کوطلوع فجر سے پہلے کنکریاں مارنا درست نہیں ہے اور جس نے کنکریاں مارلیں وہ ایسا ہے کہ اس نے سرے سے کنکریاں نہیں ماریں ۔اور اسے ضروری ہے کہ وہ کنکریوں کے وقت میں دوبارہ کنکریاں مارے۔اور اگر اس نے دوبارہ کنکریاں نہ ماریں تو اس پر دم لازم ہوگا ۔ان کی دلیل اس کے متعلق یہ ہے کہ اس حدیث میں حضرت ھشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مختلف الفاظ مروی ہیں ۔ان سے وہ الفاظ بھی مروی ہیں جو ہم نے ابھی ذکر کیے مگر اس کے خلاف بھی روایت انہی سے وارد ہے۔ذیل میں ملاحظہ ہو۔

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3904

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3905

3692 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا محمد بن خازم عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب بنت أبي سلمة عن أم سلمة رضي الله عنها قالت أمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم النحر أن توافي معه صلاة الصبح بمكة ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها بما أمرها به من هذا يوم النحر فذلك على صلاة الصبح في اليوم الذي بعد يوم النحر وهذا خلاف الحديث الأول وقد عجل رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من أزواجه أم سلمة رضي الله عنها فكان مضيهم إلى منى وبها صلوا صلاة الصبح ولم يتوجهوا حينئذ الى مكة فمما روى في ذلك ما

عروہ نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر کو حکم فرمایا کہ وہ آپ کے ساتھ صبح کی نماز مکہ میں ادا کرے۔اس روایت میں یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو جو حکم دیا سو دیا۔یہ صبح کی نماز یوم نحر سے اگلے روز کی ہے اور یہ پہلی روایت کے خلاف ہے اور جناب رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سمیت اپنی ازواج مطہرات منی کی طرف جلدی جانے کا حکم فرمایا تھا اور وہاں ان تمام نے نماز فجر ادا فرمائی اور اسی وقت وہ مکہ کی طرف روانہ نہ ہوتے۔ ذیل کی روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3905

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3906

3693 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عبيد الله بن عمر عن عبد الرحمن بن قاسم عن أبيه عن عائشة أن سودة بنت زمعة استأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تصلي يوم النحر الصبح ب منى فأذن لها وكانت المرأة ثبطة فوددت أني استأذنته كما استأذنته

حضرت عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ صبح کی نماز میں منیٰ میں پڑھ لی تو آپ نے اجازت دے دی وہ بھاری جسامت والی عورت تھیں میرا بھی دل چاہا کہ میں بھی آپ سے اجازت لے لو جیسا انہوں نے اجازت لی ہے

أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن قاسم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3906

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3907

3694 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن سالم بن شوال أنه سمع أم حبيبة تقول كنا نغلس على عهد النبي صلى الله عليه و سلم من المزدلفة إلى منى ففي هذا أنهم كانوا يفيضون بعد طلوع الفجر فهذا أبعد لهم مما في الحديث الأول وقد ذكرنا في الباب الذي قبل هذا الباب في أسماء أنها رمت ثم رجعت إلى منزلها فصلت الفجر فقال لها عبد الله لقد غلستنا فقالت رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم للظعن فأخبرت أن ما قد كان رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك للظعن هو الإفاضة من مزدلفة في وقت ما يصيرون إلى منى في حال مالهم أن يصلوا صلاة الصبح ولما اضطرب حديث هشام بن عروة على ما ذكرنا لم يكن العمل بما رواه حماد بن سلمة أولى مما رواه محمد بن خازم وقد ذكر حماد بن سلمة في حديثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أراد بتعجيله أم سلمة إلى حيث عجلها لأنه يومها أي ليصيب منها في يومها ذلك ما يصيب الرجل من أهله رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم النحر فلم يبرح ب منى ولم يطف طواف الزيارة إلى الليل

سالم بن شوال نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ فرماتی تھیں ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اندھیرے میں مزدلفہ سے منیٰ چلی جاتیں تھیں۔ اس روایت میں یہ ہے کہ وہ لوگ طلوع فجر کے بعد منیٰ کی طرف واپس آتے تھے اور یہ روایت اول کے مخالف ہے اور اس سے پہلے باب میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کی روایت کے ضمن میں ذکر کیا کہ انہوں نے کنکریاں ماریں اور پھر وہ اپنی منزل کی طرف لوٹ آئیں پھر نماز فجر ادا کی تو ان کو عبداللہ نے کہا کہ آپ نے ہمیں اندھیرے میں اٹھا دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺنے عورتوں کو کوچ کی اجازت دی ہے۔ تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہ نے بتلا دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺنے عورتوں کو جس بات کی اجازت دی وہ مزدلفہ سے واپسی تھی تاکہ وہ منیٰ پہنچ کرصبح کی نماز ادا کرسکیں۔ جب ہشام رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضطراب مذکورہ پایا گیا تو پھر حماد بن سلمہ کی روایت پر عمل محمد بن حازم رحمہ اللہ کی روایت سے اولیٰ نہ ہوگا۔ حالانکہ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو اس لئے جلد جانے کا حکم فرمایا کہ وہ ان کی باری کا دن تھا اور آپ ان سےازدواجی تعلق چاہتے تھے، اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ابھی منیٰ سے کوچ نہیں فرمایا تھا اور نہ ہی آپ نے رات تک طواف زیارت کیا تھا۔

سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3907

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3908

3695 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد القطان قال ثنا سفيان الثوري قال حدثني محمد بن طارق عن طاوس وأبو الزبير عن عائشة رضي الله عنها وابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخر طواف الزيارة إلى الليل

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک موخر فرمایا

عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسِ ← طاوس وأبو الزبير ← مُحَمَّدِ بْنِ طَارِقٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3908

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3909

3696 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أحمد بن حميد قال ثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة أنها قالت أفاض رسول الله صلى الله عليه و سلم من آخر يومه فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يطف طواف الزيارة يوم النحر إلى الليل استحال أن يكون به إلى حضور أم سلمة رضي الله عنها إلى مكة قبل ذلك حاجة لأنه إنما يريدها لأنه في يومها وليصيب منها ما يصيب الرجل من أهله وذلك لا يحل له منها إلا بعد الطواف فأشبه الأشياء عندنا والله أعلم أن يكون أمرها أن توافي صلاة الصبح بمكة في غد يوم النحر في وقت يكون فيه حلالا بمكة وقد علم المسلمون وقت رمي جمرة العقبة في يوم النحر بفعل رسول الله صلى الله عليه و سلم

عبدالرحمن بن القاسم نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے آخر میں (مکہ ) کی طرف لوٹے۔ جب کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کی رات تک طواف زیارت بھی نہ کیا تھا۔ تو بات ناممکن ہے کہ آپ کو طواف سے قبل حضرت ام سلمیہ رضی اللہ عنہا سے کوئی کوئی حاجت ہو کیونکہ یہ ان کی باری کا دن تھا اور آپ نے ان سے وہی بات چاہی جو ایک مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے اور وہ طواف زیارت کے بعد ہی حلال ہوسکتا تھا ہمارے ہاں سب سے بہتر یہی معلوم ہوتا ہے( واللہ اعلم ) کہ آپ نے ان کو یہ حکم فرمایا کہ وہ جو یوم نحر کے دوسرے دن مکہ مکرمہ میں نماز فجر ادا کریں جبکہ آپ مکہ میں احرام سے فارغ ہو چکےہوں گے۔ اور مسلمانوں کے آپ کے کنکریاں مارنے کا عمل جمرہ عقبہ کی رمی سے معلوم کر لیا تھا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3909

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3910

3697 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن جريج عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رمي جمرة العقبة يوم النحر ضحى وما سواها بعد الزوال

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر چاشت کے وقت جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی اور ان کے علاوہ جمرات کی رمی زوال کے بعد فرمائی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3910

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3911

3698 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3911

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 24 باب رمي جمرة العقبة ليلة النحر قبل طلوع الفجر ) · حديث 3912

3699 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا بن جريج عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فعلم المسلمون بذلك أن الوقت الذي رمي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه الجمار هو وقتها فأردنا أن ننظر هل رخص للضعفة في الرمي قبل ذلك أم لا فوجدناه صلى الله عليه و سلم قد تقدم إلى ضعفة بني هاشم حين قدمهم إلى منى أن لا ترموا الجمرة إلا بعد طلوع الشمس فعلمنا بذلك أن الضعفة لم يرخص لهم في ذلك أن يتقدموا على غير الضعفة وأن يوقت رميهم جميعا وقت واحد وهو بعد طلوع الشمس فهذا هو وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما من طريق النظر فانا قد رأيناهم أجمعوا أن رمي جمرة العقبة لليوم الثاني بعد يوم النحر في الليل قبل طلوع الفجر أن ذلك لا يجزيه حتى يكون رميه لها في يومها فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هى في يوم النحر لا يجوز أن ترمي إلا في يومها وإن كان بعض يومها في ذلك أفضل من بعض اليوم الثاني الرمي فيه أفضل من الرمي في بعضه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد وجدت في كتاب عبد الله بن سويد بخطه عن الأثرم مما ذكر لنا عبد الله بن سويد أن الأثرم أجازه لمن كتبه من خطه ذلك وأجازه لنا عبد الله بن سويد عن الأثرم يعني أبا بكر قال قال لي أبو عبد الله يعني أحمد بن حنبل رحمه الله حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب عن أم سلمة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه و سلم أمرها أن توافيه يوم النحر بمكة ولم يسند ذلك غير أبي معاوية وهو خطأ قال أحمد وقال وكيع عن هشام عن أبيه مرسلا أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرها أن توافيه صلاة الصبح يوم النحر بمكة أو نحو هذا قال وهذا أيضا عجب قال أبو عبيد الله والنبي صلى الله عليه و سلم ما يصنع بمكة يوم النحر كأنه ينكر ذلك قال فجئت إلى يحيى بن سعيد فسألته فقال عن هشام عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرها أن توافي ليس شأنه قال وبين ذي فرق يوم النحر صلاة الفجر بالأبطح قال وقال لي يحيى سل عبد الرحمن هو بن مهدي فسألته فقال هكذا عن سفيان عن هشام عن أبيه توافي ثم قال لي أبو عبد الله رحم الله يحيى ما كان أضبطه وأشده كان محدثا وأثنى عليه فأحسن الثناء عليه

ابوالز بیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرمﷺ سے اس طرح کی روایت کی ہے۔ پس مسلمانوں کومعلوم ہو گیا کہ وہ وقت جس میں جناب رسول اللہﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ہے وہی اس کا وقت ہے ۔ اب ہم اس پر غور کرنا چاہیں گے کہ آپ ﷺ نے ضعفاءکورمی کی پہلے اجازت مرحمت فرمائی ہے یانہیں ۔ پس ہم آپ کی طرف سے یہ پیش رفت ان کو روانہ کرنے سے پہلے فرماتے ہیں کہ تم منی میں جمرہ کی رمی طلوع آفتاب سے پہلے نہ کرنا پس اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ ان کورمی کی رخصت نہ دی تھی ۔البتہ وہ طاقتو رلوگوں سے آ گے بڑھ جائیں مگر رمی کا وقت ان کا اوران کا ایک ہے اور وہ طلوع آفتاب ہے ۔آ ثار کو سامنے رکھیں تو اس باب کی یہی صورت ہے ۔ البتہ بطریق نظر وفکر د یکھتے ہیں ۔ کہ اس بات پر تمام کا اتفاق ہے کہ دوسرے دن جمرہ عقبہ کی رمی یوم نحر سے اگلے روز طلوع آفتاب سے پہلے رات کے وقت میں ہے اور یہ اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ آپ کی رمی جمرہ عقبہ کی رمی کے دن میں ہی ہو ۔اگر چہ اس دن کا بعض حصہ یوم ثانی کے بعض حصہ سے افضل ہے اور اس میں رمی کر نا بعض دن میں رمی سے افضل ہے ۔ میں نے عبداللہ بن سوید کی کتاب میں خودان کے خط سے اثرم ( ابو بکر ) سے یہ منقول دیکھا کہ اثرم نے اس لکھنے والے کو بھی اجازت دی ہے اور عبد اللہ نے اس وساطت سے ہمیں میں اجازت دی ۔ کہ مجھے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ابو معاویہ کی سند سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ وہ نحر کے دن مکہ میں ملاقات کرے اس روایت کوابومعاویہ کے علاوہ کسی نے مرفوع قرارنہیں دیا امام احمد میں یہ روایت درست نہیں ۔ وکیع نے اس کو مرسل کونقل کیا کہ وہ آپﷺ کے ساتھ نحر کے روز مکہ میں ملاقات کرے یا اسی طرح کے الفاظ ہیں اور یھی عجیب بات ہے۔امام احمد فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہﷺ نے نحر کے روز مکہ میں کیا کرنا تھایا اس طرح کے الفاظ فرمائے۔ گویا امام احمد نے اس کا انکار کیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں پھر میں یحییٰ بن سعید سے ملا اوران سے یہ سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہشام والی یہ روایت آپ کی شان کے مناسب نہیں اور آپ نے تو نحر کے روز مقام ابطح میں نماز فجر ادا کی۔ پھر یحیٰی مجھے کہنے لگے اس کے متعلق عبد الرحمن بن مہدی سے بھی پوچھ لو۔ تو میں نے عبد الرحمٰن سے پو چھا تو انہوں یحیٰیح کی موافقت کرتے ہوۓ کہا سفیان سے روایت اسی طرح ہے ۔ پھر میں ابوعبداللہ امام احمد رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے یحٰیح کے حفظ وضبط کی تعریف فرمائی اور خوب تعریف فرمائی۔

قتها فأردنا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3912

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter