Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3858

3651 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن عروة بن مضرس قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بجمع فقلت يا رسول الله هل لي من حج وقد أنضيت راحلتي فقال من صلى معنا هذه الصلاة وقد وقف معنا قبل ذلك وأفاض من عرفة ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه

شمعی نے عروہ بن مصرس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جبکہ آپ مزدلفہ میں تھے میں نے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا حج قبول ہو گا جب کہ میں نے چلا چلا کر اپنی اونٹنی کو کمز ور کر ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز ( نماز فجر) ادا کی اوراس سے پہلے اس نے ہمارے ساتھ وقوف مزدلفہ کیا اور وہ عرفات سے ہو کر لوٹا خواہ دن رات کی کسی گھڑی میں ہواس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنے میل کچیل کو دور کرلیایعنی احرام کھول کر مونچھیں ناخن بال وغیرہ لے لئے اور میل کچیل دور کر لی ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بجمع فقلت ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3858

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3859

3652 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أنا وهب قال ثنا شعبة عن بن أبي السفر وإسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي وزكريا عن الشعبي وداود بن أبي هند عن الشعبي عن عروة بن مضرس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابن ابی السفر اور اسماعیل بن ابی خالد نے شعی سے اور انہوں نے عروہ بن مضرس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت بیان کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشعبي وداود بن أبي هند ← الشعبي وزكريا ← بن أبي السفر وإسماعيل بن أبي خالد ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3859

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3860

3653 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا حامد بن يحيى قال ثنا سفيان قال ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي وابن أبي زائدة عن الشعبي وزكريا عن الشعبي وداود بن أبي هند قال سمعت عروة بن مضرس بن أوس بن حارثة بن لائم الطائي يقول أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بمزدلفة فقلت يا رسول الله جئت من جبلي طي ووالله ما جئت حتى أتعبت نفسي وأنضيت راحلتي وما تركت جبلا من هذه الجبال إلا وقد وقفت عليه فهل لي من حج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شهد معنا هذه الصلاة صلاة الفجر بالمزدلفة وقد كان وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه قال سفيان وزاد زكريا فيه وكان أحفظ الثلاثة لهذا الحديث قال فقلت يا رسول الله أتيت هذه الساعة من جبلي طي قد أكللت راحلتي وأتعبت نفسي فهل لي من حج فقال من شهد معنا هذه الصلاة ووقف معنا حتى نفيض وقد كان وقف قبل ذلك بعرفة من ليل أو نهار فقد تم حجه وقضى تفثه قال سفيان وزاد داود بن أبي هند قال أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم حين برق الفجر ثم ذكر الحديث قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الوقوف بالمزدلفة فرض لا يجوز إلا بإصابته واحتجوا في ذلك بقول الله عز و جل فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام وبهذا الحديث الذي رويناه وقالوا ذكر الله عز و جل في كتابه المشعر الحرام كما ذكر عرفات وذكر ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم في سنته فحكمها واحد لا يجزي الحج إلا بإصابتها وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما الوقوف بعرفة فهو من صلب الحج الذي لا يجزئ الحج إلا بإصابته وأما الوقوف بمزدلفة فليس كذلك وكان من الحجة لهم في ذلك أن قول الله عز و جل فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام ليس فيه دليل على أن ذلك على الوجوب لأن الله عز و جل إنما ذكر الذكر ولم يذكر الوقوف وكل قد أجمع أنه لو وقف بمزدلفة ولم يذكر الله عز و جل أن حجه تام فإذا كان الذكر المذكور في الكتاب ليس من صلب الحج فالموطن الذي يكون ذلك الذكر فيه الذي لم يذكر في الكتاب أحرى أن لا يكون فرضا وقد ذكر الله تعالى أشياء في كتابه من الحج ولم يرد بذكرها إيجابها حتى لا يجزئ الحج إلا بإصابتها في قول أحد من المسلمين من ذلك قوله تعالى إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما وكل قد أجمع أنه لو حج ولم يطف بين الصفا والمروة أن حجه قد تم وعليه دم مكان ما نزل من ذلك فكذلك ذكر الله عز و جل المشعر الحرام في كتابه ليس في ذلك دليل على إيجابه حتى لا يجزئ الحج إلا بإصابته وأما ما في حديث عروة بن مضرس فليس فيه دليل أيضا على ما ذكروا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قال فيه من صلى معنا صلاتنا هذه وقد كان أتى عرفة قبل ذلك من ليل أو نهار فقد تم حجه وقضى تفثه فذكر الصلاة وكل قد أجمع على أنه لو بات بها ووقف ونام عن الصلاة فلم يصلها مع الإمام حتى فاتته أن حجه تام فلما كان حضور الصلاة مع الامام المذكور في هذا الحديث ليس من صلب الحج الذي لا يجزئ الحج إلا بإصابته كان الموطن الذي تكون فيه تلك الصلاة الذي لم يذكر في الحديث أحرى أن لا يكون كذلك فلم يتحقق بهذا الحديث ذكر الفرض إلا لعرفة خاصة وقد روى عبد الرحمن بن يعمر الديلي عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك

داؤد بن ابی ہند نے عروہ بن مضرس بن روس بن حارثہ بن لائم الطائی کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزدلفہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبال طے سے آیا ہوں میں اس حالت میں پہنچا ہوں کہ میں نے اپنی اونٹنی کوتھکا دیا اور سواری کو کمز ور کر ڈالا اور میں نے ان پہاڑوں میں سے ہر ایک پروقوف کیا ہے کیا میراحج ہو گیا ؟ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس آدمی نے ہماری اس نماز میں شرکت کی یعنی مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور اس سے پہلے عرفات سے ہو کر لوٹا ہوخواہ دن میں یا رات میں تو اس کا ج پورا ہوا اور اس کی میل کچیل دور ہوئی ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بعض علماء نے اس قول کو اختیار کیا کہ وقوف مزدلفہ فرض ہے اور جب تک وہاں قیام نہ کرے حج درست نہ ہو گا ۔انہوں نے اپنی دلیل اس ،آیت فاذا افضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام) اور اس مذکورۃ الصدر روایت سے لی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مشعر حرام کا ذکر فر مایا ہے ۔ جیسا کہ عرفات کا تذکرہ فرمایا ہے اور آپ نے حدیث میں اس کا تذکرہ فرمایا اور دونوں کا حکم تو ایک جیسا ہے ۔ حج دونوں کو پانے کے بغیر درست نہ ہوگا۔ دوسرے حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوۓ کہا ہے ۔ کہ وقوف عرفات تو حج کا اصل رکن ہے ۔ اس کو پا لینے کے بغیر حج درست نہیں رہا وقوف مزدلفہ وہ اس حکم میں نہیں ہے اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل اللہ تعالی کا یہی ارشاد ہے :فاذا افضتم من عرفات فاذكرو الله عند المشعر الحرام...۔اس آیت میں مزدلفہ کے وجوب کی کوئی دلیل موجو نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے تو آیت ذکر کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ وقوف کا تو تذکرہ بھی نہیں اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر وہ مزدلفہ میں وقوف کرے مگر اللہ تعالی کو یاد نہ کرے تو اس کا حج پھر بھی پورا ہے ۔اس لئے کہ آیت میں مذکورہ ذکر یہ حج کے فرائض سے نہیں ہے۔ جب وہ مقام کہ جہاں یہ ذکر کیا جانا ہے ۔ وہ کتاب اللہ میں مذکور نہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ وہاں کا وقوف فرض نہ ہو۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کئی اشیاء کا تذکرہ حج کے سلسلہ میں فرمایا مگران کے تذکرہ سے ثبوت فرضیت مرانہیں کہ اس کے پالینے کے بغیر حج ہی درست نہ ہو۔ یہ کسی عالم کا قول تو کجا کسی معان کو بھی یہ قول نہیں کہ اس کا حج نہ ہو ۔ان میں سے یہ آیت ہے: ”ان الصفا والمروه من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بھما ‘‘اس میں صفامروہ کی سعی کا تذکرہ فرمایا اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص نے حج کیا اورصفاومروہ کا طواف نہ کیا تو اس کا حج تام ہوجائیگا اور ترک سعی کی وجہ سے اس پر دم لا زم ہوگا ۔ اسی طرح اللہ تعالی نے مشعر حرام کا تذکرہ فرمایا یہ ا سکے وجوب کی دلیل نہیں ہے کہ اسکا حج ہی اسکے بغیر درست نہ ہو۔ رہی روایت عروہ بن مضرس رحمہ اللہ تو اس میں بھی اوّل قول والوں کی کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز ادا کی اور وہ اس سے پہلے دن اور رات کی کسی گھڑی میں عرفات میں حاضر ہوا اس کا حج مکمل ہوگیا۔ وہ اپنی میل کچیل اتارے ۔ آپ نے نماز کا تذکرہ فرمایا اور اس پر تمام کا اتفاق ہے کہ اگر وہ مزدلفہ میں رات گزارے اور نماز سے سور ہاورامام کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوا یہاں تک کہ وہ نمازفوت ہوگئی تو اس کا حج کامل ہے۔ پس جب امام کے ساتھ مزدلفہ والی نماز میں حاضری حج کارکن نہیں ہے کہ اس کے بغیر حج نہ ہوتا ہو۔ تو وہ مقام جہاں یہ نماز پڑھی جاتی ہے اس کا حدیث میں تذکرہ بھی نہیں وہ زیادہ مناسب ہے کہ اس کا وقوف رکن حج نہ ٹھہرے۔ پس اس روایت سے مزدلفہ کی فرضیت ثابت نہ ہوسکی صرف عرفہ کی فرضیت ثابت ہورہی ہے اور عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس طرح روایت نقل کی ہے ۔ جواس پر دلالت کرتی ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔ سفیان رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ زکریا نے جو کہ اس حدیث کے تینوں روات میں زیادہ حافظہ والے راوی میں یہ بھی ذکر کیا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وقت جبال طے سے آیا ہوں میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا دیا اوراپنے نفس کو بھی عاجز کر دیا کیا میراحج مقبول ہوگا آپ نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے لوٹنے تک اس نے ہمارے ساتھ وقوف کیا اور وہ اس سے پہلے عرفات میں وقوف کر چکا تھا خواہ رات یادن کی کسی گھڑی میں ہوپس اس کا حج مکمل ہوا اور اس نے اپنی میل کچیل کو دور کیا۔سفیان رحمتہ اللہ کہتے ہیں داؤ د بن ابی ہند نے یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جب کہ فجر چمک اٹھی تھی پھر اسی طرح باقی روایت بیان کی ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بمزدلفة فقلت ← عروة بن مضرس بن أوس بن حارثة بن لائم الطائي ← الشعبي وداود بن أبي هند ← الشعبي وزكريا ← الشعبي وابن أبي زائدة ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3860

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3861

3654 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعلى بن عبيد قال ثنا سفيان عن بكير بن عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر الديلي قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم واقفا بعرفات فأقبل أناس من أهل نجد فسألوه عن الحج فقال الحج يوم عرفة ومن أدرك جمعا قبل صلاة الصبح فقد أدرك الحج أيام منى ثلاثة أيام أيام التشريق فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه ومن تأخر فلا إثم عليه ثم أردف خلفه رجلا ينادي بذلك

بکیر بن عطاء نے عبدالرحمنٰ بن ودیلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں وقوف کی حالت میں دیکھا کچھ نجد کے لوگ آ گے بڑھے اور انہوں نے حج کے سلسلہ میں سوالات کئے آپ نے فرمایا۔ حج یوم عرفہ ہے جس نے دسویں کی نماز صبح سے پہلے پہلے مزدلفہ کو پالیا اس نے حج کو پالیا۔ منیٰ تین دن ایام تشریق ہیں جس نے پہلے دودنوں میں جلدی کی (یعنی ۱۱‘ ۱۲ کورمی کر لی اور پھر مکہ لوٹ گیا) تو اس پر کچھ گنا نہیں جو تیسرے دن بھی ٹھہرا اس پر بھی کچھ گناہ ہیں (البقر ۲۰۳۰ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک آدمی کو بٹھا یا جولوگوںمیں اس کا اعلان کرے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3861

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3862

3655 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا شبابة بن سوار قال ثنا شعبة عن بكير بن عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله ولم يذكر سؤال أهل نجد ولا إردافه الرجل ففي هذا الحديث أن أهل نجد سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحج فكان جوابهم لهم الحج يوم عرفة وقد علمنا أن جواب رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الجواب التام الذي لا نقص فيه ولا فضل لأن الله تعالى قد آتاه جوامع الكلم وخواتمه فلو كان عندما سألوه عن الحج أرادوا بذلك ما لا بد منه في الحج لكان يذكر عرفة والطواف ومزدلفة وما يفعل من الحج فلما ترك ذلك في جوابه إياهم علمنا أن ما أرادوا بسؤالهم إياه عن الحج هو ما إذا فات فات الحج فأجابهم بأن قال الحج يوم عرفة فلو كانت مزدلفة كعرفة لذكر لهم مزدلفة مع ذكره عرفة ولكنه ذكر عرفة خاصة لأنها صلب الحج الذي إذا فات فات الحج ثم قال كلاما مستأنفا ليعلم الناس أن من أدرك جمعا قبل طلوع الفجر فقد أدرك الحج ليس على معنى أنه أدرك جميع الحج لأنه قد ثبت في أول كلامه الحج عرفة فأوجب بذلك أن فوت عرفة فوت الحج ثم قال ومن أدرك جمعا قبل صلاة الصبح فقد أدرك الحج ليس على معنى أنه لم يبقى عليه من الحج شيء لأن بعد ذلك طواف الزيارة وهو واجب لا بد منه ولكن فقد أدرك الحج بما تقدم له من الوقوف بعرفة فهذا أحسن ما خرج من معاني هذه الآثار وصححت عليه ولم تتضاد وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا قد رأينا الأصل المجتمع عليه أن للضعفة أن يتعجلوا من جمع بليل وكذلك أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أغيلمة بني عبد المطلب وسنذكر ذلك في موضوعه من كتابنا هذا إن شاء الله تعالى ورخص لسودة في ترك الوقوف بها

بکیر بن عطاء نے عبدالرحمنٰ بن یعمر سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر اس میں اہل نجد کے سوال کا تذکرہ نہیں اور نہ اس بات کا تذکرہ ہے کہ اعلان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو پیچھے بٹھایا ۔ اس روایت میں ہم یہ بات پاتے ہیں کہ اہل نجد نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج عرفہ کا نام ہے اور یہ بات بخوبی جانتے ہیں ۔ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ایسا کامل جواب ہے جس میں کسی کمی اور اضافے کی گنجائش نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو جو امع الکلم کا معجز عنایت فرمایا تھا۔اورشانداراختتام بھی ۔اگر ان حضرات کا سوال حج کے وقت یہ رادہ ہوتا کہ حج میں کیا کیا ضروری امور ہیں تو آپ عرفہ‘طواف ‘مزدلفہ کا ذکر فرماتے اور جو دیگر افعال حج میں ادا کیے جاتے ہیں جب آپ نے ان تمام کا تذکرہ ترک فرمایا تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ ان لوگوں کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے رہ جانے سے حج رہ جا تا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب دیا :الحج يوم عرفة ۔ کہ حج یوم عرفہ کی حاضری ہے۔اگر مزدلفہ عرفہ کی طرح ہوتا تو آپ لا ز ما اس کی طرح اس کا بھی تذکرہ فرماتے ۔ آپ نے خصوصاعرفہ کا تو ذکرفرما یامگرمز دلفہ کانہیں کیونکہ حج کا اصل رکن یہی ہے کہ جس کے رہ جانے سے حج رہ جا تا ہے ۔ پر آپ نے بطور جملہ مستانفہ کلام فرمایا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاۓ ۔ کہ جس نے مزدلفہ کوطلوع فجر سے پہلے پہلے پالیا۔ اس نے گویا حج کو پالیا اس ادراک کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس نے تمام حج کو پالیا کیونکہ شروع کلام میں بی ثابت ہوچکی ”الحج عرفة“ تو اس کلام سے آپ نے فوات عرفہ کوفوت حج قرارد یا پس اس سے یہ لازم آ یا کہ عرفات کا فوت ہو جاناحج کے رہ جانے کا باعث ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جس نے مزدلفہ کونماز صبح سے پہلے پالیا تو اس نے حج کو پالیا اسکا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کا کوئی فرض حج باقی نہیں رہا۔ کیونکہ ابھی تو طواف زیارت باقی ہے جو کہ واجب ہے اور اس کا کر ناضروری ہے ۔لیکن اس نے حج کو پالیالینی جو پہلے وقوف عرفات کر لیا اس نے اس سے حج کو تو پالیا۔ان آثار کے معانی کو اس انداز سے اختیار کر نا نہایت شاندار ہے ۔ اس سے تضاد باقی نہیں رہتا۔ باقی نظر وفکر کے انداز سے اس کی صورت یہ ہے ۔ کہ یہ بات پاتے ہیں کہ اس پر تمام متفق ہیں کہ کمز ورلوگوں کو مز دلفہ سے رات ہی کوروانہ کر دیا جاۓ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلمان بنی عبدالمطلب کے متعلق یہی حکم فرمایا ہم انشاءاللہ اس روایت کو اپنے موقعہ لائیں گے اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کوترک وقوف کی رخصت مرحمت فرمائی جیسا اس روایت ذیل میں ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3862

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3863

3656 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا عبد الرحمن بن قاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت كانت سودة المرأة ثبطة ثقيلة فاستأذنت النبي صلى الله عليه و سلم أن تفيض من جمع قبل أن تقف فأذن لها ولوددت أني كنت أستأذنه فأذن لي قال أبو جعفر فسقط عنهم الوقوف بمزدلفة للعذر ورأينا عرفة لا بد من الوقوف بها ولا يسقط ذلك لعذر فما سقط بالعذر فهو الذي ليس من صلب الحج وما لا بد منه فلا يسقط بعذر ولا بغيره فهو الذي من صلب الحج ألا ترى أن طواف الزيارة هو من صلب الحج وأنه لا يسقط عن الحائض بالعذر وأن طواف الصدر ليس من صلب الحج وهو يسقط عن الحائض بالعذر وهو الحيض فلما كان الوقوف بمزدلفة مما يسقط بالعذر كان من شكل ما ليس بفرض فثبت بذلك ما وصفنا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے سودہ رضی اللہ عنہ نے بھاری بھرکم جسامت کی وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے منیٰ لوٹنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمادی اور میری بھی تمناتھی کہ کاش میں بھی اجازت طلب کر لیتی تو مجھے بھی اجازت مل جاتی ۔امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے عذر کی وجہ سے وقوف مزدلفہ کو ساقط کر دیا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وقوف عرفہ کسی سے بھی عذر کی وجہ سے بھی ساقط نہیں ۔ پس جس کو ساقط کیا گیا معلوم ہواوہ رکن حج نہیں اور جس کو ساقط نہیں کیا وہ رکن حج ہواسی وجہ سے کسی بھی عذر سے وہ ساقط نہ ہواور نہ بلا عذر ساقط ہواذ را توجہ تو کر و ۔ کہ طواف زیادہ بھی ارکان حج سے ہے‘ اسی لئے وہ حائض سے بھی باوجو دعذر کے ساقط نہیں اور طواف ساقط ہو جا تا ہے ۔ پس جب یہ بات دیکھی کہ وقوف مزدلفہ تو عذر سے ساقط ہو جا تا ہے اور یہ اس کی صورت ہے جو فرض نہیں پس اس سے یہ ثابت ہو گیا جو ہم نے بیان کیا اور وہ امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ تعالی کا قول ہے۔

كانت سودة المرأة ثبطة ثقيلة فاستأذنت النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن قاسم ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3863

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter