شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 21 باب حكم الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3858
3651 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن عروة بن مضرس قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بجمع فقلت يا رسول الله هل لي من حج وقد أنضيت راحلتي فقال من صلى معنا هذه الصلاة وقد وقف معنا قبل ذلك وأفاض من عرفة ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه
شمعی نے عروہ بن مصرس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جبکہ آپ مزدلفہ میں تھے میں نے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا حج قبول ہو گا جب کہ میں نے چلا چلا کر اپنی اونٹنی کو کمز ور کر ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز ( نماز فجر) ادا کی اوراس سے پہلے اس نے ہمارے ساتھ وقوف مزدلفہ کیا اور وہ عرفات سے ہو کر لوٹا خواہ دن رات کی کسی گھڑی میں ہواس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنے میل کچیل کو دور کرلیایعنی احرام کھول کر مونچھیں ناخن بال وغیرہ لے لئے اور میل کچیل دور کر لی ۔
أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بجمع فقلت ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3858
