Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2221

2098 - حدثنا يزيد بن سنان وصالح بن عبد الرحمن وبكر بن إدريس قالوا حدثنا أبو عبد الرحمن المقرىء قال ثنا يحيى بن أيوب أبو العباس المصري عن زيد بن جبيرة عن داود بن الحصين عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة في سبعة مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الإبل وفوق بيت الله

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز سے منع فرمایا ہے نمبر ا کوڑی نمبر2 مذیح خانہ نمبر3 قبرستان میں نمبر4 راستہ کے درمیان نمبر 5 حمام میں نمبر 6 اونٹوں کے باڑے میں نمبر 7 بیت اللہ کی چھت پر۔

نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← زيد بن جبيرة، ← يحيى بن أيوب أبو العباس المصري، ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← يزيد بن سنان وصالح بن عبد الرحمن وبكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2221

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2222

2099 - حدثنا فهد قال ثنا الخضر بن محمد الحراني قال ثنا عباد بن العوام قال أنا الحجاج قال ثنا عبد الله بن مولى بنى هاشم وكان ثقة وكان الحكم يأخذ عنه عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن أسيد بن حضير قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل

عبدالرحمن بن ابی لیلی نے اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اونٹوں کے بارے میں مت پڑھو ۔

أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عبد الله بن مولى بنى هاشم وكان ثقة وكان الحكم يأخذ عنه ← الْحَجَّاجِ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← الخضر بن محمد الحراني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2222

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2223

2100 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا عبد الله بن إدريس عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الله عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال قال رجل للنبي صلى الله عليه و سلم أصلي في مرابض الغنم قال نعم قال أتوضأ من لحومها قال لا قال أصلى في معاطن الإبل قال لا قال أتوضأ من لحومها قال نعم

عبدالرحمن بن ابی لیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ آپ نے ہاں میں جواب دیا ۔ اس نے پوچھا کیا ہم ان کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ فرمایا نہیں ۔ اس نے سوال کیا کیا اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ فرمایا نہیں اس نے سوال کیا ان کا گوشت کھا کر وضؤ کریں ؟ فرمایا جی ہاں ۔

نَعَمْ ← أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ← لَا۔ ← أصلى في معاطن الإبل ← لَا۔ ← أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ← نَعَمْ ← رجل للنبي صلى الله عليه و سلم أصلي في مرابض الغنم ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2223

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2224

2101 - حدثنا على بن معبد قال ثنا عبد الله بن بكر ح وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قالا ثنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا لم تجدوا إلا مرابض الغنم ومعاطن الإبل فصلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في معاطن الإبل

محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بکریوں کے باڑے اور اونٹوں کے باڑے کے علاوہ جگہ نہ پاؤ تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو مگر اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← وحدثنا محمد بن خزيمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2224

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2225

2102 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن سماك بن حرب عن جعفر بن أبى ثور عن جابر بن أبى سمرة رضي الله عنه أن رجلا قال يا رسول الله أصلى في مباءات الغنم قال نعم قال أصلى في مباءات الإبل قال لا

جعفر بن ابی ثور نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں آپ نے فرمایا جی ہاں اس نے دوسرا سوال کیا کیا اونٹوں کے باڑے میں پڑھ سکتا ہوں ؟ فرمایا نہیں ۔

جابر بن أبى سمرة أن رجلا ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2225

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2226

2103 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن عثمان بن عبد الله بن موهب عن جعفر بن أبى ثور عن جابر بن سمرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

جعفر بن ابی ژور نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اونٹوں کے باڑہ میں نماز مکروہ ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے یہاں تک کہ بعض نے تو اس مواقع پر نماز درست ہے اور انکی دلیل یہ ہے کہ جن روایات میں اونٹ کا باڑوں میں نماز سے منع کیا گیا ہے ان کا معنی مخدوش ہے اور ممانعت کی وجہ میں بھی اشکال ہے پس ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اونٹوں والے عموما اونٹ کے قریب ہی پیشاب پاخانہ کر لیا کرتے ہیں اور اسکی وجہ سے اس کو پلید کر دیتے ہیں ۔ اس بناء پر آپ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع فرمایا نہ کہ کسی اور وجہ سے اور یہ تو ایسی علت ہے جو ہر مقام پر نماز کے لیے مانع ہے اور بکریوں والے عادت یہ ہے کہ وہ بکریوں کے باڑے کو گندگی سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں بول و بزار سے باز رہتے ہیں پس ان کے باڑے میں نماز کو درست قرار دیا گیا ہے ۔ شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کہا اور وہ اس روایت کی یہی تاویل کرتے اور یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ نماز کی ممانعت کا یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ اونٹ اچھل کود کرتے ہیں اور اس میں ہر سامنے آنے والے کو قتل و ہلاک کر ڈالتے ہیں کیا تم یہ روایت میں نہیں پاتے کہ ان کے متعلق کہا گیا ہے ۔ وہ جناب سے پیدا کیے گئے ور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ان اونٹوں کے لیے وحشی پن ہے جیسا جنگل کے جانوروں میں وحشی پن ہوتا ہے اور یہ خطرہ بکریوں سے نہیں ہے اس وجہ سے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ان اونٹوں کی حرکت کی وجہ سے روکا گیا اس بناء پر نہیں کہ ان کے پاس نجاست ہوتی ہے اور بکریوں کے پاس نہیں ہوتی بکریوں کے باڑے میں نماز کو اس وجہ سے درست قرار دیا کیونکہ ان سے وحشی پن کا خطرہ نہیں ، جو اونٹوں سے ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2226

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2227

2104 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن مبارك عن الحسن عن عبد الله بن مغفل قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الصلاة في أعطان الإبل مكروهة واحتجوا بهذه الآثار حتى غلظ بعضهم في حكم ذلك فأفسد الصلاة وخالفهم في ذلك آخرون فأجازوا الصلاة في ذلك الموطن وكان من الحجة لهم أن هذه الآثار التي نهت عن الصلاة في أعطان الإبل قد تكلم الناس في معناها وفي السبب الذي كان من أجله النهى فقال قوم أصحاب الإبل من عادتهم التغوط بقرب إبلهم والبول فينجسون بذلك أعطان الإبل فنهى عن الصلاة في أعطان الإبل لذلك لا لعلة الإبل وانما هو لعلة النجاسة التي تمنع من الصلاة في أي موضع ما كانت وأصحاب الغنم من عادتهم تنظيف مواضع غنمهم وترك البول فيه والتغوط فأبيحت الصلاة في مرابضها لذلك هكذا روى عن شريك بن عبد الله أنه كان يفسر هذا الحديث على هذا المعنى وقال يحيى بن آدم ليس من قبل هذه العلة عندي جاء النهى ولكن من قبل أن الإبل يخاف وثوبها فيعطب من يلاقيها حينئذ ألا تراه قال فإنها جن من جن خلقت وفي حديث رافع بن خديج عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش وهذا فغير مخوف من الغنم فأمر باجتناب الصلاة في معاطن الإبل خوف ذلك من فعلها لا لأن لها نجاسة ليست للغنم مثلها وأبيحت الصلاة في مرابض الغنم لأنه لا يخاف منها ما يخاف من الإبل

حسن نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو مگر اونٹوں کے باڑے میں نماز مت پڑھو ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2227

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2228

2105 - حدثني خلاد بن محمد عن بن شجاع الثلجى عن يحيى بن آدم بالتفسيرين جميعا

ابن شجاع ثلحی عن یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں تفسیریں ذکر کی ہیں۔

يحيى بن آدم بالتفسيرين جميعا ← بن شجاع الثلجى ← خلاد بن محمد،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2228

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2229

2106 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني معاوية بن صالح أن عياضا قال إنما نهى عن الصلاة في أعطان الإبل لأن الرجل يستتر بها ليقضى حاجته فهذا التفسير موافق لتفسير شريك

معاویہ بن صالح بیان کرتے ہیں کہ عیاض نے کہا اونٹوں کے باڑے میں نماز سے اس لیے منع کیا کیونکہ اونٹوں کے باڑے کو ستر بنا کر آدمی قضا ء حاجت کر تا ہے یہ تفسیر تو شریک کے ساتھ شریک ہے ۔

إنما نهي ← معاوية بن صالح أن عياضا ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2229

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2230

2107 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد وأبو بكر بن أبى شيبة قالا ثنا أبو خالد الأحمر عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى الى بعيره

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو سامنے بیٹھا کر اس کی طرف نماز پڑھتے تھے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← محمد بن سعيد وأبو بكر بن أبى شيبة ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2230

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2231

2108 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا يحيى بن أبى بكير العبدي قال أنا إسرائيل عن زياد المصفر عن الحسن عن المقدام الرهاوي قال جلس عبادة بن الصامت وأبو الدرداء والحارث بن معاوية فقال أبو الدرداء أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم حين صلى بنا الى بعير من المغنم فقال عبادة أنا فقال فحدث قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الى بعير من المغنم ثم مد يده فأخذ قرادة من البعير فقال ما يحل لي من غنائمكم مثل هذه إلا الخمس وهو مردود فيكم ففي هذين الحديثين إباحة للصلاة الى البعير فثبت بذلك أن الصلاة الى البعير جائزة وأنه لم ينه عن الصلاة في اعطان الإبل لأنه لا يجوز الصلاة بحذائها واحتمل أن تكون الكراهة لعلة ما يكون من الإبل في معاطنها من أرواثها وأبوالها فنظرنا في ذلك فرأينا مرابض الغنم كل قد أجمع على جواز الصلاة فيها وبذلك جاءت الروايات التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان حكم ما يكون من الإبل في أعطانها من أبوالها وغير ذلك حكم ما يكون من الغنم في مرابضها من أبوالها وغير ذلك لا فرق بين شيء من ذلك في نجاسة ولا طهارة لأن من جعل أبوال الغنم طاهرة جعل أبوال الإبل كذلك ومن جعل أبوال الإبل نجسة جعل أبوال الغنم كذلك فلما كانت الصلاة قد أبيحت في مرابض الغنم في الحديث الذي نهى فيه عن الصلاة في أعطان الإبل ثبت أن النهى عن ذلك ليس لعلة النجاسة ما يكون منها إذ كان ما يكون من الغنم حكمه مثل ذلك ولكن العلة التي لها كان النهى هو ما قال شريك أو ما قال يحيى بن آدم فان كان لما قال شريك فان الصلاة مكروهة حيث يكون الغائط والبول كان عطنا أو غيره وان كان لما قال يحيى بن آدم فان الصلاة مكروهة حيث يخاف على النفوس كان عطنا أو غيره فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما حكم ذلك من طريق النظر فانا رأيناهم لا يختلفون في مرابض الغنم وأن الصلاة فيها جائزة وانما اختلفوا في أعطان الإبل فقد رأينا حكم لحمان الإبل كحكم لحمان الغنم في طهارتها ورأينا حكم أبوالها كحكم أبوالها في طهارتها أو نجاستها فكان يجىء في النظر أيضا أن يكون حكم الصلاة في موضع الإبل كهو في موضع الغنم قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهذا قول أبى حينفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد

حسن نے مقدام رھاوی سے نقل کیا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اور حارث بن معاویہ رضی اللہ عنہ اکٹھے بیٹھے تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم میں سے کسے وہ حدیث یاد ہے جس میں آپ نے مال غنیمت کے ایک اونٹ کا رخ کر کے نماز پڑھائی عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے یاد ہے پس انہوں نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کرکے (سترہ بنا کر ) نماز پڑھائی پھر آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ایک چیچڑی پکڑی اور فرمایا میرے لیے تمہارے اس مال غنیمت میں سے اس چیچڑی کے برابر بھی چیز سوائے خمس کے حلال نہیں ہے بقیہ چار حصے وہ تمہیں لوٹا دیئے جائیں گے یہ دونوں روایات اونٹ کی طرح رخ کر کے نماز کو جائز قرار دے رہی ہیں پس اس سے ثابت ہو گیا کہ اونٹ کی طرف نماز کچھ گناہ نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز کی ممانعت نہیں فرمائی کہ ان کی محاذات میں نماز نہیں ہوتی ۔ رہا یہ احتمال کہ نماز کی ممانعت ان کی باڑوں میں کوئی شے ہونے کی بناء پر ہو جیسے پیشاب و مینگنی وغیرہ ۔ پس ہم نے غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو بالا تفاق جائز قرار دیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات وارد ہوئی ہیں اور اونٹوں کے پیشاب وغیرہ کی وجہ سے جو ان کے باڑے کا حکم ہے وہ بکریوں کے باڑے سے چنداں مختلف نہیں ہے ان میں نجاست وطہارت کے متعلق بالکل فرق نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جن علماء نے بکریوں کے پیشاب کو پاک کہا تو وہ اونٹوں کے پیشاب کا بھی یہی حکم بتلاتے ہیں ۔ اسی طرح جنہوں نے اونٹوں کے پیشاب کو نجس کہا انہوں نے بکریوں کے پیشاب کا بھی یہی حکم لگایا پھر جب بکریوں کے باڑے میں نماز کو اسی روایت میں مباح قرار دیا گیا جس میں اونٹوں کےبارے میں نماز کو روکا گیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کی ممانعت ان میں نجاست کی بناء پر نہیں اس لیے نجاست و طہارت میں دونوں کا حکم یکساں ہے بلکہ ان کے باڑے میں ممانعت کی وجہ وہ ہے جو شریک نے اپنے روایت میں ذکر کی یا یحییٰ بن آدم نے اپنے قول میں بیان کی۔ پس اگر اس علت کو لیں تو پھر جہاں بول و بزار ہو گا اس کے قریب تو نماز مکروہ ہو گی خواہ وہ کوئی ساباڑہ ہو اور اگر یحییٰ بن آدم والی علت کو اختیار کریں تو نماز وہاں مکروہ ہو گی جہاں جان کو خطرہ ہو گا۔ خواہ وہ کوئی باڑہ ہو ۔ روایات کی تصحیح کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہ حکم ہے ۔ اب طریق نظر و فکر سے دیکھتے ہیں کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ بکریوں کے باڑے میں نماز جائز ہے ۔ اختلاف صرف اونٹوں کے باڑے میں ہے ہم نے دیکھا کہ ہر دو گوشت کا حکم طہارت میں برابر ہے اور پیشاب کا حکم طہارت و نجاست میں کچھ مختلف نہیں تو قیاس یہ چاہتا ہے کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز کا حکم بھی بکریوں کے باڑے میں نماز کی طرح ہونا چاہیے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔ لیث بن سعد کا تائیدی اثر ملاحظہ فرمائی ۔

الْمِقْدَامِ الرَّهَاوِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْمُصَفرِ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2231

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2232

2109 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبى مريم قال ثنا الليث بن سعد قال هذه نسخة رسالة عبد الله بن نافع الى الليث بن سعد يذكر فيها أما ما ذكرت من معاطن الإبل فقد بلغنا أن ذلك يكره وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى على راحلته وقد كان بن عمر ومن أدركنا من خيار أهل أرضنا يعرض أحدهم ناقته بينه وبين القبلة فيصلى إليها وهى تبعر وتبول

ابن ابی مریم کہتے ہیں کہ ہمیں لیث بن سعد نے بتلایا کہ عبداللہ بن نافع رحمۃ اللہ علیہ کے خط کا ایک نسخہ یہ ہے جو انہوں نے میرے نام لکھا ہے اس میں لکھا ہے کہ تم نے اونٹوں کے باڑے کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ مکروہ ہے لیث بن سعد کہتے ہیں حالانکہ یہ بات مطلقا نہیں کہی جا سکتی جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نماز ادا فرماتے اسی طرح ابن عمر اور جن کو صحابہ و تابعین میں سے ہم نے پایا ہے وہ اونٹی کو سترہ بناتے اور اس دوران اونٹنی مینگیاں اور پیشاب بھی کرتیں تھیں مگر کسی نے کراہت صلاۃ عند قربہا کا فتویٰ نہ دیا اس سے معلوم ہوا کہ کراہت کا قول درست نہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر لوگوں سے عید کے دن شروع دن میں عید رہ گئی تو وہ اسے اگلے روز عیدکے وقت ادا کریں یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ دوسروں نے اس کی مخالف میں کہا کہ جب عید کے روز عید فوت ہو جائے اور زوال کا وقت ہو جائے تو عیدنہ اس دن زوال کے بعد پڑھی جائے گی اور نہ اگلے روز۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہشام سے دیگر روات نے " انہ صلی بھم من الفد" کے لفظ نقل نہیں کیے اور یحیٰی بن حسان اور سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہم یہ بھی ہشام کے شاگرد ہیں مگر ان کی روایات میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں یہ وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ہشام کی تدلیس کو واضح کیا ہے ۔

اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2232

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter