شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2096
1979 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال ثنا زيد بن أسلم عن بسر بن محجز الدئلى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه رآه وقد أقيمت الصلاة قال فجلست ولم أقم للصلاة فلما قضى صلاته قال لي ألست مسلما قلت بلى قال فما منعك أن تصلى معنا فقلت قد كنت صليت مع أهلي فقال صل مع الناس وإن كنت قد صليت مع أهلك
بسربن دئلی نے اپنے والد محجن رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ادھر جماعت کھری ہوگئی اورمیں اس دوران بیٹھا رہا اور جماعت میں شامل نہ ہو ا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ؟ میں نےکہا کیوں نہیں فرمایا پھر تم نےہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ میں نے کہا میں گھر میں نماز پڑھ چکا تھا آپ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو خواہ گھر میں نماز پڑھ چکے ہو۔
فما منعك أن تصلى معنا فقلت قد كنت صليت مع أهلي ← لي ألست مسلما قلت بلى ← فجلست ولم أقم للصلاة فلما قضى صلاته ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه رآه وقد أقيمت الصلاة ← أَبِيهِ ← بسر بن محجز الدئلى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2096
