Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2096

1979 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال ثنا زيد بن أسلم عن بسر بن محجز الدئلى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه رآه وقد أقيمت الصلاة قال فجلست ولم أقم للصلاة فلما قضى صلاته قال لي ألست مسلما قلت بلى قال فما منعك أن تصلى معنا فقلت قد كنت صليت مع أهلي فقال صل مع الناس وإن كنت قد صليت مع أهلك

بسربن دئلی نے اپنے والد محجن رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ادھر جماعت کھری ہوگئی اورمیں اس دوران بیٹھا رہا اور جماعت میں شامل نہ ہو ا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ؟ میں نےکہا کیوں نہیں فرمایا پھر تم نےہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ میں نے کہا میں گھر میں نماز پڑھ چکا تھا آپ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو خواہ گھر میں نماز پڑھ چکے ہو۔

فما منعك أن تصلى معنا فقلت قد كنت صليت مع أهلي ← لي ألست مسلما قلت بلى ← فجلست ولم أقم للصلاة فلما قضى صلاته ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه رآه وقد أقيمت الصلاة ← أَبِيهِ ← بسر بن محجز الدئلى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2096

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2097

1980 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا سليمان بن بلال قال حدثني زيد بن أسلم عن بسر بن محجز الدئلى عن أبيه قال صليت في بيتي الظهر أو العصر ثم خرجت الى المسجد فوجدت رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا وحوله أصحابه ثم أقيمت الصلاة ثم ذكر نحوه

بسربن محجن دئلی نے اپنے والد محجن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے ظہر کی نماز گھر میں ادا کی یا عصر کہا پھر میں مسجد نبوی کی طرف نکلا تو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا پایا پھر جماعت کھڑی ہوگئی پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَبِيهِ ← بسر بن محجز الدئلى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← بن أبي داود

Hadith 2097

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2098

1981 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي ح

حسین بن نصر نے فریابی سے بیان کیا ۔

الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Hadith 2098

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2099

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قالا ثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن بسر بن محجز الدئلى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يذكر أي صلاة هى

زید بن اسلم نے بسربن محجن دئلی نے اپنے والد سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ مذکور نہیں کہ یہ کون سے نماز تھی۔

أَبِيهِ ← بسر بن محجز الدئلى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 2099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2100

1982 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن بسر بن محجز الدئلى عن أبيه أو عن عمه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

زید بن اسلم نے بسربن محجن دئلی سے انہوں نے اپنے والد یا چچا سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← بسر بن محجز الدئلى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 2100

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2101

حدثنا أبو بكرة ثنا وهب بن جريج ح

ابو بکرہ نے وہب بن جریح سے ۔

وهب بن جريج ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2101

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2102

1983 - وحدثنا بن أبى داود قال ثنا سليمان بن حرب قالا ثنا شعبة عن أبى عمران عن عبد الله بن الصامت عن أبى ذر رضي الله عنه قال أوصانى خليلي صلى الله عليه و سلم أن أصلى الصلاة لوقتها وإن أدركت الإمام وقد سبقك فقد أجزتك صلاتك والا فهى لك نافلة

عبداللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں وقت پر نماز پڑھا کروں اگر امام جماعت میں سبقت کر جائے تو تیری نماز اس کے ساتھ جائز ہے ورنہ وہ تیرے لیے نفل بن جائیں گے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Hadith 2102

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2103

1984 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن شعبة قال ثنا بديل عن أبى العالية عن عبد الله بن الصامت عن أبى ذر رضي الله عنه يرفعه قال فضرب فخدى فقال لي كيف أنت إذا بقيت في قوم يؤخرون الصلاة عن وقتها ثم قال لي صل الصلاة لوقتها ثم أخرج وإن كنت في المسجد فأقيمت الصلاة فصل معهم ولا تقل اني قد صليت فلا أصلى

عبداللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا اور مرفوعا بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میر ی ران پر ہاتھ مارکر (متوجہ کیا ) فرمایا اس وقت تیرا کیا ھال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کےوقت سے موخر کرتے ہونگے پھر مجھے فرمایا تم وقت پر نماز ادا کر لینا پھر نکلنا اگر تم مسجد میں ہواور جماعت کھڑی ہو جائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھو او ر یہ مت کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں پس میں نماز نہ پڑھوں گا ۔ ( یہ زمانہ قتنہ کی نا صحابہ تدبیر بتلائی )

وَقْتِهَا؟» ثُمَّ ← لي كيف أنت إذا بقيت في قوم يؤخرون الصلاة ← فضرب فخدى ← أَبِي ذَرٍّ، يَرْفَعْهُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← بُدَيْلٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← بن مرزوق

Hadith 2103

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2104

1985 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال أخبرني يعلى بن عطاء قال سمعت جابر بن يزيد بن الأسود الاسوائى عن أبيه قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسجد الخيف صلاة الصبح فلما قضى صلاته إذا رجلان جالسان في مؤخر المسجد فأتى بهما ترعد فرائصهما فقال ما منعكما أن تصليا معنا فقالا يا رسول الله صلينا في رحالنا قال فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما الناس وهم يصلون فصليا معهم فإنا لكما نافلة أو قال تطوع قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فقالوا إذا صلى الرجل في بيته صلاة مكتوبة أي صلاة كانت ثم جاء المسجد فوجد الناس وهم يصلون صلاها معهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل صلاة يجوز التطوع بعدها فلا بأس أن يفعل فيها ما ذكرتم من صلاته إياها مع الإمام على انها نافلة له غير المغرب فإنهم كرهوا أن تعاد لأنها إن أعيدت كانت تطوعا والتطوع لا يكون وترا إنما يكون شفعا وكل صلاة لا يجوز التطوع بعدها فلا ينبغي أن يعيدها مع الإمام لأنها تكون تطوعا في وقت لا يجوز فيه التطوع واحتجوا في ذلك بما قد تواترت به الروايات عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في نهيه عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في غير هذا الموضع من كتابنا هذا فذلك عندهم ناسخ لما رويناه في أول هذا الباب وقالوا انه لما بين في بعض الأحاديث الأول فقال فصلوها فإنهما لكم نافلة أو قال تطوع ونهى عن التطوع في هذه الآثار الأخر وأجمع على استعمالها كان ذلك داخلا فيها ناسخا لما قد تقدمه مما قد خالفه ومن تلك الآثار ما لم يقل فيه فإنها لكم تطوع فذلك يحتمل أن يكون معناه معنى هذا الذي بين فيه فقال فإنها لكم تطوع ويحتمل أن يكون ذلك كان في وقت كانوا يصلون فيه الفريضة مرتين فيكونان جميعا فريضتين ثم نهوا عن ذلك فعلى أي الأمرين كان فإنه قد نسخه ما قد ذكرنا وممن قال بأنه لا يعاد من الصلوات الا الظهر والعشاء الآخرة أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى في ذلك عن جماعة من المتقدمين ما

جابر بن یزید بن اسوائی نے اپنے والد یزید بن اسود سے نقل کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد خیف میں صبح کی نماز پڑھائی جب نماز سے فراغت ہوئی تو اچانک دو آدمیوں پر نگاہ پڑی جو مسجد کے پچھلے حصے میں بیٹھے تھے ان کو لایا گیا تو ان پر کپکپی طاری تھی آپ نے فرمایا تم نے سہارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی دونوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اپنے کجادوں کے پاس نماز پڑھ لی آپ نے فرمایا ایسا مت کرو جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو پھر تم لوگوں میں ایسی حالت میں آؤ کہ وہ نماز میں مصروف ہوں تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لویہ تمہاری نفل نماز بن جائے گی آپ نے نافلہ یا تطوع کا لفظ فرمایا دونوں کا معنی ایک ہے ۔ اما م طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے خواہ وہ کوئی سی نماز ہو مگر دوسرے علماء کی جماعت نے فرمایا کہ جس نماز کے بعد نوافل کی اجازت ہے ۔ اس میں ان آثار پر عمل میں کچھ حرج نہیں امام کے ساتھ نماز ادا کرلے تاکہ وہ اس کے لیے نفل بن جائیں ۔ مگر مغرب میں ایسا نہ کرے کیونکہ اس کو لوٹا نا مکروہ ہے اگر و ہ اسے لوٹائے گا تو وہ نفل ہیں اور نفل شفعہ شفعہ ہیں طاق نہیں ہوتے اور جن نمازوں کے بعد نوافل کی اجازت نہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تواتر کے ساتھ مروی ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔ جن میں آپ صبح سے لےکر طلوع آفتاب تک اور عصر سے لے کر غروب آفتاب میں نفل کی ممانعت فرمائی ہے ۔ یہاں تک کہ طلوع اور غروب پورے طور پر ہو جائے ہم اسناد سے ان روایات کو اسی کتاب میں ذکر کر چکے ۔ تو دوسرے قول والوں کے ہاں یہ روایات فصل اول میں مذکورہ روایات کی ناسخ ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب شروع باپ کی بعض احادیث میں یہ موجود ہے ۔ فصلوھا فانھا لکم نافلۃ اوقال تطوع۔ کہ ان کو پڑھو بے شک وہ تمہارے لے فافل ہیں وہاں " لفظنا فلہ یا تطوع" فرمایا ( ہر دو کامعنی ایک ہے)ان روایا ت متاخرہ میں نفلوں سے منع فرمایا ان روایات کے استعمال پر بھی اتفاق ہے ۔ تو ان کا حکم وہی ہو گا اور یہ گزشتہ روایات کی ناسخ بنیں گی جو ان کے مخالف ہیں ۔ بعض روایات میں یہ بات مذکور نہیں فانھا لکم تطوع" کہ وہ تمہارے حق میں نفل ہیں ۔ تو اس میں احتمال ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہو جب وہ ایک فرض دو مرتبہ ادا کرتے تھے پس اس صورت میں دونوں نمازیں فرض ہو ں گی ۔ پھر اس سے روک دیا گیا۔ بہرحال ان میں جس احتمال کو بھی مانیں یہ ان کے لیے ناسخ بنیں گی ۔ جن علماء کے نزدیک ظہر و عشاء کے علاوہ دوبارہ اور کوئی بھی نماز درست نہیں ان میں اما م ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم بھی ہیں ۔

أَبِيهِ ← جابر بن يزيد بن الأسود الاسوائى ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2104

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2105

1986 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بن لهيعة قال ثنا يزيد بن أبى حبيب عن ناعم بن إجيل مولى أم سلمة قال كنت أدخل المسجد لصلاة المغرب فأرى رجالا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم جلوسا في آخر المسجد والناس يصلون فيه قد صلوا في بيوتهم فهؤلاء من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كانوا لا يصلون المغرب في المسجد لما كانوا قد صلوها في بيوتهم ولا ينكر ذلك عليهم غيرهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا فذلك دليل عندنا على نسخ ما قد كان تقدمه من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنه لا يجوز أن يكون مثل ذلك من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ذهب عليهم جميعا حتى يكونوا على خلافه ولكن كان ذلك منهم لما قد ثبت عندهم فيه من نسخ ذلك القول وقد روى في ذلك أيضا عن بن عمر وغيره ما

ناعم بن اجیل مولیٰ ام سلمہ کہتے ہیں کہ میں نماز مغرب کے لیے مسجد میں داخل ہو تا تو میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کچھ آدمیوں کو دیکھتا کہ وہ مسجد میں پیچھے بیٹھے ہیں اور وہ گھر میں نماز پڑھ کر آئے ہوتے اور لوگ اس وقت نماز میںمشغول ہوتے ۔ تو یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کہ مسجد میں آکر دوسری بار مغرب کی نماز میں شامل نہ ہوتے بلکہ بیٹھ جاتے وہ گھروں میں نماز پڑھ کر آئے تھے ہمارے ہاں تو یہ عمل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے قول کے لیے ناسخ ہے ۔ کیونکہ یہ درست نہیں کہ آپ کے فرمانے کے باوجود وہ اس کے الٹ چلیں ۔ بلکہ ان کے نزدیک اس کا نسخ لازما ثابت ہو چکا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ سے یہ بات مروی ہے ۔

ناعم بن أجيل مولى أم سلمة ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Hadith 2105

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2106

1987 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني نافع أن بن عمر قال إن صليت في أهلك ثم أدركت الصلاة فصلها الا الصبح والمغرب فإنهما لا يعادان في يوم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب تم گھر میں نماز پڑھ چکو تو پھر نماز کو یا لو تو صبح اور مغرب کے علاوہ نما زپڑھ لو کیونکہ یہ دونون نمازیں ایک دن مین لوٹا ئی نہیں جاتیں۔

نافع أن بن عمر ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Hadith 2106

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 50 باب الرجل يصلى في رحله ثم يأتى المسجد والناس يصلون ) · حديث 2107

1988 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يعاد المغرب الا أن يخشى رجل سلطانا فيصليها ثم يشفع بركعة

مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ وہ مغرب کا لوٹا نا مکروہ قرار دیتے مگر یہ کہ کسی کے دبد بے کا خطرہ ہو تو شامل ہو جائے پھر ایک رکعت ساتھ ملا لے ۔

مُغِيرَةَ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2107

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter