شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 41 باب التطوع بالليل والنهار كيف هو ) · حديث 1916
1813 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن يعلى بن عطاء قال سمعت علي بن عبد الله البارقي يحدث عن بن عمر رضي الله عنهما قال وأراه قد رفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم قال صلاة الليل والنهار مثنى مثنى
علی بن عبداللہ البارقی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کونبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کی طرف منسوب کیا اور کہا رات کی نماز اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے ان روایات کواختیار کرتے ہوئے کہا کہ سورج گرہن کی نماز دن کی نماز ہے اس لیے اس میں جہری قراءت نہ ہوئی چاہیے ۔ حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی میلان انہی کی طرف ہے ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت نے ان کی مخالفت کرتے ہوے کہا کہ اس میں بلند آواز سے قراءت کی جائے اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے عین ممکن ہے کہ حضرت سمرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے دور ہونے کی وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی قراءت ہ سنی ہو اور آپ نے بلند آواز سے قراءت کی ہو ۔ پس یہ روایت جہر کی نفی نہیں کرتی جبکہ آپ سے اس نماز میں بلند آواز سے قراء ت بھی روایا ت میں آئی ہے۔
«صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» ← وأراه قد رفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 1916
