Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4755

4492 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو أحمد الزبيري قال ثنا إسرائيل عن جابر عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبزي عن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم رد ماعزا أربع مرات

شعیب نے عبدالرحمن بن ابزی سے اور انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ماعزم کو چار مرتبہ واپس کیا۔

أَبِي بَكْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4755

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4756

4493 - حدثنا أحمد بن الحسن قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا الحجاج بن أرطأة عن عبد الملك بن المغيرة الطائفي عن عبد الله بن المقدام عن بن شداد عن أبي ذر قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فأتاه رجل فأقر عنده بالزنا فرده أربعا ثم نزل فأمرنا فحفرنا له حفرة ليست بالطويلة فأمر به فرجم فارتحل رسول الله صلى الله عليه و سلم كئيبا حزينا فسرنا حتى نزلنا منزلا فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يا أبا ذر ألم تر إلى صاحبكم غفر له وأدخل الجنة

ابن شداد نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالت سفر میں تھے کہ ایک آدمی آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا آپ نے اس کو چار مرتبہ واپس کر دیا پھر آ پ اترے اور ہمیں اس کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دیا جو زیادہ لمبا نہ تھا۔ پس آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو رجم کر دیا گیا۔ پس آپ ﷺ غمگین اور پریشان حالت میں وہاں سے روانہ ہوئے ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ایک منزل پر اترے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے ابو ذر ! کیا تم نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا اسے بخش دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← بن شداد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ المُغِيرَةَ الطَّائِفِيِّ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4756

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4757

4494 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن عبد الحميد قال ثنا إبراهيم الزبرقان وأبو خالد الأحمر عن الحجاج فذكر بإسناده مثله

ابراہیم زبر قان اور ابو خالد احمر دونوں نے حجاج سے روایت نقل کی ہے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ۔

الحجاج فذكر بإسناده مثله ← إبراهيم الزبرقان وأبو خالد الأحمر ← يحيى بن عبد الحميد ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4757

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4758

4495 - حدثنا إبراهيم بن محمد الصيرفي قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن سماك بن حرب عن عكرمة عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لماعز أحق ما بلغني عنك قال وما بلغك عني قال بلغني أنك أتيت جارية آل فلان فأقر على نفسه أربع مرات فأمر به فرجم

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ماعر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تمہارے بارے میں مجھے جو خبر پہنچی ہے آپ نے فرمایا مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نے فلاں کی لونڈی سے زنا کیا ہے انہوں نے اپنے متعلق اس بات کا چار مرتبہ اعتراف کیا تو آپ کے حکم سے ان کو رجم کیا گیا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إبراهيم بن محمد الصيرفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4758

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4759

4496 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو عوانة فذكر بإسناده مثله

ابو غسان نے ابو عوانہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبو عوانة فذكر بإسناده مثله ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4760

4497 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن عن جابر بن عبد الله الأنصاري أن رجلا من أسلم أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في المسجد فناداه فحدثه أنه زنى فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فتنحى لشقه الذي أعرض قبله فأخبره أنه زنى وشهد على نفسه أربع مرات فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هل بك جنون قال لا قال فهل أحصنت قال نعم فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرجم بالمصلى فلما أذلقته الحجارة جمز حتى أدرك بالحرة فقتل بها رجما

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک شخص جس کا تعلق قبیلہ اسلم سے تھا جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے اس نے آپ کو آواز دی اور آپ کے سامنے بیان کیا کہ اس سے زنا کا ارتکاب ہوا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا وہ ادھر سے ہٹ کر اس طرف گیا جدھر آپ ﷺ نے رخ فرمایا تھا اور بتایا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا۔ اس نے اپنے متعلق چار مرتبہ گواہی دی جناب رسول اللۃ ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا کیا تم پاگل ہو؟ ا س نے کہا نہیں ۔ فرمایا کیا تم شادی شدہ ہو۔ اس نے کہا جی ہاں۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو عید گاہ میں رجم کا حکم فرمایا جب اس پر پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگ نکلا یہاں تک کہ پتھریلی زمین میں پکڑا گیا اور رجم کے طور پر ہلاک کیا گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4761

4498 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر وعثمان بن عمر قالا ثنا شعبة عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل أشعر قصير ذو عضلات فأقر له بالزنا فأعرض عنه فأتاه من قبل وجهه الآخر فأعرض عنه قال لا أدري مرتين أو ثلاثا فأمر به فرجم قال فذكرت ذلك لسعيد بن جبير فقال رده أربع مرات

سماک بن حرب نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا۔ جو زیادہ بالوں ، چھوٹے قد ، موٹے جسم والا تھا ۔ اس نے اپنے متعلق زنا کا اقرار کیا۔ تو آپ ﷺ نے منہ پھیر لیا وہ دوسری طرف سے آیا آپ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ دو مرتبہ ایسا ہوا یا تین مرتبہ ایسا ہوا پھر آپ کے حکم سے اسے رجم کیا گیا ۔ راوی کہتے ہیں حضرت سعید بن جبیر سے یہ بات ذکر کی گئی تو انہوں نے ذکر کیا کہ آپ نے اس کو چار مرتبہ لوٹایا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أبو عامر وعثمان بن عمر ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4762

4499 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة فذكر بإسناده غير أنه قال رده مرتين فقال قائل ففي هذا أنه حد بعد إقراره أقل من أربع مرات قيل له في هذا الحديث علة وذلك

وہب کہتے ہیں کہ ہمیں شعبہ نے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ انہوں نے ردہ مرتین کے لفظ ذکر کئے ہیں ۔ اس روایت میں مذکور ہے کہ چار سے کم مرتبہ اقرار پر اس کو حد لگائی گئی ۔ یہ روایت معلول ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری روایت میں مذکور ہے ۔

رده مرتين ← بإسناده غير أنه ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4762

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4763

4500 - أن ربيعا المؤذن حدثنا قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ماعز بن مالك فأعترف مرتين فقال إذهبوا به ثم ردوه فاعترف مرتين حتى اعترف أربعا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اذهبوا به فارجموه ففي هذا الحديث أنه أقر مرتين ثم ذهبوا به ثم ردوه فأقر مرتين فيجوز أن يكون جابر بن سمرة رضي الله عنه حضر المرتين الآخرتين ولم يحضر ما كان منه قبل ذلك وحضر بن عباس رضي الله عنهما الإقرار كله وكذلك من وافقه على أنه كان أربعا

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ماعز بن مالک کو لیا گیا۔ تو انہوں نے دو مرتبہ اعتراف زنا کیا ۔ آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ پھر اس کو لوٹاؤ ۔ پس اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا یہاں تک کہ اعتراف چار مرتبہ ہو چکا۔ اس روایت میں یہ اعتراف موجود ہے کہ دو مرتبہ اقرار کیا پھر ان کو واپس لے گئے پھر ان کو لوٹایا تو اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا پس یہ عین ممکن ہے کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ پچھلی دو مرتبہ کے وقت موجود تھے اور اسسے پہلے دو مرتبہ میں موجود نہ تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ہر دو قرار میں موجود تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ تمام اقراروں کے وقت موجود تھے ۔ اسی طرح وہ حضرات جنہوں نے ان کی موافقت کرتے ہوئے چار اقرار بتلائے ( وہ تمام اقراروں میں موجود تھے ) ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4764

4501 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن عبد الرحمن بن هضاض عن أبي هريرة أن ماعز بن مالك زنى فأتى هزالا فأقر له أنه زنى فقال له هزال إيت نبي الله صلى الله عليه و سلم فأخبره قبل أن ينزل فيك قرآن فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني زنيت فأعرض عنه حتى قال ذلك أربعا فأمر به فرجم

عبدالرحمن بن ہضاض نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ماعز بن مالک نے زنا کیا پھر وہ ہزال کے پاک آئے اور کہنے لگے کہ میں نے زنا کیا ہے حضرت ہزال رضی اللہ عنہ نے کہا تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اطلاع دو اس سے پہلے کہ تمہارے متعلق قرآن مجید کی کوئی آیت اترے۔ پس ماعز رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا میں نے زنا کیا ۔ آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اقرار کیا ۔ پھر اپ نے اس کو رجم کا حکم دیا پس ان کو رجم کر دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الرحمن بن هضاض ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4764

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4765

4502 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني أبو سلمة وسعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال أتى رجل من أسلم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في المسجد فناداه فحدثه أنه زنى فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فتنحى لشقه الذي أعرض قبله فأخبره بأنه زنى وشهد على نفسه أربع مرات فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هل بك جنون قال لا قال فهل أحصنت قال نعم فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرجم بالمصلى

ابو سلمہ اور وید بن مسیب دونوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اسلمی آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس حال میں آیا کہ اپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور اس نے بیان کیا کہ اس نے زنا کیا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض کیا وہ اسی جانب گیا جس طرف اپ نے منہ پھیرا تھا۔ اس نے پھر بتلایا کہ اس نے زنا کیا ہے اور اس نے اپنے متعلق چار مرتبہ گواہی دی ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلا کر فرمایا کیا تو مجنون ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا تو شادی شدہ ہے ؟ ان نے کہا جی ہاں ۔ پس آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو عید گاہ میں سنگسار کیا جائے ۔

أَبُو سَلَمَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4766

4503 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو نعيم قال ثنا بشير بن المهاجر الغنوي قال حدثني عبد الله بن بريرة عن أبيه قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتاه رجل يقال له ماعز بن مالك فقال يا نبي الله إني قد زنيت وإني أريد أن تطهرني فقال له ارجع فلما كان من الغد أتاه أيضا فاعترف عنده بالزنا فقال له النبي صلى الله عليه و سلم ارجع ثم أرسل النبي صلى الله عليه و سلم إلى قومه فسألهم عنه فقال ما تقولون في ماعز بن مالك هل ترون به بأسا أو تنكرون من عقله شيئا فقالوا يا رسول الله ما نرى به بأسا وما ننكر من عقله شيئا ثم عاد إلى النبي صلى الله عليه و سلم الثالثة فاعترف أيضا عنده بالزنا فقال يا رسول الله طهرني فأرسل النبي صلى الله عليه و سلم إلى قومه فسألهم عنه فقالوا له كما قالوا في المرة الأولى ما نرى به بأسا وما ننكر من عقله شيئا ثم رجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم الرابعة فاعترف عنده بالزنا فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فحفرت له حفرة فجعل فيها إلى صدره ثم أمر الناس أن يرجموه قال بريدة كنا نتحدث بيننا أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن ماعز بن مالك لو جلس في رحله بعد إعترافه ثلاث مرات لم يطلبه وإنما رجمه عند الرابعة فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يرجمه بإقراره مرة ولا مرتين ولا ثلاثا دل ذلك أن الحد لم يكن وجب عليه بذلك الإقرار ثم رجمه رسول الله صلى الله عليه و سلم بإقراره في المرة الرابعة فثبت بذلك أن الإقرار بالزنا الذي يوجب الحد على المقر هو إقراره به أربع مرات فمن أقر كذلك حد ومن أقر أقل من ذلك لم يحد وقد ذكر هذا المعنى ما رويناه عن بريدة مما كان يقوله هو وأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سواه في ذلك مما قد ذكرنا في حديث فهد عن أبي نعيم عن بشر بن المهاجر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد عمل بذلك علي رضي الله عنه في شراحة فردها أربع مرات

عبداللہ بن بریدہ نے نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں بیٹا تھا تو ان کے پاس ایک آدی آیا جس کو ماعز بن مالک کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ۔ جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آیا اور آپ کے پاس زناکا اعتراف کیا۔ اس پر نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم لوٹ جا۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم کے پاس پیغام بھیج کر اس کے متعلق احوال دریافت فرمائے ۔ تمہارا معز بن مالک کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا تم اس میں کوئی تکلیف پاتے ہو یا اس کی عقل میں خرابی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ ﷺ ہم اس سے کسی تکلیف میں نہیں دیکھتے اور نہ اس کی عقل میں خرابی پاتے ہیں۔ جب جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کے ایک مربتہ اقرار سے اس کو سنگسارنہیں کیا اور نہ ہی دو اور تین مرتبہ اقرار سے سنگسار کیا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ تین مرتبہ اقرار سے اس پر حد واجب نہ ہوتی تھی۔ پھر اس کے چوتھی مرتبہ اقرار پر اس کو سنگسار کر دیا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی۔ کہ ایسا اقرار بالزنا جو حد کو واجب کرتا ہے وہ چار مرتبہ کا اقرار ہے۔ پس جو اسی طرح اقرار کرے گا ۔ اس کو حد لگائی جائے گی اور جو اس سے کم مرتبہ اقرار کرے گا اس پر نہ لگے گی اور یہ بات حضرت بریدہ اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ہم روایت 4766 فہد عن ابی نعیم عن بشر بن مہا جر میں ذکر کر آئے ہیں۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی شراحہ نامی عورت کے سلسلہ میں اس پرعمل کیا جیسا کہ ہم نقل کرائے کہ آپ نے اس کو چار مرتبہ لوٹا دیا۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن بريرة ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْغَنَوِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4766

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter