شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2484
2347 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبى كثير عن عبد الرحمن الأعرج عن عبد الله بن مالك هو بن بحينة أنه أبصر النبي صلى الله عليه و سلم وقام في الركعتين ونسي أن يقعد فمضى في قيامه ثم سجد سجدتين بعد الفراغ من صلاته
عبدالرحمن اعرج نے عبداللہ بن مالک ان کو ابن بحسینہ کہتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو رکعتوں میں کھڑے ہوگئے اور قعدہ بھول گئے آپ قیام میں قائم رہے پھر نماز سے فراغت کے بعد دو سجدے کیے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں فراغت کا مطلب معلوم نہیں ہوا عین ممکن ہے کہ فراغت سے سلام مراد ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام سے پہلے والا تشہد اس سے مراد ہو ۔ اس میں غور کے لیے ان روایات کو دیکھیں۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2484
