Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2881

2721 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي قال ثنا شريك عن سماك بن حرب عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قدمت عير المدينة فاشترى منها النبي صلى الله عليه و سلم متاعا فباعه بربح أواق فضة فتصدق بها على أرامل بنى عبد المطلب ثم قال لا أعود أن أشتري بعدها شيء أبدا وليس ثمنه عندي

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک قافلہ مدینہ میں آیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کچھ سامان خریدا پھر کئی اوقیہ چاندی کے بدلے فروخت کیا اور اس چاندی کو بنی عبدالمطلب کی رانڈ عورتوں پر خر چ کیا پھر فرمایا میں آئندہ ایسی کوئی چیز کبھی نہ خریدوں گا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو ۔ (اوقیہ چالیس درہم کی مقدار ہے )

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2881

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2882

قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث وأباحوا الصدقة على بنى هاشم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز الصدقة من الزكوات والتطوع وغير ذلك على بنى هاشم وهم كالأغنياء فما حرم على الأغنياء من الصدقة فهى على بنى هاشم حرام فقراء كانوا أو أغنياء وكل ما يحل للأغنياء من غير بنى هاشم فهو حلال لبنى هاشم فقرائهم وأغنيائهم وليس على أهل هذه المقالة عندنا حجة في الحديث الأول لأنه يجوز أن يكون ما تصدق به النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك على أرامل بنى عبد المطلب لم يجعله من جهة الصدقة التي تحرم على بنى هاشم في قول من يحرمها عليهم ولكن جعلها من جهة الصدقة التي تحل لهم فانا قد رأينا الأغنياء من غير بنى هاشم قد يتصدق الرجل فكان ما يحرم عليه بماله من الصدقات هو الزكوات والكفارات والصدقات التي يتقرب بها الى الله تعالى فأما الصدقات التي يراد بها طريق الهبات وإن سميت صدقات فلا فكذلك بنو هاشم حرم عليهم لقرابتهم من الصدقات مثل ما حرم على الأغنياء بأموالهم فأما ما كان لا يحرم على الأغنياء بأموالهم فإنه لا يحرم على بنى هاشم بقرابتهم فلهذا جعلنا ما كان تصدق به رسول الله صلى الله عليه و سلم على أراملهم من جهة الهبات وإن سمى ذلك صدقة وهذا الذي ينبغي أن يحمل تأويل ذلك الحديث الأول عليه لأنه قد روى عن بن عباس رضي الله عنهما ما قد حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سعيد وحماد ابنا زيد عن أبى جهضم موسى بن سالم عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس رضي الله عنهم قال دخلنا على بن عباس رضي الله عنهما فقال ما اختصنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء دون الناس إلا بثلاث أشياء إسباغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزى الحمر على الخيل

عبید اللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے انہوں نے کہا ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے ساتھ باقی لوگوں میں سے خاص کیا ہے کامل طور پر وضو کر نا صدقہ نہ کھانا گدھے کی جفتی گھوڑے پر نہ کرائیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں چنانچہ انہوں نے بنی ہاشم کے لیے صدقات کو مباح قرار دیا ہے ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا زکاۃ اور نفلی صدقات بنی ہاشم پر درست نہیں وہ مالداروں کی طرح ہیں جو مالداروں پر حرام وہی ان پر بھی حرام ہے خواہ بنو ہاشم تنگ دست ہوں یا مالدار اور ہر وہ چیز جو بنی ہاشم کے علاوہ مالداروں کے لیے درست ہے وہ بنی ہاشم کے فقراء واغنیاء سب پر حلال ہے ہمارے نزدیک اس قول کےقائلین کے لیے اس روایت میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بنی عبداعطلب کی بیوہ عورتوں کو صدقہ دیا ہو اس صدقے کے طور پر نہ دیا ہو جو بنی ہاشم پر حرام ہے بقول ان لوگوں کے جو ان پر حرام قرار دیتے ہیں ۔ بلکہ اس صدقہ کے طور پر دیا ہو جو ان ک لیے حلال ہے ۔ اس لیے کہ ہم غیر نبی ہاشم کے مالداروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بعض دوسروں کو اپنا مکان یا غلام صدقہ کر دیتے ہیں پس یہ اس لینے والے کے لیے جائز و حلال ہے اور یہ چیز اس پر اس کے مال کو حرام نہیں کرتا ۔ اس کا وہ مال جو اس پر حرام ہے وہ صدقات زکوفتہ کفارات اور ایسے صدقات تقرب الیٰ اللہ کے لیے دیے جاتے ہیں رہے ایسے صدقات جن سے مقصود ہبہ کرنا ہو خواہ اس کو صدقے کا نام بھی دے دیا جائے وہ حرام نہیں ہوتا بعینہ بہی صورت بنو ہاشم کے سلسلہ میں ہے کہ ان پر قرابت کی وجہ سے صدقات اسی طرح حرام ہیں جیسا اغنیاء پر ان کے مال کے پائے جانے کی صورت میں ہے ۔ رہے وہ صدقات جو اغنیاء پر ان کے مالوں کی موجودگی میں حرام نہیں وہ بنی ہاشم پر بھی قرابت کی وجہ سے حرام نہیں اسی وجہ سے ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقہ کو جو آپ نے بیوگان پر کیا ہبہ کی مدد سے شمار کرتے اگرچہ نام اس کا صدقہ رکھا گیا ہے اور اس حدیث اول کی یہ تاویل مناسب ہے کیو نکہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس طرح نقل کی گئی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2882

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2883

2723 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن أبى جهضم فذكر بإسناده مثله

حماد بن زید نے ابو جہضم سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبى جهضم فذكر بإسناده مثله ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2883

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2884

2724 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عمر الحوضى قال ثنا مرجا بن رجاء عن أبى جهضم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فهذا بن عباس يخبر في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اختصهم أن لا يأكلوا الصدقة فليس يخلو الحديث الأول من أن يكون على ما ذكرنا في الفصل الأول فيكون ما أباح لهم فيه غير ما حرم عليهم في هذا الحديث الثاني ويكون معنى كل واحد منهما على ما ذكرنا أو يكون الحديث الأول يبيح ما منع منه هذا الحديث الثاني فيكون هذا الحديث الثاني ناسخا له لأن عبد الله بن عباس يخبر فيه بعد موت النبي صلى الله عليه و سلم أنهم مخصوصون به دون الناس فلا يجوز أن يكون ذلك إلا وهو قائم في وقته ذلك فان احتج محتج في إباحة الصدقة عليهم بصدقات رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ما

مرجی بن رجاء نے ابو جہضم سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس روایت میں خبر دے رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بات کے ساتھ خاص کیا کہ وہ صدقہ نہ کھائیں پس پہلی روایت اس سے خالی نہیں کہ اس کا معنی وہ کیا جائے جو ہم نے فصل اول میں بیان کیا تو اس صورت میں جس چیز کو ان کے مباح کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جو ان کے لیے اس دوسری روایت ذکر کی گئی اور ہر روایت کا مفہوم اپنے اپنے مقام پر درست رہا ۔ یا پھر اس طرح کہا جائے کہ اول روایت میں اس صدقے کو مباح قرار دیا جب کہ اس دوسری روایت سے روک دیا پھر اس طرح کہ جائے کہ اول روایت میں اس صدقے کو مباح قرار دیا جائے جب کہ اس دوسری روایت سے روک دیا پس اس صورت میں یہ ناسخ ہو گی کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد بتلا رہے ہیں کہ ہم بنی ہاشم کے لیے دوسروں کو چھوڑ کر یہ چیز خاص کی گئی اور یہ اسی صورت میں تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ ان کے زمانہ میں قائم و موجود ہو اگر کوئی معترض صدقہ کے مباح ہونے کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات کو دلیل بناتے اور ان روایات کو پیش کرے۔

أبو جعفر فهذا بن عباس يخبر في هذا الحديث ← أبى جهضم فذكر بإسناده مثله ← مَرْجَا بْنُ رَجَاءٍ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2884

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2885

2725 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن بن شهاب عن عروة بن الزبير أن عائشة رضي الله عنها أخبرته أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم أرسلت الى أبى بكر رضي الله عنه تسأله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما أفاء الله على رسول الله صلى الله عليه و سلم وفاطمة حينئذ تطلب صدقة رسول فقال أبو بكر رضي الله عنه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنا لا نورث ما تركنا صدقة إنما يأكل آل محمد في هذا المال وإني والله لا أغير شيئا من صدقة رسول الله صلى الله عليه و سلم عن حالها التي كانت عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولأعملن في ذلك بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم

عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی وارثت مانگ رہی تھی جو کہ مال فئی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ مال جو مدینہ اور فدک اور خمس خیبر سے بچا تھا وہ مانگ رہی تھیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وارث نہیں بنائے جاتے جو مال ہم چھوڑ تے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مال میں خرچہ ملے گا میں اللہ کی قسم ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات کو ان کی اس حالت سے نہ بد لوں گا جس حالت میں وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے اور ان کے متعلق میں وہ عمل جاری رکھوں گا جو ان میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2885

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2886

2726 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبى داود قالا ثنا عبد الله بن صالح ح

ابن مرزوق اور ابو داؤ دونوں نے عبداللہ بن صالح سے نقل کیا ۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2886

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2887

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قالا ثنا الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

لیث کہتے ہیں کہ مجھے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← وحدثنا روح بن الفرج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2887

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2888

2727 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن مهدى قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهرى قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان النضرى قال أرسل الى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال انه قد حضر المدينة أهل أبيات من قومك وقد أمرنا لهم برضخ فاقسمه فيهم فبينا أنا كذلك إذ جاءه يرفأ فقال هذا عثمان وعبد الرحمن وسعد والزبير ولا أدرى أذكر طلحة أم لا يستأذنون عليك فقال ايذن لهم قال ثم مكثنا ساعة فقال هذا العباس وعلى رضي الله عنهما يستأذنان عليك فقال ايذن لهما فلما دخل العباس قال يا أمير المؤمنين اقض بيني وبين هذا الرجل وهما حينئذ فيما أفاء الله على رسول الله صلى الله عليه و سلم من أموال بنى النضير فقال القوم اقض بينهما يا أمير المؤمنين وأرح كل واحد منهما من صاحبه فقال عمر رضي الله عنه أنشدكم الله أي أسألكم بالله الذي بإذنه تقوم السماوات والأرض أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا نورث ما تركنا صدقة قالوا قد قال ذلك ثم قال لهما مثل ذلك فقالا نعم قال فإني سأخبركم عن هذا الفيء إن الله عز و جل خص نبيه صلى الله عليه و سلم بشيء لم يعطه غيره فقال ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب فكانت هذه لرسول الله صلى الله عليه و سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم بينكم وبثها فيكم حتى بقي منها هذا المال فكان ينفق منه على أهله رزق سنة ثم يجمع ما بقى منه فجمع مال الله عز و جل فلما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو بكر أنا ولى رسول الله بعده أعمل فيها بما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعمل ثم ذكر الحديث

معمر نے زہری سے انہوں نے مالک بن اوس بن اوس بن حدثان نضری سے وہ کہتے ہیں کہ مجھےعمر رضی اللہ عنہ نے بلوایا اور فرمایا مدینہ منورہ میں تمہاری قوم کے کچھ لوگ آئے ہیں ہم نے ان کو کچھ عطیہ دیا ہے وہ تم ان میں تقسیم کر دو اسی دوران یر فا ء آگیا اور اس نے کہا یہ عثمان ، عبدالرحمن ، سعد ۔ زبیر رحمۃ اللہ علیہم اور مجھے یاد نہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا یا نہیں وہ آپ کے پاس داخلے کی اجازت چاہ رہے ہیں آپ نے فرمایا ان کو اجازت ہے راوی کہتا ہے پھر ہم کچھ دیر ٹھہرنے پائے تھے تو یرفاء نے کہا یہ عباس رضی اللہ عنہ و علی رضی اللہ عنہ آپ کے ہاں آنے کی اجازت چاہتے ہیں آپ نے فرمایا انہیں اجازت دے دو جب عباس رضی اللہ عنہ آئے تو کہنے لگے اے امیر المومنین ! میرے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ کیجئے وہ اس وقت دونوں ، بنی نضیر کے اموال فئی پر نگران مقرر تھے دوسرے حضرات نے بھی کہا ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں اور رضا مندی کرادیں عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم وارث نہیں بنائے جاتے جوہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ان سب نے کہا واقعی آپ نے یہ بات فرمائی ہے پھر خاص طور پر ان دونوں کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا ان دونوں نے بھی اس کا اقرار کیا پھر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز سے خاص کیا ہے جو اس نے اور کسی کو نہیں دی فرمایا ( ما افا ء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب) (الحشر 9) اور وہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور مال فئی دے دیا تم نے اس پر گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں ۔ پس یہ مال خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئے آپ نے ان اموال کو تمہیں چھوڑ کر جمع نہیں کیا اور نہ اپنے کو تم پر ترجیح دی بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے درمیان تقسیم کیا اور تم میں بھیجا اور پھیلا یا یہاں تک کہ اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا آپ اس میں سے اپنے اہل پر سال کے دوران خرچ کرتے پھر جو بچ جاتا وہ جمع کر دیتے وہ اللہ تعالیٰ کا مال جمع ہوتا (یعنی بیت المال میں جمع کر دیتے ) جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جناب رسول اللہ کا ان اموال میں نائب وولی ہوں میں ان میں وہی کروں گا جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے پھر روایت اسی طرح ذکر کیا۔

أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّضْرِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2888

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2889

2728 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان قال ثنا عمرو بن دينار عن بن شهاب فذكر مثله بإسناده وأثبت أن طلحة كان في القوم ولم يقل وبثها فيكم

عمرو بن دینار نے ابن شہاب سے نقل کیا پھر اسناد سے اسی طرح روایت کی البتہ فرق یہ ہے کہ طلحہ کو آنے والوں میں ثابت کیا اور بنھا فیکم کے لفظ نہیں کہے ۔

بن شِهَابٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2889

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2890

2729 - حدثنا يزيد بن سنان وأبو أمية قالا ثنا بشر بن عمر قال ثنا مالك بن أنس عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله وقال فكان ينفق منها على أهله

مالک بن انس نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی التبہ ( فکان ینق منھا علی اھلہ کے الفاظ مختلف ہیں ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله وقال فكان ينفق منها على أهله ← مالک بن أنس ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← يزيد بن سنان وأبو أمية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2890

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2891

2730 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو شهاب عن سفيان وورقا عن أبى الزناد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تقسم ورثتى دينارا ما تركت بعد نفقة أهلي ومؤنة عاملى فهو صدقة قالوا ففي حديث أبى هريرة رضي الله عنه هذا ما يدل على أنها كانت صدقات في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم لقوله بعد مؤنة عاملى وعامله لا يكون إلا وهو حي قالوا ففي هذه الآثار ما قد دل على أن الصدقة لبنى هاشم حلال لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأهله وفيهم فاطمة بنته قد كانوا يأكلون من هذه الصدقة في حياة رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل ذلك على إباحة سائر الصدقات لهم فالحجة عليهم في ذلك أن تلك الصدقة كصدقات الأوقاف وقد رأينا ذلك يحل للأغنياء ألا ترى أن رجلا لو أوقف داره على رجل غنى أن ذلك جائز ولا يمنعه ذلك غناه وحكم ذلك خلاف حكم سائر الصدقات من الزكوات والكفارات وما يتقرب به الى الله عز و جل فكذلك من كان من بنى هاشم ذلك لهم حلال وحكمه خلاف حكم سائر الصدقات التي قد ذكرنا ثم قد جاءت بعد هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم متواترة بتحريم الصدقة على بنى هاشم فمما جاء في ذلك ما

عبدالرحمن الاعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری وراثت دینار کی صورت میں تقسیم نہ ہوگی میرے ہال و عیال کے خرچہ اور میرے گھریلو کام کرنے والوں کی اعانت کے علاوہ صدقہ ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ وہ اموال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صدقات تھے اس لیے کہ اس روایت میں آپ کا ارشا د" بعد ہونۃ علملی" موجود ہے اور آپ کا عامل ہونا وہ آپ کی حیات مبارک ہی میں ہو سکت اہے ۔ ان آثار میں ایسی دلالت ملتی ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صدقات بنی ہاشم کے لیے حلال ہے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل اور ان میں آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ہے وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس صدقہ سے کھاتے تھے ۔ تو اس سے یہ صدقہ صدقات اوقات کی طرح ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ مالدار وں کے لیے بھی حلال ہیں ۔ کیا تم نہں جانتے کہ اگر ایک آدمی اپنا مکان ایک غنی پر وقف کر دیا تو یہ جائز ہے اور اس کا غناء اس کے استعمال سے مانع نہ بنے گا اور اس کا حکم تمام صدقات جو زکوۃ و کفارات اور وہ صدقات جو تقرب الی اللہ کے لیے یدے جائیں ان سے مختلف ہے ۔ پس اسی طرح جو شخص بنی ہاشم سے ہو اس کے لیے حلال ہے اور اس کا حکم دیگر صدقات سے الگ ہے جن کا ہم نے تذکرہ کیا ۔ پھر اس کے بعد جناب ہاشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبی ہاشم کے لیے صدقہ کی حرمت ثابت ہے۔ ذیل میں وہ درج ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سفيان وورقا ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2891

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2892

2731 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن يزيد بن أبى مريم عن أبى الجوزاء السعدي قال قلت للحسن بن على ما تحفظ من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أذكر انى أخذت تمرة من تمر الصدقة فجعلتها في في فأخرجها رسول الله صلى الله عليه و سلم بلعابها فألقاها في التمر قال رجل يا رسول الله ما عليك في هذه التمرة لهذا الصبي قال انا ۔ آل محمد۔ لا یحل لنا الصدقۃ

ابو الجوزاء اسعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کہا تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے تو وہ کہنے لگے مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور کو منہ میں ڈال لیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لعاب سمیت نکال کر پھینک دیا ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے اس ایک کھجور کھانے سے آپ پر گناہ تھا ؟ آپ نے فرمایا ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے ۔

أبى الجوزاء السعدي ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2892

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter