Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4253

4013 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن قالا ثنا عبد الله بن يزيد المقري قال ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة عن عائشة قالت حدثتني جدامة قالت ذكر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم العزل فقال ذلك الوأد الخفي

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجھے حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ خفی زندہ درگور کرنا ہے ۔

ذلك الوأد الخفي ← عند رسول الله صلى الله عليه و سلم العزل ← حدثتني جدامة ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4253

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4254

4014 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا يحيى بن أيوب قال أخبرني أبو الأسود قال ثنا عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب الأسدية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جدامہ بنت وہب ادیہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4254

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4255

4015 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال قال أخبرنا حيوة عن أبي الأسود أنه سمع عروة يحدث عن عائشة عن جدامة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فكره قوم العزل لهذا الأثر المروي في كراهة ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا به بأسا إذا أذنت الحرة لزوجها فيه فإن منعته من ذلك لم يسعه أن يعزل عنها وقد خالفهم في هذا قوم آخرون فقالوا له أن يعزل عنها إن شاءت أو أبت والقول الأول في هذا عندنا أصح القولين وذلك أنا رأينا الزوج له أن يأخذ المرأة بأن يجامعها وإن كرهت ذلك وله أن يأخذها بأن يفضي إليها ولا يعزل عنها فكان له أن يأخذها بأن يفضي إليها في جماعه إياها كما يأخذها بأن يجامعها وكان للمرأة أن تأخذ زوجها بأن يجامعها فكان لها أن تأخذه بأن يفضي إليها كما له أن يأخذها بأن يجامعها وأن يفضي إليها وكان حق كل واحد منهما في ذلك على صاحبه سواء وكان من حقه أن يفضي إليها في جماعها إن أحبب وإن هرت أي كرهت هي ذلك فالنظر على ما ذكرنا أن يكون كذلك من حقها هي أيضا عليه أن يفضي إليها في جماعه إياها إن أحب ذلك وإن كره وهذا هو النظر في هذا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وللمولى في قولهم جميعا عند من كره العزل أصلا أن يجامع أمته ويعزل عنها في جماعه ولا يستأذنها في ذلك وإن كانت لرجل زوجة مملوكة فأرادت أن يعزل عنها فإن أبا حنيفة وأبا يوسف ومحمدا رحمة الله عليهم كانوا يقولون في ذلك فيما حدثني محمد بن العباس عن علي بن معبد عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن أبي حنيفة رحمة الله عليهم أن الإذن في ذلك إلى مولى الأمة وقد روي عن أبي يوسف خلاف هذا القول

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ بعض لوگوں نے اس اثر کی وجہ سے عزل کومکروہ قرار دیا ہے۔ دوسری جماعت کا قول یہ ہے کہ اس میں کچھ کراہت نہیں جبکہ وہ اپنے خاوند کو اجازت دے اور اگر عورت اس سے منع کرے تو وہ عزل نہیں کر سکتا۔ عورت چاہے یانہ چاہے بہر صورت خاوند کو عزل کا حق حاصل ہے۔ ہمارے ہاں قول اول زیادہ درست ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کوحق حاصل ہے کہ وہ جماع کے لئے زبردستی کرے۔ اگر چہ عورت اس بات کو نا پسند کرے اور خاوند کو یہ بھی اختیار ہے کہ اسے انزال کے لئے زبردستی کرے اور اس سے انزال کے وقت الگ نہ ہوتو جب خاوند کو جماع کی صورت میں جبرا انزال کا حق ہے جس طرح کہ وہ جماع کے سلسلہ میں اسے قابو کرسکتا ہے اور عورت بھی جماع کے لئے خاوندکو زبردستی پڑسکتی ہے اس کو بھی اختیار ہے کہ خاوند کو اپنے (اندر ) انزال پر مجبور کرے جیسا کہ اس کو جماع پر مجبور کرسکتی ہے جب دونوں کا حق ایک دوسرے پر برابر ہے خاوند کا حق ہے کہ وہ جماع کی صورت میں عورت تک پہنچ (قربت کرے) خواہ عورت پسند کرے یانا پسند ۔ گز شتہ بات پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کا بھی اسی طرح ہے کہ خاوند جماع کرتے ہوئے اس تک پہنچے (رحم میں منی پہنچائے) مردخواه اس بات کو پسند کرے یا ناپسند۔ اس سلسلہ میں قیاس یہی ہے اور امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ لونڈی کے سلسلہ میں حکم: مالک کو اپنی لونڈی کے سلسلہ میں تمام ائمہ کے ہاں عزل کرنا درست ہے جو حرہ کے متعلق عزل کو مکروہ قرار دیتے ہیں یہاں وہ بھی درست قرار دیتے ہیں ان میں لونڈی سے اجازت قطعاً ضروری نہیں۔ اگر کسی شخص کی بیوی کسی دوسرے کی مملوکہ ہو اور وہ خاوند اس سے عزل کرنا چاہتا ہو تو اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول علی بن حسن کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ امام ابو یوسف ، ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ آقا سے اذن کو ضروری قرار دیتے ہیں اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4255

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4256

4017 - حدثني بن أبي عمران قال حدثني محمد بن شجاع عن الحسن بن زياد عن أبي يوسف رحمة الله عليهم قال الإذن في ذلك إلى الأمة لا إلى مولاها قال بن أبي عمران هذا هو النظر على أصول ما بني عليه هذا الباب لأنها لو أباحت زوجها ترك جماعها كان من ذلك في سعة ولم يكن لمولاها أن يأخذ زوجها بأن يجامعها فلما كان الجماع الواجب على زوجها إليها أخذ زوجها به لا إلى مولاها كان ذلك الإفضاء في ذلك الجماع الأخذ به إليها لا إلى مولاها فهذا هو النظر في هذا وأنكر هؤلاء جميعا الذين أباحوا العزل ما في حديث جدامة مما روته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله فيه إنه الوأد الخفي ورووا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنكار ذلك القول على من قاله وذكروا في ذلك ما

حسن بن زیادہ نے اب و یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ اس سلسلہ میں لونڈی کو اختیار ہو گا آقا کو اختیار نہ ہو گا۔ ابن ابی عمران کہتے ہیں کہ جن اصولوں پر اس باب کی بنیاد ہے اس میں نظر کا تقاضا یہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنے خاوند کے لئے ترک جماع کو مباح کر دیا تو یہ اس کو اختیار ہے اس کے مالک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے خاوند کو اس کے جماع پر مجبور کرے۔ پس جبکہ جماع واجب کا اختیار لونڈی کو ہے کہ وہ اپنے خاوند کو زبردستی اس کے لئے مجبور کر سکتی ہے تو آقا کو اختیار نہیں کہ اس جماع میں انزال کرانے کے لئے خاوند کو پکڑے اور مجبور کرنے کا اختیار لونڈی کو ہے اس کے مالک کو نہیں ۔ تقاضائے نظر تو اس سلسلہ میں یہی ہے ان تمام حضرات نے جنہوں نے عزل کو جائز قرار دیا انہوں نے حضرت جدامہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے الفاظ جو انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کئے ہیں کہ یہ مخفی زندہ درگور کرنا ہے اس قول کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس سلسلہ میں یہ روایت نقل کی ہے ۔

الإذن في ذلك إلى الأمة لا إلى مولاها ← أبي يوسف عليهم ← الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4256

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4257

4018 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام بن أبي عبد الله ح

ابو داؤد نے ہشام بن ابی عبداللہ سے روایت کی ۔

هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4257

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4258

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن عن أبي رفاعة عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه رجل فقال يا رسول الله إن عندي جارية وأنا أعزل عنها وأنا أكره أن تحمل وأشتهي ما يشتهي الرجال وإن اليهود يقولون هي الموؤودة الصغرى فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم كذبت يهود لو أن الله أراد أن يخلقه لم تستطع أن تصرفه

ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر انہون نے محمد بن عبدالرحمن انہوں نے ابو رفاعہ سے انہوں نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں کیونکہ مجھے اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں اور میں اس سے وہی کچھ چاہتا ہوں جو دوسرے مرد عورت سے چاہتے ہیں ( یعنی جماع ) اور یہودی کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا زندہ درگور ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی بچے کو پیدا کرنا چاہے تو تم اس کو روک نہیں سکتے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي رفاعة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4258

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4259

4019 - حدثنا بن مرزوق قال حدثنا هارون بن إسماعيل قال ثنا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن عن أبي مطيع بن رفاعة عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو مطیع بن رفاعہ نے ابو سعید خدری رحمتہ اللہ علیہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4259

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4260

4020 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عياش بن عقبة الحضري عن موسى بن وردان عن أبي سعيد الخدري قال بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم يقولون إن العزل هو الموؤودة الصغرى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كذبت يهود ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو أفضيت لم يكن إلا بقدر

موسیٰ بن وزدان نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ یہود عزل کو چھوٹا زندہ درگور کہتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں اور آپ ﷺ نے مزید یہ بات فرمائی اگر تم عورت تک پہنچ بھی جاؤ تو وہی ہو گا جو تقدیر میں ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← عياش بن عقبة الحضري ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4260

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4261

4021 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عياش الرقام قال ثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي أمامة بن سهل عن أبي سعيد الخدري قال أقمت جارية لي بسوق بني قينقاع فمر بي يهودي فقال ما هذه الجارية قلت جارية لي قال أكنت تصيبها قلت نعم قال فلعل في بطنها منك سخلة قال قلت إني كنت أعزل عنها قال تلك الموؤودة الصغرى فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال كذبت يهود كذبت يهود فهذا أبو سعيد رضي الله عنه قد حكى عن النبي صلى الله عليه و سلم إكذاب من زعم أن العزل موؤودة ثم قد روي عن علي رضي الله عنه رفع ذلك والتنبيه على فساده بمعنى لطيف حسن

ابو سلمہ بن سہل نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں بنو قیتقاع کے بازار میں اپنی لونڈی کے ساتھ مقیم تھا میرے پاس ایک یہودی آیا اس نے کہا یہ لونڈی کون ہے ؟ میں نے کہا یہ میری لونڈی ہے اس نے کہا کیا تم اس سے جماع کرتے ہو میں نے کہا ہاں اس نے کہا شاید اس کے پیٹ میں تمہارا بچہ ہو گا میں نے کہا میں تو اس سے عزل کرتا ہوں یہودی کہنے لگا یہ تو چھوٹے قسم کا زندہ درگور کرنا ہے ابو سعید کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی خدمت میں یہ بات پیش کی آپ نے فرمایا یہودی نے جھوٹ بولا ہے یہودی نے جھوٹ بولا ہے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ خدری جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کر رہے ہیں کہ عزل کو زندہ درگور کہنے والا کذاب ہےکذاب ہے ۔ پھر اس سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد اس قول کی غلطی پر خوبصورت انداز سے شاندار تنبیہ ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عياش الرقام ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4261

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4262

4022 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث قال حدثني معمر بن أبي حبيبة عن عبد الله بن عدي بن الخيار قال تذاكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عند عمر العزل فأختلفوا فيه فقال عمر قد اختلفتم وأنتم أهل بدر الأخيار فكيف بالناس بعدكم إذ تناجى رجلان فقال عمر ما هذه المناجاة قال إن اليهود تزعم أنها الموؤودة الصغرى فقال علي إنها لا تكون موؤودة حتى تمر بالتارات السبع ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من طين إلى آخر الآية

معمر بن ابی حبیبہ نے عبداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عزل کے مسئلہ میں باہم گفتگو کی تو ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اختلاف کرتے ہو حالانکہ تم منتخب شدہ اہل بدر ہو تمہارے بعد والے لوگوں کا اس سلسلہ میں کیا حال ہو گا اس دوران دو آدمی باہمی سرگوشی کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سر گوشی کیا ہے ؟ کسی نے کہا یہود کا خیال یہ ہے کہ یہ چھوٹے قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ زندہ درگور کرنا نہیں یہاں تک کہ تم سات باروں سے گزر جاؤ اور آپ نے استشہاد میں یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین سورۃ المؤمنون 12 سے آیت کے اخر تک ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ زندہ درگور وہاں ہوتا ہے جہاں پہلے سے روح پھونکی جا چکی ہو اور اس سے پہلے پہلے جب تک اس میں روح پھونکی نہیں جاتی وہ بے جان ہے زندہ درگور نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مشابہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول بھی موجود ہے ۔

عبد الله بن عدي بن الخيار ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4262

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4263

4023 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن يزيد المقري قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي حبيبة قال سمعت عبيد بن رفاعة الأنصاري قال تذاكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم العزل ثم ذكر مثله فتعجب عمر من قوله وقال جزاك الله خيرا فأخبر علي رضي الله عنه أنه لا موؤودة إلا ما قد نفخ فيه الروح قبل ذلك وأما ما لم ينفخ فيه الروح فإنما هو موات غير موؤودة وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما أيضا نظير ما ذكرناه عن علي رضي الله عنه

معمر بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عبید بن رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے عزل کے متعلق باہمی مذاکرہ کیا پھر انہوں نے پہلی روایت کی طرح نقل کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی بات کو بہت پسند کیا اور فرمایا جزاک اللہ تعالیٰ ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ زندہ درگور وہاں ہوتا ہے جہاں پہلے سے روح پھونکی جا چکی ہو اور اس سے پہلے پہلے جب تک اس میں روح پھونکی نہیں جاتی وہ بے جان ہے زندہ درگور نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مشابہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول بھی موجود ہے ۔

عبيد بن رفاعة الأنصاري ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4263

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4264

4024 - حدثنا أبو بكرة قال أخبرنا سفيان قال ثنا الأعمش عن أبي الوداك أن قوما سألوا بن عباس عن العزل فذكر مثل كلام علي سواء فهذا علي وابن عباس رضي الله عنهم قد اجتمعا في هذا على ما ذكرنا وتابع عليا على ما قال من ذلك عمر رضي الله عنهما ومن كان بحضرتهما من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ففي هذا دليل على أن العزل غير مكروه من هذه الجهة وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في العزل أيضا ما

ابو الوداک سے مروی ہے کہ ایک گروہ نے جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عزل کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کلام کی مثل بات فرمائی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جن کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے جو ہم نے ذکر کیا اور جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت وہاں موجود تھے اس کی اتباع و پیروی کی ۔ پس اس سے اس بات کی واضح دلیل مل گئی کہ عزل اس اعتبار سے مکروہ نہیں ہے ۔ اس سلسلہ کی دیگر روایات بھی عزل کے سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں وہ ملاحظہ ہوں۔

الْعَزْل ← أبي الوداك أن قوما سألوا بن عباس ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4264

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter