Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4933

4663 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس قال أخبرنا سفيان ح وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أسباط عن مطرف بن طريف عن الشعبي عن أبي جحيفة قال سألت عليا هل عندكم من رسول الله صلى الله عليه و سلم سوى القرآن فقال والذي فلق الحبة وبرأ النسمة ما عندنا من رسول الله صلى الله عليه و سلم سوى القرآن وما في هذه الصحيفة قال قلت وما في هذه الصحيفة قال العقل وفكاك الأسير وأن لا يقتل مسلم بكافر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المسلم إذا قتل الكافر متعمدا لم يقتل به واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يقتل به وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الكلام الذي حكاه أبو جحيفة في هذا الحديث عن علي رضي الله عنه لم يكن منفردا ولو كان منفردا لاحتمل ما قالوا ولكنه كان موصولا بغيره

شعبی نے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پوچھا کیا تمہارے پاس جناب رسول اللہﷺ کی طرف سے قرآن مجید کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے ۔تو انہوں نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہےجس نے دانے کو چیرا (اور اس سے نباتات نکالی )اور جاندار کو بنایا ہمارے پاس جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوائے قرآن مجید کے کوئی چیز نہیں اور وہ جو اس صحیفہ میں ہے میں نے کہا اس صحیفہ میں کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا دیت اور قیدی کو چھڑانے کے احکام اور اس کے احکام کہ کسی مومن کو کافر کت بدلے قتل نہ کیا جائے گا ۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← أَسْبَاطٍ ← أسد ← ربيع المؤذن ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4933

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4934

4664 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن بن أبي عروبة قال ثنا قتادة عن الحسن عن قيس بن عباد قال انطلقت أنا والأشتر إلى علي فقلنا هل عهد إليك رسول الله صلى الله عليه و سلم عهدا لم يعهده إلى الناس عامة قال لا إلا ما كان في كتابي هذا فأخرج كتابا من قراب سيفه فإذا فيه المؤمنون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده ومن أحدث حدثا فعلى نفسه ومن أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين فهذا هو حديث علي رضي الله عنه بتمامه والذي فيه من نفى قتل المؤمن بالكافر هو قوله لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده فاستحال أن يكون معناه على ما حمله عليه أهل المقالة الأولى لأنه لو كان معناه على ما ذكروا لكان ذلك لحنا ورسول الله صلى الله عليه و سلم أبعد الناس من ذلك ولكان لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذي عهد في عهده فلما لم يكن لفظه كذلك وإنما هو ولا ذو عهد في عهده علمنا بذلك أن ذا العهد هو المعنى بالقصاص فصار ذلك كقوله لا يقتل مؤمن ولا ذو عهد في عهده بكافر وقد علمنا أن ذا العهد كافر فدل ذلك أن الكافر الذي منع النبي صلى الله عليه و سلم أن يقتل به المؤمن في هذا الحديث هو الكافر الذي لا عهد له فهذا مما لا اختلاف فيه بين المؤمنين أن المؤمن لا يقتل بالكافر الحربي وأن ذا العهد الكافر الذي قد صار له ذمة لا يقتل به أيضا وقد نجد مثل هذا كثيرا في القرآن قال الله تعالى واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن إرتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن فكان معنى ذلك واللائي يئسن من المحيض واللائي لم يحضن إن إرتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر فقدم وأخر فكذلك قوله لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده إنما مراده فيه والله أعلم لا يقتل مؤمن ولا ذو عهد في عهده بكافر فقدم وأخر فالكافر الذي منع أن يقتل به المؤمن هو الكافر غير المعاهد فإن قال قائل قوله ولا ذو عهد في عهده إنما معناه لا يقتل مؤمن بكافر فانقطع الكلام ثم قال ولا ذو عهد في عهده كلاما مستأنفا أي ولا يقتل المعاهد في عهده فكان من حجتنا عليه أن هذا الحديث إنما جرى في الدماء المسفوك بعضها ببعض لأنه قال المسلمون يد على من سواهم تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم ثم قال لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده فإنما أجرى الكلام على الدماء التي تؤخذ قصاصا ولم يجر على حرمة دم بعهد فيحمل الحديث على ذلك فهذا وجه وحجة أخرى أن هذا الحديث إنما روي عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ولا نعلم أنه روي عن غيره من طريق صحيح فهو كان أعلم بتأويله وتأويله فيه إذ كان محتملا عندكم يحتمل هذين المعنيين الذين ذكرتم دليل على أن معناه في الحقيقة هو ما تأوله عليه

قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں اور اشتر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور پوچھا کہ کیا جناب رسول اللہﷺ نے آپ سے کوئی عودہپ لیا ہے جو عام لوگوں سے نہ لیا گیا ہو ۔انہوں نے فرمایا نہیں مگر وہ جو میری اس کتاب میں ہے پھر انہوں نےاپنی تلوار کی نیامسے ایک کتاب (لکھی تحریر) نکالی جس میں تحریر تھا کہ ایمان والوں کے خون باہم برابر ہیں اور ان کے عہد کےلئے ادنی مسلمان بھی کوشش کرسکتا ہے ۔مسلمان کفار کے خلاف ایک قوت ہیں ۔مومن کوکافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اورنی کسی معاہدے وقالے کو معاہدے کے دوران قتل کیا جائے ۔جس نے دین میں کوئی نئی بات نکالی (جس کی دین میں اصل نہیں ) تو اس کا وبال اسی پر ہوگا اور جس نے کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ تعالی فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔تفصیلی روایت یہ ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جس ارشاد میں کافر کے بدلے مومن کے قتل کی نفی ہے وہ آپ کا یہ ارشاد ہے ۔لایقتل مومن بکافر ولا ذو عھدفی عھدہ اب ان الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے اس روایت کا وہ معنی مراد لینا محال و ناممکن ہے کیونکہ اگروہ معنی ہو جو فریق اول نے ذکر کیا تو یہ بات غلط ثابت ہو گی حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ اس سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور تھے ۔پھر عبارت اس طرح ہوتی ۔ یقتل مومن بکافر ولا ذی عھدفی عھدہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے اور نہ ہی معاہدے والے کافر کے بدلےدوران عہد قتل کیا جائے ۔جب الفاظ اس طرح نہیں ہیں بلکہ الفاظ ولا ذو عھد فی عھدہ ہیں تو اس سے ثابت ہوگیا کہ قصاص میں ذوالعہد سے مراد ذمی ہیں اب مفہوم اس طرح ہو گا ۔لایقتل مومن ولا ذو عھدفی عھدہ بکافر کہ کوئی مومن اور ذمی عہد کے دوران کافر ( حربی) کے بدلے قتل نہ کیاجائے گا اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ معاہدہ والا بھی کافر ہے تو اسسے یہ دلالت مل گئی کہ جس کافر کے بدلے میں مومن کے قتل سے منع فرمایا وہ حربی و غیرہ کا ذمی کا فر ہے اور اس پر تمام امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ کافر حربی کے قتل کے بدلے مومن کو قصاص میں قتل نہیں کیا جا سکتا رہا وہ کافر جو ذمی ہے اس کو ذمی ہونے کی وجہ سے حربی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا اور عبارت میں اس قسم کی تقدیم و تاخیر والی عبارت قرآن میں بکثرت موجود ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں ارشادالہی ہے ۔واللائی یئسن من المحیض من نساءکم ان ارتیتم فعد تھن ثلالۃاشھر واللائی لمیحضن(الطلاق4)اب اس آیت کامعنی یہ ہے واللائی لم یحیض ان ارتیتم فعد تھن ثلالۃاشھر کہ وہ عورتیں جو آئسہ ہیں اور وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آیا اگر ان کی عدت میں تمہیں شک ہو تو پھر ان کی عدت تین ماہ ہے ۔پس مقدم و موخر کیا ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے ۔ لایقتل مومن بکافر ولا ذو عھدفی عھدہ اس کا مقصد یہ ہےکہ (واللہ اعلم )کہکسی مقمن اور کسی ذمی کو اس عہد کے دوران کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے تو عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے پس جس کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے سے منع کیا اس سے مراد کافر حربی یعنی جس سے کوئی عہد و پیماں نہ ہو وہ ہےکہ ولا ذو عھد فی عھدہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لا یقتل مومن بکافر یہ کلام فرما کر کلام منقطع کر دی پھر فرمایا ولا ذو عھد فی عھدہ تو یہ جملہ مستانفہ ہے اس کا ماقبل سے تعلقنہیں ہے اب مطلب یہ ہوا کہ ولا یقتل المعاھدہ فی عھد ہ کہ کسی معاہدہ والے کو دوران عہد قتل نہ کیا جائے ۔ اس خون سے متعلق ہے جو کسی کے بدلے میں بہایا جائے کیونکہ آپ نے فرمایا مسلمانوں کو اپنے غیر پر قوت و غلبہ حاصل ہے اور ان کے عہد کو پورا کرنے کے لئے ادنی ترین بھی کوشش کرے ۔پھر فرمایا لا یقتل مومن ۔۔۔۔تو یہ کلام اس خون سے متعلق ہے جو قصاص کے طور پربہایا جا ئے اورمعاہدہ کی وجہ سے خون کی حرمت کے بارے میں یہ کلام جاری نہیں ہوا ۔فلہذا اس روایت کو اسی پر محمول کیا جائے گا ۔یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وساطت سے جناب نبی اکرمﷺسے مروی ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ صیح سند کے ساتھ کسی دوسرے صحابی سے مروی ہے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی تاویل کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کی تاویل تمہارے ہاں سن دو معانی کا احتمال رکھتی ہے جو تم نے ذکر کئے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حقیقت میں اس کا معنی وہی ہوگا جو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایہ ہے ۔(دلیل یہ روایت ہے )

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← بن أَبِي عَرُوبَةَ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4934

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4935

4665 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن [ ص 194 ] بن شهاب أنه قال أخبرني سعيد بن المسيب أن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق قال حين قتل عمر مررت على أبي لؤلؤة ومعه هرمزان فلما بغتهم ثاروا فسقط من بينهم خنجر له رأسان ممسكه في وسطه قال قلت فانظروا لعله الخنجر الذي قتل به عمر فنظروا فإذا هو الخنجر الذي وصف عبد الرحمن فانطلق عبيد الله بن عمر حين سمع ذلك من عبد الرحمن ومعه السيف حتى دعا الهرمزان فلما خرج إليه قال انطلق حتى تنظر إلى فرس لي ثم تأخر عنه إذا مضى بين يديه علاه بالسيف فلما وجد مس السيف قال لا إله إلا الله قال عبيد الله ودعوت حفينة وكان نصرانيا من نصارى الحيرة فلما خرج إلي علوته بالسيف فصلت بين عينيه ثم انطلق عبيد الله فقتل ابنة أبي لؤلؤة صغيرة تدعي الإسلام فلما إستخلف عثمان دعا المهاجرين والأنصار فقال اشيروا علي في قتل هذا الرجل الذي فتق في الدين ما فتق فأجتمع المهاجرون فيه على كلمة واحدة يأمرونه بالشدة عليه ويحثون عثمان على قتله وكان فوج الناس الأعظم مع عبيد الله يقولون لحفينة والهرمزان أبعدهما الله فكان في ذلك الاختلاف ثم قال عمرو بن العاص يا أمير المؤمنين إن هذا الأمر قد أعفاك الله من أن تكون بعد ما قد بويعت وإنما كان ذلك قبل أن يكون لك على الناس سلطان فأعرض عن عبيد الله وتفرق الناس عن خطبة عمرو بن العاص وودي الرجلين والجارية ففي هذا الحديث أن عبيد الله رضي الله عنه قتل حفينة وهو مشرك وضرب الهرمزان وهو كافر ثم كان إسلامه بعد ذلك فأشار المهاجرون رضي الله عنهم على عثمان رضي الله عنه بقتل عبيد الله وعلي فيهم فمحال أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم لا يقتل مؤمن بكافر يراد به غير الحربي ثم يشير المهاجرون وفيهم علي على عثمان بقتل عبيد الله بكافر ذي عهد ولكن معناه هو على ما ذكرنا من إرادته الكافر الذي لا ذمة له فإن قال قائل ففي هذا الحديث أن عبيد الله رضي الله عنه قتل بنتا لأبي لؤلؤة صغيرة تدعى الإسلام فيجوز أن يكون إنما إستحلوا سفك دم عبيد الله بها لا بحفينة والهرمزان قيل له في هذا الحديث ما يدل على أنه أراد قتله بحفينة والهرمزان وهو قولهم ابعدهما الله فمحال أن يكون عثمان رضي الله عنه أراد أن يقتله بغيرهما ويقول الناس له ابعدهما الله ثم لا يقول لهم إني لم أرد قتله بهذين إنما أردت قتله بالجارية ولكنه أراد قتله بهما وبالجارية ألا تراه يقول فكثر في ذلك الاختلاف فدل ذلك أن عثمان رضي الله عنه إنما أراد قتله بمن قتل وفيهم الهرمزان وحفينة فقد ثبت بما ذكرنا ما صح عليه معنى هذا الحديث أن معنى حديثه على الأول على ما وصفنا فانتفى أن يكون فيه حجة تدفع أن يقتل المسلم بالذمي وقد وافق ذلك أيضا رشده ما قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم وإن كان منقطعا

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نت بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے تو ابو لولو کے پاس سے اس حال میں گزرا کہ ہر مزان اس کے پاس تھا جب میں نے ان کا پیچھا کیا تو وہ اٹھ گئے ان کا خنجر گر پڑا جس کے دوسرے تھے اس کا دستہ درمیان میں تھا عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے کہا ، ذرا غور سے دیکھو شاید یہ وہی خنجر ہے جس کے ساتھ اس نے عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ۔ انہوں نے جب غور سے دیکھا تو وہی خنجر تھا جس کو عبدالرحمن نے بیان کیا تھا ۔جب عبیداللہ بن عمر نے یہ بات سنی تو وہ تلوار لے کر چلا یہاں تل کہ ہر مزان کو بلایا ۔جب وہ ان کی طرف نکل کر آیا تو انہوں نے کیا چلو۔ تاکہ تم میرے گھوڑے کی دیکھ بھال کرو ۔پھر اس کے پیچھے ہو لئے جب وہ ان کے سامنے چل پڑا تو تلوار سے اس پر وار کیا جب اس کو تلوار لگ گئی تو اس نے لاالہ الا اللہ پڑھا ۔اس روایت سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے حفینہ کو نصرانی ہونے کی حالت میں قتل کیا اور ہر مزان کو جب ضرب ماری تو وہ کافر تھا پھر اس کے بعد اسلام لایا تو مہاجرین جن میں علی المرتضی رضی اللہ عنہ بھی تھے کہا کہ عبید اللہ کو ان کے بدلے قتل کیا جائے ۔اب یہ بات ناممکن نظر آتی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ تو فرمائیں لایقتل مومن بکافر اور کافر سے غیر حربی کافر مراد ہو اور پھر مہاجرین رضی اللہ عنہ جنمیں خود علی رضی اللہ عنہ بھی ہوں وہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ذمی کافر کے بدلے عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ دیں ( حالانکہ لا یقتل مومن والی روایت کے راوی خود علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں )اس روایت میں مزکورہے کہ حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے ابو لولو کی چھوٹی بچی کو بھی قتل کر دیا جو اسلام کا دم بھرتی تھی ۔یہ کہنا درست ہے کہ مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عبید اللہ کے خون کا بہانا حفینہ اور ہرمزان کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لڑکی کی وجہ سے درست قرار دیا ۔اس حدیث میں ایسا قرینہ موجود ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مہاجرین رضی اللہ عنہ کا مقصود حفینہ اور ہرمزان کے بدلے قتل کرنا تھا وہ ابعد ھما اللہ کا کلمہ ہے پس یہ کہنا ممکن نہیں کہ حضرعت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے علاوہ کسی اور کے بدلے قتل کا ارادہ فرمایا ۔ جبکہ لوگ کہہ رہےہوں کہ اللہ تعالی نے ان کو دفع کر دیا پھر آپ ان کے جواب میں یہ نہیں فرماتے کہ میں تو ان دو کے بدلے میں قتل کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ لڑکی کے بدلے قتل کرنا چاہتا ہوں ۔بلکہ آپ عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو ان دو اور لڑکی کے بدلے قتل (قصاص میں)کرنا چاہتے تھے۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ آپ نے فرمایا فکثر فی ذلک الا ختلاف کہ اس میں بہت زیادہ اختلاف ہوگیا ہے ۔ تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کا ارادہ انہی مقتولین کے بدلےمیں کیا تھا جن میں ہرمزان اور حفینہ تھے ۔ مذکورہ بیان سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس حدیث کا درست مفہوم وہی ہے جو پہلے ہم نے بیان کیا اس سے اس با ت کی نفی ہو گئی کہ اس روایت میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہو جو مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کے مخالف ہو اور مفہوم کی موافقت یہ روایت بھی کر رہی ہے جو اگرچہ منقطع ہے ۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4935

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4936

4666 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن البيلماني أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى برجل من المسلمين قد قتل معاهدا من أهل الذمة فأمر به فضرب عنقه وقال أنا أولى من وفي بذمته

ربیعہ بن ابو عبدالرحمن نے عبدالرحمن بن بیلمانی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مسلمان لایا گیا جس نے ایک ذمی کو قتل کیا تھا ۔پس آپ ﷺ نے حکم دیا تو اس کی گردن اڑا دی گئی اور فرمایا جس نے ہمارے ساتھ ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے ساتھ عہد کو پورا کرنے میں زیادہ حقدار ہوں

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4936

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4937

4667 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن سلام عن محمد بن أبي حميد المدني عن محمد بن المنكدر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله والنظر عندنا شاهد لذلك أيضا وذلك أنا رأينا الحربي دمه حلال وماله حلال فإذا صار ذميا حرم دمه وماله كحرمة دم المسلم ومال المسلم ثم رأينا من سرق من مال الذمي ما يجب فيه القطع قطع كما يقطع في مال المسلم فلما كانت العقوبات في انتهاك المال الذي قد حرم بالذمة كالعقوبات في انتهاك المال الذي حرم بالإسلام كان يجئ في النظر أيضا أن تكون العقوبة في الدم الذي قد حرم بالذمة كالعقوبة في الذي قد حرم بالإسلام فإن قال قائل فإنا قد رأينا العقوبات الواجبات في انتهاك حرمة الأموال قد فرق بينهما وبين العقوبات الواجبات في انتهاك حرمة الدم وذلك أنا رأينا العبد يسرق من مال مولاه فلا يقطع ويقتل مولاه فيقتل ففرق بين ذلك فما تنكرون أيضا أن يكون قد فرق بين ما يجب في انتهاك مال الذمي ودمه قيل له هذا الذي ذكرت قد زاد ما ذهبنا إليه توكيدا لأنك ذكرت أنهم أجمعوا أن العبد لا يقطع في مال مولاه وأنه يقتل بمولاه وبعبيد مولاه فما وصفت من ذلك كما ذكرت فقد خففوا أمر المال ووكدوا أمر الدم فأوجبوا العقوبة في الدم حيث لم يوجبوها بالمال فلما ثبت توكيد أمر الدم وتخفيف أمر المال ثم رأينا مال الذمي يجب في إنتهاكه على المسلم من العقوبة كما يجب عليه في انتهاك مال المسلم كان دمه أحرى أن يكون عليه في انتهاك حرمته من العقوبة ما يكون عليه في انتهاك حرمة دم المسلم وقد أجمعوا أن ذميا لو قتل ذميا ثم أسلم القاتل أنه يقتل بالذمي الذي قتله في حال كفره ولا يبطل ذلك إسلامه فلما رأينا الإسلام الطارئ على القتل لا يبطل القتل الذي كان في حال الكفر وكانت الحدود تمامها أحدها ولا يوجد على حال لا يجب في البدء مع تلك الحال ألا ترى أن رجلا لو قتل رجلا والمقتول مرتد أنه لا يجب عليه شيء وأنه لو جرحه وهو مسلم ثم أرتد عياذا بالله فمات لم يقتل فصارت ردته التي تقدمت الجناية والتي طرأت عليها في درء القتل سواء فكان كذلك في النظر أن يكون القاتل قبل جنايته وبعد جنايته سواء ولما كان إسلامه بعد جنايته قبل أن يقتل بها لا يدفع عنه القود كان كذلك إسلامه المتقدم لجنايته لا يدفع عنه القود وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد

محمد بن ابی حمید المدنی نے محمد بن منکدر سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کیہے ۔ ہمارے ہاں قیاس بھی اسی کی تائید کرتا ہے وہ اس طرح کہ ہم دیکھتےہیں کہمحربی کافر کا خون حلال ہے اور اس کا مال بھی حلال ہے ۔جب وہ ذمی بن جاتا ہے تو اس کا مال اور جان دونوں حرام ہیں اور ان کی حرمت مسلمان کے مال و جان کی طرح ہوتی ہے پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو آدمی ذمی کا اتنا مال چوری کرے جس پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس چور کا ہاتھ اسی طرح کاٹا جائے گا جس طرح کسی مسلمان کا مال چوری کرنے سے کا ٹا جاتا ہے تو ذمی کے مال کی حرمت توڑنے میں وہی سزا ہے جو مسلمان کے مال کی حرمت توڑنے میں لازم ہے تو قیاس اسی بات کو جانتا ہے کہ ذمی کے خون کی حرمت توڑنے والے کو بھی وہی سزا ملے جو مسلمان کا خون بہانے والےکوملتی ہے ۔ مال کی حرمت توڑنے اور خون کی حرمت توڑنے میں فرق ہے وہ اس طرض کہ جب غلام اپنے مالک کے مال سے چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا اور اگر وہ اپنے مالک کو قتل کر دے تو اس کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ دونون کی سزاؤں میں فرق ہے تو پھرتم اس بات کا انکار بھی نہیں کر سکتے کہ ذمی کےمال کی حرمت توڑنے اور اس کے خون کی حرمت توڑنے کی سزا میں فرق ہے ۔ آپ کی یہ بات تو ہماری بات کی تائید مزید کر رہی ہے ۔ کیونکہ تمنے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہمالککا مال چوری کرنے پر غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا لیکن اس کو قتل کرنے کی صورت میں اسے قتل کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر وہ غلا م مالک کے غلاموں کو قتل کر دے تب بھی قتل کیا جائے گا تو بقول تمہارے انہوں نے مال کے معاملےمیں آسانی اور خون کے معاملےمیں سختی رکھی ہے چنانچہ قتل کی صورت میں سزا کو لازم قرار دیا اور چوری کے معاملے میں لازم نہیں دیا تو خون کے معاملے کی تائید اور مالی معاملے کی آسانی ثابت ہوگئی پھر ہم نے دیکھا کہ ذمی کا مال چوری کرنے میں وہی سزا ہے جو مسلمان کا مالچوری کرنے میں دی جاتی ہے تو پھر یہ بات بدرجہ اولی ثابت ہوگئی کہ ذمی کو قتل کی صورت میں وہی سزا دی جائے جو مسلمان کو قتل کرنے میں دی جاتی ہے اور اس بات پر س کا اتفاق ہے اگر کوئی ذمی کسی ذمی کو قتل کر دے پھر وہ قاتل اسلام قبول کر لے تو اس کو ذمی مقتول کے بدلےمیں قتل کیا جائے گا جس کو حالت کفر میں اس نے قتل کیا اسلام کی وجہ سے قتل کا قصاص باطل نہ ہو گا ۔ جب ہم نے دیکھا کہ قتل کےبعد والا اسلام حالت کفر میں پائے جانے والے قتل کو باطل نہیں کرتا اور تمام حدود یکساں ہیں وہ ایسی حالت میں نہیں پائی جاتیں کہ اس حالت کے ہوتے ہوئے ابتداء میںلازم نہ ہوں ۔ ذرا غورتو کرو ۔ کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کر دے اور مقتول مرتدہو تو قاتل پر کوئی چیز لازم نہ ہو گی اور وہ اگر مسلمان کو زخمی کر دے پھر وہ (خدانخواستہ )مرتد ہو کر مر جائے تو اس زخمی کرنے والے کو قتل نہ کیا جائے گا پس ثابت ہوا کہ اس کا جنایت سے پہلے مرتد ہونا اور بعد میں مرتد ہونا دونوں قصاص میں قتل کو ساقط کرنے میں برابر ہیں ۔پس قیاس کا تقاضا یہ ہےکہ جرم کرنے سے پہلے اور بعد میں قاتل کا حکم ایک جیسا ہو تو جب جنایت کے بعد اور قصاص سے پہلے اس کا مسلمانہونا اس سے قصاص کو ساقط نہیں کرتا تو اسی طرح جنایت سے پہلے کا اسلام بھی قصاص کو ساقط نہیں کرتا ۔یہ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ۔محمد رحمۃاللہ علیہ کا مسلک ہے

رأينا الحربي دمه حلال ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، ← يحيى بن سلام ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4937

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 17 باب المؤمن يقتل الكافر متعمدا ) · حديث 4938

4668 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال قتل رجل من المسلمين رجلا من العباد فذهب أخوه إلى عمر فكتب عمر أن يقتل فجعلوا يقولون أقتل جبير فيقول حتى يجئ الغيظ قال فكتب عمر أن يودى ولا يقتل فهذا عمر رضي الله عنه قد رأى أيضا أن يقتل المسلم بالكافر وكتب به إلى عامله بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم منكر فهذا عندنا منهم على المتابعة منهم له على ذلك وكتابه بعد هذا لا يقتل فيحتمل أن يكون ذلك كان منه على أنه كرة أن يبيحه دمه لما كان من وقوفه عن قتله وجعل ذلك شبهة منعه بها من القتل وجعل له ما يجعل في القتل العمد الذي تدخله شبهة وهو الدية وقد قال أهل المدينة إن المسلم إذا قتل الذمي قتل غيلة على ماله أنه يقتل به فإذأ كان هذا عندهم خارجا من قول النبي صلى الله عليه و سلم لا يقتل مسلم بكافر والنبي صلى الله عليه و سلم لم يشترط من الكفار أحدا فكما كان لهم أن يخرجوا من الكفار من أريد ماله كان لمخالفيهم أن يخرج أيضا من وجبت ذمته

عبدالملک بن میسرہ نے حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی ہے کہ ایک مسلمان نے عباد قبائل (بطون عرب کے قبائل جو نصرانی تھے )کے آدمی کو قتل کر دیا اس کا بھائی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا توآپ نے لکھا کہ اس کو قتل کیا جائے صحابہ کرام کہنے لگے۔ اے جبیر اس کو قتل کر دو ۔ تو جبیر کہنے لگے ذرا رک جاؤ یہاں تک کہ مجھے غصہ آئے ۔راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اس کی دیت دی جائے اور اس (قاتل ) کو قتل نہ کیا جائے ۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے یہی رائے دی کہ اس مسلمان کو اس کافر (ذمی) کے بدلے میں قتل کیا جائے اور یہ بات صحابہ کے سامنے لکھ بھیجی اس پر کسی ایک نے بھی انکار نہیں فرمایا اور ہمارے نزدیک یہ بات انکا متابعت کی وجہ سے تھی ۔ البتہ ان کا بعد والا خط کہجس میں (لا یقتل)لکھا تھا تو اس میں یہ احتمال ہے کہ مقتول کے قتل کی کیفیت کی اطلاع پانے پر آپ نے قتل کو درست نہ سمجھا اور اس قتل کو قتل شبہ قرار دیا جس کی بناء پر آپ قتل سے رک گئے اور اس کے لئے وہی مقرر فرمایا جو قتل عمد میں سبہ آجانے سے لازم ہوتا ہے یعنی دیت ۔علما ءایل مدینہ کا قول یہ ہےکہ جب مسلمان کسی ذمی کو اس کا مال حاصل کرنے کے لئے دھوکے سے قتل کر دے تو اس کو بدلے میںقتک کیا جائے گا ۔ تو جب علماء اہل مدینہ کے ہاں یہ چیز (لا یقتل مسلم بکافر )والے حکم سے خارج ہے ۔ حالانکہ روایت علی رضی اللہ عنہ میں جناب رسول اللہﷺ نے کافر کے ساتھ کوئی شرط عائد نہیں فرمائی۔ تو جس طرح فریق اول نے کفار میں سے اس کافر کا حکم خارج کر دیا جس کا مال چھیننے کا ارادہ کیاگیا ہو تو ان کے مخالف (فریق ثانی ) کو بھی حق حاصل ہو گا کہ وہ کافروں میں سے ان کو خارج کر دیں جن سے عہد پورا کرنا لازم ہے ۔ یعنی ذمی کافر ۔ مسلمان قاتل ذمی کے بدلے قتل کیا جائے گااس کے مال و جان کی ذمہ داری کا تقاضا یہی ہے ۔ البتہ کافر حربی کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا۔

النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4938

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter