Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2745

2596 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا محمد بن إسماعيل عن الضحاك بن عثمان عن أبى النضر مولى عمر بن عبيد الله عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أن عائشة حين توفى سعد بن أبى وقاص قالت ادخلوا به المسجد حتى أصلى عليه فأنكر الناس ذلك عليها فقالت لقد صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم على سهيل بن البيضاء في المسجد

ابو سلمہ بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن ابی وقاص کی وفات ہوئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان کا جنازہ مسجد میں داخل کرو تاکہ میں بھی اس پرنماز پڑھ سکو تو لوگوں نے ان پر تکیر کی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا ۔

أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2745

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2746

2597 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن أبى النضر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك

مالک نے ابوالنضر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو روایت کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك ← أَبِي النَّضْرِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق

Hadith 2746

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2747

2598 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا بن أبى عمر قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عبد الواحد بن حمزة عن عباد بن عبد الله بن الزبير أن عائشة أمرت بسعد بن أبى وقاص أن يمر به في المسجد ثم ذكر مثل حديثه عن يعقوب قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فقالوا لا بأس بالصلاة على الجنازة في المساجد واحتجوا في ذلك أيضا بما

عبادہ بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم فرمایا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں لایا جائے پھر یعقوب راوی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ا مام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک جماعت علماء نے اس روایت کو اختیار کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھ لینے میں کچھ حرج نہیں انہوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ روایات سے استدلال کیا ۔

عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← بن أبي عمر ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2747

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2748

2599 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أحمد بن أبي عمر قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر أن عمر صلي عليه في المسجد وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا الصلاة على الجنازة في المساجد واحتجوا في ذلك بما

عبدالعزیز بن محمد نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں پڑھا یاگیا ۔ دوسرے حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں نماز جنازہ مکروہ ہے اور انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أحمد بن أبي عمر ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2748

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2749

2600 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا بن أبى ذئب عن صالح مولى التوأمة ح

اسد نے ابن ابی الذئب سے انہوں نے صالح مولی التوآمہ سے نقل کیا ہے ۔

صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 2749

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 5 باب الصلاة على الجنازة هل ينبغي أن تكون في المساجد أو لا ) · حديث 2750

وحدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا معن بن عيسى عن أبى ذئب عن صالح بن أبى صالح عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من صلى على جنازة في مسجد فلا شيء له فلما اختلفت الروايات عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الباب فكان فيما روينا في الفصل الأول إباحة الصلاة على الجنائز في المساجد وفيما روينا في الفصل الثاني كراهة ذلك احتجنا الى كشف ذلك لنعلم المتأخر منه فنجعله ناسخا لما تقدم من ذلك فلما كان حديث عائشة فيه دليلا على أنهم قد كانوا تركوا الصلاة على الجنائز في المسجد بعد أن كانت تفعل فيه حتى ارتفع ذلك من فعلهم وذهبت معرفة ذلك من عامتهم فلم يكن ذلك عندها لكراهة حدثت ولكن كان ذلك عندها لأن لهم أن يصلوا في المسجد على جنائزهم ولهم أن يصلوا عليها في غيره ولا يكون صلاتهم في غيره دليلا على كراهة الصلاة فيه كما لم تكن صلاتهم فيه دليلا على كراهة الصلاة في غيره فقالت بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم مات سعد ما قالت لذلك وأنكر عليها ذلك الناس وهم أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومن تبعهم وكان أبو هريرة رضي الله عنه قد علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم نسخ الصلاة عليهم في المسجد بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي سمعه منه في ذلك وأن ذلك الترك الذي كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم للصلاة على الجنائز في المسجد بعد أن كان يفعلها فيه ترك نسخ فذلك أولى من حديث عائشة لأن حديث عائشة رضي الله عنها إخبار عن فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم في حال الإباحة التي لم يتقدمها نهى وفي حديث أبى هريرة رضي الله عنه إخبار عن نهي رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي قد تقدمته الإباحة فصار حديث أبي هريرة رضي الله عنه أولى من حديث عائشة رضي الله عنها لأنه ناسخ له وفي إنكار من أنكر ذلك على عائشة رضي الله عنها وهم يومئذ أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم دليل على أنهم قد كانوا علموا في ذلك خلاف ما علمت ولولا ذلك لما أنكروا ذلك عليها وهذا الذي ذكرنا من النهى عن الصلاة على الجنازة في المسجد وكراهتها قول أبى حنيفة ومحمد وأبى يوسف رضي الله عنهم غير أن أصحاب الإملاء رووا عن أبى يوسف رضي الله عنه في ذلك أنه قال إذا كان مسجد قد أفرد للصلاة على الجنازة فلا بأس بأن يصلى على الجنائز فيه [ ص 493 ]

صالح بن ابی صالح نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جس نے کسی میت پر مسجد میں جنازہ پڑھا اس کو کچھ ثواب نہیں ۔ جب اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقولہ روایات مختلف ہیں ۔ پہلی روایات میں صراحت کے ساتھ مسجد میں نماز جنازہ کا تذکرہ ہے اور دوسری فصل میں مذکورہ روایت کراہت ظاہر کرتی ہیں ۔ اس وجہ سے ہمیں ضرورت پڑی تاکہ یہ معلوم ہوکہ متاخر روایات کونسی ہیں اور ان کو پہلی روایات کا ناسخ قرار دیں پس جب روایت عائشہ رضی اللہ عنہا میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام نے مسجد میں نماز جنازہ کو ترک کر دیا تھا جب کہ پہلے مسجد میں یہ عمل ہوتا تھا پھر ان کے فعل سے اٹھ گیا اور عام لوگوں میں اس کی پہچان بھی نہ رہی ۔ تو یہ سلسلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں کسی کراہت جدیدہ کی وجہ سے نہ تھا ۔ بلکہ ان کے ہاں یہ اس لیے تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو مسجد میں نماز جنازہ کی بھی اجازت تھی اور اس کے علاوہ دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے تھے اور ان کا دوسری جگہ ادا کرنا مسجد میں پڑھنے کی کراہت کا ثبوت نہیں جیسا کہ اس کا عکس مسجد میں پڑھنا دوسری جگہ پڑھ لینے کی کراہت پر دلیل نہ تھی ۔پس انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن یہ بات فرمائی تو اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم اس کا انکار کیا ۔ اور حضرت ابو ہریرہ نے مسجد میں نماز جنازہ کے پڑھنے کے حکم منسوخ ہونے کی سلسلے میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں پہلے جنازہ ادا کرنا اور پھر اس کو چھوڑنا یہ اس کے نسخ کا ثبوت ہے اور یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی خبر دی ہے جو مباح ہونے کی ہالت میں تھا اور اس وقت تک ممانعت کی اطلاع ہے جس سے پہلے جواز تھا پس حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے اولیٰ ہے ۔ کیونکہ یہ اس کے لیے ناسخ ہے اور یہ صحابہ کرام کا اس عمل سے انکار اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو ام المومنین اور ممانعت کا تذکرہ کیا ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے۔ البتہ اطلاع کرنے والوں نے اما م ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح نقل کیا کہ آپ نے فرمایا جب مسجد خاص جنازہ کی نماز کے لیے بنائی گئی ہو تو اس میں نماز جنازہ پڑھنے میں کچھ حرج نہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← أَبِي ذِئْبٍ، ← مَعْن بن عيسی ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2750

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter