Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2652

2507 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني أبو خالد عن عبد الله بن سعيد المديني قال حدثتني حفصة بنت عمر رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم قد وضع ثوبه بين فخديه فجاء أبو بكر رضي الله عنه فاستأذن فأذن له النبي صلى الله عليه و سلم على هيأته ثم جاء عمر رضي الله عنه بمثل هذه الصفة ثم جاء أناس من أصحابه والنبي صلى الله عليه و سلم على هيأته ثم جاء عثمان فاستأذن عليه فأذن له ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ثوبه فتجلله فتحدثوا ثم خرجوا فقلت يا رسول الله جاء أبو بكر وعمر وعلى رضي الله عنهم وناس من أصحابك وأنت على هيأتك فلما جاء عثمان رضي الله عنه تجللت ثوبك فقال أو لا أستحي ممن تستحى منه الملائكة قالت وسمعت أبى وغيره يحدثون نحوا من هذا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الفخذ ليست من العورة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الفخذ عورة وقالوا قد روى هذا الحديث جماعة من أهل البيت على غير ما رواه الذي احتججتم بروايتهم فمن ذلك ما روى في ذلك ما

عبداللہ بن سعید المدینی نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنا کپڑا اپنی رانوں کے درمیان رکھا تھا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی جبکہ آپ اسی حالت میں رہے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ اپنی اسی ہییت پر رہے پھر کچھ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے تو آپ اپنی اسی حالت پر قائم تھےپھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی تو ان کو اجازت مل گئی اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لےکر کھلے حصہ کوڈھانپ لیا یہ حضرات آپ سے باتیں کرتے رہے پھر چلے گئے میں نے عرض کیا یارسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر ، عمر ، علی رحمۃ اللہ علیہم آئے اور آپ کے کچھ اوراصحاب آئے اور آپ اپنی ہیت پر تشریف فرما رہے جب عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے اپنے کھلے حصہ کو ڈھانپ لیا تو آپ نے فرمایا کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نےابی رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ران ستر کا حصہ نہیں اور انہوں نے اس روایت بالا کو دلیل بنایا ہے ۔ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ رات ستر کاحصہ ہے ۔ اس روایت کو اہل بیت کی ایک جماعت نے اس سے مختلف انداز میں نقل کیا جو تم نے نقل کر کے دلیل بنایا ۔ چنانچہ ہم ان میں بعض کو ذیل میں نقل کرتے ہیں ۔

حدَّثتني حفصةُ بنتُ عمرَ ← عبد الله بن سعيد المديني ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2652

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2653

2508 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر بن فارس قال أنا مالك بن أنس عن الزهرى عن يحيى بن سعيد عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن أبا بكر رضي الله عنه استأذن على النبي صلى الله عليه و سلم ورسول الله لابس مرط أم المؤمنين فأذن له فقضى اليه حاجته ثم خرج ثم استأذن عليه عمر رضي الله عنه وهو على تلك الحالة فقضى اليه حاجته ثم خرج فاستأذن عليه عثمان رضي الله عنه فاستوى جالسا وقال لعائشة اجمعى عليك ثيابك فلما خرج قالت له عائشة مالك لم تفزع لأبى بكر وعمر رضي الله عنهما كما لعثمان رضي الله عنه فقال إن عثمان رضي الله عنه رجل كثير الحياء ولو أذنت له على تلك الحال خشيت أن يبلغ في حاجته

یحییٰ بن سعید نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین کی چادر اوپر ڈالنے والے تھے آپ نے ان کو اجازت دے دی انہوں نے اپنی ضرورت پیش کی اور چلے گئے حضرت عمر نے اجازت طلب کی آپ اس وقت اسی حال میں تھے آپ نے ان کی ضرورت کو پورا کر دیا پھر وہ نکل کر چلے گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا اپنے اوپر اپنے کپڑے سمیٹ لو جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چلے گئے تو حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آپ نے ابو بکر ، عمر رضی اللہ عنہم کے لیے اپنے آپ کو اس طرح تیار نہیں کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان رضی اللہ عنہ بہت شدید حیادار آدمی ہیں اگر اسی حالت میں ان کو اجازت دے دیتا مجھے خطرہ تھا کہ وہ اپنی ضرووت کی بات نہ کہہ سکتے ۔

عائشة أن أبا بكر استأذن على النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2653

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2654

2509 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا بن أبى ذئب عن الزهرى عن يحيى بن سعيد عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یحییٰ بن سعید بن العاص نے اپنے والد سے انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نےجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2654

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2655

2510 - حدثنا محمد بن عبد العزيز الأيلي قال ثنا سلامة بن روح قال ثنا عقيل حدثني بن شهاب قال أخبرني يحيى بن سعيد بن العاص أن سعيد بن العاص رضي الله عنه أخبره أن أبا بكر رضي الله عنه استأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

یحییٰ بن سعید بن العاص کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کےہاں آنے کی اجازت مانگی پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَيْلِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2655

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2656

2511 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث بن سعد قال حدثني عقيل عن بن شهاب رضي الله عنه عن يحيى بن سعيد بن العاص أن سعيد بن العاص أخبره أن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم وعثمان رضي الله عنه حدثاه أن أبا بكر رضي الله عنه استأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله قال أبو جعفر فهذا أصل هذا الحديث ليس فيه ذكر كشف الفخذين أصلا وقد جاءت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم آثار متواترة صحاح فيها أن الفخذ من العورة فمما روى عنه في ذلك ما

یحییٰ بن سعید بن العاص کہتے ہیں کہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ دونوں نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی پھر اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ اس روایت اصل یہ ہے اس میں رانوں کے ننگا کرنے کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر صحیح روایات میں وارد ہوا ہے کہ ران ستر کا حصہ ہے ۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2656

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2657

2512 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا القواريرى قال ثنا يحيى بن سعيد عن سعيد عن بن جريج عن حبيب بن أبى ثابت عن عاصم بن ضمرة عن على رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الفخذ عورة

عاصم بن ضمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ران ستر ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← بن جُرَيْجٍ ← سَعِيدٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2657

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2658

2513 - حدثنا على بن معبد قال ثنا إسحاق بن منصور قال ثنا إسرائيل عن أبى يحيى عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما قال خرج النبي صلى الله عليه و سلم فرأى فخذ رجل فقال فخذ الرجل من عورته

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے ایک آدمی کے ران کو دیکھا تو فرمایا کہ آدمی کا ران اس کا ستر ہے ۔

فخذ الرجل من عورته ← خرج النبي صلى الله عليه و سلم فرأى فخذ رجل ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2658

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2659

2514 - وحدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال حدثني حفص بن ميسرة عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبى كثير عن محمد بن جحش أن رسول صلى الله عليه و سلم مر على معمر بفناء المسجد كاشفا عن طرف فخذه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خمر فخذك يا معمر ان الفخذين عورة

ابو کثیر نے محمد بن حجش رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزر معمر کے پاس سے ہوا جبکہ وہ مسجد کے صحن میں تھا اور اس کے ران کی ایک جانب کھلی ہوئی تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معمر اپنی ران کو ڈھانپ ۔ دونوں ران ستر ہیں ۔

محمد بن جحش ← أَبِي کَثِيرٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2659

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2660

2515 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء عن أبى كثير مولى محمد بن جحش عن محمد بن جحش عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو کثیر مولیٰ محمد بن حجش نے محمدبن حجش رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← محمد بن جحش ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← الْعَلَاءِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2660

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2661

2516 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا سليمان بن بلال وعبد العزيز قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبى كثير مولى محمد بن عبد الله عن محمد بن عبد الله بن جحش قال كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم أمشي في السوق فمر بمعمر جالسا على بابه مكشوفة فخذه فقال خمر فخذك أما علمت أنها من العورة

ابو کثیر مولیٰ محمد بن عبداللہ نے محمد بن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بازار جارہا تھا آپ کا گزر معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے دروازے پر بیٹھے تھے اور ان کو ران کھلی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ران کو ڈھانپ معلوم نہیں کہ یہ ستر کا حصہ ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، ← أبى كثير مولى محمد بن عبد الله ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← سليمان بن بلال وعبد العزيز ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2661

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2662

2517 - حدثنا على بن معبد قال ثنا إسحاق بن منصور قال ثنا المحسن بن صالح عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الله بن مسلم بن جرهد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال فخذ الرجل من عورته أو قال من العورة

عبداللہ بن محمد بن عقیل نے عبداللہ بن مسلم بن جرہدنے اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی ران اس کے ستر کا حصہ ہے یا من العورہ کے لفظ فرمائے۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن مسلم بن جرهد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← المحسن بن صالح ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2662

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2663

2518 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حسن هو بن صالح بن حي عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الله بن جرهد الأسلمى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن محمد عقیل نے عبداللہ نے عبداللہ بن جرھد اسلمی نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← عبد الله بن جرهد الأسلمى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← حسن هو بن صالح بن حي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2663

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter