شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 236
239 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أمية بن بسطام قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن بن أبي نجيح عن عطاء عن إياس بن خليفة عن رافع بن خديج أن عليا أمر عمارا أن يسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المذي فقال يغسل مذاكيره ويتوضأ [ ص 46 ] قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أمذى وإذا بال واحتجوا في ذلك بهذا الأثر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لم يكن ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم على إيجاب غسل المذاكير ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج قالوا ومن ذلك ما أمر به المسلمون في الهدي إذا كان له لبن أن ينضح ضرعه بالماء ليتقلص ذلك فيه فلا يخرج وقد جاءت الآثار متواترة بما يدل على ماقالوا فمن ذلك
رافع بن خدیج نقل کرتے ہیں علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار کو کہا کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کا حکم دریافت کرلے ۔ چنانچہ دریافت کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مزا کیر کو دھو ڈالے اور وضو کرلے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کو مذی آجائے یا پیشاب کی حالت ہو تو اسے اعضاء تناسل کا دھو لینا ضروری ہے ۔ انہوں نے مذکورہ بلا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اعضاء تناسل کے دھونے سے وجوب ثابت نہیں ہوتا ۔ بلکہ منی کو نکلنے سے روکنے کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کی نظیر وہ حکم ہے جس کا مسلمانوں کو ہدی کے سلسلے میں جبکہ وہ دودھ والا جانور ہو حکم دیا گیا کہ اس کے تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے تا کہ دودھ نکلنے سے رک جائے اور ہماری اس بات کے ثبوت میں مندرجہ ذیل آثار شاہد ہیں ۔
رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 236
