شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 19 باب فسخ الحج فأغنانا ذلك عن إعادته ها هنا فاستحال بذلك أن يكون الطواف الذي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم فعله ) · حديث 3835
3630 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع أن بن عمر رضي الله عنهما كان إذا قدم مكة رمل بالبيت ثم طاف بين الصفا والمروة وإذا لبى من مكة بها لم يرمل بالبيت وأخر الطواف بين الصفا والمروة إلى يوم النحر وكان لا يرمل يوم النحر فدل ما ذكرنا أن بن عمر رضي الله عنهما كان إذا أحرم بالحجة من مكة لم يطف لها إلى يوم النحر فكذلك ما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من إحرامه بالحجة التي أحرم بها بعد فسخ حجته الأولى لم يكن طاف لها إلى يوم النحر فليس في حديث بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم من حكم طواف القارن لعمرته وحجته شيء وثبت بما ذكرنا أيضا خطأ الدراوردي في حديث عبيد الله الذي وصفناه واحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما
ایوب نے نافع سے انہوں نے ابن عمر سے نقل کیا کہ جب آپ مکہ آتے تو طواف میں رمل کرتے پھر سعی صفا مروہ کرتے اور جب مکہ سے احرام باندھتے تو تم طواف میں رمل نہ کرتے اور سعی صفا و مروہ کو مؤخر کرتے تاکہ نحر کا دن آتا تو سعی کرتے اور یوم نحر کے طواف میں رمل نہ کرتے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے بھی اسی طرح اپنے اس حج کے سلسلہ میں روایت وارد ہوئی ہے جس کا آپ نے پہلے حج کو نسخ کرنے کے بعد احرام باندھا آپ نے اس کے لیے یوم نحر تک طواف نہ کیا پس روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس طواف کا کوئی حکم موجود نہیں ہے جو قارن اپنے حج و عمرہ کے لیے کرے جو کچھ ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا اس سے در اور دی نے عبیداللہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں جو خطاء کی ہے وہ ثابت ہو گئی اور قول کے قائلین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو بھی دلیل میں نے پیش کیا ۔
نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3835
