شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 25 باب الصوم يوم الشك ) · حديث 3414
3237 - حدثنا فهد قال ثنا أبو سعيد الأشج قال ثنا أبو خالد سليمان بن حيان الأزدي الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبى إسحاق عن صلة قال كنا عند عمار فأتى بشاة مصلية فقال للقوم كلوا فتنحى رجل من القوم وقال انى صائم قال عمار من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فكره قوم صوم اليوم الذي يشك فيه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بصومه تطوعا بأسا قالوا وانما الصوم المكروه في هذا الحديث هو الصوم على أنه من رمضان فأما تطوعا فلا بأس به واحتجوا في ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الموضع من قوله لا تتقدموا رمضان بيوم ولا بيومين إلا أن يوافق ذلك صوما كان يصومه أحدكم فليصمه
عمرو بن قیس نے ابو اسحاق سے انہوں نے صلہ سے نقل کیا کہ حماد بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہا ں تھےچنانچہ ایک بھونی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے لوگوں کو فرمایا کھاؤ اس وقت قوم میں سے ایک آدمی ایک طرف ہوگیا اور کہنے لگا میں روزے سے ہوں تو عمار رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جس نے یوم شک کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے شک کے دن روزہ کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ مگر دوسروں نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نفلی روزہ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ، ان کا کہنا یہ ہے کہ جس مکروہ روزے کا تذکرہ اس روایت میں ہے وہ رمضان المبارک کی نیت سے روزہ رکھنا ہے ۔جبکہ نفلی روزہ میں کچھ قباحت نہیں ۔انہوں نے اس سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا ہے جس کو ہم دوسرے مقام پر ذکر کر چکے ہیں ۔ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کہ رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو مگر یہ کہ وہ اس روزے کے موافق ہو جاتے جو وہ رکھتا تھا تو وہ روزہ رکھ لے۔
«إِنِّي صَائِمٌ» ← للقوم كلوا فتنحى رجل من القوم ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، ← صِلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أبو خالد سليمان بن حيان الأزدي الأحمر ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3414
