Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4298

4056 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه وقالوا أتعزبها فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن وطء المرأة في دبرها جائز واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وتأولوا هذه الآية على إباحة ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا وطء النساء في أدبارهن ومنعوا من ذلك وتأولوا هذه الآية على غير هذا التأويل

عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے غیر فطری حرکت کی تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ تو اس کو ایسی عورت بنان چاہتا ہے جس کا خاوند نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ عورتوں سے غیر فطری فعل جائز ہے اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا اور اس آیت کی تاویل کر کے اس کی اباحت کو ثابت کیا مگر علماء نے اس کی مخالفت کی اور اس کو حرام قرار دیا اور اس سے سخت منع کیا اور اس آیت کی تفسیر بھی دوسرے انداز سے کی ۔ جو نیچے مذکور ہے دوسری تفسیر یہ ہے ۔

أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4298

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4299

4057 - فحدثنا يونس قال أخبرنا سفيان عن محمد بن المنكدر عن جابر أن اليهود قالوا من أتى امرأته في فرجها من دبرها خرج ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم

محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہود کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ دبر والی جانب سے شرمگاہ میں جماع کرے گا اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) کہ تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتی میں جیسے چاہو جاؤ۔

جابر إن اليهود ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4299

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4300

4058 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال ثنا سفيان الثوري أن محمد بن المنكدر حدثه عن جابر مثله

محمد بن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

جابر مثله ← سفيان الثوري أن محمد بن المنكدر ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4300

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4301

4059 - حدثنا محمد بن زكريا أبو شريح قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله

فریابی نے سفیان ثوری سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله ← الْفِرْيَابِيُّ، ← محمد بن زكريا أبو شريح

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4301

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4302

4060 - حدثنا محمد بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن محمد بن المنكدر عن جابر قال قالت اليهود إذا أتى الرجل أهله باركة جاء الولد أحول فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله قالوا فإنما كان من قول اليهود ما ذكرنا فأنزل الله عز و جل ذلك دفعا لقولهم وإباحة للوطء في الفرج من الدبر ومن القبل جميعا وقد روى آخرون هذا الحديث عن بن المنكدر على ما ذكرنا وزاد فيه إذا كان ذلك في الفرج

محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہود کہنے لگے جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اونٹ کی طرح بٹھا کر جماع کرتے تو اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے اس بات کا تذکرہ آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کے پیش نظر دوسرے علماء نے کہا کہ یہ آیت یہود کے اس قول کی تردید میں اتری ہے اور اس ایت سے عورت کے ساتھ شرمگاہ میں وطی اگلی یا پچھلی جانب دونوں سے درست ہے ۔ دوسروں نے کہا یہ روایت ابن منکدر نے دیگر سے بھی نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے " اذا کان ذلک فی الفرج " جبکہ یہ شرمگاہ میں وطی کی جائے ۔ روایات یہ ہیں ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4302

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4303

4061 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهري عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله أن يهوديا قال إذا نكح الرجل امرأة مجبية خرج ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم إن شئتم مجبية وإن شئتم غير مجبية إذا كان ذلك في صمام واحد

محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا کہ ایک یہودی کہنے لگا جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے چہرہ کے بل الٹا لٹا کر وطی کرے تو اس سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ بھینگی ہو گی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) خواہ الٹا لٹا کر کرو، خواہ سیدھا لٹا کر کرو۔ جبکہ مقام حرث یعنی شرمگاہ میں ہو۔

جابر بن عبد الله أن يهوديا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4303

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4304

4062 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن جريج أن محمد بن المنكدر حدثه عن جابر بن عبد الله أن اليهود قالوا للمسلمين من أتى امرأته وهي مدبرة جاء ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم مقبلة ومدبرة ما كان في الفرج ففي توقيف النبي صلى الله عليه و سلم إياهم في ذلك على الفرج إعلام منه إياهم أن الدبر بخلاف ذلك وقد قيل في تأويل هذه الآية أيضا غير هذا التأويل

محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہود مسلمانوں کو کہنے لگے جو اپنی بیوی کو الٹا لٹا کر جماع کرے اس کی اولاد بھینگی ہو گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت تاری نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) پس جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ سیدھا لٹا کے یا الٹا کر بیوی سے جماع درست ہے ۔ ان تمام روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے جماع کو قبل یعنی فرج سے خاص کیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ پائخانہ والی جگہ کا استعمال درست نہیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں اور اقاویل بھی پائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اگلی روایات میں مذکور ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ ← بن جريج أن محمد بن المنكدر ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4304

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4305

4063 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا أبو الأحوص قال ثنا أبو إسحاق عن زائدة قال سألت بن عباس عن العزل فقال نساؤكم حرث لكم إن شئت فاعزل وإن شئت فلا تعزل وكان من حجة أهل المقالة ألاولى أيضا لقولهم في ذلك ما قد روي عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما من إباحة ذلك كما

ابو اسحاق نے زائدہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عزل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیویاں کھیت کی ماند ہیں ار چاہو تو عزل کرو اور اگر نہ چاہو تو مت کرو۔ فریق اول نے اپنے مضمون کے ثبوت کے لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس کمزور منقولہ روایت کا سہارا لیا ہے اس سے اس کی اباحت معلوم ہوتی ہے ۔

نساؤكم حرث لكم ← الْعَزْل ← سألت بن عباس ← زَائِدَۃَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4305

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4306

4064 - حدثنا أبو قرة محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا أصبغ بن الفرج وأبو زيد عبد الرحمن بن أبي العمر قالا قال أبو القاسم وحدثني مالك بن أنس قال حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن أبي الحباب سعيد بن يسار أنه سأل بن عمر عنه يعني عن وطء النساء في أدبارهن فقال لا بأس به قال أبو جعفر قد روي هذا عن بن عمر كما ذكرتم وروي عنه خلاف ذلك

ابو الحباب سعید بن یسار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بیویوں کے ساتھ وطی دبر کا سوال کیا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ۔

بن عمر كما ذكرتم وروي عنه خلاف ذلك ← أبو جعفر قد روي هذا ← وطء النساء في أدبارهن فقال لا بأس به ← أبي الحباب سعيد بن يسار أنه سأل بن عمر عنه يعني ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← أبو القاسم وحدثني مالك بن أنس ← أصبغ بن الفرج وأبو زيد عبد الرحمن بن أبي العمر ← أبو قرة محمد بن حميد بن هشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4306

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4307

4065 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح ح

فہد نے عبداللہ بن صالح سے روایت نقل کی ہے ۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4307

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4308

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا عبد الله بن وهب قالا ثنا الليث قال بن وهب في حديثه عن الحارث بن يعقوب وقال عبد الله بن صالح قال حدثني الحارث بن يعقوب عن سعيد بن يسار أبي الحباب قال قلت لابن عمر ما تقول في الجواري الحمض بهن قال وما التحميض فذكرت الدبر فقال وهل يفعل ذلك من المسلمين فقد ضاد هذا عن بن عمر رضي الله عنهما ما قد رواه عنه أهل المقالة الأولى مما قد ذكرناه في ذلك والدليل على صحة هذا إنكار سالم بن عبد الله أن يكون ذلك كان من أبيها

عبداللہ بن صالح نے حارث بن یعقوب سے انہوں نے سعید بن یسار ابی الحباب سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لونڈیوں کے متعلق کیا فرماتے ہیں کیا ان سے احماض کر سکتا ہوں انہوں نے پوچھا تحمیض کیا ہے میں نے لواطت کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے ؟ ( یعنی نہیں کر سکتا ) امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ روایات فریق اول کی نقل کردہ روایت کے بالکل متضاد ہے اور اس روایت کی صحت پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پہلی روایت کی اپنے والد کی طرف نسبت سے انکار کیا ہے ۔

وهل يفعل ذلك من المسلمين فقد ضاد هذا ← وما التحميض فذكرت الدبر ← قلت لابن عمر ما تقول في الجواري الحمض بهن ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ← الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ← بن وهب في حديثه ← اللَّيْثُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4308

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4309

4066 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا عطاف بن خالد عن موسى بن عبيد الله بن الحسن أن أباه سأل سالم بن عبد الله أن يحدثه بحديث نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان لا يرى بأسا بإتيان النساء في إدبارهن فقال سالم كذب العبد أو أخطأ إنما قال لا بأس أن يؤتين في فروجهن من أدبارهن ولقد قال ميمون بن مهران إن نافعا إنما قال ذلك بعد ما كبر وذهب عقله

موسیٰ بن عبید اللہ بن حسن نے بیان کیا کہ میرے والد نے سالم بن عبداللہ سے سوال کیا کہ وہ ان کو نافع کی وہ روایت بیان کرے جو اس نے ابن عم رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کے ساتھ وطی فی الدبر کو غلط خیال نہ کرتے تھے تو سالم کہنے لگے اس بندے نے جھوٹ بولایا خطاء کی عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تو اس طرح فرمایا کہ پشت کی جانب سے عورت کے ساتھ فرج ( عورت کی شرمگاہ ) میں جماع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ میمون بن مہران کہنے لگے کہ یہ بات نافع نے بڑھاپے کی حالت میں کہی ہے جبکہ ان کی عقل زائل ہو چکی تھی ۔ روایت میمون یہ ہے ۔

موسى بن عبيد الله بن الحسن ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4309

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter