شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4298
4056 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه وقالوا أتعزبها فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن وطء المرأة في دبرها جائز واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وتأولوا هذه الآية على إباحة ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا وطء النساء في أدبارهن ومنعوا من ذلك وتأولوا هذه الآية على غير هذا التأويل
عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے غیر فطری حرکت کی تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ تو اس کو ایسی عورت بنان چاہتا ہے جس کا خاوند نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ عورتوں سے غیر فطری فعل جائز ہے اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا اور اس آیت کی تاویل کر کے اس کی اباحت کو ثابت کیا مگر علماء نے اس کی مخالفت کی اور اس کو حرام قرار دیا اور اس سے سخت منع کیا اور اس آیت کی تفسیر بھی دوسرے انداز سے کی ۔ جو نیچے مذکور ہے دوسری تفسیر یہ ہے ۔
أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4298
