شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3121
2953 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر له أنه احترق فسأله عن أمره فقال وقعت على امرأتي في رمضان فأتى النبي صلى الله عليه و سلم بمكتل يدعى العرق فيه تمر فقال أين المحترق فقام الرجل فقال تصدق بهذا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن من وقع بأهله في رمضان فعليه أن يتصدق فلا يجب عليه من الكفارة غير الصدقة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يجب عليه أن يعتق رقبة أو يصوم شهرين متتابعين أو يطعم ستين مسكينا أي ذلك ما شاء فعل واحتجوا في ذلك بما
عبادبن عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ کے سامنے اس نے بیان کیا کہ وہ تباہ ہوگیاہے آپ نے اس کے معاملے کی تفصیل دریافت کی تو اس نے بتلایا میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا آپﷺ کے پاس ایک عرق نام کا برتن لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں آپ نے فرمایا محترق کہاں ہے ؟وہ کھڑا ہو اتو آپ نے فرمایا اس کو صدقہ کر دو۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے جماع کرے اس پر صدقہ لازم ہے۔ اس صدقہ کے علاوہ اس پر کچھ کفارہ نہیں ۔ انہوں نے اپنی دلیل میں اس اوپر والی روایت سے استدلا ل کیا ہے۔
عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3121
