Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3121

2953 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر له أنه احترق فسأله عن أمره فقال وقعت على امرأتي في رمضان فأتى النبي صلى الله عليه و سلم بمكتل يدعى العرق فيه تمر فقال أين المحترق فقام الرجل فقال تصدق بهذا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن من وقع بأهله في رمضان فعليه أن يتصدق فلا يجب عليه من الكفارة غير الصدقة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يجب عليه أن يعتق رقبة أو يصوم شهرين متتابعين أو يطعم ستين مسكينا أي ذلك ما شاء فعل واحتجوا في ذلك بما

عبادبن عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ کے سامنے اس نے بیان کیا کہ وہ تباہ ہوگیاہے آپ نے اس کے معاملے کی تفصیل دریافت کی تو اس نے بتلایا میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا آپﷺ کے پاس ایک عرق نام کا برتن لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں آپ نے فرمایا محترق کہاں ہے ؟وہ کھڑا ہو اتو آپ نے فرمایا اس کو صدقہ کر دو۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے جماع کرے اس پر صدقہ لازم ہے۔ اس صدقہ کے علاوہ اس پر کچھ کفارہ نہیں ۔ انہوں نے اپنی دلیل میں اس اوپر والی روایت سے استدلا ل کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3121

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3122

2954 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال حدثني مالك عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رجلا أفطر في رمضان في زمن النبي صلى الله عليه و سلم فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يكفر بعتق رقبة أو صيام شهرين متتابعين أو اطعام ستين مسكينا فقال لا أجد فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرق فيه تمر فقال خذ هذا فتصدق به فقال يا رسول الله انى لا أجد أحدا أحوج اليه منى فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت أنيابه ثم قال كله

حمید بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ ؓ سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے رمضان کا روزہ جناب نبی اکرمﷺ کے زمانے میں توڑ دیا ۔ آپ ﷺ نے اس کو ایک گردن آزاد کرنے یا مسلسل دو ماہ روزہ رکھنے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا اس نے کہا میرے پاس ان کی طاقت نہیں آپ ﷺ کے پاس ایک کھجوروں کا ٹو کرا لایا گیا تو آپ نے اسے فرمایا یہ لو اور اس کو صدقہ کر دو اس نے کہا یا رسول اللہﷺ میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا آپ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں پھر فرمایا تم اسے کھا لو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3122

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3123

2955 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا بن جريج قال حدثني بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن أن أبا هريرة رضي الله عنه حدثه أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر رجلا أفطر في شهر رمضان أن يعتق رقبة أو صيام شهرين متتابعين أو اطعام ستين مسكينا قالوا فانما أعطاه رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أعطاه مما أمره أن يتصدق به بعد أن أخبره بما عليه في ذلك مما بينه أبو هريرة رضي الله عنه في حديثه هذا وخالفهم في ذلك آخرون أيضا فقالوا بل يعتق رقبة إن كان لها واجدا أو يصوم شهرين متتابعين إن كان للرقبة غير واجد فان لم يستطع ذلك أطعم ستين مسكينا فكان من الحجة لهم في ذلك أن حديث أبى هريرة رضي الله عنه الذي ذكرناه في الفصل الذي قبل هذا الفصل قد دخل فيه حديث عائشة رضي الله عنها كما ذكروا وأصل حديث أبى هريرة رضي الله عنه ذلك فيه من التبدئة بالرقبة إن كان المجامع لها واجدا والتثنية بالصيام بعدها إن كان المجامع للرقبة غير واجد والتثليث بالإطعام بعدهما إن كان المجامع لهما غير واجد هكذا أصل الحديث الذي رواه الزهرى في ذلك وكذلك رواه عنه سائر الناس غير مالك وابن جريج وبينوا فيه القصة بطولها كيف كانت وكيف أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالكفارة في ذلك

حمید بن عبد الرحمٰن نے ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے رمضان کا روزہ توڑ دیا تھا کہ وہ گردن آزاد کرے یا دوہ ماہ کے مسلسل روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے ۔ انہوں نے فرما یا کہ جناب رسول اللہﷺ نے اس کو جو کچھ دیا وہ اسے صدقہ کرنے کے لئے دیا یہ اس کے بعد ہے کہ آپ نے اس بتلایا کہ اس پر کیا لازم ہے۔ وہ وہی ہے جس کو حضرت ابو ہریرہؓ نے اس حدیث میں بیان فرمایا ۔ مگر علماء کی ایک اور جماعت ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کو غلام میسر ہو تو اسے آزاد کرے ۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو دو ماہ مساکین کو کھانا کھلائے اور انہوں نے اپنی دلیل میں حضرت ابو ہر یرہ ؓ کی وہ روایت پیش کی ہے جس کافصل اول میں ہم نے تذکرہ کیا ہے اور اس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت بھی شامل ہے جیسا انہوں نے ذکر کیا ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت کی اصل گردن کی آزادی سے ابتداء کرتا ہے جب کہ جماع کرنے والے کو میسر ہو۔ دوسرے نمبر پر روزہ ہے جب کہ جماع کرنے والا غلام نہ رکھتا ہو پھر تیسرا نمبر کھانا کھلانا ہے۔ اگر جماع کرنے والے کے پاس ان دونوں میں سے کوئی نہ ہو ۔ اس روایت کی اصل جیسی اصل زہری والی روایت کی بھی ہے ۔ مالک بن جریج ؒ کے علاوہ رواۃ نے زہری سے اسی طرح روایت کی ہے۔ انہوں نے طویل قصہ تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے کفارے کا حکم کس طر ح دیا۔

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3123

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3124

2956 - حدثني فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن أن أبا هريرة رضي الله عنه قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء رجل فقال يا رسول الله هلكت فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم ويلك مالك قال وقعت على امرأتي وأنا صائم في رمضان فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم فهل تجد رقبة تعتقها فقال لا فقال فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين قال لا والله يا رسول الله قال فهل تجد طعام ستين مسكينا قال لا يا رسول الله فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم فبينا نحن على ذلك أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرق فيه تمر والعرق المكتل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أين السائل آنفا خذ هذا فتصدق به فقال الرجل أعلى أهل أفقر منى يا رسول الله فوالله ما بين لابتيها يريد الحرتين أفقر من أهل بيتي فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت أنيابه ثم قال أطعمه أهلك قال فصارت الكفارة الى عتق رقبة أو صيام شهرين متتابعين أو اطعام ستين مسكينا

عبدالرحمٰن بن خالد نے ابن شہاب سے انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو ہر یرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں موجود تھے ایک آدمی آکر کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ میں تباہ ہوگیا آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے تم کیا کہتے ہو اس نے کہا میں نے رمضان کے روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کر لیا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا کیا تم گردن آزاد کرنے کے لیے پاتے ہو اس نے کہا نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت پاتے ہو اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ نے فرمایا کیا تم ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی طاقت پاتے ہو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں ایسا نہیں کر سکتا اس پر جناب رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے ہم اسی حالت میں تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرالایا گیا آپ نے دریافت فرمایا ابھی سوال کرنے والا کہاں ہے؟ یہ کھجور لے کر اس کو صدقہ کر دو ۔ وہ آدمی کہنے لگا کیا میں ان لوگوں پر تقسیم کروں جو مجھ سے زیادہ فقیرومحتاج ہوں ؟ اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں سنگلاخوں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ۔ پس جناب رسول اللہﷺ یہ سن کر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ راوی کہتے ہیں کہ کفارہ گردن آزاد کرنا یا دو ماہ مسلسل روزے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہوا۔

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3124

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3125

2957 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى فذكر بإسناده مثله فهذا هو الحديث على وجهه وانما جاء حديث مالك وابن جريج في ذلك عن الزهرى على لفظ قول الزهرى في هذا الحديث فصارت الكفارة الى عتق رقبة أو صيام شهرين متتابعين أو إطعام ستين مسكينا فالتخيير هو كلام الزهرى على ما توهم من لم يحكه في حديثه عن حميد عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم

شعیب نے زہری سے پھر انہو ں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت اپنے اصل انداز سے ہے البتہ اس میں مالک اور ابن جریج کی روایت زہری کے الفاظ سے جو اس حدیث میں آ تے ہیں آئی ہے ۔ پس کفارہ گردن آزاد کرنے یا دو ماہ کے مسلسل روزے یا ساٹھ مساکین پر مشتمل ہے اور جن لوگوں نے حضرت ابوہریرہؓ والی روایت میں تخییر کا ذکر کیا انہوں نے اپنے وہم کے مطابق اسے زہری کا کلام قرار دیا ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3125

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3126

2958 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا سفيان بن عيينة عن الزهرى فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر قوله فصارت سنة الى آخر الحديث

سفیان بن عینیہ نے زہری سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے فقطـ"فصارت ستتہ" کے الفاظ نہیں ہیں۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3126

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3127

2959 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن منهال قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله

حجاج بن منہال نے سفیان سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

سُفْيَانُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3127

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3128

2960 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبى قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهرى فذكر بإسناده مثله

نعمان بن راشد نے زہری سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے۔

الزُّهْرِيِّ،. فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3128

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3129

2961 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا محمد بن أبى حفصة عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

محمد بن ابی حفصہ نے ابن شہاب سے روایت اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح نقل کی ہے۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3129

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3130

2962 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان عن منصور عن الزهرى فذكر بإسناده مثله وقال خمسة عشر صاعا تمرا ولم يشك

منصور نے زہری سے پھر انہوں نے اپنی اسنا د سے اسی طرح روایت کی ہے صرف انہوں نے بغیر شک کے پندرہ صاع کھجور نقل کی ہیں ۔

الزهرى فذكر بإسناده مثله وقال خمسة عشر صاعا تمرا ولم يشك ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3130

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3131

2963 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال سألت الزهرى عن رجل جامع امرأته في شهر رمضان فقال

اوزاعی نے بیان کیاکہ میں نے زہری سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کیا تو انہوں نے مجھے اس طرح روایت بیان کی کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا انہوں نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی مگر صاع کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔ تو جو کچھ ہم نے اس روایت میں ذکر کیا اس میں پہلی دو روایات بھی شامل ہو گئیں ۔ کیو نکہ اس میں جناب نبی اکرم ﷺ نے اسے فرمایا کیا تمہارے پاس آزادی کے لئے گردن موجود ہے۔ اس نے جواب دیانہیں ۔ آپ نے فرمایا دو ماہ کے روزے رکھو اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھا نا دو"تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس تینوں اقسام میں سے ہر ایک کا حکم اس صورت میں دیا کہ جب وہ ان سے پہلی کو نہ پائے پس جب اس شخص نے یہ خبر دی کہ وہ ان میں سے کسی کی قدرت نہیں رکھتا تو جناب رسول اللہ ﷺ کےپاس اس کے بعد کھجوروں کا ٹوکرا ا ٓیا۔ تو ٹوکرے کا تذکرہ اور اس کا آدمی کے حوالے کرنا اور اس کے صدقہ کا حکم تو روایت عائشہ صدیقہؓ میں بھی موجود ہے جس کا شروع میں ہم تذکرہ کر آئے ۔ پس حضرت ابو ہریرہ ؓ والی روایت اس سے اولیٰ ہے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں جس بات کا تذکرہ ہے وہی روایت ہے جس سے ہم نے ابتداء کی ہے۔ پس روایت ابو ہریرہ ؓ اس سے اولیٰ بہترہے۔ کیونکہ پہلے کی وہ بات جو حدیث عائشہ صدیقہ ؓ میں ہے اس کو ابو ہریرہ ؓ نے تو یاد رکھا اور حضرت عائشہ صدیقہؓ نے یا د نہیں رکھا ۔ پس روایت ابوہریرہ صدیقہ اولیٰ ہے اس لئے کہ اس میں اضافہ ہے رہی روایت مالک وابن جریج تو ان دونوں زہری ہی سے روایت کی جیسا ہم نے ذکر کر دیا اور اس کی وجہ سے اسی باب میں ذکر دی ۔ اس سے وہ کفارہ ثابت ہوا جو رمضان المبارک میں جماع کی صورت میں لازم ہوتا جیسا کہ حضرت منصور ،اور ابن عیینہ ؒ اور ان کے موافق حضرات نے زہری کی وساطت سے حمید سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت نقل کی ہے امام ابو حنیفہ ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کاقول ہے۔

رجل جامع امرأته في شهر رمضان فقال ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3131

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 14 باب الحكم في من جامع أهله في رمضان متعمدا ) · حديث 3132

2964 - حدثني حميد بن عبد الرحمن بن عوف قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه فذكر نحوه غير أنه لم يذكر الآصع فكان ما روينا في هذا الحديث قد دخل فيه ما في الحديثين الأولين لأن فيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له أتجد رقبة قال لا قال فصم شهرين متتابعين قال ما أستطيع قال فأطعم ستين مسكينا فكان النبي صلى الله عليه و سلم إنما أمره بكل صنف من هذه الأصناف الثلاثة لما لم يكن واجدا للصنف الذي ذكره له قبله فلما أخبره الرجل أنه غير قادر على شيء من ذلك أتي النبي صلى الله عليه و سلم بعرق فيه تمر فكان ذكر العرق وما كان من دفع النبي صلى الله عليه و سلم إياه الى الرجل وأمره إياه بالصدقة هو الذي روته عائشة رضي الله عنها في حديثها الذي بدأنا بروايته فحديث أبى هريرة رضي الله عنه هذا أولى منه لأنه قد كان قبل الذي في حديث عائشة رضي الله عنها شيء قد حفظه أبو هريرة رضي الله عنه ولم تحفظه عائشة فهو أولى لما قد زاده وأما حديث مالك وابن جريج فهما عن الزهرى على ما قد ذكرنا وقد بينا العلة في ذلك فيما تقدم من هذا الباب فثبت بما ذكرنا من الكفارة في الإفطار بالجماع في الصيام في شهر رمضان ما في حديث منصور وابن عيينة ومن وافقهما عن الزهرى عن حميد عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر ؓسے نقل کیا ہے جناب رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے آ پ نے لوگوں کا کٹھ دیکھا کہ ایک آدمی ہے اور اس پر لوگ سایہ کرنے والے ہیں آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟انہوں نے بتلایا کہ یہ روزہ دار ہے جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا سفر میں تمہارا روزہ رکھنا نیکی نہیں۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3132

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter