Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1794

عن (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ أنہ صلی بعلقمۃ والأسود فجعل أحدھما عن یمینہ، والآخر عن شمالہ، قال ثم رکعنا فوضعنا أیدینا علی رکبنا، فضرب أیدینا بیدہٖ وطبق، فلما فرغ قال: ھٰکذا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ فاحتمل ذٰلک۔ عندنا۔ أن یکون ما ذکرہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ فعلہ، ھو التطبیق۔ واحتمل أن یکون ھو التطبیق، واقامۃ أحد المأمومین عن یمینہٖ، والآخر عن شمالہ۔ فأردنا أن ننظر، ھل فی شیء من الروایات، ما یدل علی شیء من ذٰلک؟۔

باب التطبیق فی الرکوع میں یہ روایت گزری کہ علقمہ اور اسود دونوں کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک کو دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں جانب کھڑا کیا پھر رکوع میں گئے اور ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ضرب لگائی اور تطبیق کی جب نماز سے فارغ ہو ئے تو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اسی طرح کیا ۔ اس روایت میں ہمارے نزدیک یہ احتمال ہے کہ جو انہوں نے بیان کیا وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فعل ہوا ور وہ تطبیق ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ مقتدیوں میں سے ایک کو دائیں دوسرے کو بائیں کھڑا کرنا مراد ہو پس ہم اس سلسلہ میں روایات پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1794

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1795

فاذا حسین بن نصر قد حدثنا قال حدثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال دخلت أنا وعمى على عبد الله بالهاجرة فأقام الصلاة فتأخرنا خلفه فأخذ أحدنا بيمينه والآخر بشماله فجعلنا عن يمينه وعن يساره فلما صلى قال هكذا كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع إذا كانوا ثلاثة فهذا الحديث يخبر أن قول بن مسعود رضي الله عنه هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم هو على قيام الرجلين أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله وعلى التطبيق وقد

عبدالرحمن بن الاسودا پنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے چچا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دھوپ کے وقت حاضر ہوئے تو انہوں نےایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو بائیں کھڑا کیا پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے جب آ پ مل کر تین ہوتے تو آپ اسی طرح کرتے ۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول " ھکذافعل رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم" سے مراد دو آدمیوں کا دائیں بائیں کھڑا کرنا اور تطبیق یدین ہوں ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← فإذا حسين بن نصر قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1795

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1796

1702 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا معاذ بن معاذ عن بن عون قال كنت أنا وشعيب بن الحبحاب عن إبراهيم فحضرت العصر فصلى بنا إبراهيم فقمنا خلفه فجرنا فجعلنا عن يمينه وعن شماله قال فلما صلينا وخرجنا الى الدار قال إبراهيم قال بن مسعود رضي الله عنه هكذا فصلوا ولا تصلوا كما يصلى فلان قال فذكرت ذلك لمحمد بن سيرين ولم اسم له إبراهيم فقال هذا إبراهيم قد قال ذاك عن علقمة ولا أرى بن مسعود رضي الله عنه فعله الا لضيق كان في المسجد أو لعذر رآه فيه لا على أن ذلك من السنة قال وذكرته للشعبى فقال قد زعم ذاك علقمة بن عون القائل ففي هذا الحديث إضافة الفعل الى بن مسعود رضي الله عنه ولا يذكره الشعبي ولا بن سيرين عن علقمة عن النبي صلى الله عليه و سلم وقد يجوز أيضا أن يكون علقمة لم يذكر ذلك للشعبى ولابن سيرين أن بن مسعود رضي الله عنه ذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكره الأسود لابنه عن النبي صلى الله عليه و سلم وكيف كان المعنى في هذا فقد عورض ذلك بما

ابن عون کہتے ہیں کہ میں اور شعیب بن حجاب ابراہیم کے پاس تھے نماز عصر کا وقت ہوا تو ابراہیم نے ہمیں جماعت کرائی ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تو انہوں نے ہمیں اپنے دائیں بائیں کر دیا جب ہم نماز پڑھ چکے اور گھر کی طرف نکلنے لگے تو ابراہیم کہنے لگے ابن مسعود نے اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم فرمایا اور فرمایا فلاں کی طرح مت پڑھو۔ ابو البشر البرقی کہتے ہیں کہ یہ بات میں نے ابن سیرین کو کہی اور میں نے ابراہیم کا نام نہ لیا تو ابن سیرین کہنے لگے یہ بات ابراہیم نے علقمہ سے نقل کی ہے اور میرے خیال میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے کیا ہے یا اور کسی عذر کی وجہ سے کیا جو ان کے سامنے تھے اس وجہ سے نہیں کہ یہ سنت طریقہ ہے گویا یہ روایت خاص علت سے معلول ہے اور میں نے شعبی کے سامنے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ علقمہ بن عون کا زعم ہے ۔

بن عون ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1796

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1797

1703 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا مهدى بن جعفر قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن أبى حزرة المديني يعقوب بن مجاهد عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال أتينا جابر بن عبد الله فقال جابر رضي الله عنه جئت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي حتى قمت عن يساره فأخذنى بيده فأدارنى حتى أقامنى عن يمينه وجاء جابر بن صخر فقام عن يساره فدفعنا بيده جميعا حتى أقمنا خلفه

عباد ہ بن الولید بن عبادہ بن الصامت کہتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے جابر کہنے لگے ایک دن میں خدمت نبوی میں ایسے حال میں گیا کہ آپ نماز میں مصروف تھے میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا آپ نے ہاتھ پکڑ کر مجھے گھمایا یہاں تک کہ میں آپ کے دائیں جانب کھڑ ا ہو گیا جابر بن صحرا آئے تو وہ آپ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے پس آپ نے ہم دونوں کو دھکیلا یہاں تک کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔،

عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← أبى حزرة المديني يعقوب بن مجاهد ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1797

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1798

1704 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن جدته مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه و سلم لطعام صنعته فأكل منه ثم قال قوموا فلأصل لكم قال أنس فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم وصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا فصلى بنا ركعتين ثم انصرف فإن قال قائل فإن فعل بن مسعود رضي الله عنه هذا الذي وصفنا بعد النبي صلى الله عليه و سلم يدل على ان ما عمل به من ذلك هو الناسخ قيل له فقد روى عن غير بن مسعود رضي الله عنه من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه فعل بعد موت النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك مثل ما روى جابر وأنس رضي الله عنهما فإن كان ما روى عن بن مسعود رضي الله عنه من فعله بعد النبي صلى الله عليه و سلم دليلا عندك على أن ذلك هو الناسخ كان ما روى عن غير بن مسعود رضي الله عنه من ذلك دليلا عند خصمك أن ذلك هو الناسخ فما روى عن غير بن مسعود رضي الله عنه في ذلك ما حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهرى ح

عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میری دادی ملیکہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپ کے لیے تیار کیا تھا آپ نے وہ کھانا کھایا پھر فرمایا تم اٹھو تا کہ میں تمہارے لیے نماز پڑ ھ دوں انس کہتے میں نے چٹائی اٹھائی جو زیادہ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی میں نے اس پر ذراسا پانی چھڑکا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اٹھے اور میں نے اور یتیم نے صف بندی کی اور بڑھیا ہمارے پیچھے صف میں تھی آپ نے ہمیں دو رکعات نماز پڑھائی پھر آپ واپس تشریف لے گئے اگر کسی شخص کو یہ اعتراض ہو کہ جناب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ عمل نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے بعد کا عمل ہے یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل ماقبل کی روایات کا ناسخ ہے ہم اس معترض کے جواب میں کہیں گے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہ عمل جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ عمل کیا جیسا کہ جابر اور انس رضی اللہ عنہم پس اگر ابن مسعود کا فعل جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے بعد ناسخ ہونے کا ثبوت ہے تو پھر ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے مروی عمل بھی آپ کے مخالف کے ہاں ناسخ ہونے کی دلیل ہے ۔ پس ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ جن سے منقول ہے وہ ملاحظہ ہو ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1798

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1799

وحدثنا يونس قال نا بن وهب ان مالكا حدثه عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن أبيه قال جئت بالهاجرة الى عمر فوجدته يصلى فقمت عن شماله فأخلفنى فجعلنى عن يمينه ثم جاء يرفأ فتأخرت فصليت أنا وهو خلفه

عبید اللہ بن عبداللہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں دو پہر کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بھی ان کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر کے دائیں جانب کر لیا پھر یرفا (غلام عمر رضی اللہ عنہ) آگئے تو میں پیچھے ہٹ گیا پس میں نے اور اس نے ان کےپیچھے نماز ادا کی۔

وهو خلفه ← يمينه ثم جاء يرفأ فتأخرت فصليت ← شماله فأخلفنى فجعلنى ← جئت بالهاجرة الى عمر فوجدته يصلى فقمت ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1799

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1800

1706 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم بن أبى إياس قال ثنا شعبة قال ثنا محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة قال سمعت سليمان بن يسار يقول سمعت بن عتبة يقول أقيمت الصلاة وليس في المسجد أحد الا المؤذن ورجل وعمر بن الخطاب رضي الله عنهما فجعلهما عمر رضي الله عنه خلفه فصلى بهما ثم التمسنا حكم ذلك من طريق النظر فرأينا الأصل أن الإمام إذا صلى برجل واحد أقامه عن يمينه وبذلك جاءت السنة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث أنس رضي الله عنه وفيما

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عتبہ کو کہتے سنا جماعت کھڑی ہو گئی حالانکہ مسجد میں موذن اور ایک آدمی اور عمر کے سوا اور کوئی نہ تھا پس ان کو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ان کو نماز پڑھائی پھر ہم نے غور و فکر سے اس کا حکم ڈھونڈا چنانچہ ہم نے یہ اصول پایا کہ جب امام ایک شخص کو نماز پڑھائے تو اسے دائیں جانب کھڑا کر لے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے سنت طریقہ یہی وارد ہوا ہے ۔

بن عتبة ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1801

1707 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم قال ثنا شعبة عن الحكم عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو يصلى فقمت عن يساره فأخلفنى فجعلنى عن يمينه فهذا مقام الواحد مع الإمام وكان إذا صلى بثلاثة أقامهم خلفه هذا لا اختلاف فيه بين العلماء وانما اختلافهم في الإثنين فقال بعضهم يقيمهما حيث يقيم الواحد وقال بعضهم يقيمهما حيث يقيم الثلاثة فأردنا أن ننظر في ذلك لنعلم هل حكم الإثنين في ذلك الحكم الثلاثة أو كحكم الواحد فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قال الاثنان قما فوقهما جماعة

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت اس وقت آیا جب آپ نماز پڑھ رہے تھے میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے سے گزار کر اپنے دائیں جانب کر لیا۔ تو امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کی جگہ یہ ہے ۔ آپ صلی اللہ عیہ وسلم جب تین اشخاص کو نماز پڑھتے تو ان کو پیچھے کھڑا کرتے اس میں علماء کے درمیان کسی کو اختلاف نہیں ، اختلاف صرف دو کے متعلق ہے بعض نے کہا کہ ان کو وہاں کھڑا کیا جائےجہاں ایک کو کھڑا کیا جاتا ہے اور دوسروں کا کہنا یہ ہے کہ ان دو کو تین کے کھڑے ہونے کی جگہ کھڑا کرے پس ہم نے نظر و فکر سے اس کا حکم معلوم کرنا چاہا کہ دو اور تین کے حکم میں فرق ہے یا ایک جیسا ہے ۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا ( الاثنان فما فوقھما جماعۃ) کہ دو اور ان سے اوپر جماعت کے حکم میں ہیں ۔

يساره فأخلفنى فجعلنى ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو يصلى فقمت ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1801

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1802

1708 - حدثنا بذلك أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمى وموسى بن إسماعيل قالا ثنا الربيع بن بدر عن أبيه عن جده عن أبى موسى الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم بذلك فجعلهما رسول الله صلى الله عليه و سلم جماعة فصار حكمهما كحكم ما هو أكثر منهما لا حكم ما هو أقل منهما ورأينا الله عز و جل فرض الأخ أو للأخت من قبل الأم السدس وفرض للجميع الثلث وكذلك فرض للاثنين وجعل الأخت من الأب النصف والأثنين الثلثين وكذلك أجمعوا أنه يكون الثلث وأجمعوا أن للأبنة النصف وللبنات الثلثين وقال أكثرهم وابن مسعود رضي الله عنه فيهم أن للاثنتين أيضا فكذلك هو في النظر لأن الابنة لما كانت في ميراثها من أبيها كالأخت في ميراثها من أخيها كانت الإبنتان أيضا في ميراثهما من أبيهما كالأختين في ميراثهما من أخيهما فكان حكم الإثنين فيما وصفنا حكم الجماعة لا حكم الواحد فالنظر على ذلك أن يكونا في مقامهما مع الإمام في الصلاة مقام الجماعة لا مقام الواحد فثبت بذلك ما روى جابر وأنس وفعله عمر بن الخطاب رضي الله عنه وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى غير أن أبا يوسف قال الإمام بالخيار ان شاء فعل كما روى بن مسعود رضي الله عنه وان شاء فعل كما روى أنس وجابر رضي الله عنهما وقول أبى حنيفة ومحمد بن الحسن رحمهما الله في هذا أحب إلينا

ربیع بن بدر نے اپنے والد دادا سے انہوں نے موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اس کو اسی طرح روایت کیا ہے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دو کو جماعت قرار دیا ۔ پس ان کا حکم بھی دو سے زیادہ کا ہوا ان کا نہیں جو ان سے کم ہیں ہم نے غور کیا کہ وراثت میں ماں کی طرف سے بھائی یا بہن کا چھٹا حصہ مقرر کیا ہے اور دو سے زائد ہوں یا دو ہوں ان کو ثلث 3/1مقرر فرمایا اسی طرح دو کے لیے بھی یہی مقر ر کیا ۔ باپ کی طرف سے بہن کے لیے آدھا اور دو بہنوں کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا اسی طرح اس پر سب کا اتفاق ہے کہ تین کے لیے بھی اتنا ہی ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ ایک بیٹی کے لیے آدھا اور زیادہ بیٹیوں کے لیے دو تہائی ہے اکثر صحابہ کرام اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ دو بیٹیوں کے لیے بھی دو تہائی ہے غور و فکر کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ بیٹی وراثت میں اپنے والد کے لیے بہن کی طرح ہے جو اپنے بھائی کے لیے ہو ۔ چنانچہ باپ کی وراثت میں دو بیٹیوں کو وہی کچھ ملے گا جو دو بہنوں کو اپنے بھائی کی طرف سے ملتا ہے ہمارے اس بیان میں دو کا حکم ایک جماعت والا ہے ایک شخص والا نہیں پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ امام کے ساتھ دو مقتدی جماعت کی طرح کھڑے ہوں ایک کی جگہ پر کھڑے نہ ہوں اس سے حضرت جابر انس اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ثابت ہو گا اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہ م کا یہی قول ہے ۔ البتہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ امام اختیار ہے کہ وہ اگر چاہے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح بھی کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو حضرت جابر وانس رضی اللہ عنہم کے روایت کردہ فعل پر عمل کرے۔ ہمارے ہاں اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔جو کہ قابل ترجیح ہے ۔

أكثرهم وابن مسعود فيهم ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ ← عبيد الله بن محمد التيمي وموسى بن إسماعيل ← بذلك أحمد بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1802

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter