شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى بالرجلين أين يقيمهما ) قال أبو جعفر قد ذكرنا في باب التطبيق في الركوع عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه صلى بعلقمة والأسود فجعل أحدهما عن يمينه والأخر عن شماله قال ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا بيده وطبق فلما فرغ قال · حديث 1794
عن (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ أنہ صلی بعلقمۃ والأسود فجعل أحدھما عن یمینہ، والآخر عن شمالہ، قال ثم رکعنا فوضعنا أیدینا علی رکبنا، فضرب أیدینا بیدہٖ وطبق، فلما فرغ قال: ھٰکذا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ فاحتمل ذٰلک۔ عندنا۔ أن یکون ما ذکرہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ فعلہ، ھو التطبیق۔ واحتمل أن یکون ھو التطبیق، واقامۃ أحد المأمومین عن یمینہٖ، والآخر عن شمالہ۔ فأردنا أن ننظر، ھل فی شیء من الروایات، ما یدل علی شیء من ذٰلک؟۔
باب التطبیق فی الرکوع میں یہ روایت گزری کہ علقمہ اور اسود دونوں کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک کو دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں جانب کھڑا کیا پھر رکوع میں گئے اور ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ضرب لگائی اور تطبیق کی جب نماز سے فارغ ہو ئے تو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اسی طرح کیا ۔ اس روایت میں ہمارے نزدیک یہ احتمال ہے کہ جو انہوں نے بیان کیا وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فعل ہوا ور وہ تطبیق ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ مقتدیوں میں سے ایک کو دائیں دوسرے کو بائیں کھڑا کرنا مراد ہو پس ہم اس سلسلہ میں روایات پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1794
