شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5747
5433 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن زياد بن سعد عن بن شهاب أن عمر بن الخطاب قال لولا أني ذكرت صدقتي لرسول الله صلى الله عليه و سلم أو نحو هذا لرددتها فلما قال عمر رضي الله عنه هذا دل ذلك أن نفس الإيقاف للأرض لم يكن بمنعه من الرجوع فيها وأنه إنما منعه من الرجوع فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمره فيها بشيء وفارقه على الوفاء به فكره أن يرجع عن ذلك كما كره عبد الله بن عمرو أن يرجع بعد موت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصوم الذي كان فارقه عليه أن يفعله وقد كان له أن لا يصوم ثم هذا شريح وهو قاضي عمر وعثمان وعلي الخلفاء الراشدين المهديين رضي الله عنهم أجمعين قد روى عنه في ذلك أيضا ما قد
ابن شہاب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اگر میں نے اپنے صدقہ کا تذکرہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کیا ہوتا یا اس قسم کی بات فرمائی تو میں اس کو واپس لوٹا لیتا ۔ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تو اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ زمین کو فقط وقف کر دینے سے اس کا حق رجوع ختم نہیں ہوتا آپ کو رجوع سے اس بات نے روکا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک بات کا حکم فرمایا اور آپ ان سے اس حالت میں جدا ہوئے کہ وہ اسے پورا کرنے والے تھے تو اس وجہ سے آپ نے اس کو واپس لینا نا پسند کیا جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان صیام سے رجوع پسند نہ کیا جنہیں وہ حضور علیہ السلام سے جدائی کے وقت رکھا کرتے تھے ۔حالانکہ آپ کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار تھا ۔ پھر یہ قاضی شریح ہیں جو حضرت عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ان کی طرف سے قاضی رہے ان کا ارشاد سنئے ۔
بن شهاب أن عمر بن الخطاب ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5747
