شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 43 باب الرجل يفتتح الصلاة قاعدا هل يجوز له أن يركع قائما أم لا ) · حديث 1937
1831 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا يزيد بن إبراهيم عن محمد بن سيرين عن عبد الله بن شقيق العقيلي عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكبر للصلاة قائما وقاعدا فإذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا
عبداللہ بن شقیق عقیلی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نماز کی تکبیر افتتاحی بیٹھ کر اور کبھی کھڑے ہو کر کرتے تھے جب آپ کھڑے ہوکر شروع کرتے تو کھرا ہو کر نماز ادا کرتے اور کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر ابتداء کرتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے ۔
عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1937
