شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 8 باب حكم الأذنين في وضوء الصلاة ) · حديث 127
130 - حدثنا فهد قال ثنا أبو كريب محمد بن العلاء قال عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن عبيد الله الخولاني عن عبد الله بن عباس قال دخل علي علي بن أبي طالب رضي الله عنه وقد أراق الماء فدعا بإناء فيه ماء فقال يا بن عباس ألا أتوضأ لك كما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ قلت بلى فداك أبي وأمي فذكر حديثا طويلا ذكر فيه أنه أخذ حفنة هي ملء الكفين من ماء بيديه جميعا فصك أي ضرب بهما وجهه ثم الثانية مثل ذلك ثم الثالثة ثم ألقم إبهاميه أي جعل إبهاميه في الأذنين كاللقمة في الفم ما أقبل من أذنيه ثم أخذ كفا من ماء بيده اليمنى فصبها على ناصيته ثم أرسلها تستن أي تسيل على وجهه ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا واليسرى مثل ذلك ثم مسح رأسه وظهور أذنيه فذهب قوم إلى هذا الأثر فقالوا ما أقبل من الأذنين فحكمه حكم الوجه يغسل مع الوجه وما أدبر منهما فحكمه حكم الرأس يمسح مع الرأس وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الأذنان من الرأس يمسح مقدمهما ومؤخرهما مع الرأس وأحتجوا في ذلك بما
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تشریف لائے اور وہ پیشاب سے فارغ ہوئے تھے انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور فرمانے لگے اے ابن عباس ! کیا میں تمہارے سامنے اسی طرح وضو نہ کروں جس طرح میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضؤ کرتے پایا میں نےکہا کیوں نہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر انہوں نے طویل روایت نقل کی جس میں تذکرہ ہے کہ انہوں نے پانی سے اپنے دو چلو بھرے پھر ان کو اپنے چہرے پر مارا پھر دوسری مرتبہ اور تیری مرتبہ بھی اسی طرح کیا پھر انہوں نے اپنے دونوں انگوٹھے اس طرح کیے جیسے منہ میں لقمہ ڈالتے وقت کرتے ہیں اور ان کو اپنے دونوں کانوں کے اگلے حصہ میں ڈالا پھر اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا پھر اسے چہرے پر بہنے کے لیے چھوڑ دیا پھر اپنا دایاں ہاتھ تین مرتبہ کہنی سمیت دھویا اور بایاں بھی اسی طرح دھویا پھر اپنے سر پر مسح کیا اور اپنے کانوں کی پچھلی جانب مسح کیا ۔ بعض علماء کا اس روایت پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ کانوں کو جو حصہ سامنے کی جانب ہے اس کا حکم تو چہرے والا ہے اسے چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور جو اس میں سے پچھلا حصہ ہے اس کا حکم سروالا ہے اسکا سر کےساتھ مسح کریں گے۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس سلسلہ میں ان سے اختلاف کیا ہے اور انہوں نے کہا دونوں کان سر سے ہیں ان کے اگلے اور پچھلے حصہ پر سر کے ساتھ ہی مسح کیا جائے گا۔ انہوں نے ان روایات سے دلیل لی ہے ۔
أبو كريب محمد بن العلاء ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 127
