شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6807
حدثنی موسی بن المبارک، قال: ثنا أحمد بن محمد بن یحییٰ بن سعید القطان، قال:ثنا حسین بن علی الجعفی، عن زائدۃ، عن منذر، عن الربیع بن خثیم، قال:لا یقول أحدکم انی أستغفر اللہ وأتوب الیہ ثم یعود فیکون کذبہ، ویکون ذنبا، ولٰکن لیقل اللھم اغفرلی، وتب علی۔ وکان من الحجۃ لھم فی ذلک۔
ربیع بن خثیم کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے " انی استغفر اللہ و اتوب الیہ " پھر وہ گناہ کی طرف لوٹے گا تو یہ اس کا جھوٹ ہو جائے گا اور گناہ بن جائے گا بلکہ اس طرح کہے : اللھم اغفرلی و تب علی " مزید دلیل یہ ہے ۔
الربیع بن خثیم، قال:لا ← مُنْذِرٍ ← زَائِدَۃَ، ← أحمد بن محمد بن یحییٰ بن سعید القطان، قال:ثنا حسین بن علی الجعفی، ← موسی بن المبارک،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6807
