شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6795
6431 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو كامل قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا الليث قال دخلت على سالم بن عبد الله وهو متكئ على وسادة حمراء فيها تصاوير قال فقلت أليس هذا يكره فقال لا إنما يكره ما يعلق منه وما نصب من التماثيل وأما ما وطئ فلا بأس به قال ثم حدثني عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة حتى ينفخوا فيها الروح يقال لهم أحيوا ما خلقتم فدل هذا من قول سالم على ما ذكرنا ثم اختلف الناس بعد ذلك في هذه الصورة ما هي فقال قوم قد دخل في ذلك صورة كل شيء مما له روح ومما ليس له روح قالوا لأن الأثر جاء في ذلك مبهما واحتجوا في ذلك أيضا بما
لیث بیان کرتے ہیں کہ میں سالم بن عبداللہ کے ہاں گیا وہ ایک سرخ تکیہ کو سہارا بنائے ہوئے تھے جس میں تصاویر تھیں ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کیا یہ مکروہ نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ مکروہ وہ ہیں جو لٹکائی جائیں اور جو تماثیل کی طرح گاڑی جائیں جو روندی جائیں ان میں کوئی حرج نہیں ۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے مجھے اپنے والد سے یہ روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان تصاویر والے قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے تاکہ وہ اس میں روح ڈالیں ان کو کہا جائے گا جو تم نے بنایا اس کو زندہ کرو۔ سالم کا یہ قول ہماری بات پر دلالت کرتا ہے پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ان تصاویر کی حقیقت کیا ہے ؟ فریق اول کا کہنا یہ ہے کہ ہر اس چیز کی تصویر اس میں داخل ہے جس میں روح ہو۔ اور وہ بھی جس میں روح نہ ہو ۔ کیونکہ اس سلسلہ میں جو اثر وارد ہوا ہے وہ مبہم ہے ۔ مزید یہ روایات بھی دلیل ہیں ۔
اللَّيْثُ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو کَامِلٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6795
