Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5871

5555 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن عمرو بن الشريد قال أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي فقال انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي وقاص في داره فجاء أبو رافع فقال للمسور ألا تأمر هذا يعني سعدا أن يشتري مني بيتين في داري فقال سعد والله لا أزيدك على أربع مائة دينار مقطعة أو منجمة فقال سبحان الله لقد أعطيت به خمس مائة دينار نقدا ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الجار أحق بسقبه ما بعتك فدل ما ذكرنا أن ذلك الجار الذي عناه رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الجار الذي تعرفه العامة ومن أعطاك أن الشريك يقال له جار وأين وجدت هذا في لغات العرب فإن قال لأني قد رأيت المرأة تسمى جارة زوجها قيل له صدقت قد سميت المرأة جارة لزوجها ليس لأن لحمها مخالط للحمه ولا دمها مخالط لدمه ولكن لقربها منه فكذلك الجار سمى جارا لقربه من جاره لا لمخالطته إياه فيما جاوره به وأنت فقد زعمت أن الآثار على ظاهرها فكيف تركت الظاهر في هذا ومعه الدلائل وتعلقت بغيره مما لا دلالة معه ثم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من إيجابه الشفعة بالجوار وتفسيره ذلك الجوار ما قد

عمرو بن شرید کہتے ہیں کہ میرے پاس مسور بن مخرمہ آئے اور اپنا ہاتھ میرے ایک کندھے پر رکھ کر کہا میرے ساتھ سعد کے پاس چلو ! چنانچہ ہم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے تو اچانک ابو رافع آئے اور مسعود رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے کیا تم اس کو نہیں کہتے یعنی سعد کو یہ میرے گھر کے دو کمرے خریدے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس پڑوسی کا ہم نے تذکرہ کیا اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف و معلوم پڑوسی مراد لیا ہے اب آپ کو کسی نے بتلایا کہ شریک کو جار کہا جاتا ہے اور آپ نے لغت عرب میں کہاں دھونڈا کہ شریک پر جار بولا جاتا ہے ۔ سعد کہنے لگے اللہ کی قسم میں چار سو دینا قسط سے زیادہ نہ دوں گا انہوں نے مقطعہ کا لفظ استعمال کیا یا منجمہ کا (دونوں ہم معنی ہیں ) انہوں نے کہا سبحان اللہ ! مجھے تو پانچ سو دینار نقد مل رہے ہیں۔ اگر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی " الجاراحق بسقبہ" پڑوسی قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے تو میں نے تم پر فروخت نہ کرتا عورت کو جازۃ و جہا بو لا جاتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ عورت کو جارۃ زوجہا سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس سے نہیں کہ اس کا گوشت خاوند سے ملا ہوا ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ مرد کا خون اس کے خون سے ملا ہے بلکہ قرب کی وجہ سے بول دیا جاتا ہے پس اسی طرح جا کو جار کہنے کی وجہ اپنے پڑوسی کے قریب ہونا ہے ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ جس میں قریب ہیں اس میں وہ آپس میں خلط ملط بھی ہیں ۔ آپ کے تو خیال شریف میں آثار کو ہمیشہ ظاہر پر محمول کرتے ہیں مگر یہاں آپ نے ظاہر کیوں چھوڑ دیا جبکہ اس کے دلائل بھی موجود ہیں اور غیر ظاہر سے مسئلے کو متعلق کر دیا جس کی کوی ادنیٰ دلالت بھی نہیں ؟ پھر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوار کی وجہ سے شفعہ کا ثبوت موجود ہے اور اس کی تفسیر اس روایت میں ملاحظہ کر لیں ۔

قاص في داره فجاء أبو رافع ← انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي ← أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5871

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5872

5556 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا أبو أسامة عن حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن عمرو بن الشريد عن أبيه الشريد بن سويد قال قلت يا رسول الله أرض ليس فيها لأحد قسم ولا شريك إلا الجوار بيعت قال الجار أحق بسقبه فكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الجار أحق بسقبه جوابا لسؤال الشريد إياه عن أرض منفردة لا حق لأحد فيها ولا طريق فدل ما ذكرنا أن الجار الملازق تجب له الشفعة بحق جواره فقد ثبت بما روينا من الآثار في هذا الباب وجوب الشفعة بكل واحد من معان ثلاثة بالشرك في البيع بيع منه ما بيع وبالشرك في الطريق إليه وبالمجاورة له فليس ينبغي ترك شيء منها ولا حمل بعضها على التضاد وإذا كانت قد خرجت على الاتفاق من الوجوه التي ذكرنا على ما شرحنا وبينا في هذا الباب فإن قال قائل فقد جعلت هؤلاء الثلاثة شفعا بالأسباب التي ذكرت فلم أوجبت الشفعة لبعضهم دون بعض إذا حضروا وطالبوا بها وقدمت حق بعضهم فيها على حق بعض ولم تجعلها لهم جميعا إذ كانوا كلهم شفعاء قيل له لأن الشريك في الشيء المبيع خليط فيه وفي الطريق إليه فمعه من الحق في الطريق مثل الذي مع الشريك في الطريق ومعه اختلاط ملكه بالشيء المبيع وليس ذلك مع الشريك في الطريق فهو أولى منه ومن الجار الملازق ومع الشريك في الطريق شركة في الطريق وملازقة للشئ المبيع فمعه من أسباب الشفعة مثل الذي مع الجار الملازق ومعه أيضا ما ليس مع الجار الملازق من اختلاط حق ملكه في الطريق بملكه فيه فلذلك كان عندنا أولى بالشفعة منه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روي ذلك عن شريح

عمرو بن شرید نے اپنے والد حضرت شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی زمین جس میں کسی کا حصہ نہ تھا اور نہ کوئی شریک تھا ۔ بس پڑوسی تھا وہ فروخت کر دیا گیا آپ نے فرمایا پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ متصل پڑوسی کے لیے پڑوسی ہونے کی وجہ سے شفعہ کا حق ثابت ہے ۔ اس باب میں جو روایات ذکر کی گئیں ان سے یہ ثابت ہوا کہ چنچ وجوہ سے حق شفعہ ثابت ہوتا ہے ۔ نمبر1جو چیز فروخت ہو رہی ہے اس میں شرکت ہو ۔ نمبر2اس کی طرف جانے والے راستہ میں شرکت ہو ۔ نمبر 3اس جگہ کے ساتھ پڑوس حاصل ہو۔ ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی چھوڑ نا جائز نہیں اور ان کو ایک دوسرے سے متضاد بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ ان وجوہ کی بنیاد پر جو ہم نے وضاحت سے ذکر کی ہیں روایات باہم متفق ہیں ۔تم نے مذکورہ اسباب کی وجہ سے ہر سہ کو شفعہ کا حقدارقرار دیا ہے تو تم نے بعض کو چھوڑ کر دوسرے بعض کے لیے شفعہ کیوں کر ثابت کر دیا جبکہ وہ تمام حاضر ہو کر مطالبہ کریں تو اس طرح تم نے بعض کو بعض پر مقدم کیا اور جب وہ تمام ہی شفعہ کے حقدار ہیں تو تم نے سب کو حق کیوں نہ دیا ۔ اس طرح اسے لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اول یعنی شریک اس فروخت ہونے والی چیز میں حصہ دار ہے تو گویا وہ اس چیز اور اس کے راستہ دونوں میں شریک ہے پس اس کو راستہ کا حق حاصل ہے جس طرح کہ راستہ میں شریک کو یہ حق حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو فروخت ہونے والی چیز میں ملک کی شرکت بھی حاصل ہے اور راستے میں شریک کو یہ چیز حاصل نہیں ہےپس وہ راستہ میں شریک اور پڑوسی دونوں سے مقدم و والیٰ ہو گا اور جو راستہ میں شریک ہے اس کو اس شرکت کے ساتھ ساتھ فروخت ہونے والی چیز کے ساتھ کا اتصال حاصل ہے جو کہ اسباب شفعہ میں سے ہے اور پڑوس بھی حاصل ہے اس لیے وہ پڑوسی پر مقدم ہے کہ اس کو راستہ کی ملکیت حاصل ہے ۔ اس لیے ہمارے یہ پڑوسی سے مقدم ہو گا ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5872

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5873

5557 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن كثير قال أخبرنا سفيان عن هشام عن محمد عن شريح وأشعث أظنه عن الشعبي عن شريح قال الخليط أحق من الشفيع والشفيع أحق ممن سواه

محمد نے شریح سے اور میرے خیال میں اشعث نے شعبی اور انہوں نے شریح سے نقل کیا کہ شریک شفیع سے زیادہ حقدار ہے اور شفع سے زیادہ حقدار ہے اور شفیع دوسروں سے زیادہ حقدار ہے ۔

«الْخَلِيطُ أَحَقُّ مِنَ الشَّفِيعِ، وَالشَّفِيعُ أَحَقُّ مِمَّنْ سِوَاهُ» ← شُرَيْحٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← شريح وأشعث أظنه ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5873

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5874

5558 - حدثنا أحمد بن داود قال حدثني إسماعيل بن سالم قال أخبرنا هشيم عن يونس وهشام عن محمد ح

ہشیم نے یونس و ہشام سے دونوں نے محمدسے روایت کی ہے ۔

مُحَمَّدٍ ← يُونُسَ، وَهِشَامٍ، ← هُشَيْمٌ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5874

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5875

وحدثنا أحمد قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد الله بن رجاء عن هشام عن محمد عن شريح مثله

ہشام نے محمد سے انہوں نے شریح سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

شُرَيْحٍ مِثْلَهُ. ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← وحدثنا أحمد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5875

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5876

5559 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا شريك عن جابر عن عامر عن شريح قال الشفعة شفعتان شفعة للجار وشفعة للشريك فإن قال قائل فقد روى عن عثمان رضي الله عنه خلاف هذا فذكر ما

جابر نے عامر سے انہوں نے شریح سے نقل کیا شفعہ دو طرح کا ہے ۔ نمبر 1 پڑوش کا شفعہ نمبر 2 شریک کا شفعہ ۔

عثمان خلاف هذا فذكر ما ← قائل فقد روى ← الشفعة شفعتان شفعة للجار وشفعة للشريك فإن ← شُرَيْحٍ ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← شَرِيکٍ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5876

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5877

5560 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إسماعيل بن سالم قال ثنا هشيم عن محمد بن إسحاق عن منصور بن أبي ثعلبة عن أبان بن عثمان قال قال عثمان رضي الله عنه لا مكائلة إذا وقعت الحدود فلا شفعة قيل له قد روى هذا عن عثمان رضي الله عنه كما ذكرت وليس فيه عندنا حجة لك لأنه قد يجوز أن يكون أراد بذلك إذا حدت الحدود من الحقوق كلها وأدخل الطريق في ذلك فيكون ذلك موافقا لما قد رويناه عن جابر رضي الله عنه في هذا الباب إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة ولو كان على ما تأولتموه عليه لكان قد خالفه في ذلك سعد بن أبي وقاص والمسور بن مخرمة وأبو رافع فيما قد رويناه عنهم فيما مضى من هذا الباب وقد روى عن عمر رضي الله عنه أيضا في ذلك ما قد

منصور بن ابی ثعلبہ نے ابان بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب حدود واقع ہو جائیٰں تو حق والے کا حق نہ روکا جائے اور نہ شفعہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ قول حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا اور اس میں بھی تمہاری دلیل موجود نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب حدود مقرر ہو جائیں یعنی تمام حقوق کی اور اس میں راستہ ڈال دیا جائے ۔ ( تو اس وقت شفعہ نہیں ) تو یہ روایت تو ہماری روایت کے موافق بن گئی جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت مذکور ہوئی ( اذا وقعت الحدود و صرقت الطرق فلا شفۃ ) اگر بقول آپ کے اس کی تاویل وہی ہو جو آپ کر رہے ہیں تو روایات سعد اور مسور بن مخرمہ اور ابو رافع رضی اللہ عنہم اس کے خلاف ہوں گی ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے بھی اس بارے میں مروی ہے ۔

أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← منصور بن أبي ثعلبة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← هُشَيْمٌ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5877

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5878

5561 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يزيد بن خالد بن موهب قال ثنا بن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عون بن عبيد الله بن أبي رافع عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر قال قال عمر رضي الله عنه إذا وقعت الحدود وعرف الناس حقوقهم فلا شفعة فقد وافق هذا ما رويناه عن عثمان رضي الله عنه واحتمل ما احتمله حديث عثمان رضي الله عنه وقد روى عن عمر رضي الله عنه خلاف ذلك أيضا

عون بن عبید اللہ بن ابی رافع نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب حد بندی کر دی جائے اور لوگ اپنے اپنے حقوق پہنچان لیں تو اس وقت کوئی شفعہ نہیں ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← عَوْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن إدريس، ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5878

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5879

5562 - حدثنا أحمد قال ثنا يعقوب قال ثنا بن عيينة عن عمرو بن دينار عن أبي بكر بن حفص أن عمر رضي الله عنه كتب إلى شريح أن يقضي بالشفعة للجار الملازق وقد روى أيضا عن بن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل أن الشفعة تجب بالشرك في الطريق

ابو بکرہ بن حفص کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شریح کی طرف لکھا کہ متصل پڑوسی کے لیے شفعہ کے حق کا فیصلہ کیا جائے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شریک فی الطریق کے لیے شفعہ ثابت کیا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← إلى شريح أن يقضي بالشفعة للجار الملازق وقد روى أيضا ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ أَنَّ عُمَرُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← بن عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5879

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5880

5563 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم قال ثنا الفضل بن موسى عن أبي حمزة السكري عن عبد العزيز بن رفيع عن بن أبي مليكة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الشريك شفيع والشفعة في كل شيء

ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریک شفیع ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← بن أبي مليكة ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ السَّكُرِيِّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5880

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5881

5564 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن إدريس عن بن جريج عن عطاء عن جابر رضي الله عنه قال قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالشفعة في كل شيء فلما كان الشريك في الطريق يسمى شريكا كان داخلا في ذلك فإن قال قائل فإنه لا تقول بهذا الحديث لأنه يوجب الشفعة في كل شيء من حيوان وغيره وأنت لا توجب الشفعة في الحيوان قيل له ليس هذا على ما ذكرت إنما معنى الشفعة في كل شيء أي في الدور والعقار والأرضين والدليل على ذلك ما قد روى عن بن عباس رضي الله عنهما

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا جب راستہ میں شریک کو شریک کہا جاتا ہے تو وہ اس میں داخلہ ہو گا ( جو شفع کر سکتے ہیں ) اگر یہ کہا جائے کہ تم یہ روایت پیش کر رہے ہو حالانکہ تم ہر چیز میں تو شفعہ کے قائل نہیں مثلاً حیوان وغیرہ ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اس طرح اس روایت کا مفہوم نہیں اس کا مفہوم یہ ہے ۔ شفعہ ہر چیز میں ہے یعنی تمام گھروں ، بنجرو آباد زمینو ں میں اور اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← بن إدريس، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5881

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5882

5565 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب قال ثنا معن بن عيسى عن محمد بن عبد الرحمن عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنهما قال لا شفعة في الحيوان

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں حیوان میں شفعہ نہیں ۔

لا شفعة في الحيوان ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مَعْن بن عيسی ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5882

chevron_left Previous
1…678…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter