شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5871
5555 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن عمرو بن الشريد قال أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي فقال انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي وقاص في داره فجاء أبو رافع فقال للمسور ألا تأمر هذا يعني سعدا أن يشتري مني بيتين في داري فقال سعد والله لا أزيدك على أربع مائة دينار مقطعة أو منجمة فقال سبحان الله لقد أعطيت به خمس مائة دينار نقدا ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الجار أحق بسقبه ما بعتك فدل ما ذكرنا أن ذلك الجار الذي عناه رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الجار الذي تعرفه العامة ومن أعطاك أن الشريك يقال له جار وأين وجدت هذا في لغات العرب فإن قال لأني قد رأيت المرأة تسمى جارة زوجها قيل له صدقت قد سميت المرأة جارة لزوجها ليس لأن لحمها مخالط للحمه ولا دمها مخالط لدمه ولكن لقربها منه فكذلك الجار سمى جارا لقربه من جاره لا لمخالطته إياه فيما جاوره به وأنت فقد زعمت أن الآثار على ظاهرها فكيف تركت الظاهر في هذا ومعه الدلائل وتعلقت بغيره مما لا دلالة معه ثم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من إيجابه الشفعة بالجوار وتفسيره ذلك الجوار ما قد
عمرو بن شرید کہتے ہیں کہ میرے پاس مسور بن مخرمہ آئے اور اپنا ہاتھ میرے ایک کندھے پر رکھ کر کہا میرے ساتھ سعد کے پاس چلو ! چنانچہ ہم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے تو اچانک ابو رافع آئے اور مسعود رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے کیا تم اس کو نہیں کہتے یعنی سعد کو یہ میرے گھر کے دو کمرے خریدے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس پڑوسی کا ہم نے تذکرہ کیا اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف و معلوم پڑوسی مراد لیا ہے اب آپ کو کسی نے بتلایا کہ شریک کو جار کہا جاتا ہے اور آپ نے لغت عرب میں کہاں دھونڈا کہ شریک پر جار بولا جاتا ہے ۔ سعد کہنے لگے اللہ کی قسم میں چار سو دینا قسط سے زیادہ نہ دوں گا انہوں نے مقطعہ کا لفظ استعمال کیا یا منجمہ کا (دونوں ہم معنی ہیں ) انہوں نے کہا سبحان اللہ ! مجھے تو پانچ سو دینار نقد مل رہے ہیں۔ اگر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی " الجاراحق بسقبہ" پڑوسی قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے تو میں نے تم پر فروخت نہ کرتا عورت کو جازۃ و جہا بو لا جاتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ عورت کو جارۃ زوجہا سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس سے نہیں کہ اس کا گوشت خاوند سے ملا ہوا ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ مرد کا خون اس کے خون سے ملا ہے بلکہ قرب کی وجہ سے بول دیا جاتا ہے پس اسی طرح جا کو جار کہنے کی وجہ اپنے پڑوسی کے قریب ہونا ہے ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ جس میں قریب ہیں اس میں وہ آپس میں خلط ملط بھی ہیں ۔ آپ کے تو خیال شریف میں آثار کو ہمیشہ ظاہر پر محمول کرتے ہیں مگر یہاں آپ نے ظاہر کیوں چھوڑ دیا جبکہ اس کے دلائل بھی موجود ہیں اور غیر ظاہر سے مسئلے کو متعلق کر دیا جس کی کوی ادنیٰ دلالت بھی نہیں ؟ پھر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوار کی وجہ سے شفعہ کا ثبوت موجود ہے اور اس کی تفسیر اس روایت میں ملاحظہ کر لیں ۔
قاص في داره فجاء أبو رافع ← انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي ← أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5871
