شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5883
5566 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عبد الله بن أبي السفر عن عامر الشعبي عن خارجة بن الصلت عن عمه أنه قال أقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتينا على حي من أحياء العرب فقالوا لنا إنكم قد جئتم من عند هذا الخبر بخير فهل عندكم دواء أو رقية أو شيء فإن عندنا معتوها في القيود قال فقلنا نعم فجاؤوا به فجعلت أقرأ عليه بفاتحة الكتاب ثلاثة أيام غدوة وعشية أجمع بزاقي ثم أتفل فكأنما أنشط من عقال فأعطوني جعلا فقلت لا حتى أسأل النبي صلى الله عليه و سلم فسألته فقال كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت حق وقد
شعبی نے خارجہ بن صلت سے انہوں نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوٹے تو ہمارا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا ۔ تو انہوں نے ہم سے کہا تم اس بڑے عالم کی طرف سے بہتری لائے ہو کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا جھاڑ یا اور کوئی چیز ہے کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ بیڑیوں میں جکڑا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا ہاں چنانچہ وہ اس دیوانہ کو ہمارے پاس لائے میں نے اس پر تین روز صبح و شام سورۃ فاتحہ پڑھی میں اپنے لعاب کو جمع کر کے اس پر تھوکتا رہا گویا وہ رستی سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت دی میں نے کہا جب تک میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی متعلق دریافت نہ کر لوں اس وقت تک نہ لوں گا۔ میں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس کو کھاؤ مجھے اپنی عمر کی قسم ہے جو آدمی باطل جھاڑ پھونک سے کھائے تو وہ باطل اور ناجائز ہے تونے تو سچے دم سے کھایا ہے ۔
عَمِّهِ أَنَّهُ ← خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5883
