شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5723
5411 - أخبرنا يونس قال ثنا سفيان عن عمرو عن طاوس عن حجر عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى بالعمرى للوارث فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا العمرى للوارث فقطع بذلك شرط العمرى فقال الأولون فلم يبين رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث ذلك الوارث وارث من هو معه فقد يجوز أن يكون أراد وارث المعمر قيل له هذا محال عندنا لأنه إنما كان الذكر على شيء قد جعل للعمر حياته على أن يعود بعد الموت إلى المعمر فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك للوارث أي جعل لوارث المعمر ما قد كان اشترط فيه المعمر أن لا يكون ميراثا والدليل على ذلك
حجر نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کے متعلق وارث کے لیے فیصلہ فرمایا جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث کو عمریٰ دینے کا فیصلہ فرمایا اور عمریٰ کی شرط کو باطل قرار دیا ۔ روایت میں وارث کی وضاحت نہیں کہ کون ہے وہ وارث جس کے ساتھ وہ رہتا ہے یا معمر کا وارث مراد ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات ہمارے ہاں نا ممکن ہے کیونکہ یہاں تک اس چیز کا تذکرہ ہے جو معمر کو زندگی بھر کے لیے دی گئی ہے اور اس شرط پر دی گئی ہے کہ معمر کی طرف لوٹے گی معمر کے ورثاء کو نہ ملے گی اب مطلب یہی ہے کہ معمر کے ورثاء کو ملے گی معمر کی وراثت نہ ہو گی اس کی دلیل یہ روایت ہے ۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← حُجْرٍ ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5723
