Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5711

5400 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن فطر ح

مسدد نے یحیی سے انہوں نے فطر سے روایت کی ہے ۔

فِطْرٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5711

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5712

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا فطر قال ثنا أبو الضحى قال سمعت النعمان بن بشير يقول ذهب بي أبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ليشهده على شيء أعطانيه فقال ألك ولد غيره قال نعم فقال بيده ألا سويت بينهم فلم يخبر في هذا الحديث أنه أمره برده وإنما قال ألا سويت بينهم على طريق المشورة وأن ذلك لو فعله كان أفضل وقد روى عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم في قصة النعمان هذا خلاف كل ما روينا عن النعمان

ابو الضحی کہتےہیں کہ میں نے نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ کو فرمات سنا کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے تا کہ وہ اس چیز پر آپ کو گواہ بنائیں جو انہوں نے نجھے دی تھی تو وہ کہنے لگے کیا تمہارا اور بھی لڑکا ہے اس نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ نے اپنےدست اقدس سے فرمایا تم ان کے مابین برابری کیوں نہیں کرتے ۔ پس اس روایت میں س بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ آپ نے ان کو واپس کرنے کاحکم فرمایا بس اتنی بات فرمائی کہ تم ان کے مابین برابری کیوں نہیں کرتے یہ بطور مشورہ فرمایا ۔ کیوں کہ ایسا کرنا زیادہ بہتر و افضل تھا ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبُو الضُّحَی ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5712

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5713

5401 - حدثنا فهد قال ثنا النفيل قال ثنا زهير قال ثنا أبو زبير عن جابر قال قالت امرأة بشير لبشير أنحلي ابني غلامك وأشهدي لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عليه قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن بنت فلان سألتني أن أنحل ابنها غلامي وقالت أشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أله إخوة قال نعم قال أفكلهم أعطيته قال لا قال فإن هذا لا يصلح وإني لا أشهد إلا على حق ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان أمره لبشير بالرد قبل إنفاذ بشير الصدقة فأشار النبي صلى الله عليه و سلم عليه بما ذكرنا وهذا خلاف جميع ما روى عن النعمان لأن في تلك الأحاديث أنه نحله قبل أن يجئ به إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنه قال للنبي صلى الله عليه و سلم إني نحلت ابني هذا كذا فأخبر أنه قد كان فعل وفي حديث جابر هذا إخباره للنبي صلى الله عليه و سلم بسؤال امرأته إياه فكان كلام النبي صلى الله عليه و سلم إياه بما كلمه به على طريق المشورة وعلى ما ينبغي أن يفعل عليه الشيء إن آثر أن يفعله وقد روى شعيب بن أبي حمزة هذا الحديث عن الزهري موافقا لهذا المعنى

ابو الزبیر نے جابر سے روایت کی ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی نے کہا میرے بیٹے کو اپنا غلامبطور عطیہ دے دو اور اس پر جناب رسول اللہﷺ کو گواہ بنا لو ۔ جاب ررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہﷺ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام دے دوں ااور وہ کہتی ہے کہ اس پر آپ کی گواہی ڈالواؤں ۔ آپ نے فرمایا کیا س کے اور بھائی ہیں اس کہا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تم نے سب کو عطیہ دیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ۔ میں تو خالص حق بات پر گواہ بنتا ہوں ۔ یہ روایت بتلاتی ہے جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بشیر کو فرمائی کہ ایسا مت کرو یہ بشیر کے عطیہ دینے سے پہلے کی بات ہے آپ نے اس میں اعلی کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ روایت نعمان سے مروی تمام روایات کے خلاف ہے کیونکہ ان روایات میں یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آنے سے پہلے عطیہ کر دیا تھا اور ان کے الفاظ یہ تھے " انی نحلت " جس نے فعل عطیہ کا ثبوت ملتا ہے اور روایت جابر رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کے سوال کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشورہ طلب کیا تو آپ نے بطریق مشورہ فرمایا اور جو کرنا مناسب تھا وہ بتلایا اگر وہ ترجیح دینا چاہتا ہو۔

جَابِرٍ ← أبو زبير ← زُهَيْرٍ ← النفيل ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5713

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5714

5402 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال حدثني حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان أنهما سمعا النعمان بن بشير يقول نحلني أبي غلاما ثم مشى بي حتى أدخلني على النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني نحلت ابني غلاما فإن أذنت أن أجيزه له أجزته ثم ذكر الحديث فدل ما ذكرنا على أنه لم يكن النحلي كملت فيه من حين نحله إياه إلى أن أمره النبي صلى الله عليه و سلم برده وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قسم شيئا بين أهله سوى بينهم جميعا فأعطى المملوك منهم كما يعطى الحر

زہری نے حمید اور محمدبن نعمان دونوں سے انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے ایک غلام دینا چاہا پھر وہ مجھے لے کر جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے بیٹے کو ایک غلام دینا ہپے اگر آپ کی اجازت ہو گی تو میں اس کو عنایت کر دوں گا پھر روایت اسی طرح ذکر کی ۔ اس روایت سے بھی دلالت مل گئی کہ آپ نے عطیہ نہ کیا تھااس کی تکمیل کا دارومدار آ پ کی اجازت مبارکہ تھی اور آپ ﷺ کا معمول مبارک اپنے اہل کے درمیان تمام چیزوں میں برابری تھا مملوک و حر میں برابری فرماتے ۔

حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان أنهما سمعا النعمان بن بشير ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5714

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5715

5403 - حدثنا بذلك يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن عبد الله بن دينار عن عروة عن عائشة قالت أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بطيبة خرز فقسمها بين الحرة والأمة قالت عائشة وكذلك كان أبي يقسم للحر والعبد فكان هذا مما كان النبي صلى الله عليه و سلم يفعله يعم بعطاياه جميع أهله حرهم وعبدهم ليس على أن ذلك واجب ولكنه أحسن من غيره فكذلك كانت مشورته في الولد أن يسوي بينهم في العطية ليس على أنه واجب ولا على أن غيره إن فعل لم يثبت وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد فضل بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم بعض أولادهم على بعض في العطايا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس شفاف موتی آئے تو آپ نے آزاد و حر کی تفریق کے بغیر ان کو تقسیم فرما دیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد صاحب بھی اسی طرح تقسیم فرماتے ۔ آپ ﷺ کا یہ طرز عمل اس لئے تھاتا کہ تمام اہل کو آپ کے عطیات عام ہوں خواہ وہ غلام ہو یا آزاد ۔ یہ تقسیم واجب تو نہ تھی مگر اعلی ضرور تھی پس اسی طرح آپ کا مشورہ مبارک اولاد کے سلسلہ میں عطیات میں تسویہ و برابری اس طور پر نہ تھا کہ یہ فرض واجب ہے اور نہ اس طور پر تھا کہ اگر اس کے علاوہ کیا جائے تو وہ نافذ نہ ہو گا ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عبد الله بن دينار ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← بذلك يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5715

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5716

5404 - فحدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها قالت إن أبا بكر الصديق نحلها جداد عشرين وسقا من ماله بالغابة فلما حضرته الوفاة قال والله يا بنية ما من أحد من الناس أحب إلي غني منك ولا أعز الناس علي فقرا من بعدي منك وإني كنت نحلتك جداد عشرين وسقا فلو كنت جددتيه وأحرزتيه كان لك وإنما هو اليوم مال وارث وإنما هما أخوك وأختاك فاقتسموه على كتاب الله تعالى فقالت عائشة والله يا أبت لو كان كذا وكذا لتركته إنما هي أسماء فمن الأخرى قال ذو بطن بنت خارجة أراها جارية

زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مقام غابہ کے مال سے بیس وسق کھجوریں اتاری ہوئیں عنایت کیں اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو فرمایا بیٹی ! اللہ کی قسم ! مالداری کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر مجھے کوئی پسند نہیں اور تیری محتاجی سے بڑھ کر میرے لئے کسی کی محتاجی زیادہ پریشان کن نہیں میں نے تمہیں بیس وسق اتاری ہوئی کھجوریں دی تھیں اگر تم ان کو الگ کر کے قبضہ کر چکی ہوتیں تو وہ تمہاری ہوتیں لیکن آج جو کچھ ہے وہ وارثوں کا ہے اور وہ تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں انہیں قرآن مجید کے حکم کے مطابق تقسیم کر لینا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ابا جان ! اللہ کی قسم ! اگر مال اس قدر بھی ہوتا تو میں چھوڑ دیتی میری تو ایک بہن اسماء ہیں دوسری کون سی ہے انہوں نے کہا کہ خارجہ کی بیٹی ( زوجہ صدیق رضی اللہ عنہا ) کے پیٹ میں جو کچھ ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہو گی ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5716

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5717

5405 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي الأعمش عن شقيق قال ثنا مسروق قال كان أبو بكر الصديق قد أعطى عائشة نحلي فلما مرض قال لها اجعليه في الميراث وذكروا القبض والهبة والصدقة

حضرت مسروق نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک عطیہ دیا جب آپ بیمار ہوئے تو ان سے فرمایا اس کو میراث بنا دو اور انہوں نے قبضہ ، ہبہ اور صدقہ کا ذکر کیا ۔

لها اجعليه في الميراث وذكروا القبض والهبة والصدقة ← كان أبو بكر الصديق قد أعطى عائشة نحلي فلما مرض ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← أبي الأعمش ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5717

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5718

5406 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عمرو قال أخبرني صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف أن عبد الرحمن فضل بني أم كلثوم بنحل قسمه بين ولده فهذا أبو بكر رضي الله عنه قد أعطى عائشة رضي الله عنها دون سائر ولده ورأى ذلك جائزا ورأته هي كذلك ولم ينكره عليهما أحد من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم وهذا عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قد فضل بعض أولاده أيضا فيما أعطاهم على بعض ولم ينكر ذلك عليه منكر فكيف يجوز لأحد أن يحمل فعل هؤلاء على خلاف قول النبي صلى الله عليه و سلم ولكن قول النبي صلى الله عليه و سلم عندنا فيما ذكرنا من ذلك إنما كان على الاستحباب كاستحبابه التسوية بين أهله في العطية وترك التفضيل لحرهم على مملوكهم ليس على أن ذلك مالا يجوز غيره ولكن على استحبابه لذلك وغيره في الحكم جائز كجوازه وقد اختلف أصحابنا في عطية الولد التي يتبع فيها أمر النبي صلى الله عليه و سلم لبشير كيف هي فقال أبو يوسف رحمة الله عليه يسوى بين الأنثى فيها والذكر وقال محمد بن الحسن رحمة الله عليه بل يجعلها بينهم على قدر المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين قال أبو جعفر في قول النبي صلى الله عليه و سلم سووا بينهم في العطية كما تحبون أن يسووا لكم في البر دليل على أنه أراد التسوية بين الإناث والذكور لأنه لا يراد من البنت شيء من البر إلا الذي يراد من الابن مثله فلما كان النبي صلى الله عليه و سلم أراد من الأب لولده ما يريد من ولده له وكان ما يريد من الأنثى من البر مثل ما يريد من الذكر كان ما أراد منه لهم من العطية للأنثى مثل ما أراد للذكر وفي حدث أبي الضحى فقال النبي صلى الله عليه و سلم ألك ولد غيره فقال نعم فقال ألا سويت بينهم ولم يقل ألك ولد غيره ذكر أو أنثى وذلك لا يكون إلا وحكم الأنثى فيه كحكم الذكر ولولا ذلك لما ذكر التسوية إلا بعد علمه أنهم ذكور كلهم فلما أمسك عن البحث عن ذلك ثبت استواء حكمهم في ذلك عنده فهذا أحسن عندنا مما قال محمد رحمة الله عليه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اولاد کو عطیات تقسیم فرمائے تو ام کلثوم کی اولاد کو فضیلت دی ۔ یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیہ دیا اور باقی اولاد کو چھوڑ دیا اور اس کو جائز قرار دیا اور ام المؤمنین نے بھی اسی طرح خیال فرمایا اور کسی صحابی رضی اللہ عنہم نے بھی اعتراض نہیں کیا ( جبکہ ان کے بیٹے پوتے صحابی ہیں ) یہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اولاد کے عطیات میں بعض کو بعض پر فضیلت دی اس پر کسی نے اعتراض نہ کیا اب یہ کسی اور کے لئے کس طرح درست ہے کہ وہ ان حضرات کے عمل کو جناب رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی کے مخالف قرار دے ۔ ہمارے نزدیک تو جناب رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی سے اس کا استحباب مراد ہے گھر والوں میں عطیات کی تقسیم میں برابری کرنا اور آزاد کو غلام پر فضیلت دینا اگر ترک کر دیا جائے تو یہ ترک مستحب ہے یہ نہیں کہ نا جائز ہے بلکہ یہ مستحب ہے اور دوسرا طریقہ جائز ہے ۔ اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو آپ نے کو حکم دیا تو وہ کس طرح ہے ؟ لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین برابری کی جائے ۔ وراثت کے حساب سے 1:2کے ساتھ تقسیم کیا جائے ۔ اما طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ارشاد کہ ان کے مابین برابری کرو جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے خیر میں مساوات قائم کریں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان برابری کا ارادہ فرمایا ۔ اس لئے بیٹی سے بھی وہی بھلائی چاہی جاتی ہے جو بیٹے سے مقصود ہو تی ہے تو جب جناب نبی اکرم ﷺ نے باپ سے بیٹے کے لئے اس چیز کا ارادہ فرمایا جس کا وہ اپنے بیٹے کے لئے ارادہ کرتا تھا اور وہ بیٹی سے جو بھلائی چاہتا ہے وہ اس کی مثل ہے جو بیٹے سے چاہتا ہے تو آپ نے عطیات کے سلسلہ میں لڑکی کے لئے اس چیز کا ارادہ فرمایا جس کا لڑکے کے لئے فرمایا اور ابو الضحی کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے دریافت فرمایا تمہاری اور کوئی اولاد ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا ۔ تو ان کے مابین مساوات قائم کرو ۔ آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی بیٹا بیٹی ہے اور یہ بات اس صورت میں ( یعنی مرد و عورت کا فرق) دریافت کئے بغیر یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ بیٹی اور بیٹے کا حکم ایک جیسا ہے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ اس وقت تک برابری کا ذکر نہ فرماتے جب تک آپ کو علم نہ ہو جاتا کہ وہ تمام لڑکے ہیں جب آپ اس بحث میں نہ پڑے تو ثابت ہوا کہ آپ کے نزدیک ان سب کا حکم ایک جیسا ہے ۔ ہمارے نزدیک امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کے قول کی بنسبت یہ قول زیادہ اچھا ہے ۔ جناب رسول اللہﷺ سے اس مفہوم پر دلالت کرنے والی روایت بھی مروی ہے ۔

صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5718

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5719

5407 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عبد الله بن معاذ عن معمر عن الزهري عن أنس قال كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل فجاء بن له فقبله وأجلسه على فخذه ثم جاءت بنت له فأجلسها إلى جنبه قال فهلا عدلت بينهما أفلا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أراد منه التعديل بين الإبنة والإبن وأن لا يفضل أحدهما على الآخر فذلك دليل على ما ذكرنا في العطية أيضا

زہری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا اس کا بیٹا آیا تو اس نے اسے چوما اور اپنی ران پر بٹھا لیا پھر اس کی بیٹی آئی تو اس نے اسے پہلو میں بٹھا لیا جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے مابین برابری کیوں قائم نہیں کی ۔ کیا اس بات کے مخالف کو نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہﷺ نے اس ارشاد کے ذریعے بیٹی اور بیٹے کے درمیان سلوک میں برابری اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دینے کا ارادہ فرمایا تو یہ اس بات کی دلیل ہے جس کو ہم نے عطیہ کے ضمن میں ذکر کیا ۔ کیا اس بات کے مخالف کو نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ بیٹی اور بیٹے کے درمیان سلوک میں برابری اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دینے کا ارادہ فرمایا تو یہ اس بات کی بھی دلیل ہے جس کو ہم نے عطیہ کے ضمن میں ذکر کیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5719

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5720

5408 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال المسلمون عند شروطهم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى إجازة العمرى وجعلوها راجعة إلى المعمر بعد موت المعمر له واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إنما وقع قول رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا على الشروط التي قد أباح الكتاب اشتراطها وجاءت به السنة وأجمع عليه المسلمون فأما ما نهى عنه الكتاب أو نهت عنه السنة فهو غير داخل في ذلك ألا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حديث بريرة كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط وما في كتاب الله عز و جل هو ما كان منصوصا فيه أو ما قاله رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنه إنما وجب قبوله لكتاب الله عز و جل إذ يقول فيه وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا وليس كل شرط يشترطه المسلمون يدخل في قول النبي صلى الله عليه و سلم المسلمون عند شروطهم لأنه لو كان ذلك كذلك لجاز الشرطان في البيع اللذان قد نهى عنهما النبي صلى الله عليه و سلم ولكان هذا الحديث معارضا لذلك ولقوله كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط فلما لم يجعل ذلك على هذا المعنى وإنما جعل على خاص من الشروط وقد وقفنا عليها وعرفناها فأعلمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله المسلمون عند شروطهم أنهم عند تلك الشروط التي قد أجاز لهم اشتراطها حتى لا يجب لمن هو لهم عليه نقضها وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ذلك أيضا

۵۷۲۰- ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں ۔ ابن ابی داؤد نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی شروط پر پورے اترنے والے ہیں (بخاری فی الاجارہ باب 2، ابو داؤد فی الاقضیہ باب 12) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،فقہا کی ایک جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ عمریٰ جائز ہے اور جس کے لیے وہ چیز عمر بھر کے لیے دی جائے گی وہ اس کی موت کے بعد اس کی طرف لوٹ آئے گی انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے وہ شرائط مراد ہیں جن کو قرآن مجید اور سنت جائز قرقرار دے اس پر سب کا اتفاق ہے جن شرائط کی ممانعت کتاب و سنت سے ثابت ہو وہ اس میں داخل و شامل نہیں کیا فریق اول والے احباب کو یہ نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بریرہ میں یہ بات فرمائی کہ جو شرائط ہیں جن کے متعلق نصوص وارد ہیں یا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائی ہیں اس لیے کہ ان کو قبول کرنا بھی کتاب اللہ کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھو " (الحشر 7) یہ بات نہیں کہ جو شرط بھی مسلمان لگالیں وہ اس قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر اس طرح ہوتا تو سودے میں وہ شرائط جائز ہوتیں جن سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور یہ حدیث اس کے معارض بنتی اور اس صورت میں آپ کے اس قول کے بھی خلاف ہوتی " کل شرط " الحدیث جو جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرائط ہوں جب آپ نے اس کا یہ معنی نہیں لیا بلکہ اس سے خاص شرائط مراد لی ہیں جن سے ہم واقف و مطلع ہو چکے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے ہمیں بتلادیا " المسلمون عند شروطھم " یعنی مسلمان انہی شرائط پر رہیں گے جن کو ان کو اجازت دی گئی ہے وہ ایسی شرائط نہ لگائیں جن کا توڑنا لازم ہو جائے خود ارشاد نبوت اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5720

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5721

5409 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال ثنا عبد الله بن نافع الصائغ قال ثنا كثير بن عبد الله المزني عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال المسلمون عند شروطهم إلا شرطا أحل حراما أو حرم حلالا فدل هذا أن الشروط التي المسلمون عندها هي بخلاف هذه الشروط المستثناة وكانت الشروط في العمرى قد وقفنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على بطلانها في آثار قد جاءت عنه مجيئا متواترا فمنها ما قد

کثیر بن عبداللہ المز فی انے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے مسلمان اپنی شرائط پر قائم رہیں گے سوائے اس شرط کے جو کسی حرام کو حلال کر دے یا کسی حرام کو حلال کرے اس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ شرائط جن پر مسلمان کا قائم رہنا ضروری ہے وہ ان مستثنیٰ شرائط کے علاوہ ہیں اور عمریٰ میں لگائی جانے والی شرائط کے بطلان کی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر روایات میں اطلاع دی ہے ہم چند آثار نقل کرتے ہیں ۔ بطلان عمریٰ کی روایات ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5721

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5722

5410 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عمرو عن سليمان بن يسار أن أميرا كان على المدينة يقال له طارق قضى بالعمرى للوارث عن قول جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک امیر کا نام طارق تھا اس نے وارث کے لیے عمریٰ کا فیصلہ کیا اس نے حضرت جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دلیل بنایا ۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5722

chevron_left Previous
1…603604605…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter