Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5699

5388 - حدثنا صالح قال ثنا حجاج بن إبراهيم قال ثنا يحيى عن الحجاج عن الحكم عن إبراهيم عن عمر مثله يعني مثل حديثه الذي ذكرنا في الفصل الذي قبل هذا الفصل وزاد ويستهلكها أو يموت أحدهما فجعل عمر رضي الله عنه استهلاك الهبة يمنع واهبها من الرجوع فيها وجعل موت أحدهما يقطع ما للواهب فيها من الرجوع أيضا فكذلك نقول وقد روى عن شريح في الهبة نظير ما قد روى عن عمر رضي الله عنه

ابراہیم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلی فصل میں ذکر کر آئے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہبہ کا ہلاک کر دینا یا واہب و موہوب لہ میں سے کسی کی موت بھی ۔ ( کہ ان وہ واپس نہیں ہو سکتا ) اس روایت میں حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہبہ کے ہلاک کر دینے کو واپسی کے لئے مانع قرار دیا اسی طرح دونوں میں سے کسی ایک کی موت کو رجوع ہبہ سے مانع قرار دیا ہم احناف بھی اسی طرح کہتے ہیں ۔ ہبہ کے متعلق شریح رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5700

5389 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا جرير بن حازم قال سمعت محمدا يحدث أن شريحا قال من أعطى في قرابة أو معروف أو صلة فعطيته جائزة والجانب المستقرب يثب من هبته أو يرد عليه

محمد نے بیان کیا کہ شریح رحمتہ اللہ علیہ نے کہا جس نے اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت داری یا نیکی یا احسان کے طور پر دیا تو اس کا عطیہ جائز ہے اور قرابت والی جانب کے لحاظ سے وہ اپنے ہبہ کا بدلہ دے یا اسی کو اس پر لوٹا دیا جائے۔

أَنَّ شُرَيْحًا ← مُحَمَّدًا ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5700

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5701

5390 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن أيوب عن بن سيرين عن شريح مثله قال أبو جعفر وأما هبة كل واحد من الزوجين لصاحبه

ابن سیرین نے شریح سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ زوجین کے ایک دوسرے کو ہبہ کا مسئلہ اس طرح ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ زوجین کے ایک دوسرے کو ہبہ کا مسئلہ اس طرح ہے ۔

أبو جعفر وأما هبة كل واحد من الزوجين لصاحبه ← شُرَيْحٍ مِثْلَهُ. ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5701

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5702

5391 - فإن أبا بكرة قد حدثنا قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا حماد بن سلمة عن أيوب عن محمد أن امرأة وهبت لزوجها هبة ثم رجعت فيها فاختصما إلى شريح فقال للزوج شاهداك أنهما رأياها وهبت لك من غير كره ولا هوان وإلا فيمينها لقد وهبت لك عن كره وهوان فهذا شريح قد سأل الزوج البينة أنها وهبت له لا عن كره بعد ارتجاعها في الهبة فدل ذلك أن السنة لو ثبتت عنده على ذلك لرد الهبة إليها ولم يجز لها الرجوع فيها وقد كان من رأيه أن للواهب الرجوع في هبته إلا من ذي الرحم المحرم فجعل المرأة في هذا كذي الرحم المحرم فهكذا نقول وأما هبة الزوج لامرأته

ایوب نے محمد سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کو ایک چیز ہبہ کی پھر اس کو لوٹایا ۔ دونوں اپنا مقدمہ قاضی شریح کی خدمت میں لائے تو آپ نے خاوند کو فرمایا کہ تم دو گواہ پیش کرو کہ جنہوں نے دیکھا ہو اس عورتنے تمہیں کسی جبر واہ کراہ اور سستی کے بغیر ہبہ کیا ورنہ وہ قسم اٹھائے گی کہ اسنے یہ عطیہ مجبور اً اور ذلت و عجز کے بغیر دیا ۔ یہ شریح ہیں کہ جنہوں نے خاوند سے دلیل کا مطالبہ کیا کہ اس نے واقعتہً خاوند کو ہبہ کیا ہے اس میں زبردستی کا دخل نہ تھا ۔ یہ بات آپ نے ہبہ لوٹانے کے بعد فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اگر روایت ان کے ہاں ثابت ہوتی تو ہبہ خاوند کی طرف لوٹاتے اور عورت کے لئے رجوع کو جائز قرار نہ دیتے ۔ قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کی رائے یہی تھی کہ ہبہ کرنے والا ہبہ میں رجوع کر سکتا ہے البتہ ذی رحم محرم سے رجوع نہیں کر سکتا انہوں نے عورت کو اس مسئلہ میں ذی رحم محرم سے رجوع نہیں کر سکتا انہوں نے عورت کو اس مسئلہ میں ذی رحم محرم کی طرح قرار دیا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں ۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← فإن أبا بكرة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5702

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5703

5392 - فإن أبا بكرة حدثنا قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا أبو عوانة عن أبي منصور قال قال إبراهيم إذا وهبت المرأة لزوجها أو وهب الرجل لامرأته فالهبة جائزة وليس لواحد منهما أن يرجع في هبته

ابو منصور کہتے ہیں کہ ابراہیم کہنے لگے جب عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز ہبہ کرے یا مرد اپنی بیوی کو کوئی چیز ہبہ کرے تو ہبہ درست ہے ان میں سے کسی کو بھی یہ جائز نہیں کہ وہ ہبہ کو لوٹائے ۔

أَبِي مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← فإن أبا بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5703

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5704

5393 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد بن الحسن عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال الزوج والمرأة بمنزلة ذي الرحم المحرم إذا وهب أحدهما لصاحبه لم يكن له أن يرجع فجعل الزوجان في هذه الأحاديث كذي الرحم المحرم فمنع كل واحد منهما من الرجوع فيما وهب لصاحبه فهكذا نقول وقد وصفنا في هذا ما ذهبت إليه في الهبات وما ذكرنا من هذه الآثار إذ لم نعلم عن أحد مثل من رويناها عنه خلافا لها فتركنا النظر من أجلها وقلدناها وقد كان النظر لو خلينا وإياه خلاف ذلك وهو أن لا يرجع الوهب في الهبة لغير ذي الرحم المحرم لأن ملكه قد زال عنها بهبته إياها وصار للموهوب له دونه فليس له نقض ما قد ملك عليه إلا برضاء مالكه ولكن اتباع الآثار وتقليد أئمة أهل العلم أولى فلذلك قلدناها واقتديناها وجميع ما بينا في هذا الباب قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

حماد نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا میاں اور بیوی بمنزلہ ذی رحم محرم کے ہپیں جب ان مییں سے کوئی ایک دوسرے کو ہبہ کرے تو وہ اسے لوٹا نہیں سکتا ۔ ان تمام آثار می میاں بیوی کو ہبہ میں ذی رحم محرم کی طرح قرار دیا گیا ہے جو بھی ایک دوسرے کو ہبہ کردیں تو اس میں رجوع جائز نہیں ہے ہم احناف کا قول بھی یہی ہے ۔ ہم نے جو کچھ ہبہ کی اشیاء کے سلسلہ میں اپنا مذہب بیان کیا اس کے لئے جو روایات ہمنے ذکر کی ہیں ان کے خلاف اس قسم کی روایات ہم نہیں پاتے اسی وجہ سے ہم نے قیاس کو ترک کر کے انہی کو اختیار کیا ہے ۔ اگر قیاس کا لحاظ کیا جائے تو وہ ان روایات کے مخالف ہے وہ اس طرح کہ ہبہ کرنے والا جس طرح ذی رحم محرم کو دی ہو ئی چیز واپس نہین کر سکتا اس طرح وہ غیر ذی رحم محرم سے بھی واپس نہ کر سکتا کیونکہ ہبہ کرنے کی وجہ سے اس چیز سے اس کی ملک زائل ہو گئی اور وہ موہوب لہ کی ملک بن گئی اس کی نہیں رہی ۔ تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کی ملکیت کو توڑے اپبتہ اس کے مالک کی مرضی سے ایسا کر سکنا ممکن ہے ۔ لیکن روایات کی اتباع اور اہل علم ائمہ کرام کی تقلید زیادہ بہتر ہے اسی وجہ سے ہم نے ان روایات کو اپنایا ۔ اس باب میں جو بیان کیا گیا یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5704

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5705

5394 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان قال ثنا الزهري عن محمد بن النعمان وحميد بن عبد الرحمن أخبراه أنهما سمعا النعمان بن بشير يقول نحلني أبي غلاما فأمرتني أمي أن أذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لأشهده على ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك أعطيته فقال لا قال فاردده

محمد بن نعمان اور حمید بن عبد الرحمٰن دونوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا میرے والد نے مجھے ایک غلام عنایت فرمایا میری والدہ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤں تاکہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا لوں اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہربیٹے کو دیا ہے؟میرے والد نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اس کو واپس لوٹا لو۔

نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا فَأَمَرَتْنِي أُمِّي ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ← محمد بن النعمان ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5705

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5706

5395 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف وعن محمد بن النعمان بن بشير حدثاه عن النعمان بن بشير قال إن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرجعه قال أبو جعفر فذهب قوم إلي أن الرجل إذا نحل بعض بنيه دون بعض أن ذلك باطل واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا قد كان النعمان في وقت ما نحله أبوه صغيرا فكان أبوه قابضا له لصغره عن القبض لنفسه فلما قال النبي صلى الله عليه و سلم أردده بعد ما كان في حكم ما قبض دل هذا أن النحلى من الوالد لبعض ولده دون بعض لا يملكه المنحول ولا ينعقد له عليه هبة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في العطية ليستووا في البر ولا يفضل بعضهم على بعض فيوقع ذلك له الوحشة في قلوب المفضولين منهم فإن نحل بعضهم شيئا دون بعض وقبضته المنحول لنفسه إن كان كبيرا أو قبضه له أبوه من نفسه إن كان صغيرا بإعلامه إياه والإشهاد به فهو جائز وكان من الحجة لهم في ذلك أن حديث النعمان الذي ذكرنا قد روى عنه على ما ذكروا وليس فيه دليل أنه كان حينئذ صغيرا ولعله وقد كان كبيرا ولم يكن قبضه وقد روى أيضا على غير هذا المعنى الذي في الحديث الأول

محمد بن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطیہ دیا ہے جو غلام کہ میرا تھا۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس جیسا غلام اپنے ہر لڑکے کو دیا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے واپس لوٹا لو۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علماء کے ایک فریق کا خیال یہ ہے کہ اگر ایک لڑکے کو دوسروں کو چھوڑ کر عطیہ دیا تو یہ عطیہ باطل ہے۔ مندرجہ بالا روایت دلیل ہے ۔ جب نعمان کو ان کے والد نے یہ عطیہ دیا اس وقت وہ بہت چھوٹے بچے تھے ان کا والد اس غلام پر قابض تھا اور وہ اپنی نو عمری سے اس پر قبضہ نہ کر سکتے تھے جب آپ ﷺ نے فرمایا : "ارددہ" کہ اس کو واپس کر دو۔ جب حکماء ان کا قبضہ ہو گیا تو آپ نے لوٹانے کا حکم دیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ عطیہ والد نے اپنے ایک لڑکے کو دیا تھا اور جس کو دیا گیا وہ اس کا مالک نہ تھا اور نہ اس کا ہبہ منعقد ہوا۔ دوسروں نے کہا والد کو چاہئے کہ اپنی اولاد کے عطیات میں برابری برتے تاکہ وہ احسان میں برابر ہوں ان میں کوئی ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ ہو۔ اس نے جن کو کم دیا گیا ان کے دلوں میں دوری پیدا ہو گی اگر اس نے کچھ چیزیں ایک کو دیں اور اس نے قبضہ کر لیا یہ سمجھ کر کہ یہ میری ہے اگر وہ بڑایا والدنے ا س کی طرف سے قبضہ کر لیا جبکہ وہ چھوٹا تھا تاکہ اس کو بتلا دیا جائے کہ یہ اس کی چیز ہے اور اس پر گواہ بھی بنائے تو یہ درست ہے ۔ روایت نعمان کا چھوٹا بچہ ہونا ثابت نہیں ہو تا شاید وہ بڑے تھے مگر انہوں نے غلامپر قبضہ نہ کیا تھا ۔ یہ روایت دوسری سند سے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5706

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5707

5396 - فحدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهيب عن داود بن أبي هند عن عامر الشعبي عن النعمان بن بشير قال انطلق بي أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ونحلني نحلي ليشهده على ذلك فقال أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا قال أيسرك أن يكونوا إليك في البر كلهم سواء قال بلى قال فأشهد علي هذا غيري فكان والذي في هذا الحديث من قول النبي صلى الله عليه و سلم لبشير فيما كان نحله النعمان أشهد على هذا غيري فهذا دليل أن الملك ثابت لأنه لو لم يثبت لا يصح قوله فهذا خلاف ما في الحديث الأول لأن هذا القول لا يدل على فساد العقد الذي كان عقده النعمان لأن النبي صلى الله عليه و سلم قد يتوفى الشهادة على ماله أن يشهد عليه وعلى الأمور التي قد كانت وكذلك لمن بعده لأن الشهادة إنما هي أمر يتضمنه الشاهد للمشهود له فله أن لا يتضمن ذلك وقد يحتمل غير هذا أيضا فيكون قوله أشهد علي هذا غيري أي إني أنا الإمام والإمام ليس من شأنه أن يشهد وإنما من شأنه أن يحكم وفي قوله أشهد على هذا غيري دليل على صحة العقد وقد

عامر شعبی نے نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنانا چاہتے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اس قسم کا عطیہ دیا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تم کو یہ پسند ہے کہ وہ بھلائی میں سب تمہارے ہاں برابر ہوں انہوں نے کہا جی ہاں کیوں نہیں آپنے فرمایا پھرتم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بن الو اس روایتمین حضرت نعمان کو عطیہ دینے پر حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو جناب نبی اکرم ﷺ نے کسی اور کو گواہ بنانے کا حکم فرمایا پس اس سے ثابت ہوا کہ نعمان کے لئے ملک ثابت تھی کیونکہ اگر ان کی ملک ثابت نہ ہوتی تو آپ اس پر کسی دوسرے کو گواہ بنانے کا حکم نہ فرماتے ۔ اس روایت کا مضمون پہلی روایت کے خلاف ہت کیونکہ جناب رسول اللہﷺ بعض اوقات ان معاملات پر گواہ بننے سے احتراز فرماتے تھے جن پر آپ کو گواہ بننا جائز ہوتا اس طرح ا وہ امور جو ہو چکے ہوتے نیز آپ کے بعد والے حضرات کے لئے بھی ایسا کرنا جائز تھا کیونکہ شہادت ایک ایسا معاملہ ہے جس مین شاید مشہود کے لئے ضامن بنتا ہے اور آپ کو حق تھا کہ ضامن نہ بنتے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ نے اور کو گواہ بنانے کا فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں حاکم ہوں اور گواہ بننا امام و حاکم کی شان نہیں بلکہ وہ تقو امور کا فیصل ہے آپ کا یہ فرما دینا میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ صحت عقد کی دلیل ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5707

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5708

5397 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا آدم قال ثنا ورقاء عن المغيرة عن الشعبي قال سمعت النعمان على منبرنا هذا يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم سووا بين أولادكم في العطية كما تحبون أن يسووا بينكم في البر قال أبو جعفر فكان المقصود إليه في هذا الحديث الأمر بالتسوية بينهم في العطية ليستووا جميعا في البر وليس فيه شيء من ذكر فساد العقد المعقود على التفضيل

شعبی کہتےہیں کہ میں نے نعمان رضی اللہ عنہ کو ہمارے اس منبر پر فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کے درمیان عطیات میں برابری کرو جیسا کہتم یہ پسند کرتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ بھائی و احسان میں برابر ہوں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس ارشاد سے مقصود مبارک یہ تھا کہ عطیات مین اولاد کے درمیان برابری ہونی چاہئے تا کہ وہ احسان میں وہ برابری کرنے والے ہوں اس میں عقد کے فساد کی کوئی دلیل نہیں جو بعض کی فضیلت کی وجہ سے قائم ہوا ۔

النعمان على منبرنا هذا ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5708

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5709

5398 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا عباد بن العوام عن حصين عن الشعبي قال سمعت النعمان بن بشير يقول أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد من الأشهاد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني قد أعطيت ابني من عمرة عطية وإني أشهدك قال أكل ولدك أعطيت مثل هذا قال لا قال فأتقوا الله وأعدلوا بين أولادكم فليس في هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم أمره برد الشيء وإنما فيه الأمر بالتسوية

شعبی کہتے ہیں کہ میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا میرے والد نے مجھے عطیہ عنایت فرمایا میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا میں تو اس کو اس وقت پسند کروں گی جب کہ تم جناب رسول اللہﷺ کو اس پر گواہ بناؤ ۔ وہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا مین نے اپنی بیوی عمرہ کے بیٹے کو عطیہ دیا ہے اور میں اس پر آپ کو گواہ بناتا ہوں آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اس طرح کا عطیہ دیا میں نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین برابری کرو ۔ اس روایت میں بھی یہ موجود نہیں کہ جناب رسول اللہﷺ نے اس عطیہ کو واپس لینے کا حکم فرمایا ہو بلکہ اس میں صرف برابری کا حکم فرمایا ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5709

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5710

5399 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا مرجى قال ثنا داود عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال انطلق بي أبي يحملني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إشهد أني قد نحلت النعمان من مالي كذا وكذا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك نحلته قال لا قال أما يسرك أن يكونوا لك في البر سواء قال بلى قال فلا إذا فقد اختلف لفظ حديث داود هذا فيما روى عنه مرجى ههنا وفيما روى عنه وهيب فيما قد تقدم في هذا الباب وهكذا رواه الشعبي عن النعمان وقد رواه أبو الضحى عن النعمان أيضا

شعبی نےنعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے اٹھا کر جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ۔ تو جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو عطیہ دیا ہے انہوں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بات تمہیں پسند ہے کہ وہ تیرے ساتھ احسان میں برابر ہوں ۔ اس نے کہا کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ پھر ایسا مت کرو ۔ داؤد کی اس روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں جو اس سے مرجی سے یہاں روایت کی ہے اور جو اس نے ویب سے روایت کی جو گزر ی اسی طرح شعبی نے نعمان سے روایت کی ہے اور ابو الضحی نے نعمان سے بھی روایت کی ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← مرجى ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5710

chevron_left Previous
1…602603604…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter