شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5687
5376 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن أبيه قال سمعت عمر بن الخطاب يقول حملت على فرس في سبيل الله فأضاعه الذي كان عنده فأردت أن أبتاعه منه وظننت أنه بائعه برخص هو ضد الغلاء فسألت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا تبتعه وإن أعطاكه بدرهم واحد ولا تعد في صدقتك فإن العائد في صدقته كالكلب يعود في قيئه
زید بن اسلم اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں ایک گھوڑا ایک شخص کو جہاد کے لئے دیا اس نے اس کو ضائع کر دیا میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا اور سوچا کہ وہ اسے کم قیمت میں فروخت کر دے گا ۔ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اسےمت خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم کے بدلے دے اور اپنا صدقہ واپس نہ کرو کیونکہ صدقہ واپس کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹ لیتا ہے ۔
عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5687
