Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5615

5306 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ وعبد الله بن محمد بن خشيش وإبراهيم بن محمد الصيرفي قالوا حدثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا محمد بن دينار الطاحي قال ثنا يونس بن عبيد عن زياد بن جبير عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة

زیاد بن جبیر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے حیوان کی فروخت حیوان کے ادھار منع فرمائی ۔

بن عُمَرَ ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إبراهيم بن محمد الصيرفي ← عبد الله بن محمد بن خشيش ← محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5615

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5616

5307 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حسن نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل فرمائی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5616

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5617

5308 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حسن نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5617

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5618

5309 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا مسلم قال ثنا هشام بن أبي عبد الله عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فكان هذا ناسخا لما رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من إجازة بيع الحيوان بالحيوان نسيئة فدخل في ذلك أيضا استقراض الحيوان فقال أهل المقالة الأولى هذا لا يلزمنا لأنا قد رأينا الحنطة لا يباع بعضها ببعض نسيئة وقرضها جائز فكذلك الحيوان لا يجوز بيع بعضه ببعض نسيئة وقرضه جائز فكان من حجتنا على أهل هذه المقالة في تثبيت المقالة الأولى أن نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة يحتمل أن يكون ذلك لعدم الوقوف منه على المثل ويحتمل أن يكون من قبل ما قال أهل المقالة الأولى في الحنطة في البيع والقرض فإن كان إنما نهى عن ذلك من طريق عدم وجود المثل ثبت ما ذهب إليه أهل المقالة الثانية وإن كان من قبل أنهما نوع واحد لا يجوز بيع بعضه ببعض نسيئة لم يكن في ذلك حجة لأهل المقالة الثانية على أهل المقالة الأولى فاعتبرنا ذلك فرأينا الأشياء المكيلات لا يجوز بيع بعضها ببعض نسيئة ولا بأس بقرضها ورأينا الموزونات حكمها في ذلك كحكم المكيلات سواء خلا الذهب والورق ورأينا ما كان من غير المكيلات والموزونات مثل الثياب وما أشبهها فلا بأس ببيع بعضها ببعض وإن كانت متفاضلة وبيع بعضها ببعض نسيئة فيه اختلاف بين الناس فمنهم من يقول ما كان منها من نوع واحد فلا يصلح بيع بعضه ببعض نسيئة وما كان منها من نوعين مختلفين فلا بأس ببيع بعضه ببعض نسيئة وممن قال بهذا القول أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين ومنهم من يقول لا بأس ببيع بعضها ببعض يدا بيد ونسيئة وسواء عنده كانت من نوع واحد أو من نوعين [ ص 62 ] فهذه أحكام الأشياء المكيلات والموزونات والمعدودات غير الحيوان على ما نشرنا فكان غير المكيل والموزون لا بأس ببيعه بما هو من خلاف نوعه نسيئة وإن كان المبيع والمبتاع به ثيابا كلها وكان الحيوان لا يجوز بيع بعضه ببعض نسيئة وإن اختلفت أجناسه لا يجوز بيع عبد ببعير ولا ببقرة ولا بشاة نسيئة ولو كان النهي من النبي صلى الله عليه و سلم عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة إنما كان لإتفاق النوعين لجاز بيع العبد بالبقرة نسيئة لأنها من غير نوعه كما جاز بيع الثوب الكتان بالثوب القطن الموصوف نسيئة فلما بطل ذلك في نوعه وفي غير نوعه ثبت أن النهي في ذلك إنما كان لعدم وجود مثله ولأنه غير موقوف عليه وإذا كان إنما بطل بيع بعضه ببعض نسيئة لأنه غير موقوف عليه بطل قرضه أيضا لأنه غير موقوف عليه فهذا هو النظر في هذا الباب ومما يدل على ذلك أيضا ما قد أجمعوا عليه في استقراض الإماء أنه لا يجوز وهن حيوان فاستقراض سائر الحيوان في النظر أيضا كذلك فإن قال قائل فإنا رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم حكم في الجنين بغرة عبد أو أمة وحكم في الدية بمائة من الإبل وفي أروش الأعضاء بما قد حكم به مما قد جعله في الإبل وكان ذلك حيوانا كله يجب في الذمة فلم لا كان كل الحيوان أيضا كذلك قيل له قد حكم النبي صلى الله عليه و سلم في الدية والجنين بما ذكرت من الحيوان ومنع من بيع الحيوان بالحيوان بعضه ببعض نسيئة على ما قد ذكرنا وشرحنا في هذا الباب فثبت النهي في وجوب الحيوان في الذمة بأموال وأبيح وجوب الحيوان في الذمة بغير أموال فهذان أصلان مختلفان نصححهما ونرد إليهما سائر الفروع فنجعل ما كان بدلا من مال حكمه حكم القرض الذي وصفنا وما كان بدلا من غير مال فحكمه حكم الديات والغرة التي ذكرنا من ذلك التزويج على أمة وسط أو على عبد وسط والخلع على أمة وسط أو على عبد وسط والدليل على صحة ما وصفنا أن النبي صلى الله عليه و سلم قد جعل في جنين الحرة غرة عبدا أو أمة وأجمع المسلمون أن ذلك لا يجب في جنين الأمة وأن الواجب فيه دراهم أو دنانير على ما اختلفوا فقال بعضهم عشر قيمة الجنين إن كان أنثى ونصف عشر قيمته إن كان ذكرا وممن قال ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقال الآخرون نصف عشر قيمة أم الجنين وأجمعوا في جنين البهائم أن فيه ما نقص أم الجنين وكانت الديات الواجبة من الإبل على ما أوجبها رسول الله صلى الله عليه و سلم يجب في أنفس الأحرار ولا يجب في أنفس العبيد فكان ما حكم فيه بالحيوان المجعول في الذمم هو ما ليس ببدل من مال ومنع من ذلك في الإبدال من الأموال فثبت بذلك أن القرض الذي هو بدل من مال لا يجب فيه حيوان في الذمم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روى ذلك عن نفر من المتقدمين

حسن نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ روایات جن میں حیوان کی بیع حیوان کے بدلے ادھار جائز قرار دی گئی تھی اس کی ناسخ بن جائیں گی اور حیوان کو کرایہ پر لینا بھی اسی میں داخل ہونے کی وجہ سے سے ناجائز ٹھہرے گا ۔ فریق اول والے کہتے ہیں کہ یہ الزام ہم پر لاگونہیں ہوتا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گندم گندم کے بدلے ادھار فروخت نہیں کر سکتے مگر اس کوقرض پر لینا جائز ہے بالکل اسی طرح حیوان کی بیع حیوان کے بدلے ادهار تو جائز نہیں مگر حیوان کوقرض پر لینا جائز ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادهار فروخت کرنے سے منع فرمایا تو اس میں احتمال یہ ہے کہ ان حیوانات میں مماثلت معلوم نہیں ہوسکتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ وہی ہو جوفریق اول نے گندم پر قیاس کرتے ہوئے کہی ہے اگر عدم مماثلت ثابت ہوتی ہو تو اس سے دوسرے قول کا ثبوت ملتا ہے اور اگر ان کو ایک نوع تسلیم کیا جائے تو ان کو بطور ادھار ایک دوسرے کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں تو اس صورت میں دوسرے قول والوں کے لئے پہلے قول والوں کے خلاف دلیل نہ بن سکے گی۔ اب ہم اس کو جانچتے ہیں (مکیلی ) ماپ کر دی جانے والی اشیاء سے موازنہ کیا تو دیکھا کہ ماپی جانے والی اشیاء کی فروخت ادھار درست نہیں البتہ میں قرض جائز ہے اور دوسری طرف موزونی (وزن کی جانے والی ) اشیاء کو دیکھا تو سونے چاندی کے علاوہ کا وہی حکم ہے جو مکیلی اشیاء کا ہے۔ اب ہم نے مکیلی اور موزونی اشیاء کے علاوہ اشیاء کو دیکھا مثلا کپڑا وغیرہ تو ان کو ایک دوسرے کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہ پایا۔ خواہ وہ مقدار میں کم یا زیادہ ہوں مگر ان کو ایک دوسرے کے بدلے ادھار فروخت کرنے میں فقہاء اسلام کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ جو ایک قسم سے تعلق رکھتی ہے ان کو تو ایک دوسرے کے بد لے بطور ادھار فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جن کی اقسام مختلف ہیں انہیں ایک دوسرے کے بدلے بطور ادھار فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بقول امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ دوسری جماعت کا قول یہ ہے کہ ان کو ایک دوسرے کے بدلے نقدو ادھار دونوں طرح فروخت کرنا درست ہے خواہ ان کی نوع ایک ہو یا الگ الگ تفصیل مکیلی، موزونی ، عددی اشیاء کے حکم کی کر دی ہے۔ یہ حیوان کے علاوہ ہیں۔ پی مکیلی موزونی اشیاء کے علاوہ اشیاء کو جبکہ انواع الگ ہوں تو ادھار فروخت میں کوئی حرج نہیں۔ خواہ فروخت شدہ شئی اور اس کا بدل دونوں کپڑے ہی کیوں نہ ہوں ۔ مگر حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار فروخت کرنا جائز نہیں ہے اگر ان کی جنس مختلف ہوتب بھی ان کی بیع درست نہیں ہے مثلا اونٹ گائے اور بکری کے بدلے غلام کو بطور ادهار فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر جناب رسول الله ﷺ کی طرف سے حیوان ، حیوان کے بدلے ادھار فروخت کی ممانعت ان کے ایک نوع ہونے کی وجہ سے ہوتی تو گائے کے بدلے غلام کی فروخت تو جائز ہونی چاہیے تھی ۔ کیونکہ ان میں تو نوع مختلف ہیں جیسا کہ ریشمی کپڑے کو سوتی کپڑے کے بدلے فروخت کرنا جائز ہے۔ پس جب یہ حکم نوع اور غیر نوع دونوں میں باطل ٹھہرا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ممانعت کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اس کی مثل نہیں اور اس لئے بھی کہ اس کی موقوف علیہ نہیں تو جب ان میں ایک دوسرے کی آپس میں ادهاربیع باطل ہے کیونکہ اس پر اس کا دارومدار نہیں تو اس کو قرض پر لینا بھی باطل ہے کیونکہ اس کی مثل پراطلاع نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلہ میں نظر کا تقاضا یہی ہے اور جو چیز کی مزید مؤید ہے وہ یہ ہے کہ لونڈیوں کو قرض پر لیناسب کے نزدیک نا جائز ہے اور وہ بھی حیوان کی جنس میں شامل ہیں پس قیاس کے طور پر تمام حیوانات کا یہی حکم ہونا چاہئے۔ اگر کوئی معترض ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ناتمام بچے کو گرانے میں ایک غلام یا لونڈی دینے کاحکم فرمایا ہے اور دیت کے طور پرسو اونٹ کا حکم ہے اسی طرح اعضاء کی دیت کا حکم تو وہ فقط اونٹوں میں مقررفر مایا دیگر حیوانات میں ہیں حالانکہ ذمہ میں واجب ہونے والے تو سبھی حیوانات ہیں ۔ ان کا حکم یکساں کیوں نہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے دیت اور نا تمام بچوں کے تاوان میں وہ حیوان دینے کا حکم فرمایا جس کاتم نے ذکر کیا ہے اور حیوانات کو ایک دوسرے کے بدلے بطور ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا جیسا کہ ہم نے اس باب کے شروع میں وضاحت سے ذکر کر دیا ہے تو کسی کے ذمہ حیوان کے ثابت کرنے کی نفی ثابت ہوگئی اور غیر مال کے بدلے حیوان کا وجوب جائز قرار پایا۔ یہ دونوں الگ الگ قاعدے ہیں ان دونوں کو ہم درست قرار دے کر ان کے فروعات کو ان کی طرف لوٹاتے ہیں ۔ جو چیز مال کے بدلے میں ہو اس کو ہم اس قرض کا حکم دیتے ہیں جو ہم نے بیان کیا اور جو چیز غیر مال کا بدل ہو اس کا حکم دیت اورغره ( نا تمام بچے کا بدل) کا حکم قرار دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا اور اسی قسم میں درمیانے قسم کی لونڈی یا غلام کے عوض نکاح کرنے کا مسئلہ ہے اسی طرح در میانی قسم کی لونڈی یا غلام کے بدلے خلع کرنا ہے۔ اس کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت کے جنین میں ایک غلام یالونڈی مقرر فرمائی ہے اور ان پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ لونڈی کے ناتمام بچے میں لونڈی لازم نہیں بلکہ اس میں دینار و درہم لازم ہیں جیسا کہ اس میں اختلاف ہے بعض نے اگرلڑ کی ہوتو جنین کی قیمت کا دسواں حصہ اورلڑ کا ہو تو اس کی قیمت کا بیسواں حصہ ہے۔ امام ابوحنیفہ ابو يوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ علماء کا دوسرا گروہ فرماتا ہے جنین کی ماں کی جو قیمت ہے اس کا بیسواں حصہ ہے مگر جانوروں کے جنین کے سلسلہ میں اتفاق ہے کہ جنین کی ماں کی قیمت میں جتنا نقصان ہوا وہ واجب ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں نے اونٹوں کے ذریہ جودیت لازم فرمائی ہے وہ آزادنفوس کے سلسلہ میں لازم ہے غلاموں میں نہیں ۔ پس جن کے بدلے حیوانات کو رکھا گیاه و اموال نہیں جبکہ اموال کے بدلے اس کی ممانعت کی گئی اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قرض جو کہ مال کا بدل ہے اس میں کسی کے ذمہ حیوان واجب نہ ہوں گے۔ یہی امام ابوحنیفہ ابو يوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کاقول ہے۔

أبو جعفر فكان هذا ناسخا لما رويناه ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُّسْلِمٍ ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5618

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5619

5310 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيساني قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال أسلم زيد بن خليدة إلى عتريس بن عرقوب في قلائص كل قلوص بخمسين فلما حل الأجل جاء يتقاضاه فأتى بن مسعود يستنظره فنهاه عن ذلك وأمره أن يأخذ رأس ماله

طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ زید بن خلیدہ نے عتریس بن عرقوب کے ساتھ اونٹنیوں میں بیع سلم کی ، ہر اونٹنی پچاس کے بدلے جب میعاد پوری ہو گئی تو وہ اونٹوں کا تقاضا کرنے آئے عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ ان سے مہلت طلب کی جائے تو انہوں نے ان کو منع کر دیا اور حکم دیا کہ اپنا اصل مال لے لو۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5619

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5620

5311 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع بن الوليد عن سعيد بن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم عن بن مسعود قال السلف في كل شيء إلى أجل مسمى لا بأس به ما خلا الحيوان

ابراہیم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا حیوان کے علاوہ ہر چیز میں بیع سلم ہو سکتی ہے ۔

بن مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5620

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5621

5312 - حدثنا مبشر بن الحسن قال ثنا أبو عامر قال ثنا شعبة عن عمار الدهني عن سعيد بن جبير قال كان حذيفة يكره السلم في الحيوان

سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حیوان میں بیع سلم کو نا پسند قرار دیتے تھے ۔

كان حذيفة يكره السلم في الحيوان ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مبشر بن الحسن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5621

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5622

5313 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا حماد عن حميد عن أبي نضرة أنه سأل بن عمر عن السلف في الوصفاء فقال لا بأس به قلت فإن أمراءنا ينهوننا عن ذلك قال فأطيعوا أمراءكم وأمراؤنا يومئذ عبد الرحمن بن سمرة وأصحاب النبي صلى الله عليه و سلم

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے غلاموں اور لونڈیوں میں بیع سلم کا حکم دریافت کیا تو فرمایا کوئی حرج نہیں میں نے ان سے کہا کہ ہمارے حکام تو اس سے منع کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ان کی اطاعت کرو۔ ان دنوں ہمارے حکام عبدالرحمن بن سمرہ اور دیگر اصحاب نبی ﷺ تھے ۔

ذَلِكَ ← لا بأس به قلت فإن أمراءنا ينهوننا ← السلف في الوصفاء ← أبي نضرة أنه سأل بن عمر ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5622

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5623

5314 - حدثنا فهد بن سليمان بن يحيى قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا سفيان عن عبيد الله بن أبي يزيد عن بن عباس عن أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما الربا في النسيئة

عبید اللہ بن ابی یزید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود ادھار میں ہے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد بن سليمان بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5623

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5624

5315 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد عن عمرو بن دينار عن بن عباس عن أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عمرو بن دینا نے ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5624

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5625

5316 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا خالد هو بن عبد الله الواسطي عن خالد هو الحذاء عن عكرمة عن بن عباس عن أسامة بن زيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا ربا إلا في النسيئة

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرض میں سود ہے ۔

«لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٍ هُوَ الْحَذَّاءُ، ← خالد هو بن عبد الله الواسطي ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5625

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5626

5317 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن عطاء أن أبا سعيد الخدري لقي بن عباس فقال أرأيت أي أخبرني قولك في الصرف يعني الذهب بالذهب وبينهما فضل أشئ سمعته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أو شيء وجدته في كتاب الله عز و جل فقال بن عباس أما كتاب الله عز و جل فلا أعلمه وأما رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنتم أعلم به مني ولكن حدثني أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما الربا في النسيئة

عطاء کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا بیع صرف میں تم کیا کہ کہتے ہو۔ جبکہ درمیان میں اضافہ لیا جائے کیا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی یا کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کتاب اللہ میں میں اس کے متعلق میں کوئی چیز نہیں جانتا البتہ جناب رسول اللہ ﷺ سے تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ لیکن میں نے اسامہ بن زید سے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک سود قرض میں ہے ۔

عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5626

chevron_left Previous
1…595596597…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter