شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5603
5295 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أنه نهى عن ثمن الكلب والسنور إلا كلب صيد وقد روينا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب أنه نهى عن ثمن الكلب ولم يفسر أي كلب هو فلم يحل ذلك من أحد وجهين إما أن يكون أراد خلاف كلاب المنافع أو يكون أراد كل الكلاب ثم ثبت عنده نسخ كلب الصيد منها فاستثناه في هذا الحديث
ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کتے کی قیمت اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا مگر شکاری کتے کے سلسلے میں اجازت دی ہم پہلے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے جناب نبی اکرم ﷺ کا قول اس باب میں ذکر کر آئے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت کی ممانعت فرمائی مگر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کون سا کتا ہے ؟ تو اس طرح دونوں صورتوں میں سے ایک سے خالی نہیں۔ یا تو فائدہ دینے والے کتوں کا ارادہ فرمایا یا تمام کتے مراد ہیں ۔ پھر جب ان کے ہاں شکاری کتے کے حکم کا منسوخ ہونا ثابت ہو گیا تو انہوں نے اس روایت میں اس کو مستثنیٰ کر دیا۔
النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب أنه نهى ← ثمن الكلب والسنور إلا كلب صيد وقد روينا عنه ← جابر أنه نهى ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5603
