Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5591

5283 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا موسى عن عقبة عن نافع عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال إلا كلبا ضاريا أو كلب ماشية

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے البتہ انہوں نے شکار اور چوپایوں کے کتے کو مستثنیٰ کیا ہے ۔

إلا كلبا ضاريا أو كلب ماشية ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُقْبَةَ ← مُوسَى ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5591

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5592

5284 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أمية بن بسطام قال ثنا يزيد بن زريع عن روح بن القاسم عن بجير بن أبي بجير عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر الكلاب فقال من إتخذ كلبا ليس بكلب قنص أو كلب ماشية نقص من أجره كل يوم قيراط

بجیر بن ابی بجیر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کا تذکرہ کیا پھر فرمایا جس نے شکار اور چوپایوں کے کتوں کے علاوہ کتا پالا اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5592

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5593

5285 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الحميد بن صالح قال ثنا بن أبي الزناد عن أبيه عن أبي سلمة وغيره عن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكلاب وقال لا يتخذ الكلاب إلا صياد أو خائف أو صاحب غنم

ابو سلمہ وغیرہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے پالنے سے منع فرمایا اور فرمایا شکار کے لئے یا خطرے والا یا بکریوں والا کتا پال سکتا ہے ۔

الكلاب وقال لا يتخذ الكلاب إلا صياد أو خائف أو صاحب غنم ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي سلمة وغيره ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5593

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5594

5286 - وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير قال حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن قال حدثني أبو هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أمسك كلبا فإنه ينقص من عمله كل يوم قيراط إلا كلب حرث أو ماشية

ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کھیتی یا چوپایوں کے علاوہ کتا پالا تو اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہو جاتا ہے ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← وحدثنا سليمان بن شعيب

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5594

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5595

5287 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن طيعة أن أبا الزبير أخبره أنه سأل جابرا أقال النبي صلى الله عليه و سلم في الكلاب شيئا قال أمر بقتلهن ثم أذن لطوائف

ابو الزبیر نے بتلایا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ۔ کیا جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے متعلق کچھ فرمایا ہے ؟ کہنے لگے ان کے قتل کا حکم دیا پھر بعض خانہ بادوشوں کو اجازت دے دی۔

بن طيعة أن أبا الزبير ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5595

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5596

5288 - وحدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن أبي عامر قال ثنا شعبة عن أبي التياح عن مطرف عن عبد الله بن المغفل بمعجمة وفاء مشددة قال أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب ثم قال مالي وللكلاب ثم رخص في كلب الصيد وفي كلب آخر نسيه سعيد

مطرف نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم فرمایا پھر فرمایا میرا کتوں سے کیا واسطہ ؟ پھر آپ نے شکاری کتے کی اجازت دی اور ایک دوسرے کتے کی جس کو سعید بھول گئے ۔

مالي وللكلاب ثم رخص في كلب الصيد وفي كلب آخر نسيه سعيد ← أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب ثم ← عبد الله بن المغفل بمعجمة وفاء مشددة ← مُطَرِّفٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← سعيد بن أبي عامر ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5596

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5597

5289 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن يزيد بن خصيفة قال أخبرني السائب بن يزيد أن سفيان بن أبي زهير الشنائي أخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من اقتنى كلبا لا يغنى عنه في ضرع ولا زرع نقص من عمله كل يوم قيراط قال فقال السائب لسفيان أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إي ورب القبلة

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس نے کتا پالا اس کو دودھ والا جانور اور کھیتی کام نہ دے گی اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا ہے ۔ سائب نے سفیان سے پوچھا کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا تو انہوں نے فرمایا جی ہاں مجھے رب کعبہ کی قسم میں نے سنا ہے ۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5597

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5598

5290 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله

مالک نے یزید بن خصیفہ سے روایت کی ، پھر انہوں نے اپنے اسناد سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5598

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5599

5291 - حدثنا بن أبي مريم قال أخبرنا محمد بن حبق قال ثنا يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر قول السائب لسفيان أسمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فلما ثبتت الإباحة بعد النهي وأباح الله عز و جل في كتابه ما أباح بقوله وما علمتم من الجوارح مكلبين اعتبرنا حكم ما ينتفع به هل يجوز بيعه ويحل ثمنه أم لا فرأينا الحمار الأهلي قد نهى عن أكله وأبيح كسبه والانتفاع به فكان بيعه إذ كان هذا حكمه حلالا وثمنه حلال وكان يجئ في النظر أيضا أن يكون كذلك الكلاب لما أبيح الانتفاع بها حل بيعها وأكل ثمنها ويكون ما روى في حرمة أثمانها كان وقت حرمة الانتفاع بها وما روى في إباحة الانتفاع بها دليل على حل أثمانها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد

مالک نے یزید بن خصیفہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ سائب کا یہ قول مذکور نہیں۔ اسمعت ھذا من رسول اللہ ﷺ طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ممانعت کے بعد جب اباحت کا ثبوت ان آثار سے مل گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اباحت اتار دی : وما علمتم من الجوارح مکلین : ( المائدہ : 4) اب جس سے نفع اٹھایا جاسکے اس کے حکم کا اعتبار کیا ۔ اب اس کے فروخت کا جواز اور اجرت کا حلال مانیں گے یا نہیں ۔ اس کی فروخت کے جواز اور ثمن کے درست ہونے کے سلسلے میں دیکھنا ہے چنانچہ پالتو گدھے کو دیکھیں کہ اس کے گوشت کا کھانا ممنوع ہے البتہ اس سے فائدہ اٹھانا اور کمائی میں معاونت لینا درست ہے پھر اس کی بیع کا حکم بھی یہی پایا جاتا ہے کہ وہ بھی حلال ہے اور اس کی اجرت بھی حلال ہے ۔ تقاضا نظر یہی ہے کہ کتے کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ اس سے انتفاع درست ہے اور اس کی فروخت اور قیمت کا کھانا جائز ہے اور وہ روایات جو اس کی ثمن کے حرام ہونے کے سلسلہ میں وارد ہیں وہ اس وقت سے متعلق ہیں جب انتفاع تھا اور جو انتفاع کے مباح ہونے کی روایت ہیں وہ اس کی ثمن کے حلال ہونے کا ثبوت ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ (ہم گزشتہ سطور میں روایات ذکر کر آئے مگر ان روایات میں اضافہ ہے اس لئے ان کو بھی ذکر کیا جا رہا ہے ۔ )

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5599

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5600

5292 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا سفيان عن موسى بن عبيدة عن القعقاع بن حكيم عن سلمى أم رافع عن أبي رافع قالت جاء جبريل عليه السلام إلى النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذن عليه فأذن له فأبطأ فأخذ رداءه فخرج فقال قد أذنا لك قال أجل يا رسول الله ولكنا لا ندخل بيتا فيه صورة ولا كلب فنظروا فإذا في بعض بيوتهم جرو فأمر أبا رافع أن لا يدع كلبا بالمدينة إلا قتله فإذا بامرأة في ناحية المدينة لها كلب يحرس غنمها قال فرحمتها فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأمرني فقتلته فأتاه ناس من الناس فقالوا يا رسول الله ماذا يحل لنا من هذه الأمة التي أمرتنا بقتلها قال فنزلت يسألونك ماذا أحل لهم قل أحل لكم الطيبات وما علمتم من الجوارح مكلبين

سلمیٰ رضی اللہ عنہ رافع نے ابو رافع سے روایت کی ہے ۔ کہ جبرائیل علیہ السلام جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور اجازت طلب کی جو دے دی گئی مگر انہوں نے اندر آنے میں دیر کی تو جناب رسول اللہ ﷺ چادر مبارک لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا ہم نے تمہیں اجازت دے دی جبرائیل بولے یا رسول اللہ ﷺ جی ہاں ۔ لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر اور کتا ہو۔ پس گھر والے لوگوں نے دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں کتے کا بچہ ہے پس آپ نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا مدینہ منورہ میں جس کتے کو پائیں قتل کر دیں اچانک وہ مدینہ کی ایک جانب میں پہنچے جہاں ایک عورت کے پاس ایک کتا پایا جو اس کی بکریوں کی حفاظت کرتا تھا۔ ابو رافع کہتے ہیں مجھے اس پر رحم آیا تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور صورت حال ذکر کر دی تو آپ نے اس کو بھی مار ڈالنے کا حکم فرمایا ۔ پھر آپ کی خدمت میں کچھ لوگ آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ جس مخلوق کے قتل کا حکم ملا ہے اس میں سے ہمارے لئے کیا جائز ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیات وما علمتم من الجوارح مکلین ، ( المائدہ : 4)

أَبِي رَافِعٍ ← سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← موسى بن عبيدة ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5600

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5601

5293 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن سليمان الجعفي قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال حدثني موسى بن عبيدة قال حدثني أبان بن صالح عن القعقاع بن حكيم عن سلمى أم رافع عن أبي رافع قال لما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب أتاه ناس فقالوا يا رسول الله ما يحل لنا من هذه الأمة التي أمرت بقتلها فنزلت يسألونك ماذا أحل لهم قل أحل لكم الطيبات وما علمتم من الجوارح مكلبين ففي هذا الحديث أيضا مثل ما قبله مما إباحه رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد أن أمر بقتلها وإن كان لم يذكر في هذا الحديث غير ما يضاد به منها وفيه زيادة على ما قبله من الأحاديث في الإباحة التي ذكرنا لأن فيه نزول هذه الآية بعد تحريم الكلاب وأن هذه الآية أعادت الجوارح المكلبين إلى أن صيرتها حلالا وإذا صارت كذلك كانت في سائر الأشياء التي هي حلال في حل إمساكها وإباحة أثمانها وضمان متلفيها ما أتلفوا منها كغيرها وقد روي في ذلك عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم

سلمیٰ ام رافع نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم فرمایا تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس مخلوق میں سے جس کے قتل کا حکم ہوا ہے ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ تو یہ آیت اتری ۔ یسئلونک ماذا احل لھم الایہ ( المائدہ ۔ 4) اس روایت میں بھی ما قبل کی طرح اس چیز کی اباحت ہے جس کے قتل کا پہلے حکم فرمایا ۔ اگرچہ اس روایت میں شکاری کتے کے علاوہ دوسرے کتوں کا تذکرہ موجود نہیں ہے اور اس روایت میں پہلی روایت اباحت سے کچھ اضافہ ہے کیونکہ ان میں آیت کا شان نزول ذکر کیا گیا اس کے بعد کے ان کا رکھنا حرام کیا گیا تھا۔ اس آیت میں شکاری کتوں کے رکھنے کو جائز قرار دیا دوبارہ ذکر کیا یہاں تک کہ ان کا رکھنا حلال قرار دیا جب یہ صورت حال ہے تو کتوں کو رکھنے اور ان کی قیمت کے حلال ہونے اور ان کو ضائع کرنے والے پر تاوان واجب ہونے کے سلسلہ میں ان کا حکم دوسری اشیاء کی طرح ہو گیا۔

أَبِي رَافِعٍ ← سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← موسى بن عبيدة ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5601

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5602

5294 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو أنه قضى في كلب صيد قتله رجل بأربعين درهما وقضى في كلب ماشية بكبش

عمرو بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ایک شکاری کتے کے متعلق چالیس درہم قیمت کے ضمان کا فیصلہ فرمایا جس کو ایک آدمی نے قتل کر دیا تھا اور چوپایوں کی حفاظت کرنے والے کتے کے لئے ایک دنبے کا فیصلہ فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5602

chevron_left Previous
1…593594595…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter