شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5579
5272 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة أن جبريل صلى الله عليه و سلم واعد النبي صلى الله عليه و سلم في ساعة يأتيه فيها فذهبت الساعة ولم يأته فخرج النبي صلى الله عليه و سلم فإذا بجبريل عليه السلام على الباب فقال ما منعك أن تدخل البيت قال إن في البيت كلبا وإنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالكلب فأخرج ثم أمر بالكلاب أن تقتل
ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اس وقت آنے کا وعدہ کیا جس وقت آتے تھے وہ وقت گزر گیا اور وہ نہ آئے ۔ پس جناب نبی اکرم ﷺ باہر نکلے تو جبرئیل علیہ السلام دروازے پر تھے آپ نے فرمایا تمہیں گھر میں آنے سے کون سی رکاوٹ تھی ؟ انہوں نے کہا گھر میں کتا ہے اور ہم ایسے گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا اور تصویر ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کتے کو نکالنے کا حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر آپ نے قتل کلاب کا حکم جاری فرمایا۔
عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5579
