Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5531

5228 - حدثنا أبو أمية قال ثنا محمد بن الفضل قال ثنا حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله

محمد بن فضل نے حماد بن زید سے پھر انہوں نے اسی طرح اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5531

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5532

5229 - حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا هشيم عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شرطين في بيع وعن سلف وبيع

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع میں دو شرائط اور قرض اور بیع سے منع فرمایا ہے ۔

شرطين في بيع وعن سلف وبيع ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← هُشَيْمٌ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الحسن بن عبد الله بن منصور

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5532

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5533

5230 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أخبرنا عبد الله بن رجاء قال أخبرنا همام عن عامر الأحول عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عمرو بن شعیب عن ابیہ و عن جدہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5533

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5534

5231 - حدثنا يونس قال أنا عبد الله بن نافع عن داود بن قيس عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع وسلف قالوا فالبيع في نفسه شرط فإذا شرط فيه شرط آخر فكان هذا شرطين في بيع فهذا هو الشرطان المنهي عنهما عندهم المذكوران في هذا الحديث وقد خولفوا في ذلك فقيل الشرطان في البيع هو أن يقع البيع على ألف درهم حال أو على مائة دينار إلى سنة فيقع البيع على أن يعطيه المشتري أيهما شاء فالبيع فاسد لأنه وقع بثمن مجهول وكان من الحجة لهم في ذلك مما قد روى عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع اور ادھار سے منع فرمایا ۔ بیع بذات خود شرط ہے جب اس پر دوسری شرط لگا دیں تو یہ سودے میں دو شرطیں ہو گئیں جن کی ممانعت مندرجہ بالا روایت میں ہے ۔ دو شرائط کی مراد کیا ہے : نمبر 1 بیع اور ایک اور شرط لگانا جیسا ابھی کہا گیا ہے ۔ نمبر 2 ۔ دو شرائط سے مراد یہ ہے کہ اگر نقد لو تو ایک ہزار درہم قیمت اور اگر تم ایک سال بعد دو تو ایک سو دینار قیمت ہے تو اس سے سودا اس بات پر ہوا کہ خریدنے والا جا چاہے دے تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ قیمت مجہول ہے ۔ اس کی تائید اقوال صحابہ کرام سے ہوتی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5534

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5535

5232 - أن مبشر بن الحسن حدثنا قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة عن خالد بن سلمة قال سمعت محمد بن عمرو بن الحارث يحدث عن زينب امرأة عبد الله بن مسعود أنها باعت عبد الله جارية واشترطت خدمتها فذكر ذلك لعمر فقال لا يقربنها ولا أجد فيها مثوبة

محمد بن عمرو بن الحارث حضرت زینب زوجہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے ابن مسعود کو ایک لونڈی فروخت کی اور اس کی خدمت کی شرط لگائی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا وہ ہر گز اس کے قریب نہ جائیں میں اس میں کوئی ثواب نہیں پاتا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5535

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5536

5233 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير عن عبيد الله بن عمر قال حدثني نافع عن بن عمر قال لا يحل فرج إلا فرج إن شاء صاحبه باعه وإن شاء وهبه وإن شاء أمسكه لا شرط فيه

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ کوئی فرج حلال نہیں مگر ایک فرج، اگر اس کا مالک چاہے تو فروخت کر دے اور اگر چاہے تو اس کو ہبہ کر دے اور اگر چاہے تو اس کو روک کر رکھے اس میں کوئی شرط نہ ہو۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← زُهَيْرٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5536

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5537

5234 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا يونس بن عبيد الله عن نافع عن بن عمر أنه كان يكره أن يشتري الرجل الأمة على أن لا يبيع ولا يهب فقد أبطل عمر رضي الله عنه بيع عبد الله وتابعه عبد الله على ذلك ولم يخالفه فيه وقد كان له خلافه أن لو كان يرى خلاف ذلك لأن ما كان من عمر لم يكن علي جهة الحكم وإنما كان على جهة الفتيا وتابعتهما زينب امرأة عبد الله على ذلك ولها من رسول الله صلى الله عليه و سلم صحبة وتابعهم على ذلك عبد الله بن عمر رضي الله عنهما وقد علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كان من قوله لعائشة رضي الله عنها في أمر بريرة على ما قد رويناه عنه في هذا الباب فدل ذلك أن معناه كان عنده على خلاف ما حمله عليه الذين احتجوا بحديثه ولم نعلم أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم غير من ذكرنا ذهب في ذلك إلى غير ما ذهب إليه عمر ومن تابعه على ذلك ممن ذكرنا في هذه الآثار فكان ينبغي أن يجعل هذا أصلا وإجماعا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم ولا يخالف فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأينا الأصل المجتمع عليه أن شروطا صحاحا قد تعقد في الشيء المبيع مثل الخيار إلى أن أجل معلوم للبائع وللمبتاع فيكون البيع على ذلك جائزا وكذلك الأثمان قد تعقد فيها الآجال يشترطها المبتاع فتكون لازمة إذا كانت معلومة ويكون البيع بها مضمنا ورأينا ذلك الأجل لو كان فاسدا فسد بفساده البيع ولم يثبت البيع وينتفي هو إذا كان معقودا فيه فلما جعل البيع مضمنا بهذه الشرائط المشروطة في ثمنه في صحتها وفسادها فجعل جائزا بجوازها وفاسدا بفسادها ثم كان البيع إذا وقع على المبيع وكان عبدا على أن يخدم البائع شهرا فقد ملك المشتري عبده على أن ملكه المشتري ألف درهم وخدمة العبد شهرا والمشتري حينئذ غير مالك للخدمة ولا للعبد لأن ملكه للعبد إنما يكون بعد تمام البيع فصار البيع واقعا بمال وبخدمة عبد لا يملكه المشتري في وقت إبتياعه بالمال وبخدمته وقد رايناه لو إبتاع عبدا لخدمة أمة لا يملكها كان البيع فاسدا فالنظر على ذلك أن يكون البيع أيضا كذلك إذا عقد لخدمة من لم يكن تقدم ملكه له قبل ذلك العقد لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن بيع ما ليس عندك ولما كانت الأثمان مضمنة بالآجال الصحيحة والفاسدة على ما قد ذكرنا كان كذلك الأشياء المثمونة أيضا المضمنة بالشرائط الفاسدة والصحيحة فثبت بذلك أن البيع لو وقع واشترط فيه شرط مجهول أن البيع يفسد بفساد ذلك الشرط على ما قد ذكرنا فقد انتفى قول من قال يجوز البيع ويبطل الشرط وقول من قال يجوز البيع ويثبت الشرط ولم يكن في هذا الباب قول غير هذين القولين وغير القول الآخر إن البيع يبطل إذا اشترط فيه ما ليس منه فلما انتفى القولان الأولان ثبت هذا القول الآخر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم أجمعين

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ آ دمی کوئی لونڈی اس شرط پر خریدے کہ وہ اس کو فروخت کرے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالله کی بیع کو باطل کردیا اور عبداللہ نے ان کی بات مان کر مخالفت نہیں کی اور وہ اس کی مخالفت کر سکتے تھے اگر ان کی رائے اس کے خلاف ہوتی کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بطور حکم نہیں فرمائی بلکہ بطور فتویٰ بات فرمائی اور پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے ان کی اتباع کی اور وہ بھی صحابیہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی اتباع کی ہے حالانکہ وہ جناب رسول الله ﷺ کا ارشاد جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو حضرت بر یر رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں فرمایا تھا ان کو معلوم تھا اور انہی کی روایت سے ہم نے باب میں ذکر کیا ہے۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا وہ مفہوم نہیں جو اس حدیث سے استدلال کرنے والوں نے اپنایا ہے اور ان مذکورہ بالا صحابہ کرام کے علاوہ کوئی ایسا صحابی ہمارے علم میں نہیں ہے جس نے اس سلسلہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین جن کا ان روایات میں ذکر ہوا کہ انہوں نے ان کے خلاف مذہب اختیار کیا ہو۔ لہذا اس بات کو اصل اور صحابہ کرام کا اجماع قرار دیا جائے اور اس کی مخالفت نہ کی جائے۔ روایات کے طریقہ سے اس باب کا بیان یہی ہے۔ اس اصل پر سب کا اتفاق ہے کہ فروخت کی جانے والی اشیاء میں صحیح شرائط رکھی جاتی ہیں مثلا بائع یا مشتری کو ایک معلوم وقت تک خیار حاصل ہوتا ہے اس شرط پر بیع جائز ہوتی ہے اسی طرح قیمت کی ادائیگی کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے اور یہ خریدنے والے کی طرف سے شرط ہوتی ہے اور یہ لازم ہوجاتی ہے جبکہ معلوم ہو اور ان کے ساتھ بیع مشروط ہو جاتی ہے اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اگر یہ میعاد فاسد ہوتو اس سے بیع بھی فاسد ہو جاتی ہے اور وہ ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کی نفی ہوتی ہے جبکہ اس کو عقد میں ذکر کیا جائے ۔ تو جب سودے کی صحت وفساد قیمت میں رکھی جانے والی ان شرائط سے مشروط ہے تو ان کے جائز ہونے سے سودا جائز ہوگا اور ان کے فساد سے بیع بھی فاسد ہوگی پھر جب غلام کی بیع اس شرط پر کی جائے کہ وہ ایک ماہ فروخت کرنے والے کی خدمت کرے گا تو بلاشبہ ہائع نے خرید والے کو اپنے غلام کا اس طرح مالک بنایا کہ وہ اسے ہزار درہم اور ایک مہینہ تک غلام کے اس کی خدمت کرنے کا مالک بنائے اور خریدنے والا اس وقت خدمت کا مالک نہیں اور نہ ہی غلام کا مالک ہے۔ کیونکہ اسے بیع کے مکمل ہونے کے بعد ملکیت حاصل ہوگی تو (اس طرح) یہ سودا مال اور غلام کے خدمت کرنے پر واقع ہوا اور مشتری مال اور خدمت کے بدلے اسے خریدنے وقت اس غلام کا مالک ہی نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ غلام کو کسی ایسی لونڈی کی خدمت کے لئے خریدے۔ جس کا وہ مالک نہیں ہوا تو یہ بیع فاسد ہوتی ہے۔ تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جس کا وہ اس عقدے پہلے مالک نہیں ہوا اس کے خدمت کرنے کی شرط پر بیع کا حکم بھی یہی ہو کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس چیز کے سودے سے منع فرمایا۔ جوتمہارے پاس نہ ہو۔ تو جب قیمتیں صحیح اور فاسد میعاد کے ساتھ مشروط ہو جاتی ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے تو اس طرح وہ اشیاءجن کی وہ قیمتیں ہیں وہ بھی شرائط فاسد ہ اور صحیحہ کے ساتھ مشروط ہوں گی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر سودا اس طرح واقع ہو کہ اس میں مجہول شرط رکھی جائے اس کے فسادسے بیع فاسد ہوگی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا تو اس طرح ان لوگوں کے قول کی نفی ہوگئی جو کہتے ہیں کہ بیع جائز اور شرط باطل ہو جائے گی اور جو کہتے ہیں کہ بیع جائز اور شرط ثابت ہوگی اس باب میں ان دو قولوں اور اس قول کے سوا کوئی اور قول نہیں کہ جب بیع میں ایسی شرط لگائی جائے جو اس سے نہیں تو وہ بیع باطل ہو جاتی ہے۔ پس دوقول باطل ہو گئے تو یہ تیسرا قول ثابت ہو گیا امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5537

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5538

5235 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجر عن أبيه عن مجاهد عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يحل بيع بيوت مكة ولا إجاراتها

مجاہد نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مکہ کے گھروں کی خرید و فروخت اور ان کو کرایہ پر دینا درست نہیں ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِيهِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5538

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5539

5236 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن عمر بن سعيد عن بن أبي سليمان عن علقمة بن نضلة بفتح وسكون المعجمة قال توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبو بكر وعمر وعثمان ورباع مكة تدعى السوائب من احتاج سكن ومن استغنى أسكن

علقمہ بن نضلہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر و وعمر، عثمان رضی اللہ عنہم کی وفات ہوگئی اور مکہ کی جگہوں کو سوائب کہا جاتا رہا جو ضرورت مند ہوتا وہ رہائش اختیار کرتا جو ضرورت مند نہ ہوتا وہ دوسرے کو ٹھہرانا۔

علقمة بن نضلة بفتح وسكون المعجمة ← بن أبي سليمان ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5539

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5540

5237 - حدثنا ربيع المؤذن قال أخبرنا أسد قال ثنا يحيى بن سليمان عن عمر بن سعيد قال حدثني عثمان بن أبي سليمان عن علقمة بن نضلة قال كانت الدور على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر وعثمان ما تباع ولا تكرى ولا تدعى إلا السوائب من احتاج سكن ومن استغنى أسكن قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا لا يجوز بيع أرض مكة ولا إجاراتها وممن قال بهذا القول أبو حنيفة ومحمد وسفيان الثوري رحمه الله وقد روى ذلك أيضا عن عطاء ومجاهد

عثمان بن ابی سلیمان نے علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر، عمر وعثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں مکہ کے مکانات کو نہ فروخت کیا جاتا اور نہ کرایہ پر دیا جاتا ۔ ان کو سوائب کہا جاتا تھا جو ضرورت مند ہوتا رائش اختیار کرتا جس کو ضرورت نہ ہوتی وہ دوسرے کو ٹھہراتا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مکہ کی زمین کو فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور عطاء و مجاہد کا قول بھی یہی ہ ۔

عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5540

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5541

5238 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا قرة بن حبيب قال ثنا شعبة عن العوام بن حوشب عن عطاء بن أبي رباح أنه كان يكره أجور بيوت مكة

عوام بن ھوشب نے عطاء بن ابی رباح کے متعلق نقل کیا کہ وہ مکہ کے مکانات کو کرایہ پر دینا مکروہ قرار دیتے تھے ۔

عطاء بن أبي رباح أنه كان يكره أجور بيوت مكة ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شُعْبَةُ، ← قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5541

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5542

5239 - حدثنا فهد قال ثنا بن الأصبهاني قال أخبرنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد أنه قال مكة مباح لا يحل بيع رباعها ولا إجارة بيوتها وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع أرضها وإجاراتها وجعلوها في ذلك كسائر البلدان وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف واحتجوا في ذلك بما

ابراہیم نے بن مہاجر نے مجاہد سے نقل کیا کہ وہ فرماتے مکہ مباح ہے اس کی زمین فروخت کرنا اور مکان کرایہ پر دینا جائز نہیں ۔ دوسروں نے کہا مکہ کی زمین کو فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا جائز ہے جیسا کہ دوسرے شہروں کا حکم ہے یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے ۔

مُجَاهِدٍ أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شَرِيکٍ ← بن الأصبهاني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5542

chevron_left Previous
1…588589590…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter